Reko Diq Case

ریکوڈک معاہدہ، اصل ذمہ دار کون؟

ریکوڈک کیس میں عالمی عدالت برائے تصفیہ سرمایہ کاری نے ہمارے خلاف فیصلہ سُناکر بتا دیا ہے کہ نہ تو ہمارے حکمرانوں کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ معاہدے کرنا آتے ہیں اور نہ ہی غلط کیئے گئے معاہدات کی تنسیخ کے لیئے درست قانونی طریقہ کار اختیار کرنا آتا ہے۔شاید ہم دنیا میں وہ واحد بدقسمت قوم ہیں جن کے حکمران بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ریاستی معاہدہ جات کرتے ہوئے سب سے پہلے اِس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ”اُن کا اور اُن کے خاندان کا کمیشن کھرا ہورہاہے یا نہیں“ اور پھر وہ اپنے چند کروڑ کے کمیشن کے چکر میں وطنِ عزیز کو کھربوں روپے کی زک خاموشی سے پہنچا دیتے ہیں۔ ریکوڈک معاہدہ بھی ہمارے ماضی کے حکمرانوں کے اِسی دیرینہ لالچ، ہوس اور بے حسی کا شاخسانہ تھا۔جولائی 1993میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا تھا۔آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔ بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔بلوچستان حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔بعد ازاں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور ٹیتھیان مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔اسی تنازعہ کو لے کر ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی انتظامیہ نے 11 ارب 43 کروڑ روپے کے نقصانات کا دعویٰ انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمینٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی)میں کردیا تھا۔ٹی سی سی نے کیس 12 جنوری 2012 میں دائر کیا تھا جبکہ آئی سی ایس آئی ڈی نے اس معاملہ کے تصفیہ کے لیے ٹریبیونل 12 جولائی 2012 کو قائم کیا تھا۔یوں پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7 سال تک عالمی عدالت برائے تصفیہ سرمایہ کاری میں جاری رہنے کے بعد پاکستان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے عالمی عدالت برائے تصفیہ سرمایہ کاری نے پاکستانی حکومت کو 5 ارب 97 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔جس میں 4 ارب 8 کروڑ ڈالر ہرجانہ اور ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود ادا کرنے کا حکم سنایا ہے۔

ریکو ڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔ریکو ڈک میں تانبے اور سونے کے کل ذخائر 5.9 ارب ٹن سے زیادہ ہیں۔ جس کی سالانہ پیداوار 2 لاکھ ٹن تانبہ اور 2.5 لاکھ اونس سونا ہے۔ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی عدالت کی طرف سے جرمانہ ہونے کے بعد ایک طرح سے ہم ریکوڈک سے محروم ہوچکے ہیں کہ کیونکہ فیصلہ میں درج ہے کہ اگر پاکستان،ٹیتھان کمپنی کو جرمانہ ادا نہ کرسکا تو ریکوڈک کے تمام تر حقوق مذکورہ کمپنی کو منتقل ہوجائیں گے اُس وقت تک کہ جب تک اُس کا نقصان،جرمانہ اور سُود پورا نہیں ہوتا۔اَب پاکستان کی موجودہ حکومت کے پاس فقط دو ہی راستے بچ جاتے ہیں کہ یا تو وہ ٹیتھیان کمپنی کو عالمی عدالت کی طرف سے لگائے گئے جرمانے کی یکمشت ادائیگی کردے جو کہ فی الحال آپ ناممکن ہی سمجھیئے۔اس کے علاوہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ از سرِ نو بات چیت کر کے اُس کے منت ترلے کرلیئے جائیں، اگر کمپنی کی انتظامیہ کو ہماری حکومت کی حالت پر کچھ رحم آگیا تو ہوسکتاہے کہ وہ اپنے دعوی سے دستبردار ہوکر ایک ایسے نئے معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوجائے جس میں پاکستان کے لیئے بھی بچت کی کوئی راہ موجود ہو۔



افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے مزید معاہدے بھی ہیں جنہیں گزشتہ ادوار میں ہمارے حکمرانوں نے اپنے کمیشن کو کھرا کرنے کے لیئے اِس طرح کی عجیب الخلقت شقوں کے ساتھ دستخط کیئے ہیں کہ کچھ بعید نہیں کہ جلد ہی وہ معاہدے کرنے والی کمپنیاں بھی ریکوڈیک کیس کے فیصلہ سے حوصلہ پاکر عالمی عدالت برائے تصفیہ سرمایہ کاری میں پاکستان کو گھسیٹ لیں گی۔مثال کے طور پر ایران کے ساتھ ہونے والے گیس پائپ لائن معاہدہ کو ہی لے لیجئے جس کے ڈھول پیٹ پیٹ کر سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے آسمان سر پر اُٹھایا ہوا ہے کہ ایران گیس پائپ لائن معاہدہ اُن کی ذاتی کاوشوں کا مظہر ہے۔اِس معاہدہ میں بھی ہم نے اس شق پر اتفاق کر رکھا ہے کہ 31 دسمبر 2014 تک دونوں ملک اپنے اپنے علاقے میں گیس پائپ لائن بچھا لیں گے۔ اس تاریخ تک جو ملک اپنے حصے کا کام نہ کر سکا وہ دوسرے ملک کو ہر روز ایک ملین ڈالر جرمانہ ادا کرے گااوریہ جرمانہ تب تک ادا کیا جاتا رہے گا جب تک وہ ملک اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کر سکتا۔ ایران نے اپنے علاقے میں پائپ لائن بچھا لی ہے۔ پاکستان اس پر ابھی تک کام بھی نہ شروع کر سکا۔ اَب معاہدے کی شق کے مطابق 31 دسمبر 2014 سے لے کر اب تک ہم نے ہر روز ایران کو دس لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کر نا ہے۔ یعنی آج تک، یہ ایک ہزار چھ سو ساٹھ دن بنتے ہیں۔یعنی ایک ہزار چھ سو ساٹھ ملین ڈالر کا جرمانہ، جبکہ ابھی تک پائپ لائن کی کوئی خیر خبر نہیں ہے، خدا جانے جب تک ہماری طرف پائپ لائن کی تعمیر مکمل ہوگی اُس وقت تک جرمانہ اور اُس پر لگنے والا سُود بڑھ کر کتنا ہو جائے گا۔ایران نے اِس حوالے سے نوٹس تو ہمیں پہلے ہی بھیج رکھا ہے، پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ اگر ایران بھی گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر ہمارے خلاف عالمی عدالت میں چلا گیا تو کیا ہو گا؟کوئی بتائے گا کہ پھر ہم ایران پائپ لائن پروجیکٹ میں جرمانے اور سُود کی ادائیگی کا سہر ا کس کے سر پر باندھیں گے۔

اَب آپ اِسے حکمرانوں کی بدنیتی کہیں یا ایک سوچی سمجھی واردات؟ کہ ہمارے ملک میں اکثر عالمی معاہدے خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے قطر سے معاہدہ کیا،لیکن کسی کو کچھ نہ بتایا۔ بے نظیر بھٹو شہید نے آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کا معاہدہ کیا کسی کو اعتماد میں نہ لیا،شہباز شریف نے قائداعظم سولر پروجیکٹ کی آڑ میں چینی کمپنی سے انتہائی مہنگے داموں بجلی خریدے کا معاہدہ کیا، مجال ہے جو کسی کو کانوں کان خبر ہونے دی ہو۔صورت حال یہ ہے اِس وقت بھی حکومتِ پاکستان مختلف عالمی فورمز پر غلط معاہدہ جات کی تنسیخ کے لیئے دو درجن سے زیادہ کیسز لڑ رہی ہے۔ اللہ کرے کہ اُ ن میں سے زیادہ تر کیسز کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آجائے۔ہماری دُعائیں اپنی جگہ پر لیکن بہر حال فیصلے تو اُن شقوں کی روشنی میں ہی سنائے جائیں گے جن پر ہمارے حکمرانوں نے اتفاق کیا ہوگا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 25 جولائی 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں