Bachat Bazar in Sindh

رمضان بچت بازار اور شکایتوں کے انبار

صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے لیکن پھل پر صبر کرنا مشکل ہوتا ہے۔جبکہ اگرایام بھی ماہِ رمضان کے ہوں تو یہ بات کچھ اور بھی ناممکن سی نظر آتی ہے کہ افطار کے وقت پاکستانیوں کے دستر خوان پر سب کچھ ہو مگر پھل نہ ہوں۔بظاہر انتہائی مشکل یا ناممکن نظر آنے والا یہ کام بھی عوام الناس اس ماہِ رمضان میں بڑی جانفشانی اور آسانی سے کر رہے ہیں۔ اس جذبے کی وجہ رمضان کی ابتداء میں ہی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ کے ذریعے سے شروع ہونے والی پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم ہے،جس میں عوام کی اکثریت نے یہ طے کیا وہ پورے ماہِ رمضان جمعہ،ہفتہ اور اتوار پھلوں کی خریداری کا بائیکاٹ کریں گے۔بظاہر ایک چھوٹی سے پوسٹ سے شروع ہونے والی اس مہم نے دیکھتے ہی دیکھتے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی بھی بھرپور توجہ اپنی طرف سمیٹ لی۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ایسی مہم یا تحریک جو نہ تو کسی سیاسی یاسماجی جماعت کی طرف سے اور نہ ہی کسی این۔جی۔او یا فلاحی ادارے کی جانب سے شروع کی گئی مگر پھر بھی اس مہم نے قلیل مدت میں بھرپور کامیابی اور انتہائی حیران کن نتائج حاصل کر لیئے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: رمضان المبارک، برکت اور سعادت سمیٹنے کا مہینہ

پھلوں کے بائیکاٹ کی ہفتہ وار مہم نے گراں فروشوں اور ذخیروہ اندوزوں کی عقل کافی حد تک ٹھکانے لگا دی ہے۔رمضان المبارک میں ہفتہ وار پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم نے اندرون سندھ بھی اپنا اثر خوب جمایا۔ حیدرآباد،سانگھڑ،نواب شاہ،میرپورخاص،تھرپارکر،لاڑکانہ اور خیرپور سمیت سندھ کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس مہم کو عوام کی بھر پور حمایت اور توجہ حاصل رہی۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پھلوں کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ کرنے والے دکانداروں اور منافع خوروں کا مکمل بائیکاٹ کر کے عوام نے معاشرے میں یکجہتی کی نئی مثال قائم کردی،اب تک رمضان المبارک میں ہر ہفتے تین روزہ بائیکاٹ میں لاکھوں شہریوں نے مہذب انداز سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا،بازاروں اور گلی محلوں میں دکانوں اور ٹھیلوں پر پھل فروش خریداروں کا انتظار کرتے رہ گئے،لیکن خریداروں نے روزہ اور وہ بھی سندھ کی سخت گرمی میں جہاں اکثر شہروں میں درجہ حرارت 52 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور روزہ دار کو اپنی جسمانی توانائی بحال کرنے کے لیئے پھلوں یا اُن کے رس کی طبی نقطہ نگاہ سے بھی سخت ضرورت ہوتی ہے ان سب ضروریات،خطرات اور اندیشوں کے باوجود سندھ کے شہریوں نے اس ماہِ رمضان میں حقیقی صبر کی اعلیٰ مثال قائم کی اور بائیکاٹ کے تمام دنوں میں پھلوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ بلکہ پرعزم شہریوں نے آئندہ آنے والے دنوں میں بھی اپنی جدوجہداسی طرح جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔مہنگے داموں فروخت کرنے والے پھل فروش جو آغازِ رمضان میں پھلوں کی قیمت میں ایک روپے کمی بھی کرنے پر تیار نہ تھے اب پچاس فیصد تک کم قیمت پر پھل فروخت کرنے کے لیئے تیار ہیں۔سندھ کے تقریباً تمام شہروں میں پھلوں کی فروخت میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔سندھ کے مختلف مرکزی بازاروں میں درجہ اول کیلا جو 150 روپے درجن تک فروخت کیا جا رہا تھا اب 80 سے 100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔آڑوجو 220 سے 240 روپے کلو قیمت پر فروخت ہو رہا تھا،اُس کی قیمت اب 130 سے 150 روپے کلو کی سطح پر آگئی ہے۔آم کی قیمت میں بھی 30 سے 40 روپے کلوتک کمی آچکی ہے۔100 روپے کلو بکنے والا آم اب 60 روپے تک میں با آسانی ہے۔

پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم کی شاندار عوامی پذیرائی دیکھ کر سندھ حکومت نے بھی اس عوامی مہم کی حمایت کا اعلان کردیا،سندھ حکومت نے پھلوں کے بائیکاٹ کے دنوں میں جتنی بھی سرکاری تقریبات خصوصاً افطار پارٹیاں کا انعقاد کیا اُن سب میں پھلوں کو دسترخوان کی زینت بنانے سے احتراز کیا گیا جس کا صرف ایک ہی مقصد تھا کسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے عوام کو یہ باور کرایا جاسکے کہ وہ اس مہم میں عوام کے شانہ بہ شانہ ہیں۔مگر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر سول سوسائٹی کی طرف سے سندھ حکومت کی اس نام نہاد حمایت کویکسر مسترد کردیا گیا ہے کہ عوام کا موقف ہے اُنہیں سندھ حکومت کی حمایت کی قطعا ً ضرورت نہیں اگر سندھ حکومت کو اتنا ہی عوام کی تکلیف کا احساس ہے تواُسے ناجائز منافع خوروں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے اور کچھ ایسے انتظامی اقدامات کرنے چاہیے جس سے عوام کو ماہِ رمضان المبارک میں کچھ ریلیف مل سکے۔

اس ماہِ رمضان المبارک میں اندرون سندھ کے عوام تو اس بات کی آس لگائے بیٹھے تھے کہ شاید اس بار پنجاب حکومت کی طرز پرسندھ حکومت کی طرف سے بھی رمضان بچت بازار لگائیں جائیں گے مگر صرف سکھر،حیدرآباد اور نواب شاہ کے علاوہ کسی بھی شہر میں رمضان بچت بازار کا انعقاد نہیں کیا گیا۔ سکھر،حیدرآباد اور نواب شاہ میں بھی جو رمضان بازار لگائے گئے وہ انتہائی ناقص انتظامات کے حامل تھے۔ نواب شاہ میں جو رمضان بچت بازار لگایاگیا اُس کا حال یہ تھا کہ اس بازار میں صرف آٹھ سے دس اسٹال موجود تھے جن پر اشیاء کا معیار انتہائی درمیانہ درجہ کا تھاحیرت کی بات تو یہ تھی اس بازار میں لاؤڈ اسپیکر پر یہ بار بار یہ اعلان کیا جارہا تھا کہ جو اس رمضان بچت بازار سے خریداری کرے گا اُسے عمرہ کے ٹکٹ کی قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا۔انعامات کے یہ ترغیبی اعلانات بھی لوگوں کو اس بازار میں خریداری پر راغب نہیں کر پارہے تھے۔رمضان بچت بازار میں آئے شہری اشیاء کی قیمت فروخت اور معیار کے حوالے سے انتہائی غیر مطمئن نظر آئے شہریوں کا کہنا تھا کہ رمضان بازار میں دکاندار درجہ اول،درجہ دوئم کے پھل مکس کر کے فروخت کر رہے ہیں جبکہ بعض دکاندار تو چیزوں کی قیمت بھی اپنی مرضی سے لگا رہے ہیں شہریوں کا کہنا تھا کہ بازارکے منتظمین اعلانات کر رہے ہیں کہ رمضان بچت بازار میں اشیاء سستی مل رہی ہیں لیکن مارکیٹ اور رمضان بازار کی قیمت میں واضح فرق نہیں اگر کسی چیز کی قیمت کم ہے تو اُس کا وہ معیار نہیں کہ اُسے خرید کر دل مطمئن ہوسکے جبکہ رمضان بچت بازار میں صفائی کے بھی انتہائی ناقص انتظامات کیئے گئے ہیں۔

سندھ حکومت کویہ سوچنا چاہئے کہ صرف رمضان بازار کے بینر لگانے سے رمضان بازار نہیں قائم ہوجاتے بلکہ اُن کی نگرانی اور انتظامات کے لیئے پیشگی منصوبہ بندی بھی کرنی ہوتی ہے۔حالانکہ سندھ کے ہر بجٹ میں رمضان بچت بازاروں کے لیئے ٹھیک ٹھاک رقم مختص کی جاتی ہے صرف حالیہ بجٹ میں 340 کروڑ روپے رمضان اور عید پیکج کے مد میں رکھے گئے ہیں مگر یہ پیسے کیسے،کب اور کہاں خرچ کیئے جاتے ہیں اس کا کبھی کسی کو کچھ پتا نہیں چلتا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 15 جون 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں