PTI in Sindh

کیا پی ٹی آئی سندھ میں پیپلزپارٹی کا متبادل بن سکتی ہے؟

جس طرح اس وقت پورا پاکستان سیاسی بھونچال کی زد میں آیا ہوا ہے وہیں سندھ میں بھی بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔سندھ کے بڑے بڑے سیاسی خاندان اس وقت اپنے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے ایک عجیب سی ذہنی کشمکش کا شکار ہیں اُن کے سامنے اگرایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت مختلف ترغیبات سے اُن کی آنکھیں خیرہ کرنے کے لیئے موجودہے تو دوسری جانب عین اُن کے پیچھے پاکستان تحریک انصاف کا متوقع سیاسی مستقبل بھی اُنہیں آوازیں دے،دے کر اپنے طرف بلا رہا ہے اور وہ درمیان میں کھڑے تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ اپنا آئندہ کا سیاسی مستقبل کس سیاسی جماعت سے وابستہ کریں۔گوکہ تاریخی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ابھی تک سندھ کے زیادہ تر سیاسی خاندانوں نے ہمیشہ اپناسیاسی وزن پاکستان پیپلز پارٹی کے پلڑے میں ہی ڈالاہے اور اُن کا یہ فیصلہ اُن کے لیئے ہر بار سیاسی فائدے کا باعث بھی بنا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: سندھ کی سیاست میں نواز شریف کا کردار

مگر شایداب پہلی بار وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ بھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی کے بارے میں انتہائی سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔سندھ کے سیاسی خاندانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی اس نئی سیاسی سوچ کی چند بنیادی نوعیت کی وجوہات ہیں جس میں اولین وجہ تو سیاسی حلقوں میں پیدا ہونے والا یہ بھرپور تاثر ہے کہ شاید اسٹیبلیشمنٹ آئندہ حکومت پی ٹی آئی یا عمران خان کو دینا چاہتی ہے۔دوسری وجہ پاکستان پیپلزپارٹی کی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں المناک سیاسی موت ہے اور تیسری وجہ 15 سال سے سندھ میں مسلسل حکومت کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی کی سندھ کی عوام کی نظروں میں تیزی سے مقبولیت میں ہوتی ہوئی کمی ہے۔

سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی سندھ کے سیاسی خاندانوں میں پیداہونے والی اس نئی سیاسی سوچ سے بخوبی آگاہ ہے۔اس لیئے وہ بھی اپنے طور پر بھرپور کوشیش کر رہی ہے کہ اُن کی سیاسی ٹوکری میں جو جوسیاسی انڈے رکھے ہوئے ہیں کوئی اُنہیں چرا نہ لے جائے اس کے لیئے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سندھ بھر میں کڑا سیاسی پہرہ لگا دیا ہے بظاہر پیپلزپارٹی کے حلقے یہ ہی باور کرانے کی کوشیش کررہے ہیں کہ سندھ میں فی الحال تبدیلی کی ہوا چلنے کا کوئی امکان نہیں اس لیئے آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہی ہوگی اورسندھ بھر میں پیپلز پارٹی کے جو بھی مخالف ہیں وہ 2018 کے الیکشن میں بھی پیپلزپارٹی کے کیمپ میں ہی کھڑے نظر آئیں گے۔اگر پیپلزپارٹی کے اس دعوی کوایک لمحہ کے لیئے درست مان بھی لیا جائے تو پھرہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کراچی کے علاوہ سندھ بھر میں پیپلزپارٹی کو آئندہ انتخابات میں کلین سوئپ سے کوئی نہیں روک سکتا۔تو پھر کیا ہم یہ بھی مان لیں کہ آئندہ انتخابات میں ہمیں سندھ بھر میں پیپلزپارٹی کے علاوہ کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت نظر نہیں آئے گی؟

میرے خیال میں پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے سیاسی حلقوں میں پھیلایا جانے والا یہ تاثر قطعی طور پر غلط ہے۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اپنے پھیلائے جانے والے اس تاثر پر خود پیپلزپارٹی کو بھی پوری طرح یقین نہیں ہے۔پیپلزپارٹی کے سیاسی مستقبل کی یہ بے یقینی سندھ حکومت کے تقریباً تمام رہنماوں کے چہرے سے صاف چھلکتی ہے اور کبھی کبھی تو لفظوں کی صورت میں ظاہر بھی ہو جاتی ہے جس کا ایک ثبوت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا وہ بیان بھی ہے کہ ”مجھے یقین نہیں ہے کہ سندھ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی“۔اس طرح کے بیانات اور وہ بھی اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنماؤ ں کی طرف سے صاف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماپنجاب کے میدانِ سیاست میں آنے والے زلزلوں کے جھٹکوں کی چاپ سندھ میں بھی بخوبی محسوس کر رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے مضبوط ترین رہنما بھی سندھ میں شدید سیاسی عدم تحفظ کا شکارنظر آتے ہیں۔اُنہیں یہ ڈر اور خوف ہے کہ آج سندھ کے جو بڑے بڑے سیاسی خاندان اُن کے ساتھ کھڑے ہیں اور اُن کی محبت کا دم بھر رہے ہیں کل کہیں ایسا نہ ہوکہ ”کنگ میکر ز“ کی ایک آواز پر پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے کھڑے نظر آئیں۔

پنجاب کی طرح سندھ میں بھی پی ٹی آئی کو ہی پیپلز پارٹی کی طرف سے اپنے لیئے سب سے بڑا سیاسی خطرہ سمجھا جار ہا ہے۔اس سیاسی خطرہ کو مزید تقویت اس لیئے بھی مل رہی کہ سندھ بھر میں سندھی ادیبوں،دانشوروں،صحافیوں اور نچلے درجے کے سیاسی کارکنوں کی طرف سے سندھی عوام کو مختلف فورمز پر پیپلز پارٹی مخالف ون پوائنٹ ایجنڈے پر جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں اور وہ ون پوائنٹ ایجنڈا یہ ہے کہ سندھ کو ہر قیمت پر پاکستان پیپلزپارٹی کی بدعنوان حکومت سے نجات دلائی جائے اور اُس کے لیئے سندھ میں بھی اب پی ٹی آئی یا عمران خان کو ہی پاکستان پیپلزپارٹی کی بدعنوان حکمرانی سے پیدا ہونے والی سیاسی بے چینی یا خلا کو پُر کرنے کے لیئے ایک طاقتور نعم البدل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔سندھ میں اپنے لیئے پیدا ہونے والی اس حوصلہ افزا سیاسی صورتحال سے پاکستان تحریک انصاف کتنا فائدہ اُٹھاتی ہے اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں سے لگایا جاسکے گااگر عمران خان سندھ میں فیصلہ کن سیاسی میچ کھیلنے کے لیئے پوری طرح تیار ہیں تو پھر سندھ کے سیاسی میدان کی پچ بھی مکمل طور پر ان کے طرزِ سیاست کے لیئے ساز گارنظر آرہی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 6 جولائی 2017 کے شمارہ میں شائع ہو

راؤ محمد شاہد اقبال

کیا پی ٹی آئی سندھ میں پیپلزپارٹی کا متبادل بن سکتی ہے؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں