Professor Of Facebook And Social Media

فیس بک کے پروفیسرز

لفظ پروفیسر سنتے ہی عموماً ذہن میں ایک ایسے پچاس،ساٹھ سال کی عمر کے ادھیڑ عمر آدمی کا تصور اُبھر کر سامنے آجاتا ہے،جس کے سر کے بال اُڑے ہوئے،چندیا چمکتی ہوئی،آنکھوں پر موٹے موٹے محدب عدسوں والی عینک کی لگام کسی ہوئی ہو اور جو نیم اندھیرے کمرے میں تن تنہا میز پر اپنے سامنے بے ترتیب کاغذوں اور کتابوں کا پلندہ رکھے بیٹھا ہو۔جس کے سامنے چائے کے خالی کپ ایک خاص ترتیب سے سجے ہوں اور اُس کے ہاتھ میں قلم سختی سے دبا ہوا ہو، جبکہ چہرے پر غصے اور طنز کے گہرے مہیب سائے چھائے ہوئے ہوں۔اِس طرح کی وضع قطع رکھنے والے پروفیسر آج سے کچھ عرصہ قبل اُس وقت تک پائے جاتے تھے جب تک فیس بک ہماری نجی زندگی کا حصہ نہیں بنی تھی۔آج کے فیس بک کے پروفیسر ماضی کے پرانے پروفیسروں سے عادات و اطوار میں یکسر مختلف ہیں۔فیس کے پروفیسر کسی بھی عمر کے ہوسکتے ہیں،یہ دیکھنے میں انتہائی مہذب،قبول صورت اور باتونی بھی ہوسکتے ہیں۔جبکہ اِن کا کمرا نیم اندھیرا بھی ہوسکتا ہے اور خوب روشن بھی لیکن ایک بات طے ہے کہ اِن کے کمرے میز اور کرسی ہو یا نہ ہو مگر اِن کے ہاتھ میں قلم اور کاغذ کی جگہ اسمارٹ فون یا اِ ن کی گو د میں لیپ ٹاپ کا پایا جانا یقینی ہوتا ہے،جسے یہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اپنی انگلیاں سے سہلاتے رہتے ہیں،اِس طرح سے انہیں سکون بھی ملتا ہے اور جھوٹی سچی اَپ ڈیٹس بھی ملتی رہتی ہیں۔ اِس کے علاوہ اِن کے چاروں طرف کافی اور چائے کے بھرے ہوئے مگوں کے ساتھ ساتھ چپس اور جنک فوڈز کے خالی پیکٹ بھی جابجا بکھرے ہوئے ہوتے ہیں جن کے درمیان انہیں تلاش کرنا کسی عام آدمی کے لیئے ایک کارِ محال سے کم نہیں ہوتا۔

فیس بک کے پروفیسر کو شناخت کرنے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اِن کے پاس آپ کے ہر سوال کا جواب اور ہر جواب کے مقابل بے شمار قسم کے سوالات ہر وقت موجود ہوتے ہیں،جن کا بنیادی ماخذ فیس بک کی پوسٹیں ہوتی ہیں۔یہ آپ کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے ہوئے کسی مستند سے مستند کتاب کو بھی بطور حوالہ تسلیم نہیں کریں گے۔ اِن کے نزدیک سب سے معتبر اور محترم بات وہ ہی ہوتی ہے جو انہوں نے فیس بک پر پڑھی یا دیکھی ہو۔ اِن کا ماننا ہے کہ ”سب سے مستند ہے فیس بک پر دیکھا ہوا“۔ فیس بک کے پروفیسر اپنی دانست میں خود کو معاشرے کا سب سے زیادہ فعال اور ایک ایسا ذمہ دار فرد سمجھتے ہیں جس کا بنیادی فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد رہنے والوں لوگوں کو فیس بک کی دلچسپ و عجیب پوسٹوں سے متعلق لمحہ بہ لمحہ اَپ ڈیٹ کرتا رہے۔ فیس بک کے پروفیسر دوسروں پر اپنی رائے ٹھونسنے میں میں انتہائی چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہیں،اب چو ں کہ زمانہ بہت تیز رفتاری کے ساتھ چل رہا ہے،سو اِن کی رائے جلدی بن بھی جاتی اور جلد ہی بدل بھی جاتی ہے۔عموماً اِن کی فیس بک وال پر ہر گھنٹہ بعد ایک نئی رائے اپ ڈیٹ ہو جاتی ہے جو کبھی کبھار پچھلی رائے کے یکسر بر خلاف بھی ہوسکتی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک ماہوار رسالہ کی زندگی ایک ماہ کی ہوتی ہے،ہفت وار میگزین کی حیات سات دنوں پر محیط ہوتی ہے اور اخبار میں شائع شدہ خبروں کی زندگی ایک روز کی ہوتی ہے۔اِس اُصول کو اگر حرفِ آخر تسلم کرلیا جائے تو پھر فیس بک کے پروفیسر کی کہی گئی بات اور کی گئی پوسٹ کی زندگی زیادہ سے زیادہ ایک منٹ تک طویل ہوسکتی ہے کیونکہ غالب اِمکان یہ ہی ہے کہ فیس بک کا پروفیسر 60 سیکنڈ کے بعد اپنی دلیل اور رائے بدلنے پر ذہنی و نفسیاتی طور پر تیار ہوجاتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ فیس بک کے پروفیسر علمی بدہضمی کے دائمی مریض ہوتے ہیں۔جن کے ذہن میں نت نئے خیالات اور معلومات کا ایک سیلاب سا ہر وقت جاری رہتا ہے، اطلاعات کا یہ ہی سیلاب اِنہیں ایک لمحہ کے لیئے بھی دوسروں کے سامنے نچلا اور خاموش نہیں بیٹھنے دیتا اور یوں فیس بک کے پروفیسر کی زبانِ قال سے اپنے سامعین کو بلا کسی تعطل دنیا کے ہر موضوع پر ماہرانہ تبصرے سننے کو ملتے رہتے ہیں۔



فیس بک کے پروفیسر کے پسندیدہ موضوعات میں والدین، اساتذہ، خاص طور پر رشتہ دار، رشتہ داروں میں بھی پھوپھو تو بالخصوص، بہن بھائی، مامی، سیاستدان، گائیک، امریکہ، افریقہ، بھارت، اتر پردیش، چائنا، کھانا، کھانے پر چھاپہ مار ٹیمیں، کیڑے مکوڑے، رشتہ چھانٹنے والی خواتین، سردی، گرمی، رمضان، سحرو افطار ٹرانسمیشن، گیند بلا، لالہ، کالا، گورا، ماہرہ، شکیرہ، ہیرہ، کھیرا، کالا نمک،سفید نمک کے علاوہ بھی مزید لاتعداد اشیائے کائنات شامل ہیں۔ جن کے بارے میں یہ آپ کو ایسی ایسی معلومات اور رائے دیں گے،جو نہ تو آپ کے گناہ گار کانوں نے کبھی سنی ہوگی اور نہ آپ کی پُر آشوب آنکھوں نے کبھی پڑھی ہوں گی۔مثلاً فرنی نمکین ہوتی ہے، ماہرہ خان اورشازیہ مری مل کاڈرامہ بنارہی ہیں، امریکہ میں چاند کا دوسرا نام اوباماہے، عورت چڑیل اور سیاستدان فرشتہ صفت ہوتے ہیں، پانی کا گلاس شہد میں رکھنے سے صاف اور شفاف ہوجاتاہے، بجلی ہرجائی اور گیس کی بے وفائی سے کوئی نہیں بچ سکتا، مرغ ڈائنو سار کی نسل سے جبکہ چھپکلی مگر مچھ کے خاندان سے ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کی پوسٹوں کے نیچے کمنٹس بھی فیس بک کے پروفیسر وں کی طرف سے ایسے ایسے اعلا دیکھنے کو ملیں گے کہ تھوڑی بہت سمجھ بوجھ والا انسان بھی اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھے اور جس کی سدھ بدھ گم نہ ہو۔اصل میں وہ ہی تو فیس کا پروفیسر ہے۔

اگر آپ کسی فیس بک کے پروفیسر سے اُ س کے دیر سے آنے کی وجہ پوچھیں تو جواب ملے گا”دیر آمد ہی اصل میں کسی عظیم شخصیت کی پیدائش کی دلیل ہوتی ہے“۔اگر آپ کسی فیس بک کے پروفیسر کے بچے کے کپڑے میلے ہونے پر ٹوک دیں تو اس کے پاس دلیل ہوگی کہ ”لباس کسی انسان کی شخصیت کی جانچ کا درست پیمانہ نہیں ہوسکتا“۔اگر اِن سے کھانا پکانے سے متعلق سوال کرلیں تو یہ جواب دیں گے کہ ”عورت صرف کچن میں اچھی لگتی ہے اور ایسی سوچ رکھنے والے قبر میں“جبکہ اگر آپ کسی خاتون فیس بک پروفیسر سے میک اَپ کرنے کی وجہ دریافت کرلیں تو سننے کو ملے گا کہ ”حسن و خوب صورتی تو کیمرے کے لینز میں چھپی ہوتی ہے اور اَس خوب صورتی کو اُبھارنے کے لیے میک اَپ کا سہارا تو چاہیئے نا!“اور اسی خاتون پروفیسر سے اِس کے خاوند کے بارے میں پوچھ لیں تو جواب ملے گا کہ ”خاوند وہ بلا ہے جس کا کوئی ردِ بلا نہیں“جبکہ کسی فیس بک پروفیسر سے اگر اِس کی بیگم سے متعلق پوچھ لیں تو جواب سننے کو ملے گا کہ”بیگم کی کیا کہیں،ایک تکلیف کا سمندر ہے اور زندگی بھر جھیلنا ہے“۔

کبھی کبھار تو ہم کوتاہ ذہنوں کو یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر فیس بک کے پروفیسر نہیں ہوتے تو پاکستان میں فیس بک کو جانتا کون؟ فیس بک کو ”فیک بُک“ کے درجے پر پہنچانے میں بھی سب سے زیادہ عمل دخل انہیں فیس بک کے پروفیسروں کی اُول جلول کاوشوں کا ہے۔ہماری فیس بک کے پروفیسروں سے مودبانہ گزارش ہے کہ خدارا وہ فیس بک پر رحم کریں اور کچھ اپنی عقل کو بھی استعمال میں لانا سیکھیں۔یعنی جو اُلٹے سیدھے،تصورات،سازشی تھیوریاں، دشنام طرازیاں اور نفرت آمیز جملے، آپ کے ذہن کی مسموم دلدلی زمین پر خود رو کانٹوں کی طرح اُگتے رہتے ہیں،برائے مہربانی! یہ زہرآلود کانٹے فیس بک کے ذریعے دنیابھر میں پھیلانے سے اجتناب برتیں۔کیونکہ آپ کا سوچا گیا ہر گھٹیا خیال اِس قابل نہیں ہوتا کہ اُسے اپنی ذہنی تسکین کے لیئے فیس بک پر بغیر کسی قطع و برید کے من و عن پوسٹ کردیا جائے۔اب ایک آخری گزارش فیس بک اُن عام قارئین سے بھی ہے جو فیس بک کی ہرپوسٹ کو ایک آسمانی صحیفہ سمجھتے ہوئے اُسے دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں بلا یہ سوچے،سمجھے اور جانے کہ آیا وہ جس پوسٹ کو آگے شیئر کر رہے وہ سچ پر مبنی ہے یا جھوٹ پر۔ایسے سادہ لوح خواتین و حضرات کے لیئے سرورِ کائنات،ہادی عالم، صادق و امین،ختم المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش خدمت ہے کہ ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیئے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (تحقیق کیئے بغیر) آگے بیان کردے“۔صحیح مسلم

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 18 جولائی 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں