Pre School First Day

پری اسکول کا انتخاب بچے کے مستقبل کی بنیاد

بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں اور اگر انتہائی کم عمر ہوں توانہیں ایسے ادھ کھلے پھول یعنی غنچوں کی طرح سمجھنا چاہیئے جن کی نشوونما اور دیکھ بھال انتہائی احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ 3 سے 5 سال کی عمر کے ابتدائی مرحلے میں بچوں کے لیئے پری اسکول کا انتخاب جہاں اُن کے مستقبل کے لیئے کلیدی حیثیت کا حامل ہے وہیں بچوں کے والدین کے لیئے بھی درست پری اسکول کا انتخاب ایک اہم ترین سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔بچے اس عمر میں اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ ہندسوں اور حروف کے بارے میں بغیر کسی وسیلے سے سیکھ سکیں کیونکہ آپ کا بچہ ابتدائی طور پر اپنے ارد گرد کے ماحول کی مدد سے ہی سیکھنے کا آغاز کرتا ہے۔اس لیئے یہ بہت اہم بات ہے کہ آپ اُس کے لیئے ایک ایسے پری اسکول کا انتخاب کریں جو اُس کے شعوری سمجھ بوجھ کے ابتدائی سفر میں ممدو معاون ثابت ہوسکے۔ہم یہاں چند نکات بیان کر رہے ہیں جس کی مدد سے آپ اپنے بچے لیئے ایک اچھے پری اسکول کا انتخاب باآسانی کر سکتے ہیں۔
محل و قوع یا علاقہ کی اہمیت
آپ اسکول کے درست محل وقوع کے لیئے سب سے پہلے اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ کی ضرورت کیا ہے؟کیا آپ پری اسکول اپنے گھر کے قریب چاہتے ہیں؟ یا اپنی ملازمت کی جگہ کے قریب؟ کیا آپ کے پاس سواری کی سہولت ہے؟ یا آپ اپنے بچے کے لیئے سواری کا بندوبست کرسکتے ہیں؟ یا آپ واکنگ ڈسٹینس کا ترجیح دیں گے؟۔اگر آپ کا جواب ”واکنگ ڈسٹینس“ ہے۔تو پھر آپ کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کیا اسکول سے آپ کے گھر کے درمیان کے راستہ کا ماحول آپ اور آپ کے بچے کیلیئے روزانہ آنے جانے کے لیئے ساز گار ہے بھی یا نہیں۔کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں میں بھی بہت کم ہی علاقوں میں سڑکوں کی حالت ایسی ہے کہ جسے ماحول دوست یا سازگار قرار دیا جاسکے ورنہ اکثر تو سٹرکوں پر نکاسی آب، بے جا سٹرکوں کی مرمت اور گٹر کے ڈھکنے نہ ہونے کے مسائل جابہ جا نظر آتے ہیں۔اگر ایسی صورت حال ہو تو پھر ایسے اسکول کا انتخاب آپ کی ترجیح اول ہونا چاہیئے جو آپ کے بچے کوپک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی ارزاں قیمت پر فراہم کر ے۔
نصاب اور غیر نصابی سرگرمیاں
اپنے بچے کے لیئے پری اسکول کے انتخاب کرنے سے پہلے ایک اور انتہائی اہم بات جسے ہمیشہ یاد رکھیں وہ یہ کہ آپ کسی بھی اسکول کومنتخب کرنے سے پہلے وہاں پڑھائے جانے والے نصاب کا اجمالی ساجائزہ ضرور لیں اوراسکول میں پڑھائے جانے والے نصاب کا موازنہ اپنے بچے کے ذہنی رویے اور رجحان سے کریں۔اگر آپ کا بچہ خود سے چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے تو اس کے لیئے کنڈر گارٹن طرزِ تعلیم کا انتخاب کریں اور اگر آپ کا بچہ آپ سے زیادہ منسلک ہے اور آپ کے بغیر رہنا پسند نہیں کرتا تو پھر اُس کے لیئے مونٹیسوری طرز تعلیم ہی زیادہ بہتر رہے گا۔ویسے عام طور پر پاکستان کے زیادہ تر پرائیویٹ پری اسکول مونٹیسوری طرزِ تعلیم ہی کو اپنائے ہوئے ہیں۔مونٹیسوری طرز تعلیم پاکستان کے ماحول سے کافی ہم آہنگ بھی ثابت ہوا ہے اور اب تک بچوں کے لیئے انتہائی کامیاب بھی رہا ہے۔نصاب کے علاوہ پری اسکول میں فراہم کی جانے غیر نصابی سرگرمیاں کے حوالے سے بھی اسکول انتظامیہ سے ضرور معلومات لیں کہ آیا اسکول میں بچوں کے لیئے کھیل کا میدان ہے؟عملی تعلیم کیلیئے چارٹس یا آبجیکٹس کی مدد لی جاتی ہے؟کمپیوٹر لیب موجود ہے؟اور سب سے بڑھ کراسکول انتظامیہ سے میل ملاپ کرتے ہوئے اس چیز کو بھی ذہن میں رکھیں کہ اساتذہ خوش اخلاق یا اعلیٰ ذوق کے حامل ہیں یا نہیں؟۔
اخراجات کا تخمینہ
ہم آپ کو مشورہ دیں گے ہمیشہ ایسے اسکول کا انتخاب کریں جس کے اخراجات آپ کی جیب با آسانی برداشت کر سکے۔قرضہ لے کر یا تمام جمع پونجی خرچ کر کے ایک ایسے اسکول میں اپنے بچے کو داخل کرانا جس کے ماہانہ یا سالانہ مالی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت آپ نہیں رکھتے یقینا ایک غلط فیصلہ ہوگا کیونکہ اگر آج آپ نے اپنے پڑوسی یا کسی رشتہ دار پر صرف اپنی جھوٹی مالی حیثیت کا رعب جمانے کے لیئے بچے کا داخلہ کسی اپنی حیثیت سے بڑے اسکول میں لے بھی لیا تو آگے جاکر آپ اور آپ کے بچے لیئے یہ بے شمار مسائل کا باعث ہوگا۔ کیونکہ اگر کچھ عرصہ بعد اگر آپ نے اس اسکول سے بچے کو صرف اس لیئے نکلوایا کہ آپ اس کے اخراجات پورے نہیں کر پارہے تو دورانِ تعلیم اسکول کا بدلنا آپ کے بچے کی ذہنی و نفسیاتی صلاحیتوں پر بری طرح سے اثر انداز ہوگا۔اس لیئے اسکول کے انتخاب سے پہلے اُس کی داخلہ فیس،ماہانہ فیس،ٹرم فیس، سالانہ فیس اور دیگر اخراجات کے بارے میں کھل کر دریافت کریں تاکہ آپ اور آپ کا خاندان مستقبل میں کسی بھی ذہنی کوفت یا مالی پریشانی کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔
صحت و صفائی اور حفاظتی اقدامات
کیونکہ ابھی آپ کا بچہ بہت چھوٹا ہے اس لیئے یہ ضروری ہے کہ اسے آپ جس اسکول میں داخل کرانے جارہے ہیں وہاں صحت و صفائی کا معیار اعلیٰ درجہ کا ہو اس کے لیئے آپ پورے اسکول کا بھر پور معائنہ کریں،صرف پرنسپل کے آفس سے پورے اسکول کے معیار صفائی کا اندازہ لگانا بے وقوفی ہوگا۔ اگر اسکول میں میس یا کچن کی سہولت دستیاب ہے تو اُسے اچھی دیکھیں،باتھ روم اور ٹوائلٹ پر بھی ایک نظر ضرور ڈالیں،اسکول میں بچوں کو ملنے والی چیزوں کا معیار ملاحظہ کریں اور سب سے بڑھ کر گیٹ پر سیکورٹی کی بابت ضرور دریافت کریں اور اسکول کی انتظامیہ کو یہ تاکید لازمی کریں کہ اسکول کے اوقات میں یہ یقینی بنایا جائے کہ آپ کا بچہ اسکول کے مین گیٹ سے باہر نہ جاسکے اور چھٹی کے وقت بھی بچے کو بغیر سرپرست یا آپ کی طرف سے منتخب کردہ شخص کے علاوہ کسی اور اجنبی کے ساتھ اسکول سے باہرجانے کی اجازت نہ دی جائے۔
ہم امید کرتے ہیں اگر آپ نے اپنے بچہ کے اسکول کے انتخاب سے پہلے بیان کردہ ان چند نکات کو اہمیت دی تویقینا آپ اپنے بچے کے لیئے ایک اچھے اسکول کو منتخب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ30 جولائی 2017 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں