PPP Leadership Meet the Press

پیپلزپارٹی کو اپوزیشن کی سخت ہزیمت کا سامنا

جیسے جیسے 2018کے الیکشن قریب آ رہے ہیں ملک بھر کی طرح اندرونِ سندھ میں بھی سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے جو کہ سیاسی پنڈتوں کے لیئے ایک حیران کن صورت حال ہے کیونکہ اکثر سیاسی تجزیہ کاروں کا ایک ماہ پہلے تک پختہ خیال تھا کہ سندھ،ماضی کی طرح حسبِ روایت آئندہ الیکشن میں بھی پاکستان پپلزپارٹی کا ناقابل ِشکست قلعہ ثابت ہو گا مگر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سندھ میں نئے گورنر محمد زبیر کی تعیناتی نے پاکستان پپلز پارٹی کے سندھ کارڈ کھیلنے کی راہ میں ناقابلِ عبور کئی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔اگر گورنر سندھ اسی سیاسی روش پر چلتے رہے تو آنے والے دنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کو انتہائی مایوس کن سیاسی خبریں سننے کو ملیں گی۔یہاں یہ بات بطور خاص ذہن نشین رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا سندھ کارڈ صرف اور صرف اندرونِ سندھ کے ووٹ بنک پر مشتمل ہے۔کراچی اور حیدرآباد میں تو پاکستان پیپلز پارٹی کو الیکشن میں پورے امیدوار ہی دستیاب نہیں ہوتے اور جس سیاسی مینڈیٹ کا سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے دیگر رفقاء ملک بھر میں ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے اگر بہ نظرِ غائر دیکھا جائے تو وہ مینڈٹ تو آپ کو 2013 کے الیکشن میں بھی کہیں نظر نہیں آئے گا، آپ حیران نہ ہوں یہ ایک حقیقت ہے کہ 2013  کے الیکشن میں کراچی کے علاوہ قومی اسمبلی کی 41 جنرل سیٹوں پر پاکستان پیپلزپارٹی مجموعی طور پر 31 لاکھ90 ہزار 825 ووٹ حاصل کر سکی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں تمام مخالف اُمیدواروں نے مجموعی طور پر 32 لاکھ 7 ہزار 534 ووٹ حاصل کیئے۔اس سے آپ خود بقول آصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے عظیم ترین عوامی مینڈیٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔یہ ہی وہ مینڈیٹ ہے جس کی بناء پر پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں ناکام ترین حکومت کا تسلسل برقرار رکھنااپنا حق سمجھے ہوئے ہے۔اندرون ِسندھ کے رہنے والے اس وقت سندھ حکومت سے کتنا نالاں ہیں اس کا اندازہ آپ حال ہی میں ہونے والے اُس سروے کے نتائج سے بخوبی لگا سکتے ہیں جس میں یہ سوال کیا گیا تھا کہ ”کیا آپ موجودہ جمہوری حکومت کی جگہ مارشل لاء کی حمایت کریں گے؟“ پاکستان کے تمام صوبوں کے رہنے والوں کی اکثریت نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا جبکہ سندھ کے 60 فیصد سے بھی زائد لوگوں نے اس سوال کا جواب سندھ کی موجودہ جمہوری حکومت کے خلاف اور مارشل لاء کی حمایت میں دیااور ستم ظریفی تو یہ کہ جواب دینے والوں کی اکثریت کا تعلق اندرون سندھ سے تھا۔یہ نتائج یقینا پاکستان پیپلز پارٹی کے آئندہ کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک سوالیہ نشان ہیں۔
اس سوالیہ نشان کو مزید مہمیزگورنر سندھ محمد زبیر کی حالیہ سرگرمیوں نے کر دیا ہے۔سکھر،لاڑکانہ اور موہن جودوڑو کے طوفانی دوروں میں گورنر سندھ نے اُس سیاسی نہج پر کام کرنے کی کوشیش کی ہے جس کو توقع لوگ پاکستان پیپلز پارٹی سے کر رہے تھے۔سکھر میں گورنر سندھ نے IBA کے کیمپس میں مفت لیپ ٹاپ کی تقریب ِ تقسیم میں اہلیانِ سکھر کو ایک نئی یونیورسٹی کے اعلان اور لیپ ٹاپ کی مفت تقیسم سے بار بار یہ جتلانے کی کوشیش کی کہ دیکھو”آ ج جو کام میں کر رہا ہوں یہ کام پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنے کے تھے جس میں وہ بُری طرح ناکام رہے اس لیے آپ آئندہ میاں محمد نوازشرف اور اس کے حمایت یافتہ اتحاد کو ووٹ دے کر منتخب کریں ہم آپ کی تقدیر بدل دیں گے“۔
ٹھیک اسی دن موہن جودوڑو میں شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیئے پہنچنے پر مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر بابو سرفراز جتوئی دیگر عہدیداران اور کارکنان کے ہمراہ گورنر سندھ کا ایسا شاندار استقبال کیاگیا کہ تقریب پر کسی سیاسی جلسہ کا گمان ہونے لگا۔اس کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ کی طرف سے لاڑکانہ شہر میں پیپلز پارٹی مخالف مختلف سیاسی گروپوں سے ملاقات بھی کی گئی جس میں لاڑکانہ عوامی اتحاد کے مرکزی رہنما حاجی منور علی عباسی اور انکے فرزند معظم علی عباسی سے تفصیلی ملاقات بطور خاص شامل تھی۔ جسے لاڑکانہ کی آئندہ ہونے والی نئی سیاسی صف بندی کا نقطہ آغاز قرار دیا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی کے حلقے بھی اس ملاقات کو انتہائی شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اُنہیں یقین ہے مستقبل قریب میں عباسی خاندان کے اثرو رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سے لاڑکانہ کے مینڈیٹ کو چھیننے کی جائے گی۔یہاں یہ بات بھی اچھی طرح مدِ نظر رہے کہ 2013  میں بھی لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کو کوئی عظیم الشان مینڈیٹ حاصل نہیں ہوا تھا۔جس کی اجمالی سی تفصیل یہ ہے کہ
NA-204 لاڑکانہ ون سے پیپلز پارٹی کے ایاز سومرو نے 50128 ووٹ حاصل کیئے تھے جبکہ دوسری طرف فنکشنل لیگ کی مہتاب اکبر راشدی نے 32006 ووٹ اور آزاد اُمیدوار معظم علی نے 28745 ووٹ حاصل کیئے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حلقہ میں پیپلز پارٹی کو اگر 50128 ووٹ ملے تو اس کی مخالفت میں 82132 پڑے۔
NA-205 لاڑکانہ ٹو میں پیپلز پارٹی کے نذیر بگھیونے 65720 ووٹ حاصل کیئے لیکن مخالفین کے کھاتے میں بھی 48300 ووٹ چلے گئے۔کم و بیش یہ ہی صورت حال لاڑکانہ کے باقی حلقوں میں بھی رہی گو کہ پیپلز پارٹی نے ہر حلقے میں واضح اکثریت حاصل کی مگر مخالفین بھی اچھے خاصے ووٹ سمیٹنے میں کامیاب رہے۔یہ 2013 کے وہ الیکشن تھے جس میں نگران حکومت پیپلز پارٹی کی مرضی کی تھی اور در پردہ اسٹیبلیشمنٹ بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے صرف نظر کیئے ہوئے تھی جبکہ اس وقت پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔یہ 2013 نہیں بلکہ 2017 ہے آج کے حالات تو جو تصویر دکھا رہے وہ تو کچھ یوں ہے کہ سندھ حکومت کے رینجر اور اسٹیبلیشمنٹ سے کشیدہ تعلقات،گورنس کے انتہائی مخدوش حالات،مسلم لیگ (ن) کے گورنر محمد زبیر کی طرف سے کی جانے والی کھلم کھلا نئی سیاسی صف بندیاں سیاسی تجزیہ کاروں کو اس بات سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پیپلز پارٹی نے 2013  کے الیکشن میں اپنے نگران سیٹ اپ کے ذریعے سے جو معمولی سی برتری حاصل کر کے پھر بھی کسی نہ کسی طرح سندھ حکومت کی بنیاد رکھ لی تھی شاید اس بار صورت حال بدل نہ جائے یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت کے تمام وزیروں اور مشیروں بشمول وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گورنر سندھ محمد زبیرکو ہدفِ تنقید بنا نا شروع کردیا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ سندھ میں سیاسی طور پر اتنا متحرک گورنرسندھ کسی طور بھی پیپلزپارٹی کے مفاد میں نہیں۔کیا گورنر سندھ کا متحرک کردار سندھ کی موجودہ سیاسی صورت حال میں بدستور جاری رہے گا؟ اس کا صحیح اندازہ تو آئندہ چند ہفتوں میں ہوجائے گا مگر قرین قیا س یہ ہی لگتا ہے کہ گور نر سندھ محمد زبیر اپنی مرکزی قیادت کو خوش کرنے کے لیئے بہت کچھ کرنے کے موڈ میں نظر آتے ہیں جس کے آگے اگر بروقت پاکستان پیپلزپارٹی نے بند نہیں باندھا تو یہ سیلاب پاکستان پیپلز پارٹی کا سندھ میں سے بہت سا سیاسی اسباب بہا کر لے جائے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 18 مئی 2017 کے شمارے میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں