Anti PPP Alliance

سندھ میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کا پاور شو

ختم نبوت ﷺ کے قانون میں مبینہ تبدیلی کے ذمہ داروں کے خلاف فیض آباد میں ہونے والے دھرنے کی گونج بجلی کی رفتار کے ساتھ سندھ تک آپہنچی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پورا سندھ بھی دھرنوں کی لپیٹ میں آگیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دھرنوں کا جتنا خوف ن لیگ کی صفوں میں محسوس کیا جارہا تھا اُتنا ہی خوف کا شکار پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ؤں کے چہروں پر بھی نظر آتا رہا۔پی پی کے رہنماؤں کو فکر اس بات کی لگی ہوئی ہے کہ اگر بات بل کی شق وار منظور کرنے والے افراد تک جا پہنچی تو پھر اس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے بھی بہت سے اراکینِ قومی اسمبلی کے نام منظر عام پر آجائیں گے۔اس لیئے اس سارے معاملے کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پر گویا سکتہ طاری رہا اور انہوں نے کسی بھی حوالے سے اس موضوع پر لب کشائی سے گریز کا راستہ ہی اختیار کیا۔لیکن اس موقع پر بھلا پی پی مخالف قوتیں کہاں خاموش رہنے والی تھیں۔انہوں نے اشاروں کنایوں میں پی پی کے اراکین اسمبلی کو اس مسئلے میں ملوث کرنے کے بیانات دینے شروع کر دیئے ہیں۔سندھ میں حال ہی میں بننے والے پی پی مخالف سیاسی اتحا د گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کئی سرکردہ رہنماؤں نے اپنے سکھر میں ہونے والے جلسہ میں پی پی کی مرکزی قیادت پر خوب تنقید کے نشتر چلائے۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے سربراہ اور حروں کے روحانی پیشوا پیر صبغت اللہ شاہ راشدی المعروف پیر پگارا نے مذکورہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اسلام آباد میں جاری دھرنے کے شرکا پر گولیاں نہیں چلانی چاہیے تھیں، حکومت کے اس عمل کے بعد ان کا اقتدار میں رہنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ ختم نبوتؐ بل میں ترمیم کی گئی جو انتہائی افسوس ناک فعل تھا، کسی کے عقیدے سے چھیڑ چھاڑ کا کسی کو حق نہیں پہنچتا، حکمران حکومت کے نشے میں انسانیت کی حدوں سے بھی آگے نکل چکے ہیں، یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی ہے، نبی ﷺ کے نام پر بچہ بچہ سر کٹانے کو تیار ہے، ا ور اس معاملہ میں ملوث تمام لوگوں کی نہ صرف نشاندہی ہونی چاہئے بلکہ اُنہیں سخت سے سخت سز ا بھی ملنی چاہئے۔یہ کسی ایک جماعت کی کارستانی نہیں لگتی ہمیں شک ہے کہ اس میں زرداری گروپ بھی ملوث ہوسکتاہے۔
پیر پگارا نے مزید کہا کہ آصف زرداری نے لاڑکانہ کے جلسے میں کہا تھا کہ ہمیں بی بی کے قاتلوں کا علم ہے، آج پی پی کے عام ورکر سمیت ملک کا ہر شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ آصف زرداری بتائیں کہ محترمہ کے قتل اور ان کے قتل کے بعد آج تک قتل ہونے والوں کے قتل میں کون لوگ ملوث ہیں، آصف زرداری 5 سال ایوان صدر میں رہے اور ساڑھے 4 سال ان کی پارٹی اقتدار میں رہی، اس دوران آصف زرداری خاموش کیوں رہے، سندھ میں اگلا دور زرداری کا نہیں ہو گا۔پیر پگار کے علاوہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے اس جلسے سے ف لیگ کے صوبائی صدر صدرالدین شاہ راشدی، سابق وزیر اعلیٰ سندھ غوث علی شاہ، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، سید مظفر شاہ، سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی، ایاز لطیف پلیجو، نصرت سحر عباسی، عرفان اللہ مروت، غوث بخش خان مہر، پیپلزپارٹی ورکرز کے ڈاکٹر صفدر عباسی، شہریار خان مہر، فقیر عنایت برڑو اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
دوسری جانب حکومت سندھ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اہم ترین رہنماؤ ں کی طرف سکھر میں ہونیوالے اس جلسہ کو ایک ناکام ترین سیاسی شوقرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ اس طرح کے جلسوں سے پی پی کو سندھ میں ختم نہیں کیا جاسکتا۔اگر ہمارا مقابلہ کرنا ہے تو اُس کے لیئے ہمارے خلاف سازش کرنے والوں کو کچھ نیا کرنا ہوگا،یہ طریقے ہم پر پہلے بھی آزمائے جاچکے ہیں ان سے ہمار اکچھ بگڑنے والا نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ سندھ کی سیاسی تاریخ میں بننے والا اس حوالے سے اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد اتحاد ہے کہ جسے باقاعدہ ایک انتخابی جماعت کے طورپررجسٹرد بھی کروایا جارہاہے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اتحاد کے اراکین کس حد تک اگلے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کے لیئے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔جبکہ سابق وزیراعلی سندھ اور ضلع تھرپارکر کی سب سے قدآور سیاسی شخصیت غلام ارباب رحیم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر سندھ ڈیموکریٹک الائنس میں شامل ہونے کا اعلان بھی کردیا ہے۔اس کے علاوہ پیپلز پارٹی سندھ سے تعلق رکھنے والی بے شمار دیگرسیاسی شخصیات کے حوالے سے بھی خبریں گرم ہیں جو تحریک انصاف کے رہنماؤں خصوصاً شاہ محمود قریشی سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خفیہ طور پر اپنے معاملات طے کررہی ہیں۔اس لیئے غالب گمان یہ ہی ہے کہ آنے والوں دنوں میں کسی بھی طرف سے پیپلزپارٹی کے لیئے اچھی خبریں آنے کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔اگر بہ نظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو سندھ میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے لیئے یہ انتہائی کڑا اور مشکل ترین وقت ہے۔جس کا احساس آہستہ آہستہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو ہوتا جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اس مشکل ترین وقت سے خود کو اور اپنی پارٹی کو نکالنے کے لیئے کونسا ترپ کا پتہ کھیلتے ہیں۔سیاست میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب وہ وقت آگیا ہے کہ آصف علی زرداری اپنی سب سے بڑی سیاسی چال چلتے ہوئے سندھ میں اپنے دشمنوں کی طرف سے سجائی گئی پوری سیاسی بساط کو اُلٹ کر رکھ دیں۔ہمارا خیال یہ ہے کہ مزید تاخیر پیپلزپارٹی مخالف قوتوں کے حوصلے کو بڑھائی گی جس سے سندھ کے آئندہ سیاسی منظرنامہ پی پی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 07 دسمبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں