Agriculture in Sindh

سندھ میں زراعت کی بدحالی و ابتری کا ذمہ دار کون؟

ہم میں سے ہر شخص اس بات سے اچھی طرح واقف اور باخبر ہے کہ ہمارا ملک ایک زراعت کا حامل ملک ہے۔ہمارے ہاں تعلیمی نصاب کے ذریعے بچوں تک کو یہ بات پڑھائی اور ذہن نشین کراوائی جاتی ہے کہ زرعی ملک ہونے کی وجہ سے ہماری ملک کی تمام تر ترقی و شرح نمو کا دارمدار زراعت پر ہی ہے۔جو بات ہمارے بچوں تک کو معلوم ہے اُس چھوٹی سی بات سے ہمارے ارباب ِ اختیار بری طرح بے خبر نظر آتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ میں گزشتہ پندرہ سالوں سے کسانوں کے حقوق کی علمبردار جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود بھی سندھ میں زرعی شعبہ بری طرح بدحالی کا شکار ہے لیکن افسوس کہ سندھ حکومت کے پاس سندھ میں زراعت کی بہتری و ترقی کے حوالے سے کوئی پروگرام موجود نہیں ہے اور نہ ہی عالمی اداروں کی امداد سے شروع ہونے والے زرعی ترقی کے منصوبہ جات یا پروجیکٹ چلانے کی اہلیت ہے۔جس کی وجہ سے سندھ میں زراعت کی بہتری و ترقی کے حوالے سے امداد فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے بھی حکومتی رویوں سے سخت نالاں نظر آتے ہیں اور وقتا فوقتا جب بھی اور جہاں بھی انہیں موقع میسر آتا ہے وہ اس حوالے سے اپنے شدید ترین تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔جس کی تازہ ترین مثال عالمی بنک کی امداد و تعاون سے شروع ہونے والے ایگریکلچرل گروتھ پروجیکٹ کی ہے۔2014 ؁ء میں شروع ہونے والے اس پروجیکٹ کے لیئے عالمی مالیاتی ادراے نے 7 ارب، 64 کروڑ روپے منظور کیئے تھے۔عالمی بنک کی مدد سے شروع کیئے جانے والے ایگریکلچرل گروتھ پروجیکٹ کا بنیادی مقصد سندھ میں پیدا ہونے والی اہم ترین فصلوں کجھور،مرچوں،پیاز اور چاول کی پیداوار اور معیار میں اضافہ کے لیئے چھوٹے کاشت کاروں کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بارہ ہزار چھوٹے کاشت کاروں کو زرعی آلات کا تمام ساز و سامان بالکل مفت فراہم کرنا بھی تھا۔ اس کے علاوہ اس منصوبہ کے تحت مرچوں کے لیئے ضلع عمرکوٹ،ضلع بدین اور پیاز کے لیئے مٹیادی،حیدرآباد،ٹنڈوالہیار،چاول کی فصل کے لیئے لاڑکانہ،شکار پور، جیکب آباد،قمبر اور کشمور جبکہ کھجور کے لیئے خیرپور اور سکھر کے چھوٹے کاشت کاروں کا انتخاب کر کے انہیں دنیا کی بہترین منڈیوں میں عالمی سطح پر ہونے والی زرعی تبدیلیوں اور ترقی سے متعارف کروانے کے لیئے معلوماتی دورے بھی کروانے تھے۔ان تمام معلوماتی دوروں کے اخراجات بھی عالمی مالیاتی ادارے نے اپنی جیب سے ادا کرنے تھے۔اس طرح کے معلوماتی دوروں سے نہ صرف سندھ میں زراعت کا معیار بہتر ہونے کے امکانات روشن ہوجاتے بلکہ چھوٹے کاشتکاروں کو بھی اپنا معیار ِ زندگی بلند کرنے کا موقع ملتا لیکن افسوس سندھ کے جاگیرداروں نے سندھ حکومت کے چند ارباب ِ اختیار ات کو اپنے ساتھ ملا کر اس عظیم الشان منصوبہ کوخاک میں ملا کر رکھ دیا اور سندھ حکومت نے اس عالمی منصوبہ کو کچھ اس طرح سے اپنے من پسند جاگیرداروں کے اختیار میں دیا کہ ابتدائی چند سالوں میں تو کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوسکی کہ اس منصوبہ سے مستفید ہونے والے چھوٹے کاشت کار نہیں بلکہ بڑے بڑے جاگیردار ہیں سندھ حکومت کی یہ ایسی بھیانک سیاسی چالاکیاں ہیں کہ جن کی وجہ سے سندھ میں زراعت کی ترقی اور چھوٹے کاشتکاروں کی تقدیر بدلنا تو بہت دور کی بات ہے الٹا ان تمام منصوبوں کے فوائد بڑے بڑے زمینداروں نے حاصل کرلیئے۔اس کے برعکس اگر کھجور،ہر ی مرچ،پیاز اور چاول کی فصل کی ترقی کے لیئے شروع کیئے جانے والے اس منصوبہ کو انتہائی دیانت داری اور ایمانتداری کے ساتھ چلایا جاتا تو اسے 2019 ؁ء میں ہر صورت مکمل ہوجانا تھا لیکن اس وقت تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ2017 ؁ء کا سال اختتام پذیر ہونے والا ہے اور ابھی تک 2015-16 ؁ء تک کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکا۔سندھ حکومت کی اس مایوس کن کارکردگی پر عالمی ادارہ نے اپنے شدید ترین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔عالمی ادارے کے اس منصوبہ یا اس جیسے دیگر منصوبوں کو سندھ میں جس طرح یکے بعد دیگر ے ناکامی سے دوچار کیا جارہا ہے یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ زراعت کی بہتری اور ترقی سندھ حکومت کی ترجیحات میں کسی بھی درجے میں شامل نہیں ہے۔سندھ میں زراعت کی تباہی میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم،کاشتکاروں کو نقلی بیج کی فراہمی،کھاد اور زرعی ادویات کے سلسلے میں غیر سنجیدہ رویے نے ہمیشہ اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی میں سندھ کے بڑے بڑے جاگیردار اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان جن کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ سندھ میں کسی ایسے پروجیکٹ یا منصوبہ کو اس کی اصل روح کے مطابق درست خطوط پر چلنے نہ دیا جائے جو چھوٹے کاشتکاروں کے مفاد میں ہو۔حالانکہ پیپلزپارٹی میں کئی ایسے سیاسی افراد موجود ہیں جو چھوٹے کاشتکاروں دُکھ اور درد محسوس کرتے ہیں اور وہ اپنی اپنی سطح پر یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ سندھ میں زرعی شعبہ بامِ عروج پر پہنچایا جائے لیکن اس وقت پیپلزپارٹی میں اُن کی آواز کو سننے والا اور اُس پر عمل پیرا ہونے والا کوئی نہیں ہے اس لیئے اُ ن کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ جاتی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 26 اکتوبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں