Political Drama And Parliament Play

سیاسی ناٹک، پارلیمانی ڈرامے

کہا جاتاہے کہ سابق صدر مملکت پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ہونے والے 2006 کے انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے تعلیم یافتہ قومی اسمبلی وجود میں آئی تھی۔اسی تعلیم یافتہ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اراکین اسمبلی سے حلفِ وفاداری لیا جا رہا تھا اور تمام منتخب پارلیمانی اراکین کے ہاتھ میں کاغذات تھے، جن پر حلف کی مکمل عبارت لکھی تھی۔حلف برداری کی اس تقریب میں سب سے پہلے اِ سپیکرقومی اسمبلی نے ارکان کو بتایا کہ میں آپ سے حلف لینے کے لیے حلف کی عبارت کو پڑھوں گا اور آپ میرے ساتھ ساتھ اسے دہرائیں گے۔
اسپیکرقومی اسمبلی: میں۔
منتخب اراکین: میں۔
اسپیکر قومی اسمبلی: آگے اپنا اپنا نام لیں۔
منتخب ارکین: آگے اپنا اپنا نام لیں۔
اور اس کے بعد قومی اسمبلی کا ایوان میں ایک فلک شگاف اجتماعی قہقہہ بلند ہوا،یعنی پارلیمانی ارکان اپنی قابلیت پر خود ہی ہنس رہے تھے اورپاکستانی قوم دم بخود یہ مناظر اپنے اپنے ٹی وی اسکرین پر براہ راست ملاحظہ کررہے تھے۔ویسے تو دنیا بھر میں پارلیمان کا ایوان اور ارکین پارلیمان کو ہر لحاظ سے معزز اور محترم خیال کیا جاتاہے۔کیونکہ اراکین پارلیمان اپنے اپنے ملک کے لیئے قانون سازی، انتظامی اُمور میں بہتری اور سفارتی اُمورکی نوک پلک سنوارنے جیسے اہم اور سنجیدہ نوعیت کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار ہمارے یہ معزز اراکین پارلیمان سیاست کے تیز رو دریا میں بہہ کر یا کسی سیاسی ترنگ میں آکر کبھی جان بوجھ کر اور کبھی ان جانے میں ایسی حرکتیں اور پارلیمانی ڈرامے بھی کر گزرتے ہیں کہ دیکھنے والے حیرت و استعجاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر کے پارلیمانی نمائندوں کے کچھ ایسی ہی غیرپارلیمانی حرکتوں،شگفتہ غلطیوں،طیش آمیز رویوں اور فقید المثال پارلیمانی ڈراموں پر سیاسی آمیزہ قارئین کے ذوق مطالعہ کے لیئے پیش خدمت ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: زمین کے لیئے ہر زندگی ضروری ہے

جسٹن ٹروڈو ایک سپر مین وزیراعظم
کنیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے لیئے تنازعات کوئی اجنبی چیز نہیں ہیں بلکہ یوں کہیے کہ انہیں تنازعات میں رہنے کا خاص شوق ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جسٹن ٹروڈ اکثر و بیشتر جان بوجھ کر بھی ایسی حرکتیں کر گزرتے جن کی وجہ سے تنازعات کسی مقناطیس کی مانند اُن کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ جسٹن ٹروڈو کا پہناوا،بھی بے شمار بار بریکنگ نیوز کی زینت بنتا رہا ہے۔مثال کے طور پر 31 اکتوبر 2017 کو جسٹن ٹروڈو وزیراعظم کی حیثیت سے پارلیمان میں پہنچے تو انہوں نے بلیوکوٹ،سفید شرٹ اور سرخ رنگ کی ٹائی لگائی ہوئی تھی، بلاشبہ یہ لباس ایک کنیڈین وزیراعظم کی بھرپور عکاسی کرتا تھا۔ لیکن جیسے ہی جسٹن ٹروڈو پارلیمینٹ میں میڈیا کے کیمروں کے سامنے آئے۔انہوں نے انتہائی عجلت میں اپنی ٹائی کھولی اور شرٹ اُتار کر ایک طرف پھینک دی۔پارلیمنٹ کے ارکان اور میڈیا کوریج کے لیئے آنے والا پریس یہ دیکھ کر دم بخود ہوگیا کہ کنیڈا کے وزیراعظم نے سپرمین کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔

سپرمین کے لباس میں نہ صرف جسٹن ٹروڈو نے میڈیا سے اپنے فوٹو شوٹ کروایا،بات چیت کی بلکہ وزیراعظم ہاؤس میں وہ تمام پالیمانی اور انتظامی اُمور بھی شام تک سپر مین کے اسی عجیب و غریب لباس میں انجام دیتے رہے۔ سپر مین کا لباس پہننے پر کنیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا موقف تھا کہ ”وہ دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ایک سپر مین وزیراعظم کے روپ میں متعارف کروانا چاہتے ہیں اور اسی لیئے وہ آج اپنے گھر سے سپرمین کا لباس زیب تن کر کے آئے تھے“۔ جسٹن ٹروڈو کے سپرمین والا لباس پہن کر وزیراعظم کے انتظامی اُمور انجام دینے کے عمل کو کنیڈا کے بعض شہریوں نے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جبکہ کچھ افراد خاص طور پر پارلیمان میں موجود اپوزیشن رہنماؤں کا خیال تھا کہ جسٹن ٹروڈو نے وزیراعظم کی حیثیت سے سپرمین کا لباس پہن کر کنیڈا کی پارلیمنٹ کے ”ڈریس کوڈ“ کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ جس پر پارلیمان میں اُن سے باز پرس ہونی چاہئے۔یاد رہے کہ کنیڈا کی پارلیمنٹ کے ہر رکن کے لیئے پارلیمنٹ میں داخلہ کے لیئے ایک لباس کوڈ موجود ہے۔یعنی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران مرد رکن پارلیمنٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پینٹ،شرٹ کے ساتھ نیلے رنگ کا کوٹ زیب تن کرے گا۔ یہ کنیڈین پارلیمنٹ کی برسوں پر روایت ہے جسے کنیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے تھوڑی سی سیاسی توجہ حاصل کر نے کے لیئے پامال کردیا۔ بہرحال جسٹن ٹروڈو سپر مین کا لباس پہن کر سپرمین وزیراعظم بننے میں تو کامیاب نہ ہوسکے لیکن انہوں نے اپنی غیر متوقع اداکاری سے پارلیمانی ڈرامہ میں حیرت و استعجاب کے رنگ ضرور بھر دیئے۔

صدر ٹرمپ نے ہاتھ نہیں ملایا، نینسی پیلوسی نے تقریر پھاڑ ڈالی
ڈونلڈ ٹرمپ اور نینسی پیلوسی نے 2015 میں جب ٹرمپ کے صدر کے عہدے کا امیدوار ہونے کا اعلان کیا تھا تب سے لے کر اَب تک وہ ایک دوسرے کی سخت سیاسی حریف رہے ہیں۔04 فروری 2020 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سے قبل امریکی کانگرس کی اسپیکر نینسی پلوسی سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ٹرمپ کی تقریر کے دوران پلوسی نے ایک گھنٹہ اور اٹھارہ منٹ کا وقت امریکی صدر کی پُشت پر بیٹھ کر رنجیدگی اور کڑھن میں گزارا اور جیسے ہی ٹرمپ نے تقریر مکمل کرنے کے بعد اپنے خطاب کی سرکاری کاپی پلوسی کے حوالے کی، نینسی پلوسی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے صدر سے مصافحہ کرنا چاہا لیکن صدر ٹرمپ اِس بار بھی انہیں دانستہ نظر انداز کرکے آگے بڑھ گئے تو جواباً نینسی پلوسی نے بھی امریکی صدر کی تقریر کا مسودہ پھاڑ کر،کاغذ کے پرزے ہوا میں اُڑا دیئے۔یاد رہے کہ امریکی صدر کے اسٹیٹ آف یونین خطاب سے قبل یہ روایت رہی ہے کہ اسپیکر کی جانب سے صدر کا خیر مقدم کیا جاتا ہے اور اُن کی یہاں موجودگی کو اعزاز سمجھنے جیسے کلمات کہے جاتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کے خطاب سے قبل اسپیکر نینسی پلوسی نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ”معزز اراکین کانگریس، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ“۔

صدر کی تقریر کی کاپی پرزے پرزے کردینے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں نینسی پلوسی نے اپنے اس اقدام سے متعلق کہا کہ”اُن کے نزدیک امریکی صدر کی تقریر کا اس سے شائستہ کوئی اور متبادل جواب نہیں ہوسکتا تھا“۔نیز نینسی پلوسی نے ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھانے کی تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ”ہم عوامی مفادات کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے رہیں گے لیکن جہاں اُصول کی بات ہو گی وہاں ڈٹے رہیں گے“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر اور اسپیکر نینسی پلوسی کا آمنا سامنا لگ بھگ چار ماہ بعد ہوا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی ایک ملاقات میں بھی نینی پلوسی اور ٹرمپ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوچکا ہے۔ اُس وقت امریکی صدر کو یہ گلہ رہا ہے کہ نینسی پلوسی نے اُن کے خلاف مواخذے کی راہ ہموار کی، جو قطعی طور پر امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔جبکہ اسپیکر نینسی پلوسی کا یہ موقف رہا ہے کہ امریکی صدر کے عہدے کا وقار بحال کرنے کے لیے صدر کا مواخذہ ضروری ہے۔

ولادی میر پیوٹن نے چینی خاتون اول کی مدد کی،لیکن۔۔۔
چین کے شہر بیجنگ میں 2014 کے ایشیا پیسیفک سربراہی کانفرنس کا اجلاس پورے زور و شور کے ساتھ جاری تھااور اجلاس میں شریک ہر عالمی رہنما اپنے ساتھ تشریف فرما، دوسرے رہنما کے ساتھ اہم ترین سفارتی معاملات پر گفت و شنید میں مصروف تھا۔ کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نظر اچانک چینی خاتون ِ اول پینگ لیؤان پر جاٹکی، جو سخت سرد موسم کے باعث سردی سے بری طرح کپکپا رہی تھیں۔ لہٰذا روسی صدر ولادیمیر پوتن نے چینی خاتون اوّل کی حالت زار کو ملاحظہ کرتے ہوئے ازراہِ ہمدردی اپناجیکٹ پہننے کے لیئے چینی خاتون اول کو پیش کردیا۔جسے چینی خاتونِ اوّل پینگ لیؤان نے شکریہ کے ساتھ قبول کرتے ہوئے زیب تن کرلیا،مگر اگلے ہی لمحہ خاتون کی اوّل کی نگاہ اپنے شوہر یعنی چینی صدر شی ژنگ پن پر پڑی جو امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ کسی اہم ترین موضوع پر محو گفتگو تھے۔ جس کے بعد چینی خاتون اوّل پینگ کو احساس ہوا کہ اُن کا یہ طرز عمل اُن کے شوہر اور اُن کے ملک کے لیئے سیاسی سُبکی اور شرمندگی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ سوچ کر خاتون اول پینگ نے روسی صدر ولادیمیر کی دی ہوئی جیکٹ اُتار کر اپنے پاس ہی کھڑے ہوئے ایک اہلکار کے حوالے کردی۔بدقسمتی سے اَب بہت دیر ہوچکی تھی اور چینی اور بین الاقوامی میڈیا کے کیمروں کی باریک بیں نگاہوں نے یہ مناظر اپنے اپنے نیوز چینلز کو بھیجنے کے لیے محفوظ کرلیئے تھے۔اس واقعہ کے بعد کئی ہفتوں تک بین الاقوامی اور چینی ذرائع ابلاغ میں چینی خاتون اول اور روسی صدر کی یہ ویڈیو زیرگردش کرتی رہی۔چینی عوام نے اپنی خاتون اول پینگ پر سوالات کی بوچھاڑ کردی کہ آخر بیجنگ کے سخت سرد موسم کے باری میں مکمل آگاہی رکھنے کے باوجود چینی خاتون اول نے سردی سے بچنے کے لیئے مناسب لباس پہننے کی زحمت کیوں گوار نہیں کی۔ بعض نے تو یہاں تک اعتراضات کیئے کہ بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی سرکاری تقریبات،فیشن شو یا فلم کا سیٹ نہیں ہوتا کہ جہاں اپنی خوب صورتی کی نمائش کے لیئے ڈرامہ کیا جائے۔اِس واقعہ کاتنازعہ چین میں اتنا زیادہ بڑھا کہ بالآخر چین میں اس واقعہ کے حوالے سے کسی بھی ویڈیو، فوٹیج، تبصرے کی نشرو اشاعت پرملک بھر میں پابندی عائد کردی گئی۔

نیند کے کچے پارلیمانی رہنما
جیکب زوما جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ متنازعہ صدرو میں سے ایک ہیں۔ کرپشن،اقربا پروری،اختیارات کا ناجائز استعمال اور جنسی ہراسگی سمیت شاید ہی کوئی ایسا الزام باقی بچا ہو، جو اِن کے دورِ حکومت میں جیکب زوما پر عائد نہ کیا گیاہو۔ عجیب بات یہ ہے کہ سنگین ترین الزامات کے سائے میں دورِ اقتدار کو قائم رکھنے والے جیکب زوما ایک چھوٹے سے پارلیمانی واقعہ پر استعفا دینے پر مجبور ہوگئے۔قصہ کچھ یوں ہے کہ 2 نومبر 2016 کو پارلیمنٹ میں قومی بجٹ پر تقریر سننے کے دوران جیکب زوما گہری نیند میں چلے گئے اور کسی کو احساس نہ ہوسکا کہ قومی بجٹ کی براہ راست کوریج کرنے والے میڈیا نے ساری توجہ سوتے ہوئے جیکب زوما پر ہی مرکوز کرلی ہیں۔ موصوف تب تک سوتے رہے جب تک بجٹ تقریر مکمل نہ ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں جیکب زوما کے سونے کے واقعہ کو جنوبی افریقہ کی عوام اپنی ملی توہین سمجھا اور ملک بھر ان سے استعفا کا مطالبہ کیا جانے لگا اور آخر کار نیند سے شروع ہونے تحریک کرپشن الزامات تک جاپہنچی اور جیکب زوما کو عوامی دباؤ پر مستعفی ہونا ہی پڑا۔ پارلیمان میں سونے کی یہ سب سے بھاری قیمت تھی جو جیکب زوما کو ادا کرنا پڑی۔ حالانکہ دنیا بھر کے اراکین پارلیمنٹ، ایوان کے جاری اجلاسوں میں اکثر وبیشتر اپنی نیند پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مثال کے طور پر اپریل 2008 میں سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اپنی نیند پر قابو نہ رکھ سکے۔جبکہ کیوبا کے سابق صدر فیدل کاسترو اپریل 2011 میں کیوبن کمیونسٹ پارٹی کانگرس کے اجلاس میں سو گئے تھے۔نیز جنوری 2017 میں جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والے سوال جواب کے دوران سب سے بے خبر سوتے رہے۔اس کے علاوہ جرمنی کی چانسلر آنجیلا مرکل جون 2014 میں پارلیمنٹ میں جاری بحٹ بحث کے دوران اپنے ہاتھ سے ٹیک لگاکر گہری نیند سو گئیں تھیں۔صرف یہ ہی نہیں مسیحوں کے روحانی پیشوا اور رہنما پوپ بینیڈکٹ بھی اپریل 2018 میں مالٹا کے شہر فلوریانا میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے سو گئے تھے۔ اَب اگر ہم پاکستانی پارلیمنٹ کی بات کریں تو پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی،رحمان ملک بھی پارلیمانی اجلاسوں میں اپنی نیند پوری کرنے میں خاص شہرت رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں ایک بار قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران نون لیگ کے رہنما رانا تنویر کو بھی گہری نیند آگئی تھی،جس پر قومی اسمبلی کے ا سپیکر کی نشاندہی پر شہباز شریف مسکرا کر بولے ”رانا تنویر کو میری تقریر موسیقی لگ رہی ہے اس لیے انہیں نیند آرہی ہے“۔

پارلیمانی تشدد کا ایک خوفناک ڈرامہ
جی ہاں! آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ سچ ہے کہ 2017 میں،افریقی ملک یوگنڈا میں ملک کی برسہا برس سے خدمت انجام دینے والے صدر کی عمر میں توسیع کے لئے آئینی ترمیم پر بحث کے لیئے پیش کی گئی۔ خاص طور پر پیش کی گئی اس ترمیم کے منظور کروانے کا مقصد 73 سالہ صدر یووری کاگوٹا میوزینی کی حکمرانی میں توسیع کرنا تھا، جو اس وقت صدورکے لئے عمر کی زیادہ سے زیادہ پابندی تک پہنچنے سے 2 سال کی دوری پر تھے یعنی اُن کی عمر اس وقت 75 برس تھی۔آئینی ترمیم پیش ہونے کی دیر تھی کہ یوگنڈا کی پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔لیکن یہ ہنگامہ آرائی فقط توتکار،گالم گلوچ، ایک دوسرے کو دھکے مارنا، مکے مارنا، لات مارنے یا مائکروفون کے آزادانہ استعمال تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اِس پارلیمانی لڑائی میں اراکین پارلیمنٹ نے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار تک نکال لیئے تھے اوراس پارلیمانی لڑائی میں ہر طرح کا تشدد دیکھا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ پارلیمانی ہنگامہ ایک،دو گھنٹہ تک نہیں بلکہ یہ پارلیمانی جھگڑا پورے 2 دن تک مسلسل جاری رہا جس میں متعدد اراکین پارلیمنٹ شدید ترین زخمی بھی ہوگئے تھے۔ پارلیمانی لڑائی کے اختتام پر اتفاق رائے سے آئینی ترمیم کے سلسلے میں، صدارتی عمر کی حد ختم کردی گئی تھی اور صدر میوزیوینی کی حکمرانی کے لیئے آئینی تحفظ فراہم کردیا گیا اور وہ آج بھی اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔یہ پارلیمانی جھگڑا جدید دنیا کی جمہوری تاریخ میں سب سے زیادہ وسیع، غیر پیشہ ورانہ اورالم ناک سیاسی لمحات میں سے ایک ہے۔

سیلفی کے دلدادہ اراکین پارلیمان
2017 میں ایران کے صدر حسن روحانی کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کی تقریب ایرانی پارلیمان میں منعقد ہورہی تھی،جس میں شرکت کے لیئے یورپی یونین کی اعلی عہدیدار فریڈریکا موگرینی کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ جہاں انھیں اراکین پارلیمان کی جانب سے ”عجیب و غریب“ سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور صدر روحانی کی موجودگی میں ہی ایران کے مرد، اراکان پارلیمان نے فریڈریکا موگرینی کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے انھیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیلفی لینے کے لیئے یہ گھیراؤ بہت دیر تک جاری رہا۔یہاں تک کہ اسپیکر کو صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مائیک پر اعلان کرنا پڑا کہ”برائے مہربانی، سیلفی کے لیئے موگرینی کا گھیراؤ ختم کیا جائے“۔لیکن مرد، اراکین پارلیمان نے اسپیکر کا ہر اعلان سنا اَن سنا کرتے ہوئے موگرینی کے ساتھ سیلفی لینے کے لیئے بھیڑ بنائے رکھی۔ایرانی عوام کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اراکین پارلیمان کے اس برتاؤ پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ جبکہ ایرانی پارلیمان ایک رکن علی رضا سلیمی نے اراکین پارلیمان کی اِس حرکت کو ”مغرب کے سامنے ایران کی خود سپردگی“قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ”ایرانی ارکان پارلیمنٹ کا یہ رویہ مغربی ملک کی ایک اعلیٰ افسر کی چاپلوسی جیسا تھا“۔نیز سابق صدر محمد خاتمی کے مشیر صادق خرازی نے یہ منظر دیکھنے کے بعد یہ تجویز دی کہ”تمام ایرانی اراکین پارلیمان کوکسی خاتون کے ساتھ میل جول کے لیئے آفاقی اخلاقی قدروں اور لوگوں سے ملنے جلنے کی تربیت دی جانی چاہیے“۔

مزید پڑھیں: سیلفی کا جنون

پارلیمانی اجلاسوں میں شیرخوار بچوں کی آمد
ویسے تو پارلیمان کسی بھی ملک کی ہو، اُس میں داخل ہونے والے ہر شخص کے لیئے کچھ قواعد و ضوابط پر پورا اُترنا ضروری ہوتا ہے اور جوافراد بھی ان شرائط پر پورا نہیں اُتر تے اُن کا داخلہ پارلیمان میں یکسر ممنوع ہی ہوتا ہے۔ خاص طور بچے پارلیمان میں داخل نہیں ہوسکتے۔لیکن اَب اراکین پارلیمنٹ اپنے شیر خوار بچوں کو بھی پارلیمانی اجلاسوں میں لے کر آنے لگے ہیں اور بات صرف یہیں تک ہی محدود نہیں رہی ہے بلکہ آسٹریلیا کی خاتون سینیٹر لاریسا واٹرز دنیا کی وہ پہلی سیاست دان بن چکی ہیں جنھوں نے پارلیمان کے جاری اجلاس میں اپنی شیرخوار بچی کو اپنا دودھ بھی پلایا ہے۔آسٹریلیا کے ایوان بالا میں 2003 سے شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت ہے لیکن اس کے باوجود سینیٹر لاریسا واٹرز سے پہلے کبھی کسی رکن پارلیمان نے پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں اپنے بچے کو دودھ نہیں پلایا تھا۔تاہم 2016 میں سپین کی پارلیمان میں کیرولینا بیسکانسا کو ایوان میں اپنے بچے کو لانے اودودھ پلانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھااور اسپین کے بعض اراکین پارلیمنٹ نے اس عمل کو پارلیمان کا تقدس پامال کرنے پر کیرولیناسے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ جبکہ اسپین کے عوامی حلقوں نے بھی کیرولینا کے اس حرکت پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک بھونڈا طریقہ قرار دیا تھا۔ شیر خوار بچوں کو پارلیمانی اجلاس میں لانے کے معاملہ پر برطانوی دارالعوام میں جاری اجلاس میں پہلی بار اپنے بچے کو ساتھ لانے والی خاتون رکن ِ پارلیمان اور لبرل ڈیموکریٹ کی ڈپٹی رہنما جو سونسن کاکہنا ہے کہ”پارلیمان میں شیر خوار بچوں کی آمد، بین الاقوامی جمہوریت کا جدت پسندی کی جانب پہلا قدم ہے اور اس عمل کے ذریعے ہم دنیا بھر کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کے حوالے سے ذمہ داریاں اپنے کام کے ساتھ نبھا سکتے ہیں“۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ وہ دن اَب زیادہ دور نہیں رہے جب پارلیمان کے جاری اجلاسوں میں بچوں کے جھولے اور کھلونے پر جابجا دکھائی دیں گے اور ارکان پارلیمنٹ کے شور شرابا میں بچوں کی کلکاریاں اور چیخ و پکار بھی شامل ہوا کرے گی۔اگر ایسا ہی جائے تو یقینا عوام اس پارلیمانی مصالحہ کے چٹخارے سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔

پارلیمان میں شادی کا پروپوزل
اگر کوئی اٹلی میں کسی لڑکی کو شادی کے لیے پرپوز کرنے کا سوچے گا تو وہ وینس، فلورینس یا روم جیسا خوبصورت مقام ہو گا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب جگہوں کو چھوڑ کر ایک شخص ایسا بھی ہے، جس نے اپنی محبوبہ کو شادی کی پیشکش اطالوی پارلیمنٹ میں کی جس نے سب کو حیران کر دیا۔اس منفرد واقعہ کی تفصیلات کچھ یہ ہے کہ33 سالہ فلے ویو دی مورو نامی اطالوی رکن پارلیمنٹ نے پارلیمان کے جاری اجلاس کے دوران اپنی محبوبہ الیزا دی لیو کو شادی کی پیشکش کردی، جوپارلیمنٹ کی گیلری میں بیٹھ کر اجلاس ملاحظہ کررہی تھی۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے اِس اجلاس میں اٹلی میں آنے والے زلزلے کے بعد تعمیر نو کے معاملے پر بحث جاری تھی کہ اس دوران،رکن پارلیمان فلے ویو دی مورو نانے کھڑے ہوکر بلند آواز میں کہا کہ”آج کا دن دوسرے دنوں کی طرح نہیں بلکہ یہ میرے لیئے کچھ مختلف اور بہت خاص ہے،کیونکہ میں آج اپنا شریک زندگی منتخب کررہاہوں“۔ یہ کہہ کر فلے ویو دی مورو نانے نیچے جھک کر انگوٹھی نکالی اور گیلری میں بیٹھی اپنی دوست الیزا کو تمام پارلیمنٹ کے ارکان کے سامنے شادی کے لیے پروپوز کرلیا۔انہوں نے انگوٹھی سامنے کرتے ہوئے اپنی دوست سے پوچھا کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی۔ اس پر ان کے اردگرد بیٹھے تمام اراکین پارلیمان نے زوردار قہقہہ لگائے اور تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی جب کہ گیلری میں بیٹھی الیزا نے غیر متوقع شادی کی پیشکش پر خوشی و حیرت کے ملے جلے تاثر کے ساتھ ہاں کر ڈالی۔ بعدازاں پارلیمنٹ کے اجلاس میں ہی فلے ویو دی کو سب نے مبارکباد پیش کی۔دوسری جانب دوران مباحثہ شادی کے لیئے اپنا پروپوزل پیش کرنے پر اسپیکر نے فلے ویو دی مورو نا پر سخت ناراضی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ پیشکش کا یہ طریقہ اور جگہ مناسب نہیں تھی۔

حوالہ: یہ خصوصی مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 23 اگست 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں