Aamir Khan and Farooq Sattar

اے عروج! تیری خبر جب زوال لیتا ہے۔۔۔

اگر کوئی سمجھنا چاہے تو بات بہت ہی سادہ ہے کہ سیاست اپنی فطرت کے حساب سے بالکل کانچ کی مانند ہوتی ہے یعنی جس طرح کانچ کے ٹوٹ جانے کے بعد اُسے جوڑنا ممکن نہیں رہتا بعینہ اسی طرح سیاسی جماعت بھی اگر اپنے سیاسی عروج کی بلندی پر پہنچ جانے کے بعدکسی سیاسی لغزش یا خود ساختہ غلطی کے باعث گر کر اچانک ٹوٹ جائے تو اسے ازسرِ نو جوڑنا کسی بھی صورت کار ِ محال سے کم نہیں جبکہ حسنِ اتفاق سے سیاسی جماعتیں بھی ایسی ہو ں،جن کے قائدین نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی عینک بھی چڑھائی ہوئی ہو تو پھر اس طرح کی سیاسی جماعتوں کے ٹوٹ جانے کے بعد اِنہیں دوبارہ سے جوڑنے کی کوشش کرنے والا کو صرف بیوقوف ہی کہا جاسکتا ہے اور سیاستدان اکثر ایسی بیوقوفیاں کرنے پر اصرار نہ کریں تو پھر اُنہیں سیاستدان ہی کون کہے۔آج کل ایسی سیاسی بیوقوفیوں کے مظاہرے پنجاب کے بعد اب سندھ کے سیاسی منظر نامہ پر جابجا دیکھنے میں آرہے ہیں کیونکہ سندھ میں گزشتہ تین،چار دہائیوں سے راج کرنے والے سیاست دان اس تاریخی حقیقت سے مکمل طور پر لاعلم نظر آتے ہیں کہ سندھ کی سیاست ایک بار پھر سے نئی کروٹ لے رہی ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ کروٹ لے بھی چکی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ سندھ کی سیاست نے جب بھی اپنی جون یا ہیت کذائیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے تو اپنی سرزمین پر اقتدارِ سیاست کے بڑے سے بڑے بت کو ایک آن میں پاش پاش کر کے رکھ دیاہے کیونکہ سندھ کی سرزمین،خطہ پاک و ہند میں اسلام کی اولین آماج گاہ ہونے کا اعزاز رکھتی ہے اس لیئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ محبت و ایثار کی آب و ہوا سے معمور یہ سرزمین ظلم،جبر،زیادتی اور طاغوت کے اقتدار کو زیادہ عرصہ تک اپنے وجود برقرار رہنے دے اور جس طرح سندھ کی دو بڑی سیاسی جماعتیں کچھ عرصہ سے زوال کا شکار ہیں اُسے دیکھ کر تو اس سچائی پر انسان کا یقین کچھ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔
آج سے چند سال پہلے تک کوئی فرد بشر خواب و خیال میں بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ ایم کیو ایم جیسی جماعت بھی زوال آشنا ہوسکتی ہے۔ مگر جیسا کہ سندھ کی سرزمین اس طرح کے سیاسی معجزوں کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ بس پھر تاریخ کے جبر کے عین مطابق اچانک ہی ایم کیو ایم عروج کی بلندی سے کچھ اس طرح گری کے اپنے ملبے تلے ہی دب کر رہ گئی۔بظاہر مصطفی کمال نے پاک سرزمین پارٹی کا نام گرامی استعمال کر کے اس جماعت کے کچھ سیاسی اثاثوں کو ریسکیو کرنے کی اپنی سی بھر پور کوشش ضرور کی مگر پرانی جماعت کے ملبہ کا بوجھ ہی اتنا زیادہ تھا کہ اِن کی بے چاری نئی نویلی دھان پان سی سیاسی جماعت اسے برداشت نہ کرسکی اورباالآخر پرانی جماعت کے ملبہ تلے کچھ اس طرح دب کے رہ گئی کہ اب تو اسے اپنی ہی شناخت کو برقرارکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔اُس پر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ پرانی ایم کیوا یم کا ہر سرکردہ رہنما ایک نئے نام سے اس جماعت کے حقِ ملکیت حاصل کر کے اُسے ایک بار پھر سے پرانی ایم کیو ایم بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔اب وہ جناب فاروق ستار ہوں،خالد مقبول صدیقی ہوں،کنور نوید جمیل ہوں یا ڈاکٹر عشرت العباد ہوں اِن میں سے ہر رہنما کا فی الحال ایک ہی دعوی ہے کہ وہ پرانی ایم کیو ایم کے ملبے سے پچھلی جماعت سے بھی زیادہ طاقتور جماعت بنا سکتا ہے اور اپنے اس دعوی کو سچا ثابت کرنے کے لیئے کون سا رہنما ایم کیوایم کے کون سے ڈھڑے میں سے کون سے سرکردہ رہنما کو کب نکال دے کچھ پتا نہیں چلتا۔ مگر ایک بات طے کہ نکالے جانے والے ہر رہنما کے پاس ایم کیو ایم کو بحران سے نکالنے ایک عدد حل یا نسخہ ضرور ہوتا ہے،جیسا کہ آج کل یہ نسخہ جناب فاروق ستار کی جیب میں ہے۔ویسے تو یہ نسخہ روزِ اول سے ہی فاروق ستار صاحب کے پاس موجود تھا لیکن پارٹی کاموں میں مصروفیت کے باعث ایک مدت ہوئی کہ وہ اِس نسخہ کو یکسر فراموش کر بیٹھے تھے۔ اب جیسے ہی فاروق ستار صاحب کی بنیادی پارٹی رکنیت معطل ہوئی تو،اُنہیں فوراً یاد آگیا کہ پارٹی کو بحران سے نکالنے کا نسخہ اُن کے پاس ہے۔سو اب وہ پریس کانفرنس کے ذریعے پارٹی رہنماؤں کو یہ باور کروانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اگر پارٹی کو بحران سے نکالنا ہے تو اُنہیں اُن کی بنیادی رکنیت پر فور ی طور پر بحا ل کرنا ہوگابصورت دیگر وہ اس جادوئی نسخہ کی مدد سے ایک اور ایم کیو ایم کی داغ بیل ڈالنے کو کوشش کرسکتے ہیں۔اب فاروق ستار صاحب کو کون سمجھائے کہ پارٹی کو بحران سے نکالنے کا جو نسخہ اُن کی جیب میں ہے ایسا ہی نسخہ ایم کیوایم کے ہرسرکردہ رہنما کے پاس موجود ہے۔ اگر یہ نسخے اتنے ہی سریع التاثیر یا فائدہ مند ہوتے تو ایم کیو ایم ایک کے بعد ایک بحران کا شکار ہوکر ٹوٹتی ہی کیوں؟ اور اب اس ٹوٹی ہوئی جماعت کو پھر سے جوڑنے کے لیئے کوئی بھی کوشش کرنا اصل میں اس پارٹی کو مزید بحرانوں میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔اس لیئے بہتر یہ ہی ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیا جائے سندھ کے سیاسی اُفق پر ایک نیا منظر نامہ طلوع ہونے والا ہے اور اس نئے سیاسی منظر نامہ میں جہاں ایم کیوایم کا سیاسی کردار ختم ہونے کے قریب ہے وہیں پیپلزپارٹی کے لیئے بھی اپنے سیاسی وجود برقرار رکھنا ایک چیلنج سے کم نہیں کیونکہ خوش قسمتی سے ابھی تک پیپلزپارٹی سیاسی عروج کی چوٹی کھڑی ہوکرصرف لڑکھڑارہی ہے مگر ابھی تک گری نہیں ہے۔بقول شاعر
بڑے بڑوں کی طرف داریاں نہیں چلتیں
اے عروج! تیری خبر جب زوال لیتا ہے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 16 نومبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں