Police Operation Against Bandits

کچے کے ڈاکو پکے کے ڈاکو

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دو بڑے صوبوں سندھ اور پنجاب میں بیک وقت کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھرپور آپریشن جاری ہے۔ لیکن سندھ اور پنجاب میں ڈاکوؤں کے خلاف ہونے والے آپریشن کی نوعیت اور ساخت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پنجاب میں کئے جانے والے آپریشن میں پولیس کے علاوہ رینجر اور پاک فوج کے دستے بھی شریک ہیں،جبکہ صوبہ سندھ میں کچے کے علاقے میں کیئے جانے والا آپریشن مکمل طور پر سندھ پولیس ہی انجام دے رہی ہے۔حالانکہ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید، اچانک وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی خصوصی ہدایت پر ہنگامی دورے پر سندھ تشریف لائے اور انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کرنے کے بعد صوبہ سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں رینجرز اور پاک فوج کو شامل کرنے کی پیشکش بھی کردی تھی۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: میرا قاتل، میرا چاہنے والا نکلا

مگر وزیراعلیٰ نے شکریہ کے ساتھ اُن کی پیشکش کو یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیا ہے کہ ”سندھ میں ڈاکو راج ختم کرنے کے لیئے سندھ پولیس کافی ہے“۔ یادر ہے کہ وفاقی حکومت نے سندھ اور پنجاب میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرنے کا مشکل فیصلہ، کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ کارروائیوں خاص طور پر سوشل میڈیا پر ڈاکوؤں کی جانب سے چند مغویوں کے قتل اور اُن پر کیئے جانے والے انسانیت سوز تشدد کی ویڈیوز شائع ہونے کے بعدکیا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں کچے کے علاقے میں ڈاکو راج قائم کرنے والے ڈاکوؤں نے مغویوں کے قتل اور اُن پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیوزکم و بیش ایک ہی وقت میں جاری کیں۔اسے واقعاتی حسن اتفاق کہا یا پھر ڈاکوؤں کا مضبوط بین الصوبائی رابطہ۔سرِ دست اِس بابت یقین سے کچھ بھی کہنا مشکل ہوگا۔

بہرکیف ایک بات ضرورمکمل شرح الصدر اور پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ وفاقی حکومت کی تائید اور پنجاب حکومت کی سرپرستی میں ”لادی گینگ“ کے خلاف شروع ہونے والا عسکری آپریشن ملک بھر میں ڈاکو راج کے خاتمہ کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت سے یہ حسنِ ظن قائم رکھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتوں دنوں جس انداز میں وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے ملک بھر سے ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیئے اپنے عزم کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اُس کے بعد پہلی بار عوام کے اذہان میں یہ خوش کن اُمید بیدار ہوئی ہے کہ شاید ملک بھر میں کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف شروع ہونے والی عسکر ی کارروائیاں کسی سیاسی دباؤ، انتظامی مصلحت کی وجہ سے درمیان میں بغیر کوئی وجہ بتائے اچانک سے روکی نہیں جائیں گی۔ یاد رہے کہ کچے کے علاقوں میں حکمرانی کرنے والے ڈاکوؤں کی اصل طاقت ہتھیار نہیں بلکہ پتھارے دار ہیں۔جنہیں سادہ الفاظ میں آپ جاگیردار، چوہدری اور بڑے زمین دار بھی کہہ سکتے ہیں۔یہ ہی عام اور غریب افراد کو ڈاکو بناتے ہیں اور بعدا زاں یہ ہی اُنہیں پالتے اور تحفظ دیتے ہیں۔ نیز بوقتِ ضرورت اپنے مخالفین کو اغواء اور قتل کروانے جیسے مذموم کام بھی ان ڈاکوؤں سے ہی کرواتے ہیں۔ چونکہ ان ہی جاگیر داروں اور چوہدریوں کی اکثریت پاکستانی سیاست کے ماتھے کا جھومر ہے۔ لہٰذا کسی بھی حکمران کے لیئے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف حقیقی عسکری آپریشن کرنا سہل نہیں ہوتا اور اگر کوئی حکمران عوامی دباؤ میں آکر یا پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشورہ پر ڈاکو راج کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کر بھی لے تو اُسے طاقت ور جاگیر دار اور چوہدری درمیان میں ہی رکوادیتے ہیں۔ کم ازکم آج کی تاریخ تک تو ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کیا جانے والا یہ کوئی پہلا یا دوسرا،آپریشن نہیں ہے۔بلکہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ مختلف وفاقی حکومتوں نے سندھ سے ڈاکوراج ختم کرنے کے لیئے بڑے پیمانے پر عسکری آپریشن کیئے تھے۔ خاص طورسابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں سندھ میں کچے کے علاقے میں ہونے والے دونوں آپریشن نتائج کے اعتبار سے اَب تک کے سب سے کامیاب اور موثر آپریشن قرار دیئے جاسکتے ہیں۔کیونکہ مذکورہ بالا دونوں آپریشن کی فقید المثال کامیابی سے صوبہ سندھ میں حقیقی معنوں میں ڈاکوراج کو شدید دھچکا اور نقصان پہنچا تھا۔مگر بدقسمتی سے گزشتہ ایک دہائی سے کچے کے علاقے میں ڈاکو ؤں کے خلاف کسی بھی حکومت کی جانب سے کوئی بڑی کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ جس کی وجہ سے کچے کے علاقوں میں ایک بار پھر سے مختلف ڈکیت گروہوں کو منظم ہوکر اپنا اثرو نفوذ اور نیٹ ورک قائم کرنے کا سنہری موقع میسر آگیا۔

اگر ابھی بھی ڈاکو روایتی عقل مندی سے کام لیتے رہتے اور مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنی مجرمانہ کاروائیوں کی ویڈیوز پوسٹ کر کے”ٹک ٹاک اسٹار“ یا ”یوٹیوبر“ بننے کی بے وقوفی نہیں کرتے تو غالب امکان یہ تھا کہ اِ ن کی ڈاکہ زنی کا، کاروبار ”مجرمانہ خاموشی“کے ساتھ زوز افزوں جاری رہتا اور سادہ لوح عوام کی اکثریت اِن کا آسان شکار بن کر اپنی جان و مال سے محروم ہوتی رہتی۔ مگرآخر ڈاکو بھی تو ہم جیسے انسان ہی ہوتے ہیں۔انہوں نے بھی ایک دن سوچا ہوگا جب صدر سے لے کر وزیراعظم تک،وزیراعلی سے لے کر وزیر تک، ملازم سے لے کر تاجر تک، اور بچے سے لے کر بوڑھے تک جب سب ہی پاکستانی اپنے ”کارنامے“سوشل میڈیا کی زینت بنا رہے۔ تب ترنگ میں آکر انہوں نے بھی اپنی”نادیدہ کاروائیاں“ وائرل کرنے کے لیئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیں اور یوں عوامی دباؤ کے باعث پنجاب اور سندھ حکومت کو کچے کے علاقے میں آپریشن کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ گیا۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف شروع ہونے والا ملک گیر آپریشن اس مرتبہ متوقع نتائج دے پائے گا؟ اور وطن عزیز سے ڈاکوؤں کے ”مجرمانہ اقتدار“ کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن ہوسکے گا؟۔پاکستانی عوام کو اِن مشکل ترین سوالا ت کے مثبت جوابات اُس وقت ہی مل سکتے ہیں، جب کچے کے علاقوں میں آباد ڈاکوؤں کے اصل پشت پناہ یعنی پکے کے ڈاکوؤں کے خلاف بھی بلاکسی تفریق اور امتیاز کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یاد رہے کہ یہ کام کچھ اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔بس! سندھ پولیس بالخصوص دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اتنا سا کام کرنا ہے کہ چند ڈاکوؤں کو وہ زندہ گرفتارکرلیں،باقی تو وہ پھر خود ہی اُگل دیں گے کہ اُن کے لگامیں کن طاقت ور لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ یعنی کچے کے ڈاکوؤں کی جان جن طوطوں میں ہے،وہ پکے کے ڈاکو ہیں۔ اگر پکے کے ڈاکو محفوظ رہیں گے تو پھر کچے کے ڈاکوؤں کا اقتدار سلامت رہے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 31 مئی 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں