Paigham e Pakistan Launching Ceremony

پیغام پاکستان۔۔۔ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ

گوگل کے مطابق انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ تلاش کیا جانے والا،لکھا جانے والا اور پڑھا جانے والا لفظ جو کرہ ارض کی تقریباً ہرزبان میں تواتر کے ساتھ زیرِ گردش ہے وہ لفظ ”دہشت گردی“ہے۔ آٹھ حروف سے مل کر بننے والایہ ایک لفظ زمین پر بسنے والے ہر انسان کی سماجی زندگی میں مکمل طور پر دخیل ہوچکا ہے لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ اس کثیر الاستعمال لفظ ”دہشت گردی“کی کوئی ایک بھی ایسی تعریف موجود نہیں جس سے سب اتفاق کرسکیں۔ ”دہشت گردی“ کے لفظ کی درست تفہیم نہ ہونا ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث اکثر یہ مسئلہ کہ”دہشت گرد کون ہے؟ اور دہشت گردی کیا ہے؟“ بعض گروہوں کی غیر قانونی حیثیت اور ان کی سیاست سے جڑجاتا ہے۔ جس کا سب سے زیادہ نقصان انسداد دہشت گردی کی کوششوں کرنے والے اداروں کو پہنچتا ہے جبکہ اس کا براہِ راست فائدہ دہشت گرد اور اُن کے سہولت کار اُٹھاتے ہیں۔دہشت گردی کی کوئی ایک ایسی تعریف کرنا کہ جو ہر لحاظ سے مکمل اور ہر موقع پر سو فیصد اتفاق رائے سے لاگو کی جا سکے، اگر ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور ہے۔ اگر ہر قسم کے لسانی پس منظر اور معاشرے کے حالات کو یکسر نظرانداز کر دیا جائے تو پھر اس لفظ کی تشریح کچھ یوں ہوسکتی ہے کہ“خوف اور ہراس پیدا کرکے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ایسا طریقہ کار یا حکمت عملی اختیار کرنا جس سے قصوروار اور بے قصور کی تمیز کے بغیر، (عام شہریوں سمیت) ہر ممکنہ ہدف کو ملوث کرتے ہوئے، وسیع پیمانے پر دہشت و تکلیف اور اضطراب کو پھیلایا جائے لیکن اس میں تین شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہے جیسے کہ کارروائی دانستہ ہو،انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہو اور قانونی لحاظ سے ناحق ہو“۔ اگر لغوی اعتبار سے دہشت گردی کے لیے مستعمل انگریزی لفظ Terror کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرینچ سے انگریزی میں آیا ہے جو لاطینی لفظ ہے اور تاریخی طور پر انقلابِ فرانس کے بعد 1795 میں میکسمیلن روبیسپیرے (Maximilien Robespierre) کی انجمنِ یعقوبی (Club des Jacobins) کے کارناموں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، انجمنِ یعقوبی نے اپنی تعریف کے لیے خود اس لفظ کی تشہیر کی اور 1789–1799 کا زمانہ ”دہشت گردی“ کا زمانہ قرار دیا، تاہم لفظ Terror کو خالصتاًدہشت گردی کے انگریزی معنوں میں متعارف کروانے کا اصل سہراانگریز سیاستدان ایڈمنڈ برک (Edmund Burke) کے سرہے جو انقلابِ فرانس کے نتیجے میں جنم لینے والی دہشت گردی کا سخت مخالف تھا۔ دہشت گردی کے مفہوم کی سنجیدہ تعریف کی اولین کوشش 1934 میں ہارڈ مین نے یوں کی کہ”یہ وہ نظریہ ہے جس کی رو سے کوئی منظم گروہ اپنے اعلانیہ اہداف کے حصول کے لیے بنیادی طور پر منظم تشدد کا استعمال کرتا ہے“۔دورِ جدید کے معروف امریکی فلسفی اور ماہرِ لسانیات ناؤم چومسکی کے خیال میں دہشت گردی کے مفہوم کا انحصار اس بات پر ہے کہ”دوسرے ہمارے ساتھ کیا کرتے ہیں، ہم ان کے ساتھ جو کچھ بھی کریں چاہے وہ کتنا ہی وحشیانہ کیوں نہ ہو وہ دہشت گردی نہیں، جب تک طاقتور تاریخ لکھتے رہیں گے تاریخ کا یہی قانون رہے گا“لیکن یہ ایک انتہائی ناقص تعریف ہے کیونکہ دہشت گردی کا یہ مفہوم سپر پاور امریکہ کے علاوہ کسی اور کے عزائم کو تقویت نہیں پہنچاتا۔تاریخ میں دہشت گردی پر قانونی اور سیاسی بحث کی پہلی کوشش 1937 میں لیگ آف نیشن کے سر جاتی ہے تاہم اس وقت کے سیاسی و فکری تنازعات کے سبب اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور بات اقوامِ متحدہ تک جا پہنچی۔ اس حوالے سے اقوامِ متحدہ نے کم و بیش 12 بین الاقوامی قرار دادیں ضرور پاس کیں لیکن ان قرارداوں میں زیادہ کا تعلق جہازوں کی ہائی جیکنگ اور سول ایوی ایشن کی سلامتی سے تھاجس سے دہشت گردی کی واضح تعریف کرنے میں کوئی مدد حاصل نہ ہوسکی۔امریکہ پر 11 ستمبر کے حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طویل اور پیچیدہ عوامل نے دہشت گردی کی واضح اور قابلِ فہم تعریف کرنے کے موضوع کو ایک نئی سمت عطا کی ہے اور القاعدہ، داعش، بوکو حرام اور جبہۃ النصر جیسی تنظیموں نے اقوامِ متحدہ کو مجبور کیا کہ وہ دہشت گردی کی صرف ایک امریکی تعریف پر اکتفا کرنے کے بجائے،دہشت گردی کی بین الاقوامی تعریف کی تلاش و تسویب کے سنجیدہ اقدامات اُٹھانے کے لیئے اپنے تمام رُکن ممالک کو ترغیب دے اور یوں بالآخر رواں برس 25 جنوری 2018 کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں 21 اگست کو ”دہشت گردی کا شکار افراد سے اظہار یکجہتی“ کے عالمی یوم کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا،تاکہ دہشت گردی کی تباہ کاریاں اور اس کے انسداد کے لیئے کسی ایک یا چند ممالک پر تکیہ کرنے کے بجائے دنیا کے ہر ملک سے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے عملی و فکری تعاون کا سلسلہ دراز کیا جاسکے۔ہماری ناقص رائے میں ”دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد سے اظہار یکجہتی“کے اس اوّلین عالمی یوم پر اس سے اچھی بھلا کیا صورت ہوسکتی ہے کہ دنیا بھر کے سامنے دہشت گردی کی ایک ایسی واضح اور مبسوط تعریف پیش کردی جائے جو لفظ ”دہشت گردی“ کا مکمل احاطہ کرتی ہو۔ خوش قسمتی سے16 جنوری 2018 کو ہماری ریاست کے اربابِ اقتدار و سیاست اور مذہبی قیادت نے متفقہ طور پر ”پیغامِ پاکستان“ کے عنوان سے دہشت گردی کی ایک مبسوط تعریف یا تفہیم دنیا کے سامنے پیش بھی کردی ہے۔جسے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا قومی بیانیہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کی اس تعریف کابنیادی متن ادارہ تحقیقاتِ اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام 30 سے زائد علمائے کرام نے تیار کیا ہے جس کی بعد ازاں ملک بھر کے مختلف مسالک اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے 1829 علمائے کرام نے اپنے دستخطوں سے توثیق بھی کی ہے۔اس قومی بیانیے میں چند ایسی اہم ترین باتیں کہی گئی ہیں جن کی روشنی میں نہ صرف دہشت گردی کی مکمل تعریف و تفہیم کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے بلکہ اس کا انسداد بھی کیا جاسکتاہے۔ ”دہشت گردی کا شکارافراد سے یکجہتی“ کے عالمی یوم کی مناسبت سے پیغامِ پاکستان کا مختصر سا جائزہ پیش خدمت ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کا جواز
”پیغامِ پاکستان“ کے توسط سے پہلی بار یہ واضح کردیا گیا ہے کہ پاکستان کے 95فیصد قوانین میں قران و سنت سے متصادم کچھ نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل یہ بات مکمل تحقیق کے بعد اپنی رپورٹ میں دے چکی ہے لہٰذا پاکستانی قوانین کو غیر اسلامی قرار دینا گمراہی کے سوا کچھ نہیں اور اس بنا پر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا کر جنگ کرنا تو صریحاً حرام ہے۔شرعی اعتبار سے قائم شدہ حکومت کے خلاف افراد یا تنظیموں کا مسلح جدوجہد کرنا، یہ بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ”کسی امیر پر تمہاری بیعت ہوجانے کے بعد اگر کوئی تمہارے درمیان پھوٹ ڈالنے یا تمہاری جماعت میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرے تو اس کو قتل کردو“۔



اسلام کے نزدیک دہشت گرد کون ہیں؟
ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے انتہا پسند گروہ خوارج ہیں۔”خوارج“ دین اِسلام کے باغی اور سرکش تھے۔ ان کی اِبتداء عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی ہوگئی تھی۔ ان کی فکری تشکیل دورِ عثمانی رضی اللہ عنہ میں اور منظم و مسلح ظہور دورِ علوی رضی اللہ عنہ میں ہوا۔ خوارج مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھتے اور معصوم مسلمانوں کو معمولی غلطی پر کافر قرار دے کر قتل کر ڈالتے تھے۔ یہ ہی خوارج درحقیقت تاریخِ اسلام میں سب سے پہلا دہشت گرد اور نظمِ ریاست کے خلاف باغی گروہ تھا۔ جن کی سرکوبی حضرت علی ؓ نے کی تھی۔ نصوصِ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خوارج سے مراد فقط وہی ایک طبقہ نہیں تھا جو خلافت راشدہ کے خلاف نکلا بلکہ ایسی ہی صفات، نظریات اور دہشت گردانہ طرزِ عمل کے حامل وہ تمام گروہ اور طبقات ہوں گے جو قیامت تک اسی انداز سے نکلتے رہیں گے اور مسلح دہشت گردانہ کارروائیاں جہاد کے نام پر کریں گے،یہی لوگ آج ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، ان کی سزا قرآن میں بیان کر دی گئی ہے۔سورہ مائدہ میں ارشا دِ باری تعالیٰ ہے کہ ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دود کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا انہیں سولی پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا ان کو جلاوطن کردیا جائے، یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی بڑی سزا ہے“۔ احادیث ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں ایسے لوگوں کو مذاکرات کے نام پر مہلت دینا یا اُن کے مکمل خاتمے کے بغیر چھوڑ دینا اسلامی ریاست کے لیے روا نہیں، سوائے اِس کے کہ وہ خود ہتھیار پھینک کر اپنے غلط عقائد و نظریات سے مکمل طور پر اعلانیہ توبہ کرکے اپنی اِصلاح احوال کرلیں۔

نفاذِ شریعت کے نام پر دہشت گردی
علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی مسلمان حکمران ریاست میں شریعت نافذ کرنے کے حوالے سے سستی سے کام لے یا غفلت برتے حتی کہ مسلم حکمرانوں کی غیر اسلامی پالیسیوں اور فاسقانہ عمل کے باعث بھی اُنہیں حکومت سے ہٹانے،اپنے مطالبات منوانے یا انہیں راہِ راست پر لانے کے لیئے بھی مسلم حکومت کے نظم و نسخ یعنی (writ) کے خلاف مسلح بغاوت نہیں کی جا سکتی۔کیونکہ اسلام نے معاشرے کی اجتماعیت کے تحفظ کا اہتمام بھی کیا ہے۔ اس لئے مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے، اُس کے اتھارٹی کو چیلنج کرنے اور اس کے خلاف اِعلانِ جنگ کرنے کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ اس عمل کو شرعاً بغاوت اور خروج کا نام دیا گیا ہے۔ انسانی معاشرے اور بالخصوص مسلم ریاست کا امن اسلام کو اس قدر عزیز ہے کہ اس کے تحفظ کے لئے حکمرانوں کے فسق و فجور، ناانصافی اور ظلم و استبداد کو بھی مسلح بغاوت کے لئے جواز بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کا جواز اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک حکمران صریح، اعلانیہ اور قطعی کفر کے مرتکب نہ ہوں اور اقامتِ صلوۃ و دیگر اسلامی احکامات و شعائر کی بجا آوری کو بذریعہ طاقت روکنا نہ شروع کر دیں۔جہاں تک کسی بدکردار مسلمان حکمران یا حکومت کو راہِ راست پر لانے کے لیے پر امن جد و جہد کا تعلق ہے تو وہ ہرگز منع نہیں ہے۔ مسلح جد و جہد اور بغاوت کی ممانعت سے مراد یہ نہیں کہ برائی کو برائی نہ کہا جائے اور اسے روکنے کی کوشش نہ کی جائے۔حکمرانوں اور نظامِ حکومت کی اصلاح کے لئے اور انہیں ظلم و جور اور فسق و فجور سے روکنے کے لئے تمام آئینی، سیاسی، جمہوری اور قانونی پر امن طریقے اپنانا نہ صرف جائز بلکہ ایسی تمام کاوشیں بروئے کار لانا فرائضِ دین میں سے ہے۔

خود کش حملوں کا جوازنہیں
خودکش حملوں کا اسلامی تاریخ میں کوئی وجود نہیں، ان حملوں کے نتیجے میں بے گناہ مسلمان مارے جاتے ہیں، یہ حملے کرنے والے سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہیں، ایسے جرم پر حرابہ کی سزا لاگو ہوتی ہے۔اس لیئے کسی بھی انسان کی ناحق جان لینا اور اُسے قتل کرنا فعل حرام اور موجبِ کفر ہے۔ آج کل دہشت گرد اپنے اپنے مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی ناکام کاوِش میں جس بے دردی سے خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے گھروں، بازاروں، عوامی و حکومتی دفاتر اور مساجد میں مسلمانوں کی جانیں لے رہے ہیں وہ صریحاً کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں ان کے لئے ذلت ناک عذاب کی وعید ہے۔ دہشت گردی فی نفسہ کافرانہ فعل ہے اور جب اِس میں خود کشی کا حرام عنصر بھی شامل ہو جائے تو اس کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ کبار ائمہ تفسیر و حدیث اورفقہاء و متکلمین کی تصریحات سمیت چودہ سو سالہ تاریخِ اسلام میں جملہ اہل علم کا فتوی یہی رہا ہے۔مسلمانوں کا قتل عام اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفرہے۔

عقائد و نظریات کے فروغ کے نام پر دہشت گردی
قانون کو ہاتھ میں لے کرکسی جماعت کا خود کو حق پر سمجھتے ہوئے اپنے عقائد و نظریات کے فروغ و تسلط اور دوسروں کے عقائد کی اصلاح کے نام پر کسی دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا یا برائی روکنے کی آڑ میں نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو قتل کرنے،اُن کے مال کو لوٹنے اور اُن کی مساجد،مذہبی مقامات اور شعائر کو تباہ و برباد کرنے کا اختیار کسی فرد یا گروہ کو نہیں۔ اِسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان وہی شخص ہے جس کے ہاتھوں سے مسلم و غیر مسلم سب انسانوں کے جان و مال محفوظ رہیں۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لیے اِسلام نے ہتھیار اٹھانے کی بجائے گفت و شنید اور دلائل سے اپنا عقیدہ و موقف ثابت کرنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ ہتھیار وہی لوگ اُٹھاتے ہیں جن کی علمی و فکری بنیاد کمزور ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کو اسلام نے باغی قرار دیا ہے جن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

عالمی طاقتوں کے مظالم کے ردعمل میں دہشت گردی کرنا
اسلام کے نام پر جغرافیائی سرحدوں کو نظر انداز کرکے کسی دوسرے ملک میں لشکر کشی کا حصہ بننا یا غیر مسلم عالمی طاقتوں کی ناانصافیوں اور مظالم کے ردعمل کے طور پر انتقاماً بے قصور اور پرامن غیرمسلم شہریوں اور سفارت کاروں کو اغوا کرنا اور قتل کرنا بھی خلافِ اسلام ہے اور عہد شکنی کے زمرے میں آتا ہے، ہر پاکستانی شہری پر لازم ہے کہ وہ دستور میں کئے گئے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوگا۔ انسانی جان کی عزت و حرمت پر اسلام میں کس قدر زور دیا گیا ہے اِس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی بچوں، عورتوں، ضعیفوں، بیماروں، مذہبی رہنماؤں اور تاجروں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہتھیار ڈال دینے والے، گھروں میں بند ہو جانے والے یا کسی کی امان میں آجانے والے لوگوں کو بھی قتل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی عبادت گاہوں، عمارتوں، بازاروں یہاں تک کہ کھیتوں، فصلوں اور درختوں کو بھی تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف حالت جنگ میں بھی اس قدر احتیاط پر مبنی احکام و قوانین ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں کی ایسی کارروائیاں جو بلا امتیازِ مذہب و ملت، پرامن لوگوں، عورتوں، بچوں اور مساجد میں عبادت کرنے والے نمازیوں کے قتل عام کا باعث بن رہی ہوں، غیر مسلم عالمی طاقتوں کی ناانصافیوں اور بلاجواز کارروائیوں کے رد عمل کے طور پر پُراَمن غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کو قتل کرنا یا اُنہیں حبس بے جا میں رکھنا قطعاً جائز نہیں۔ جو ایسا کرتا ہے اُس کا اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں۔

پیغام پاکستان کے اس اجمالی جائزہ سے قارئین کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس وقت عالمِ اسلام سمیت دنیا بھر کو دہشت گردی سے متعلق جو بنیادی نوعیت کے سوالات درپیش ہیں ان تمام کے مفصل جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں اس دستاویز میں تفصیلاً ذکر کر دیے گئے ہیں،مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہمار ے اس قومی بیانیہ کے لاکھوں لوگ ہنوذبے چینی سے منتطر ہیں لیکن ”پیغام ِ پاکستان“ کو اُن تک پہنچانے والا کوئی نہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 19 اگست 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں