Musharaf and Asif Ali Zardari

پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کے درمیان الزامات کی جنگ

سابق صدر پاکستان جنرل(ر) پرویز مشرف کی طرف سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زردار ی کو براہِ راست بے نظیر بھٹو شہید کا قاتل قرار دینے کے ایک طویل عرصہ بعد اپنی معنی خیزچُپ کا روزہ توڑتے ہوئے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھی خم ٹھونک کر پرویز مشرف کے خلاف میدان میں آگئے ہیں اور ان کی طرف سے گاہے گاہے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پرویز مشرف کو جب تک انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستانی عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا اُس وقت تک بے نظیر شہید کے خونِ ناحق کا معمہ حل نہیں ہوسکتا۔جبکہ بلاول بھٹو کی طرف سے پرویز مشرف کی طرف سے اُن کے والد پر اُن کی والدہ بے نظیر شہید کے قتل لگائے گئے تمام الزامات کو سختی سے رد کردیا گیا ہے۔پرویز مشرف کے الزامی بیانات کے جواب میں بلاول بھٹو نے حال ہی میں ایک غیر ملکی خبر رساں ادارہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاہے کہ”وہ اُس لڑکے کوبھی اپنی والد ہ کا قاتل نہیں سمجھتے جس نے 27 دسمبر2007 ء کو اُن کی والدہ پر گولی چلائی تھی بلکہ وہ اپنی والد ہ کا اصل قاتل پرویز مشرف کو ہی سمجھتے ہیں جنہوں نے اُس وقت کی مخدوش سیاسی صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے جان بوجھ کر میری والدہ کی سیکورٹی کو ہٹایا تھا جس کی وجہ سے قاتل کے لیئے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ میری والدہ کی جان اتنی آسانی سے لے سکے“۔ پرویز مشرف سے پہلے گو کہ آصف علی زرداری کے بہت سے دیگر سیاسی مخالفین بھی ڈھکے چھپے لفظوں یا پھر اشارے کنایوں میں بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کا ذمہ دار آصف علی زرداری کو قرار دیتے رہے ہیں لیکن جس طرح پرویز مشرف نے مکمل چارج شیٹ اور دس سوالات کے ہمرا ہ بطور قاتل آصف علی زرداری کومخاطب کیا۔اس طرزِ تخاطب نے سندھ کی عوام کی اکثریت کو پیپلزپارٹی کی قیادت کے بارے شکوک و شبہات میں مبتلا کردیا تھا۔پرویز مشرف کے الزامات کے بعد اگر زیادہ دیر تک آصف علی زرداری یا بلاول بھٹو خاموش رہتے تو اس رویے سے سندھ میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے بارے میں مزید شبہات جنم لے سکتے تھے۔بلاول بھٹو کی طرف سے پرویز مشرف کے الزامات کے جوابات کے بعد کسی حد تک آصف علی زرداری کی مشکوک سیاسی پوزیشن کلیئر ہوچکی ہے جو یقینا پیپلزپارٹی کے لیئے ایک خوش آئند بات ہے لیکن اس کے باوجودسندھ کے عام حلقوں میں یہ بات اب بھی پوری شد و مد کے ساتھ زیرِبحث ہے کہ پرویز مشرف کی طرف سے آصف علی زرداری کو قاتل قراردینا بھلے ہی جھوٹ پر مبنی ایک الزام ہولیکن پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کے حوالے سے جو بنیادی نوعیت کے نکات اُٹھائے ہیں انہیں کسی بھی صورت یکسر غلط نہیں قرار دیا جاسکتا جبکہ دوسری جانب بلاول بھٹو نے اپنی والدہ کے قتل کے حوالہ سے جو جوابی الزامات پرویز مشرف کی ذات اور اُن کی اُس وقت کی حکومت پر لگائے ہیں انہیں بھی نظر انداز کرنا کسی ذی شعور شخص کے لیئے ممکن نہیں ہے۔اس لیئے ضروری ہے کہ پاکستان میں کوئی تو ایسا فرد یا ادارہ ہو جو ان تمام سوالات یا الزامات کا درست تجزیہ کر کے یہ بتا سکے کہ اس میں کیا کچھ صحیح ہے اور کیا غلط ہے کیونکہ سندھ کی عوام جتنا زیادہ بے نظیر بھٹو شہید سے والہانہ عشق اور محبت کرتے ہیں اتنا ہی وہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں سے نفرت بھی کرتے ہیں۔پرویز مشرف کے طرف سے لگائے گئے الزامات ہوں یا پھر بلاول بھٹو کی جانب سے اُٹھائے گئے سوالات،صرف زبانی جمع خرچ کے ان بیانات نے سندھ کی باسیوں کے زخم دوبارہ سے ہرے کردیئے ہیں۔بے نظیر شہید کی شہادت کے عظیم سانحہ کو دس برس بیت چکے ہیں لیکن کتنی افسوس ناک بات ہے کہ بے نظیر شہید سے محبت کرنے والا کوئی بھی فرد اپنی ہر دلعزیز قائد بے نظیر بھٹو شہید کے قتل سے متعلق کسی ایک سوال کا بھی تسلی بخش جواب نہیں جانتا۔ شاید انہیں جذبات اور احساسات کے اظہار کے لیئے اندرونِ سندھ کے بے شمار شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں ”بھٹو خاندان کے تمام شہیدوں کا قاتل کون؟“ کے عنوان سے جگہ جگہ پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں۔ان پوسٹروں میں ذوالفقار علی بھٹو،میر مرتضی بھٹو،شاہنواز بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید کے تصاویر نمایاں ہیں۔ان پوسٹروں کی بڑے پیمانے پر شہر شہر تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کے حوالے سے پورے سندھ میں آج بھی انتہائی زبردست بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے گزشتہ پندرہ سالوں سے سندھ میں پیپلزپارٹی برسرِاقتدار ہے لیکن میر مرتضی بھٹو ہو یا پھر بے نظیر بھٹو شہید، جب ان کے قاتل عدالتوں سے ناکافی شہادتوں کے بناء پر بری ہوجاتے ہیں تو پیپلزپارٹی کا عام کارکن سخت مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے وہ سوچتا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی اپنے دورِ حکومت میں بھی اپنی قیادت کے قاتلوں کو سزا نہیں دلواسکتی تو پھرآخر کون انہیں انصاف مہیا کرے گا۔اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کا ایک عام کارکن جو قانونی پیچیدگیوں یا تفتیشی بھول بھلیوں کا قطعاًادراک نہیں رکھتا اُس کے ذہن میں پیدا ہونے والی یہ سوچ اتنی بے جا بھی نہیں ہے۔اب یہ ذمہ داری پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بے نظیر شہید کے واقعہ کو ایک بھولی بسری کہانی نہ بننے دے بلکہ آنے والے دنوں میں ایسے عملی اقدمات سنجیدگی سے اُٹھائے جس سے بے نظیر شہید کے ساتھ والہانہ وابستگی رکھنے والے عام ذہن کی تشفی ہوسکے اور یہ سب تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب بے نظیر شہید کے قتل کا محرک بننے والے اصل کرداروں کو سب کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔کیا آنے والے دنوں میں ایسا ہوسکے گا؟اس اہم ترین سوال کے جواب کا انتظار 2018 ء میں بھی سب کو شدت کے ساتھ رہے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 11 جنوری 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں