Pakistan to Host OIC-led International Meeting on Afghanistan

او آئی سی کا سکہ چل گیا؟

مشہور مثل ہے کہ ”کبھی وقت پڑے تو کھوٹا سکہ بھی چل جاتاہے“۔ یہ ضرب المثل رواں ہفتے اسلام آباد میں منعقدہ او آئی سی کانفرنس کے اجلاس پر پوری طرح سے صادق آتی ہے۔کیونکہ او آئی سی تنظیم روزِ اول سے ہی عالم ِ اسلام کا وہ کھوٹا سکہ ثابت ہوئی ہے، جس کی وقعت اور قیمت بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں کبھی ٹکے برابر بھی نہیں رہی۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں اس تنظیم پر اکثر و بیشترOh I Seeکی پھبتی کس کر خوب بھد اُڑائی جاتی ہے۔جبکہ اوآئی سی نے بھی خود کو مردہ گھوڑا ثابت کرنے میں اپنی جانب سے کوئی کسر نہیں اُٹھارکھی۔ یعنی اسلام اور اہل اسلام پر چاہے کتنے ہی مشکلات و مصائب کے سیاہ بادل چھاجائیں لیکن او آئی سی کا بنیادی وظیفہ صرف ایک مذمتی بیان جاری کرنے اور مذمتی قراردار پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں رہا اور بعض اوقات تو اوآئی سی کی طرف سے مذمتی بیان اور قرارداد پیش کرنے کا تکلف بھی نہیں برتا جاتا۔ہمارے خیال میں اگر کبھی دنیا کی سب غیر فعال اور غیر موثر سفارتی تنظیمات کے متعلق اعداد و شمار اکھٹے کیئے جائیں تو عین ممکن ہے کہ اوآئی سی سرفہرست رہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: سکہ رائج الوقت کی بے وقعتی

مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اسلام آباد کی کامیاب سفارت کاری کے طفیل اوآئی سی کے تن مردہ میں بھی نئی روح پھونک دی ہے اور عالم اسلام کا برسوں پرانا یہ کھوٹا سکہ بھی بالآخر چل ہی گیا۔لیکن یہ کھوٹا سکہ کس نرخ اور قیمت پر چلاہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مگر ایک بات طے ہے کہ افغانستان میں جاری بحران کے حوالے سے فقط دو ہفتے کے قلیل ترین نوٹس پر او آئی سی کانفرنس کا اسلام آباد میں منعقد ہونا ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے، جس کے رونما ہونے کی توقع مشکل ہی سے کی جاسکتی تھی۔ بہرحال پاکستان اورسعودی عرب کی کوششیں رنگ لائیں اور یوں،ا و آئی سی عالمی سفارت کاری میدان میں اپنی تاریخ کا سب سے موثر اجلاس کرنے میں کامیاب رہی۔ یاد رہے کہ او آئی سی کانفرنس کا یہ اجلاس سعودی عرب کی خواہش پر بلایا گیاتھا جو اوآئی سی سربراہی اجلاس کا موجودہ صدر بھی ہے۔ نیزپاکستان کی جانب سے او آئی سی کے 17 ویں اجلاس کی میزبانی کرنا،اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سفارت کاری کے اُفق پر وطن عزیز پاکستان ایک روشن،چمکتے دمکتے ہوئے ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ حالیہ اجلاس کی سب سے اہم ترین بات یہ تھی کہ اس میں میں او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کے علاوہ اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی اداروں اور امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین کے نمائندوں سمیت بعض غیررکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور40 سے زائد دیگر بین الاقوامی تنظیمات کے اراکین اور اُن کے نمائندہ وفود نے بھی بھرپور شرکت کی۔اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کیلئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، انڈونیشیا، ترکی، ایران، بنگلہ دیش، آذربائیجان، کویت، بحرین، ترکمانستان سمیت کم ازکم دو درجن سے زائد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ بہ نفس نفیس اسلام آباد پہنچے تھے۔ چونکہ او آئی سی کا یہ اجلاس افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے پس منظر میں بلایا گیا تھا،اس لیئے تمام شرکائے اجلاس نے افغان عوام کیساتھ یکجہتی کے اظہار کے علاوہ افغانستان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال سے بچا ؤ، خاص طورپر غذائی قلت، عوام کے بے گھر ہونے اور معاشی انہدام جیسے پہلوؤں پر تفصیلی گفت و شنید کے ساتھ ساتھ قابل عمل تجاویز پر اتفاق بھی کیا۔حیران کن طور پر عالمی ذرائع ابلاغ نے او آئی سی اجلاس کے بھرپور کوریج کرتے ہوئے اسے پاکستان کی متحرک وفعال سفارتی کاوشوں کا ایک قابل فخر مظہر اور ثبوت قرار دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان او آئی، سی کے بانی ارکان ہیں اور او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کا پہلا غیرمعمولی اجلاس جنوری 1980 میں اسلام آباد میں ہی منعقد ہوا تھا جس کا موضوع بھی اُس وقت کی فغانستان کی صورتحال پر غور ہوا تھا۔جبکہ 2007 میں وزرا خارجہ کونسل کے آخری اجلاس کی میزبانی بھی پاکستان نے کی تھی۔پورے چودہ برس بعد او آئی سی کا یہ غیر معمولی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد کے قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہو ا، جس کیلئے ہال کو مسلم ممالک کے پرچموں سے سجایا گیا تھا۔ اجلاس کاکلید ی خطاب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کیا۔اپنی تقریر میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ”کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں، وہاں سالہا سال سے کرپٹ حکومتیں رہیں، افغانستان کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا،اگر دنیا نے افغانستان میں فلاح و بہبود کے قدامات نہ کیے تو وہاں تاریخ کا سب سے بڑا انسانی بحران اور المیے جنم لے سکتے ہیں۔کیونکہ افغانستان کی 90 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ المیہ یہ ہے کہ 41 سال پہلے بھی پاکستان میں افغانستان کی بحالی اور استحکام کیلئے کانفرنس ہوئی تھی،لیکن وہ خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔ اُمید ہے کہ اس بار ایسا نہ ہوگا“۔وزیراعظم عمران خان کا مزید کہناتھا کہ”افغانستان کا 75 فیصد بجٹ غیرملکی امداد پر مشتمل رہا ہے،اقوام متحدہ کے انڈرسیکرٹری مائیکل گرفٹ نے جواعداد وشماردیے وہ حیران کن ہیں،یہ مسئلہ افغان عوام کا ہے،ہم پہلے ہی افغان عوام کی داد رسی میں تاخیرکا شکار ہو چکے ہیں۔اس لیئے ہمیں مزید غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔میری طالبان کے وزیرخارجہ سے ملاقات ہوئی ہے،وہ مغربی و یورپی ممالک کی شرائط پرعملدرآمد کے لیے تیار ہیں مگر سب سے پہلے دنیا کو افغانستان کے بیرونی اثاثے اور امداد بحال کرنا ہوگی“۔

اوآئی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھاکہ”افغانستان میں کشیدہ صورتحال کے خطے اور دنیا پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،اس وقت افغانستان کے عوام ہماری مدد کے منتظر ہیں، ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں،افغانستان کیلئے اجلاس اوربہترین انتظامات پر پاکستان کو مبارکباد دیتے ہیں۔جبکہ ہمیں افغانستان کے معاملے کوانسانی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا، وہاں مالی بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے، افغانستان کو غذائی امداد اور مالیاتی اداروں کے استحکام کی ضرورت ہے، عالمی ادارے افغان عوام کی مدد کے لئے آگے بڑھیں“۔نیز سعودی وزیر خارجہ نے افغانستان کے لیئے ایک ارب سعودی ریال امداد فوری طور پر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ جبکہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے ترک وزیرخارجہ میولت کاؤسگلو، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”او آئی سی کو دیگر عالمی اداروں سے مل کرافغان بحران پرقابو پانا چاہیے۔سرِ دست افغان عوام کو سب سے زیادہ خوراک کی کمی کا سامنا ہے، افغانستان کے لاکھوں افراد کو بھوک اور افلاس سے بچانے کے لئے ہمیں اُن کی بھرپور امداد کرنی چاہیئے“۔

دوسری جانب افغان وزیرخارجہ نے بھی او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے طالبان حکومت کا بنیادی موقف بھی دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا۔جبکہ طالبان رہنماؤں کو یورپی اورمغربی ممالک کے طالبان حکومت کے متعلق تمام تر تحفظات اور خدشات براہ راست سننے کا بھی موقع ملا۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کابل میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب دنیا بھر سے اتنی بڑی تعداد میں وزرائے خارجہ،سفارتی وفود اور نمائندہ تنظیمات کسی ایک مقام پر طالبان رہنماؤں سے بات چیت کرنے اور افغانستان کی مجموعی صورت حال پر غور وفکر کرنے کے لیئے جمع ہوئی ہیں۔شنید تو یہ ہی ہے کہ او آئی سی کے اس غیر معمولی اجلاس کے مثبت نتائج جلد ہی ظاہر ہونا شروع جائیں گے۔ سب سے انتہائی خوش آئند بات تو یہ ہے کہ ساری دنیا افغان عوام کو کسی بھی بڑے انسانی بحران کا ایندھن بننے سے بچانے کے لیئے پوری طرح سے متفق ہوچکی ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کونسل کے 17ویں غیر معمولی اجلاس میں منظور کی گئی متفقہ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں معاشی بدحالی مہاجرین کے بڑے پیمانے پر انخلاء کا باعث بنے گی، نیزانتہا پسندی، دہشت گردی اور عدم استحکام کو بھی فروغ ملے گا جس کے سنگین ترین نتائج علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام پر پڑیں گے،جبکہ غربت سے نمٹنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اپنے شہریوں کو ضروری خدمات خاص طور پر خوراک، صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت کی خدمات کی فراہمی میں افغانستان کی مدد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے افغانستان کے لئے انسانی امداد کی فوری فراہمی میں بین الاقوامی برادری، پڑوسی ممالک، ڈونر ایجنسیوں اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی کوششوں پر زور دیا گیا، افغانستان کے مالی وسائل تک اس کی رسائی تباہی کو روکنے اور اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں اہم ہو گی، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے زیراہتمام ایک ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے اور افغان تحفظ خوراک پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے افغانستان کی خود مختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کے بھرپور عزم کا اعادہ کیا گیا،نیز قرارداد میں افغانستان میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقتصادی تعاون کو جاری رکھنے کی تجاویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں بڑے پیمانے پر توانائی، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی منصوبوں بشمول تاپی پائپ لائن بجلی کی ترسیل کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ افغان عوام کی زیادہ سے زیادہ فلاح و بہبود ہو سکے۔

مزید پڑھیں: عمران خان اور آئی ایم ایف کی شراکت؟

پاکستان،چین اور سعودی عرب نے افغانستان کے مسئلے پر او آئی سی کے پلیٹ فارم کے تحت ایک فقید المثال عالمی اجتماع منعقد کر کے ثابت کردیا ہے کہ وہ مکمل خلوص نیت کے ساتھ افغانستان کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیئے یکسو ہیں۔مگر یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا طالبان بھی اپنے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر بنانے کے لیئے اپنے دوست ممالک جیسے پاکستان اور چین کے مشورے ہمہ تن گوش ہوکر سننے کے لیئے بھی تیار ہیں یا نہیں؟۔کیونکہ جہاں دنیا کو طالبان کے متعلق اپنے خیالات میں کشادگی اور تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، تو وہیں طالبان کو بھی افغانستان میں ایک کثیر الجہتی اور تمام تر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ آئین نو یا نصب العین اپنانے کی اشد ضرورت لاحق ہے۔فی الحال اسلام آباد میں منعقدہ او آئی سی کے غیر معمولی اور کامیاب اجلاس نے افغانستان میں بھوک اور افلاس کا خو فناک بحران تو وقتی طور پر سہی،بہرحال ٹال ہی دیا ہے مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کا انتظام و انصرام مستقل طو رپر چلانے کے لیئے بیرونی امداد سے زیادہ دیرپا داخلی استحکام درکار ہوتاہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 23 دسمبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں