Pakistan Steel Mills

پاکستان اسٹیل ملز “نجکاری” سے “آہ و زاری” تک

یقینا ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پاکستان اسٹیل ملز کو بچایا نہیں جاسکتاہے،آج، کل،پرسوں یا زیادہ سے زیادہ ترسوں بہر حال پاکستان اسٹیل ملز کاخاتمہ بالخیر ہوہی جاناہے،کیونکہ پاکستان اسٹیل ملز ملک و قوم پر ایک ایسا معاشی بوجھ بن چکی ہے کہ جسے جلد ازجلد حکومت کے سر سے اُتارنے میں ہی قوم کی معاشی راحت پہناں ہے۔ لیکن پاکستان اسٹیل ملز کو نہ سہی مگر اس میں کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین کو تو بچایا ہی جاسکتاہے۔کیا یہ ضروری ہے کہ جب عظیم و الشان و پر شکوہ پاکستان اسٹیل ملز کو زمین بوس کیا جائے تو اس کے ساتھ ہی پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کے معاشی مستقبل کو بھی زمین بوس کردیا جائے؟۔

یہ مضمون بھی پرھیئے: شتر مرغ کا انڈا اور پاکستانی معیشت

خاص طور پر ایسے مفلوک الحال ملازمین جو پاکستان اسٹیل ملز میں نچلے اور درمیانے درجے کی ملازمت کیا کرتے تھے۔ بھلا حکم کے غلام اِن ملازمین کا پاکستان اسٹیل ملز کو تباہ و برباد کرنے میں کیا قصور ہوسکتاہے؟۔ اصل قصور تو پاکستان اسٹیل ملز میں سیاسی طاقت سے بھرتی کیئے گئے اُن افسران کا ہے جو تنخواہ تو پاکستان اسٹیل ملز کے کھاتے سے لیتے تھے لیکن غراتے پاکستان پیپلزپارٹی،متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے لیئے تھے۔بلاشبہ ایسے تمام سیاست زدہ افراد کو پاکستان اسٹیل ملز کا ملازم کہنا بھی ”قومی جرم“ ہوگا۔لہٰذا پاکستان اسٹیل ملز میں سیاسی نقب لگا نے والوں کو صرف نوکری سے نکالنے پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ انہیں پاکستان اسٹیل ملز کو اپنی سیاست گردی کا نشانہ بنانے کی پاداش میں سخت سے سخت قرار واقعی سزائیں بھی ضرور دی جائیں۔مگر دوسری جانب پاکستان اسٹیل ملز میں برسوں سے اپنا خون،پسینہ بہانے والوں کے لیئے کچھ”معاشی جزا“ کا بھی لازمی اہتمام کیا جائے۔

یقینا اس کے لیئے تحریک انصاف کی حکومت کو ذرا سی احتیاط، عرق ریزی اور محنت کرنے کا انتظامی حوصلہ درکارہوگا،اگر تحریک انصاف کے رہنما یہ کرگزرے تو پھر اُمید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز میں سے کھرے ملازم الگ، جبکہ کھوٹے ”سیاسی ہرکارے“ باآسانی علحیدہ کیئے جا سکیں گے۔ویسے بھی تحریک انصاف کا ”انصاف“تقاضا کرتا ہے کہ قصور وار کو بہر صورت سزادی جائے اور بے قصور کے لیئے قابلِ قبول جزا کا بندوبست کیاجائے۔حالانکہ ہم یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کے حقیقی ملازمین کو گولڈن ہنڈشیک کی طرز پر بہت کچھ دینے کا پلان ترتیب دیا ہوا ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ سندھ کی مختلف سیاسی جماعتیں پاکستان اسٹیل ملز میں موجود اپنی حمایت یافہ ”سیاسی ہرکاروں“ کے ذریعے،پاکستان اسٹیل ملز کے ”حقیقی ملازمین“کے منہ سے گولڈن ہنڈ شیک کایہ”نوالہ“ بھی چھیننا چاہتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کے لیئے وفاقی حکومت کی جانب سے ترتیب گئے گولڈن ہینڈ شیک پلان میں تغیر و تبدل کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔دراصل پاکستان اسٹیل ملز میں سیاسی بھرتیوں کے نتیجہ میں داخل ہونے والے افسران بالا چاہتے ہیں کہ گولڈن ہینڈ شیک کا فارمولا کچھ اس طرح سے بنایا جائے کہ بالائی اور مکھن اُن کے حصے میں آجائے جبکہ بچا ہوا چھاج اور زیرہ پاکستان اسٹیل ملز کے حقیقی ملازمین کے درمیان تقسیم کے لیئے چھوڑ دیا جائے۔یعنی ماضی میں سیاسی جماعتوں کے طرف سے بھرتی کیئے گئے گھوسٹ افسران نے پاکستان اسٹیل ملز کو لوٹا تھا اور اَب مستقبل میں وہ غریب، لاچار، مفلوک اؒلحال ملازمین کی کمائی لوٹنا چاہتے ہیں۔

یہاں ضرورت اس اَمر کی ہے کہ مقتدر حلقے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز کے اصل ملازمین تک گولڈ ن ہینڈ شیک اسکیم کے ثمرات بحفاظت پہنچانے کے لیئے اپنا بھرپور کلیدی کردار ادا کریں۔جبکہ جو سیاسی افراد اَب بھی پاکستان اسٹیل ملز میں سیاسی مداخلت کرنے سے باز نہیں آ رہے، انہیں شناخت کرکے نہ صرف پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامہ سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا جائے بلکہ قانونی اور انتظامی طور پر انہیں نشانِ عبرت بنانے کا بھی حکومتی بندوبست کیا جائے۔تاکہ آئندہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا اُس کا حمایت یافتہ کارکن پھر کسی دوسرے قومی ادارے کو مالِ مفت سمجھ کر ہڑپ کرنے کا نہ سوچ سکے۔

اس کے لیئے ایک آسان سا طریقہ کار پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کے پاس موجود اثاثوں کی مالیت کا اندازہ لگا کر بھی اختیار کیا جاسکتاہے۔ یعنی پاکستان اسٹیل ملز کے جوملازم کسی دوسری جگہ ”شاہانہ ملازمت“ کررہے ہیں،یا سندھ کے دیگر علاقوں میں جائیداد اور مکانات رکھتے ہیں۔انہیں بیک جنبش قلم پاکستان اسٹیل ملز کی ملازمت سے برطرف کرکے گولڈن ہینڈ شیک اسکیم جیسی ہر مراعات کے لیئے نااہل قرار دیا جائے۔لیکن دوسری جانب پاکستان اسٹیل ملز کے ایسے ملازمین جن کے پاس اسٹیل مل ٹاؤن کے علاوہ کسی دوسری جگہ کوئی گھر،ٹھکانہ یا جائیداد نہ ہو اور نہ کسی دوسری”سیاسی ملازمت“ کی سہولت موجود ہو۔ ایسے تما م ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک اسکیم میں زیادہ سے زیادہ معاشی سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ صرف یہ ہی نہیں اسٹیل مل ٹاؤن سے بے گھر ہونے والے ”حقیقی ملازمین“ کے لیئے سرچھپانے کے لیئے گھر کا بھی لازمی انتظام کیا جائے۔

سارے ”تحریری مقدمے“کا لب لباب بس اتنا سا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کرناجتنا ضروری ہے،اُتنا ہی ضروری پاکستان اسٹیل ملز کے حقیقی ملازمین کی آہ و زاری سننا بھی ہے۔لہٰذا پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم سے جہاں ملکی خزانے کو ہونے والے خسارے اور نقصان کی بھرپائی کرنے کی کوشش جائے گی،وہیں اس بات کا خصوصی التزام بھی یقینی بنایا جائے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے حقیقی ملازمین کو بھی کسی قسم کا معاشی نقصان نہ پہنچ سکے۔کیونکہ گزشتہ چالیس برسوں میں ”سیاسی ظلم“ فقط پاکستان اسٹیل ملز کے ساتھ ہی نہیں ہوا ہے بلکہ اس ادارے میں کام کرنے والے ”حقیقی ملازمین“ بھی بدترین مظلومیت کا شکار رہے ہیں۔پس! اَب تحریک انصاف کی حکومت کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ ”سیاسی ظلم“کے سارے چراغ بجھا کر پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی آنکھوں میں اُمید،اعتماد اور روشن مستقبل کے چھوٹے چھوٹے دیے روشن کردے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 24 دسمبر 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں