Pakistan paying price of absolutely not said to USA

انکار کی سی لذت ، اقرار میں کہاں ہے

امریکی صدر جو بائیڈن نے سفارتی جودو سخاکے دریا بہاتے ہوئے ثابت شدہ جمہوری ملک ہونے کا نایاب ترین اعزاز دینے کے لیئے پاکستان کو عالمی جمہوری ورچوئل سمٹ یعنی ”سمٹ فار ڈیموکریسی“ میں شرکت کے لیئے بطورخاص مدعو کیا تھا لیکن پاکستان نے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے امریکا کی میزبانی میں ہونے والی اِس ورچوئل سمٹ بنام نام نہاد جمہوریت میں شرکت سے صرف معذرت ہی نہیں کی بلکہ صاف صاف اعلانیہ انکار کرکے سرِ دست تو امریکا کو ناراض ہی کردیا ہے۔ حالانکہ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ امریکا پاکستان سے کب کب ناراض نہیں تھا؟ ہم تو آج تک اُس نیک ساعت کے بارے میں ذرہ برابر بھی جان کاری نہیں حاصل کر سکے ہیں کہ جب امریکا نے یہ اقرار کیا ہو کہ وہ پاکستان سے راضی بہ رضاہے۔دراصل جس طرح ہمارا امریکا کے ساتھ سفارتی عشق دائمی ہے بلکہ ویسے ہی امریکا کے شکوے شکایات اور ناراضگیاں بھی مستقل بنیادوں پر ہی استواررہی ہیں۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: امریکا کو گرائے گی اکیسویں صدی

اس لیئے جن باخبر حلقوں کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کا یہ حرفِ انکار، پاکستانیوں پر بہت بھاری پڑنے والا ہے تو ایسے تمام تجزیہ کاروں کی اطلاع کے لیئے عرض یہ ہے کہ پاکستان نے جہاں ماضی میں امریکا کی ناراضگی کے اتنے بھاری بھاری پتھر اپنے ناتواں کاندھوں پر اُٹھالیئے ہیں، وہاں اَب کی بار یہ بوجھ بھی انتہائی چابک دستی سے اُٹھا لیا جائے گا۔لیکن اگر خدانخواستہ پاکستان چین کے خلاف ہونے والی عالمی جمہوری کانفرنس میں شرکت کرلیتا اور ہمارا دیرینہ دوست چین ہم سے ناراض یا خفا ہوجاتا تو یقینا یہ ایک ایسا اخلاقی، سیاسی اور سفارتی وزن تھا،جسے اُٹھانے کی سکت پاکستانی قوم میں شاید بالکل بھی نہیں تھی۔ اس لیئے امریکا کو صاف صاف کہے جانے والے ہمارے ایک حرفِ انکار نے امریکا اور اُس کے حلیفوں کو چاہے جتنا مرضی ناراض کردیا ہو مگر من حیث القوم ہمارے لیئے سب سے زیادہ باعثِ اطمینان اور خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا کو کہے جانے والے حرفِ انکار نے ہمارے دوست چین کو دل و جان سے خوش کردیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 110 ممالک کو جمہوریت پر ہونے والے اس ورچوئل سمِٹ میں شرکت کے لیئے مدعو کیا گیا تھا، جن میں کئی بڑے مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان بھی شامل تھے۔جبکہ چین، روس، ترکی اور بنگلہ دیش سمیت چند دیگر ممالک کو اس سمِٹ میں نہیں بلایا گیا تھا۔حالانکہ جمہوریت کے نام پر ہونے والی اس ورچوئل کانفرنس میں اسرائیل جیسے کئی ایسے ممالک کو شرکت دی گئی تھی،جن کے نام کے ساتھ جمہوری اور عوامی کی پخ لگانا بھی لفظ جمہوریت کی کھلی توہین کے مترادف ہے۔پاکستان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ’ڈیموکریسی سمٹ‘ کے لیے مدعو کیے جانے پر شکریہ تو ادا کیا ہے تاہم پاکستانی کا کہنا ہے کہ وہ اس موضوع پر مستقبل میں ’مناسب وقت‘ پر امریکا سے بات کرے گا۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”ہم امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دونوں ہی دو طرفہ کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے طور پر بڑھانا چاہتے ہیں۔جبکہ ہم امریکہ کے ساتھ کئی مسائل پر رابطے میں بھی ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ ہم اس موضوع پر مستقبل میں کسی مناسب وقت پر بات کریں گے“۔

ویسے تو اکثر بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے چین کی محبت سے مجبور ہو کر یہ فیصلہ لیا ہے۔جس کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر پاکستان کی جانب سے امریکی سمٹ میں شرکت سے انکار کے بعد چین کے دفترِ خارجہ کے ترجمان لیجیان ثاؤ کی طرف کیئے جانے والے ایک ٹوئٹ کو پیش کیا جارہا ہے،جس میں چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی بھرپور مسرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو امریکی دعوت رد کرنے پر ”آئرن برادر“کہہ کر مخاطب کیا ہے۔لیکن ہماری رائے میں پاکستان کی جانب سے اس ورچوئل سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے پس پردہ محرکات و وجوہات میں پاک چین دوستی کے ساتھ ساتھ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جور کا بازار گرم رکھنے والے ممالک بھارت اور اسرائیل کی حکومتوں کو جمہوریت کی مقبول عام تعریف پر نہ اُترنے کے باجود،ورچوئل سمٹ میں بلانا بھی ہے۔

غالب امکان بھی یہ ہی ہے کہ جب بھی اور جس عالمی فورم پر بھی امریکی حکام کی جانب سے پاکستان سے اس ورچوئل سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی جائے گی تو پاکستان باآسانی بھارت اور اسرائیل کا نام لے کر سوال اُٹھا سکتاہے کہ، اِن بدزمانہ ظلم و جبر کی حکومتوں کو کس رائج اُصول یا قاعدہ کے تحت جمہوری طرز حکومت کی سند عطا کی جاسکتی ہے؟۔حالانکہ ساری دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں بھارت میں انسانی حقوق کی کس بڑے پیمانے پر پامالی ہوئی ہے اور کم و بیش نصف صدی سے جموں اور کشمیر کو بھارت نے کھلی جیل بنایا ہوا ہے۔ دوسری جانب سب کو پتہ ہے کہ ترکی ایک جمہوری ملک ہے جہاں ریفرینڈمز اور الیکشنز ہوتے ہیں۔حد تو یہ ترک عوام چند برس قبل ہی ٹینکوں سے سامنے لیٹ کر جمہوریت کا تحفظ کیا تھا، مگر اِن سب ناقابلِ تردید حقائق یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ترکی کو”سمٹ فار ڈیموکریسی میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔

نیز اس ورچوئل سمٹ میں بلایا جانا والا ایک ملک تائیوان بھی ہے، یعنی ایک ایسا ملک، جس کے وجود کو امریکا سفارتی سطح پر سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا، اُسے بھی جمہوریت پر لیکچر دینے کے لیئے مدعو کرنا کیا امریکا کی چین دشمن سیاسی و معاشی پالیسی کا عکاس نہیں ہے؟۔یعنی آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امریکا نے جمہوریت کے موضوع کو بنیاد بہانہ بنا کر یہ ورچوئل سمٹ منعقد ہی چین کے بعض حلیفوں اور دوستوں کو شش وپنج میں مبتلا کرنے کے لیئے کیا تھا۔ لہٰذا پاکستان کے لیے اس سمِٹ میں شرکت کرنا، عالمی سطح پر چین سے تعلقات بگاڑنے کے مترادف سمجھا جاتا، جو پاکستان کسی بھی صورت نہیں چاہتاتھا۔ اس لیئے ہماری دانست میں حکومت پاکستان نے امریکی صدر جوبائیدن کی سربراہی میں منعقد ہونے والے ورچوئل سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا مشکل مگر ضروری اور بروقت فیصلہ ایک انتہائی دور رس اقدام کیا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ہونے والی پے درپے رونما ہونے والی بداعتمادی نے بھی پاکستان کو یہ سخت فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔مثال کے طور امریکی صدر جوزف بائیڈن کا وزیرِ اعظم عمران خان کو خود فون نہ کرنا، امریکی سینیٹ میں پاکستان کے خلاف طالبان کی حمایت کرنے پر بِل پیش ہونا اور پھر افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد وہاں طالبان کی حکومت کا قیام اور خطے میں امریکہ کی موجودگی پر پاکستان کا یہ اصرار کرنا کہ”پاکستان کو خطے میں تنہا نہ چھوڑا جائے“۔ لیکن پاکستان کی اس درخواست کے جواب میں چند ماہ پہلے امریکی سفارتکار اور ڈپٹی سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن کا پاکستان آنے سے قبل ممبئی میں ایک تقریب کے دوران بظاہر دو ٹوک الفاظ میں یہ کہنا کہ”امریکہ پاکستان کے ساتھ وسیع بنیاد پر تعلقات نہیں دیکھتا“۔یعنی امریکی حکام کی جانب بار بار بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنے کی امریکی پالیسی نے بھی تاریخ میں دوسری بار پاکستانی حکام کو امریکا کو نظر انداز کرنے کا حوصلہ فراہم کیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور پاکستان کے تعلقات کا مستقبل؟

واضح رہے کہ امریکا کو پہلی بار پاکستان نے 1968 میں نظر انداز کیا تھا، جب پاکستان نے امریکہ کو پشاور سے چھ کلومیٹر دور بڈھ بیر کے ہوائی اڈے کے استعمال کی مزید اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ تقریباً 1959 سے اس اڈے سے سابقہ سوویت یونین کے خلاف فضائی جاسوسی کرتا آ رہا تھا۔لیکن پاکستان نے کھلے لفظوں میں امریکہ سے اسے بند کرنے کو کہا تو نہ صرف پاکستان کے اس اقدام سے چین خوش ہوا اور اس کے فوراً بعد سوویت یونین نے بھی پاکستان کو ایشین سکیورٹی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اَب اتنے طویل عرصہ کے بعد یہ دوسری بار ہورہا ہے کہ پاکستان امریکا کو اپنے ملک میں فضائی اڈے دینے سے بھی انکار ی ہے اور اُس کے حریف چین کے خلاف کسی امریکا اتحاد کا حصہ بننے پر بھی آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ اس حرفِ انکار کے بعد پاکستان کو امریکا کے جوابی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا اور جس کے کچھ آثار تو ابھی سے پاکستان کے معاشی اُفق پر منڈلانا بھی شروع ہوچکے ہیں۔ مثلاً آئی ایم ایف نے قرض کی شرائط کو سخت سے سخت تر کردیا ہے،جبکہ فٹیف میں بھی پاکستان کو صرف ایک شرط پوری نہ کرنے کی بنیاد پر مزید گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا معاندانہ فیصلہ کیے جانے کے واضح اشارے دیئے جارہے ہیں۔

بہرحال قوموں کی زندگی میں لیئے گئے بعض مشکل فیصلے، کہلاتے ہی اس لیئے مشکل ہیں کہ اِن فیصلوں کو کرنے کے بعد اُن قوموں کو ایک طویل عرصے تک مختلف طرح کی سیاسی، سماجی اور سفارتی مشکلات سے گزرنا پڑتاہے۔ مشکل فیصلے کرنے یہ وہ قیمت جو ہر قوم کو نقد ادا کرنا ہوتی ہے۔ ہمارے لیئے باعث اطمینان بات یہ ہے من حیث القوم ہم پہلے بھی متعدد بار عالمی مشکلات و مصائب سے کامیابی کے ساتھ گزر چکے ہیں یقینا اس بار بھی ہم ثابت قدم رہتے ہوئے دنیا بھر کو باور کروادیں گے کہ پاکستان قوم مشکل فیصلے کرنا ہی نہیں جانتی بلکہ اُن کے نتائج و عواقب سے بھی اچھی طرح سے نبرد آزما ہونا جانتی ہے۔ ویسے بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی قرآن حکیم فرقان حمید میں صراحت کے ساتھ ارشاد فرما یا ہے کہ ”ہر مشکل کے بعد آسانی ہے“۔ بے شک پیش آمدہ سیاسی،سماجی اور سفارتی مشکلات کے بعد بہت سے آسانیاں بھی پاکستان کی منتظر ہوں گی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 20 دسمبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں