Pakistan and Saudi Arabia

سعودی عرب پاکستان کے سفارتی تعلقات اور کوالالمپور کانفرنس

کیا سعودی عرب اور پاکستان کے سفارتی تعلقات واقعی نازک ترین سفارتی صورت حال سے گزر رہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کم و بیش ہر پاکستانی کو فوری طور پر اور بالکل درست درست درکار ہے۔ کولالمپور کانفرنس میں سعودی عرب کی خواہش پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی عدم شرکت نے اتنے سوالات نہیں اُٹھائے تھے جتنے اندیشے اور واہمے ترکی کے صدر طیب اردوان کے اِس بیان نے پیدا کردیئے ہیں کہ ”پاکستان کو کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے روکنے کے لیئے سعودی عرب کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کہ”اگر پاکستان کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرے گا توپھر وہ اپنے ملک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو جبری طور پر اُن کے ملک سے بے دخل کردیا جائے گا“۔ویسے تو اِس بیان کے میڈیا پر آنے کے فوراً بعد ہی سعودی عرب کے سفارتی ذرائع نے اِس بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہہ دیا گیا تھا کہ ”پاکستان اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات میں ایسا لب و لہجہ ہرگز استعمال نہیں کیا جاتا جس کی طرف ترکی کے صدر طیب اردوان نے اشارہ کیا ہے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات مکمل طورپرباہمی اعتماد کے رشتہ پر قائم ہوتے ہیں“۔بظاہر اِس تردیدی بیان نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین پیدا ہوجانے والی سفارتی دھند کو کم تو کیا لیکن یہ وضاحت نامہ طیب اردوان کے بیان کے بعد تیزی سے بڑھنے والے سفارتی کشیدگی کے اوہام اور اندیشوں کو مکمل طور ختم کرنے کا موجب نہ بن سکا۔

یہ بھی پڑھیئے: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان

خاص طور پر اپوزیشن کی جانب سے اِس وضاحتی بیان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ ”پاکستان اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات کا اچانک اِس سطح پر پہنچ جانا تحریک انصاف حکومت کی اَب تک کی سب سے بڑی سفارتی ناکامی ہے“۔ مگر دوسری جانب حکومت کا موقف یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کوالالمپور کانفرنس سے پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کر کے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اُس سے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ سفارتی تعلقات کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوئے ہیں کیونکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مہاتیر محمد اور طیب اردوان سے اپنے ذاتی نوعیت کے تعلقات ہونے کے باوجود بھی شہزادہ محمد بن سلمان کی بات کو مانتے ہوئے سعودی عرب کے موقف کے ساتھ خاموشی کے ساتھ لیکن عملی طورپر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔اگر وزیراعظم پاکستان کا یہ اقدام سعودی عرب کے موقف اور خواہشتات کے عین مطابق ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے ناراضگی کا اظہار کرے۔ جہاں تک طیب اردوان کے بیان کا تعلق ہے تو اُس سے اگر مستقبل میں کوئی سفارتی بحران پیدا ہونا بھی چاہئے تو وہ ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات کے مابین ہونا چاہئے ناکہ پاکستان کے ساتھ۔

بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت کے اِس موقف میں کافی جان ہے اور حقیقت احوال بھی اِسی موقف سے کافی مطابقت بھی رکھتی ہے کہ کوالالمپور کانفرنس پر سعودی عرب کے اعتراضات کے ساتھ پاکستان بھلے ہی مکمل طور پر اتفاق نہ بھی کرتا ہو مگر اُس کے باوجود اُس نے بہرحال ساتھ تو سعودی عرب کا ہی دیا ہے۔ یقینا اِس بات کاادراک تو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بھی اچھی طرح سے ہوگا کہ جس کانفرنس کے انعقاد میں سب سے بنیادی کردار عمران خان کا تھا اور اُس کانفرنس میں ہی عمران خان نے عین آخری موقع پر فقط اِس لیئے شرکت سے انکار کردیا تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سعودی عرب کے مخالف کیمپ میں جانے کا ہلکا سا بھی تاثر پیدا نہ ہو سکے۔اچھی بات یہ ہے کہ سعودی عرب بھی جانتا ہے کہ اسلامی دنیا کے درمیان پاکستان کی اپنی بھی کیا کیا سفارتی مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ خاص طور پر جبکہ پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کی طرف سے کشمیر میں پچھلے کئی مہینوں سے ظلم و ستم کا بازار گرم ہو۔ یقینا ایسے حالات میں پاکستان چاہے گا کہ اُس کے ساتھ زیادہ بین الاقوامی ممالک خاص طور مسلم ممالک کی حمایت ہو اور اس کے حصول کے لیئے ہی پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔کیونکہ پاکستان کو او آئی سی اور عرب ممالک کی طرف سے بھارت کے مقابلے میں وہ سفارتی امداد اور تعاون نہیں حاصل ہوپایا تھا جس کی کہ پاکستان کو شروع دن سے اُمید تھی۔

اگر پاکستان کو کشمیر میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 375 اے کے نفاذ کے پہلے دن ہی بھارت کے خلاف او آئی سی کے پلیٹ فارم سے خاطر خواہ سفارتی امداد حاصل ہوجاتی تو پاکستان کوالالمپور کانفرنس کی طرف دیکھنے کے بجائے مہاتیر محمد اور طیب اردوان کو قائل کر کے او آئی سی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے پر مجبور کرتا۔ لیکن جب کشمیر جیسے سلگتے معاملہ پر بھی عرب ممالک کی جانب سے مجرمانہ چشم پوشی سے کام لیا گیا تو پھر پاکستان نے مجبوری کی حالت میں اپنی کچھ سفارتی اُمیدیں کوالالمپور کانفرنس سے دراز کرنا شروع کردیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوالالمپور کانفرنس میں کشمیر پر جو موقف اختیار کیا گیا ایسے ہی موقف کی ہی اُمید پاکستان کو برسوں سے او آئی سی سے رہی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ او آئی سی کبھی بھی کشمیر کے حق میں اور بھارت کے خلاف کھل کر اپنی کوئی دیرپا سفارتی پالیسی لانے میں کامیاب نہ ہوسکا کہ جس پر عملدرآمد کر کے بھارت پر حقیقی معنوں میں معاشی، سیاسی اور سفارتی دباؤ ڈالا جاسکے تاکہ بھارتی سرکار اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر کشمیری عوام کو اُن کا حقِ خودارادیت دینے پر مجبورہو سکے۔
حوالہ: یہ خصوصی مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 02 جنوری 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں