Raddul ul Fasad Oppreation in Pakistan

آپریشن ردالفساد، سندھ حکومت کی سنجیدگی کا امتحان

پاکستان میں جیل کی دنیا دہشت گردوں اور مجرموں کے لیئے کتنی پر آسائش اور پرسکون ہے اس کا اندازہ کراچی سینٹرل جیل میں رینجرکے سرچ آپریشن کے بعد ہوا،جیل سے بڑی تعداد میں برآمد ہونے والے ممنوعہ مگر پر آسائش سامان کی تفصیل معلوم ہونے کے بعدکسی بھی ذی شعور شخص کے ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ قید ہے تو پھر آزادی کیا ہے؟اور اگر مجرم جیل میں اس طرح آزادی اور آسائش سے مزین زندگی بسر کرتے ہیں تو کیا پھر قیدکی پرتکلیف زندگی جیل کے باہر سے شروع ہوتی ہے۔
پاکستان رینجر سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی مرکزی جیل میں ایک مشترکہ آپریشن میں مختلف بیرکو ں کی تلاشی کے دوران 35 لاکھ سے زائد رقم،449 ٹی وی،163 ایل ای ڈیز،102 انتہائی قیمتی موبائل فونز،18 ڈیپ فریزرز، 995 بریکٹ فین،82 اسپیکر ز،22 ہیٹرز،5 عددہیروئین کے پیکٹس،اینٹی جیمرزجیسی لاتعداد ڈیوائسز جن کے ذریعے سگنل جام کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا جاتا تھا اور دیگر ممنوعہ سامان برآمد کیا گیا۔جیل سے برآمد ہونے والے ممنوعہ سامان کی یہ تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔واضح رہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹیڈ آپریشن کے دوران گرفتار کیئے گئے سیاسی، مذہبی جماعتوں،شدت پسند گروہوں اور جرائم پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد کو اسی جیل میں رکھا جاتا تھا۔اس جیل کے بارے میں انٹیلی جنس ادارے پہلے بھی کئی بار الرٹ جاری کر چکے تھے کہ خیبر پختونخواہ کے شہر بنوں جیل کی طرز پر دہشت گردوں کا ایک بڑا حملہ یہاں بھی ہوسکتا ہے مگر یہاں تو صورت حال بالکل ہی اُلٹ نکلی ہے جس طرح کا سامان برآمد ہوا اس سے تو یہ لگتا ہے کہ جیل پر تو کسی دہشت گرد نے کیا حملہ کرنا تھا بلکہ دہشت گرد یا ٹارگٹ کلرز یہاں سے پورے کراچی میں اپنی کارروائیاں انتہائی آزادی سے کر رہے تھے۔ اس سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیرکس میں موجود دہشت گرد جیل میں رہ کر بھی،جیل سے باہر اپنے ساتھیوں سے نا صرف رابطے میں تھے، بلکہ جیل میں بیٹھے بیٹھے دہشت گردی سمیت بڑے بڑے جرائم کی وارداتوں کی پلاننگ بھی کرتے تھے، قیدیوں کے پاس اتنا کچھ ہونے کے باوجود جیل انتظامیہ کا آنکھیں بند رکھنا اور سندھ حکومت کا اس طرح کے تمام واقعات سے اظہار ِلاعلم رہنا ملک کی سیکورٹی کے لیئے کتنا خطر ناک ہے اس کا اندازہ بھی لگانا شاید ممکن نہیں۔ایک طرف جہاں ملک بھر قومی ایکشن پلان اور آپریشن ردالفساد کی شکل میں انسدادِ دہشت گردی کی مختلف کارروائیاں کی جارہی ہیں عین اُسی وقت کراچی کی مرکزی جیل کا اتنا بڑا سیکورٹی لیپ سامنے آنا آپریشن ردالفساد کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔یہ تو صرف کراچی کی ایک جیل کی صورتحال ہے۔لیکن سندھ کے دوسرے اضلاع میں صورتحال کراچی سے بھی خطرناک ہے۔کراچی میں آپریشن سے چونکہ حکمران جماعت کوبراہِ راست سیاسی فوائد حاصل ہو رہے ہیں اس لیئے وہ اس کی ہر سطح پر حمایت کر رہی ہے لیکن اندرون سندھ میں کیونکہ حکمران جماعت کواپنے سیاسی مفادات کے نقصان کا اندیشہ ہے اس لیئے وہ وہاں کسی بھی انسداد دہشت گردی کے بڑے آپریشن کے خلاف ہر محاذ پر خم ٹھونک کر مخالفت پر اتر آتی ہے۔

اس وقت سندھ پوری طرح دہشت گردی کی گرفت میں ہے۔جس کی تصدیق سرکاری سطح پر بھی مختلف اداروں کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹوں سے بھی ہوتی ہے۔مگر اس بار تو خود سندھ پولیس میں انسداد دہشت گردی کے لیئے خصوصی کاونٹر ٹیریر ازم ڈیپارٹمنٹ کی سی ڈی ٹی کی طرف سے جو تفصیلی رپورٹ دی گئی ہے،کہا گیا ہے کہ سندھ کی ہر جیل میں سرچ آپریشن کی فی الفور ضرورت ہے۔اسی رپورٹ میں (سی ٹی ڈی)کی طرف سے فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث افراد اور اداروں کی فہرست سیکورٹی اداروں کی رہنمائی کے لیئے تیا ر کر کے فراہم کی گئی ہے۔اس لسٹ میں اُن افراد اور اداروں کے نام دیئے گئے ہیں جو بلوچستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی مسلح تربیت حاصل کر کے اب اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں رہ رہے ہیں۔اس لسٹ میں شامل سب سے زیادہ افراد کا تعلق شکارپور اور سکھر سے ہے۔سی ڈی ٹی نے اس فہرست میں ایسے مدرسوں کو بھی شامل کیا ہے جو ان دہشت گردوں کو اپنے پاس پناہ دینے میں ملوث ہیں یا ان افراد کے سہولت کار ہیں۔اس سے پہلے بھی ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیئے بنائے گئے خصوصی ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی طرف سے سیکورٹی الرٹ جاری ہوا تھا،جس میں کہا گیاتھا کہ سندھ کی کئی کالعدم تنظیموں کی طرف سے نام بدل کر اپنے سابقہ منشور، جھنڈے اور قیادت کے ساتھ اپنی سرگرمیاں شروع کی ہوئی ہیں۔نیکٹا کی طرف سے باضابطہ طور پر وزارت داخلہ سندھ کو تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا تھا کہ نام بدل کر کالعدم تنظیموں کا سندھ بھر اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنا قومی ایکشن پلان کے خلاف ہیں۔

اب ہونا تو یہ چاہیئے کہ سندھ حکومت حالات کی سنگینی کابروقت احساس کرتے ہوئے پورے سندھ میں فوری طور پر انسدادِ دہشت گردی کی ایک وسیع تر کارروائی کا آغاز کرے جس میں سی ڈی ٹی کی طرف سے فراہم کی گئی فہرست پر کارروائی کرنے کے علاوہ سندھ کی تمام جیلوں میں کراچی سینٹرل جیل کی طرز پر بھرپور آپریشن کیئے جائیں کیونکہ دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کی طرف سے صرفِ نظر کرنا بھی اصل میں دہشت گردی کی آبیاری کرنے کے ہی مترادف ہے اس سے پہلے کہ پورا سندھ دہشت گردوں کے نشانہ پر آجائے حکومت ِ سندھ کو بلا امتیاز دہشت گردوں کے خلاف اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے کارروائیوں کا آغاز کردینا چاہیئے اس میں کسی بھی قسم کی رو رعایت شاید سندھ حکومت کے لیئے کسی نیک نامی باعث نہیں ہوگی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 29 جون 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں