Shahbaz Sharif and Molana Fazal ur Rehman

اپوزیشن کی پوزیشن

جمہوریت میں ”اپوزیشن“ کو آدھی حکومت بھی کہا جاتا ہے،مطلب اس بات کا یہ ہے کہ اگر ”اپوزیشن“ کمزور ہے تو سمجھیں حکومت کے پاس حکومتی اقتدار کے مزے لوٹنے کے تمام تر مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن اگر ”اپوزیشن“ طاقتور ہے تو پھر ایک جمہوری حکومت کے پاس اقتدار کی صرف آدھی طاقت ہی باقی رہ جاتی ہے اور اقتدار کی اس آدھی طاقت کو بھی صرف اُسی صورت میں ہی پانچ سال تک برقرار رکھا جاسکتاہے، جب کہ ایک جمہوری حکومت اپنی سمت ہر حال میں درست رکھے یعنی جمہوری نظام ہائے حکومت میں ایک طاقتور ”اپوزیشن“ ہی جمہوری حکومت کا قبلہ درست رکھنے کی ضامن ہوا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی 70 سالہ سیاسی تاریخ میں ”اپوزیشن“ کی پوزیشن ہمیشہ سے ہی کمزور رہی ہے۔اس لیئے ہمارے ہاں جمہوری حکو متوں کی سمت کبھی بھی درست نہ ہوسکی جس کے باعث جمہوری حکمرانوں کے طرزِ حکمرانی اور آمرانہ طرزِ حکمرانی میں بال برابر بھی فرق باقی نہیں رہا،شاید یہ ہی وجہ ہے کہ آج تک عوام ماضی کے آمروں کے گُن تو شوق سے گاتے ہیں لیکن اپنے جمہوری حکمرانوں سے بُری طرح شاقی دکھائی دیتے ہیں۔ 2018 کے انتخابی نتائج کے بعد وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع میسر آیاہے کہ جب ”اپوزیشن“ حکومت سے کہیں زیادہ طاقتور پوزیشن میں ہے۔سادہ لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں ”اپوزیشن“ کی صفوں میں ماضی کے وزیراعظم،وزیراعلیٰ اور وزراء کی زبردست بھر مار ہے جبکہ حکومتی بینچوں میں گنتی کے فقط دو چار ہی ایسے گہر نایاب ہیں جنہیں عوام کی اکثریت شکل و صورت سے پہچان سکتی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں ”اپوزیشن“ کتنی زیادہ طاقت ور ہے،اس کا اندازہ آپ صرف اس ایک بات سے بخوبی لگاسکتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ کسی دن اتفاق سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراطلاعات جناب فواد چوہدری صاحب حاضر ہونے سے قاصر ہوجائیں تو اپوزیشن کے سامنے جو حکومت کا تھوڑا بہت بہروپ نظر آجاتا ہے وہ بھی نہ آئے۔

یہ طاقتور ”اپوزیشن“ کا ہی سب سے بڑا عملی مظاہرہ ہے کہ میاں شہاز شریف نیب کی حراست میں ہونے کے باوجود بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔حالانکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت اس کام کا سہر کا کسی صورت بھی اپنے سر نہیں باندھنا چاہتی تھی لیکن قومی اسمبلی میں ”اپوزیشن“ ہے ہی اتنی مضبوط کہ نہ چاہتے ہوئے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو اس اہم ترین عہدے کے لیئے نہ صرف شہباز شریف کو قبول کرنا پڑا بلکہ اپنا ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئر مین شپ دینے کی توثیق کا اعلان فلور آف دا ہاؤس کروا کر شرمندگی کا یہ سہرا بھی اپنے ہاتھوں سے تحریک انصاف کی حکومت کے سر بندھوانا پڑا۔ یہ طاقتور ”اپوزیشن“ کی پہلی بڑی کامیابی تھی جو اس نے انتہائی آسانی سے حاصل کرلی مگر یاد رہے کہ ”اپوزیشن“ کی یہ آخری کامیابی ہرگز نہیں ہے۔حکومت خاطر جمع رکھے کہ ”اپوزیشن“ کی کامیابیوں کا ایک بہت بڑا سلسلہ آنے والے دنوں میں شروع ہونے جارہا ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ”اپوزیشن“ بینچ پر بیٹھنے والے اراکین کو بخوبی احساس ہوتا جارہا ہے کہ کم ازکم قومی اسمبلی کی حد تک تو حکومت یا حکومتی نمائندے انہیں شکست سے دوچار نہیں کرسکتے۔البتہ اسمبلی سے باہر ”اپوزیشن“ کی پوزیشن انتہائی کمزور ہے اور یہ ہی آج کی طاقتور ”اپوزیشن“ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ وہ جتنی زیادہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں طاقتور نظر آتی ہے اتنی زیادہ طاقت ور سیاسی حیثیت میں وہ اسمبلی کے گیٹ سے باہر دکھائی نہیں دیتی۔قومی اسمبلی سے باہر ”اپوزیشن“ کے نحیف و نزار ہونے کی بنیادی وجہ عوام کے بنیادی ایشو ز سے صرفِ نظر کرنا ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ”اپوزیشن“ جن بنیادی ایشو ز پر اسمبلی میں اکھٹی ہے اُن ایشوز کو اسمبلی کے گیٹ سے باہر کوئی پذیرائی حاصل نہیں چونکہ یہ ایشوز وہ ہیں جو عوام سے براہ راست تعلق نہیں رکھتے اس لیے ”اپوزیشن“اِن ایشوز پر عوام کو اکھٹا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔

”اپوزیشن“ کو درپیش مسائل اور عوام کے مسائل کے مابین زمین آسمان کا تفاوت ہے۔آپسی مفادات کا یہ فرق عوام کو ”اپوزیشن“ کے قریب آنے نہیں دے رہا۔اس لیئے عوام کی ایک بڑی اکثریت تحریک انصاف کی حکومت کے نامقبول حکومتی اقدامات کو بھی فی الحال قبول کرنے پر مجبور ہے کیونکہ پاکستان کی عام عوام ماضی کی ”اپوزیشن“ سے اتنی زیادہ خوفزدہ ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے ناجائز کاموں پر اپنی مخالفت کا اظہار کر کے ایسا کوئی رسک نہیں لینا چاہتی جس کے باعث اِن کے اُوپر ایک بار پھر سے ”اپوزیشن“ کے جمہوری زعماء کو مسلط ہونے کا موقع مل سکے۔عوامی حلقوں میں ”اپوزیشن“ کی یہ خراب سیاسی ساکھ ہی تحریک انصاف کی حکومت کے دوام کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔اگر واقعی ”اپوزیشن“ حکومت کے قدموں کے نیچے سے سیاسی زمین کھینچنا چاہتی ہے تو پھر سب سے پہلے اِسے عوامی مسائل کو اپنا بنیادی ہدف بنا کر حکومت کے خلاف ایک حتمی پوزیشن لینا ہوگی بصورت دیگر ”اپوزیشن“ جتنی چاہے طاقتور ہوجائے اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں حکومتی ارکان کے سامنے جیسی چاہے پوزیشن اختیار کرلے اُس سے کارِ حکومت میں کسی بھی قسم کا کوئی فرق پڑنا والا نہیں،کیونکہ ”اپوزیشن“ عوامی طاقت کی پشت پناہی کے بغیر ”موم کے کھلونے“ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔
بستی میں تم خوب سیاست کرتے ہو
بستی کی آواز اُٹھاؤ تو جانیں

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 24 دسمبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں