Future of Game

آن لائن گیمز سے اپنا کیرئیر بنائیں

شاہ میر چوہدری کی عمر 14 سال تھی اور وہ بچپن سے لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔گھر میں لاڈلا ہونے کی وجہ سے سب گھر والوں کی اُمیدوں کا مرکز و محور بھی تھا۔اُس کے والدین کی خواہش تھی کہ شاہ میر چوہدری بڑا ہوکر ایک کامیاب ڈاکٹر بنے، لیکن شاہ میر کی تمام تر توجہ کا مرکز کمپیوٹرگیمز ہوتی تھیں۔ گھر والے اُسکے کمپیوٹر گیمز کھیلنے سے سخت نالاں رہتے تھے۔یہ بات نہیں تھی کی وہ پڑھائی میں کمزور تھا لیکن پھر بھی گھر والوں کا اصرار تھا کہ وہ اگر کمپیوٹر اور موبائل پر گیمز کھیلنا چھوڑ دے تو تعلیمی میدان میں مزید اعلی کارکردگی کا مظاہر ہ کرسکتا ہے۔چاہتا تو وہ بھی یہ ہی تھا کہ تھوڑی دیر کمپیوٹر پر گیم کھیلے اور بقایا وقت اپنے گھر والوں کی عین خواہش کے مطابق پڑھائی پر صرف کرے لیکن وہ کوئی بھی گیم جب ایک بار شروع کرلیتاتو اُسکے لیول وہ اتنی تیزی طے کرتا جاتا کہ اُسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا،گیم کھیلنے کی اپنی اس مہارت پر وہ خود بھی اکثر حیران ہوتا تھا۔وہ اپنے دوستوں میں گیم جینئیس کے نام سے مشہور تھا۔وہ دوران ِ کھیل جو بھی اسکور بناتا اس کے قریب قریب بھی پہنچنا اُسکے دوستوں کے لیئے ناممکن ہوتا۔کمپیوٹر پر گیمز کھیلتے کھیلتے ایک دن اُسے خیال آیا کہ کیا وہ خود بھی گیم بنا سکتا ہے؟ خیال توبظاہر اچھا تھا لیکن اُسے یہ نہیں معلوم تھا کہ اس خیال کو عملی حقیقت میں کیسے بدل کرایک گیم بنائی جائے۔اُس کے لیئے اُس نے انٹرنیٹ سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔گوگل اور یو ٹیوب پر کافی تلاش بسیا ر کے بعد اسے معلوم ہوا کہ گیم بنانے کے لیئے کمپیوٹر لینگویج کے علاوہ اُسے تھری ڈی ماڈلنگ بھی سیکھناپڑی گی۔بس پھر کیا تھا اُس نے اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لیا اور انہیں کہا کہ وہ اپنی تعلیم کا مرکز و محور کمپیوٹر سائنس کو بنانا چاہتا ہے۔ گھر والوں نے سوچا کمپیوٹر سائنس ہے تو بہر حال تعلیم ہی، سو انہوں نے شاہ میر کے ڈاکٹر بنانے کے اپنے خواب کو قربان کرتے ہوئے اُسے کمپیوٹر سائنس پڑھنے کی اجازت دے دی۔آج شاہ میر کی عمر 17 سال ہے اور وہ واحد پاکستانی نوجوان ہے جس کے دو درجن سے زیادہ آن لائن گیمز گوگل پلے اسٹور پر بیس لاکھ سے زیادہ بار ڈاؤنلوڈ کیئے جاچکے ہیں۔اسکے علاوہ مائکروسافٹ ونڈوز اسٹور پر بھی شاہ میر چوہدری کے گیمز انتہائی مقبول ہیں۔عزت،شہر ت اور دولت تینوں چیزیں اس وقت شاہ میر کے قدموں میں۔ اس کہانی میں پاکستان کے تمام نوجوانوں کے لیئے کامیابی کے کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔
ہمارے ملک میں کونسا ایسا نوجوان ہے جو انٹرنیٹ پر یا کمپیوٹر پرآن لائن گیمز نہیں کھیلتا۔یقینا گیمز کھیلنے والے تمام نوجوان گیم ڈویلپرز نہیں بن سکتے لیکن پھر بھی ہمارے نوجوانوں کی کافی تعداد ایسی ضرور ہے جو یقینی طور پر شاہ میر چوہدری کی طرح ”گیم جینئیس“ ہے۔ان گیم جینئس سے کوئی بھی گیم کھیلنے میں نہیں جیت سکتا کیونکہ یہ گیم کے لیے بنے ہوتے ہیں اور گیم ان کے لیئے۔لیکن یہ نوجوان گیم کھیلتے ضرور ہیں لیکن انہیں گیم کھیلنے سے وہ سب کچھ نہیں ملتا جو شاہ میر چوہدری یا اس جیسے دیگر نوجوان جو دنیا بھر میں صرف ”گیمز اسکلز“ کی بدولت عزت،شہر ت اور دولت کی شکل میں وہ سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں جس کا باقی لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ یہ ساری زندگی گیمز کھیلتے رہتے ہیں کبھی نہیں سوچتے کہ گیم بناناگیم کھیلنے سے بھی زیادہ دلچسپ کھیل ثابت ہوسکتا ہے۔اگر یہ ایک دن گیم کھیلتے کھیلتے گیم بنانے کا سوچ لیں اور پھر اپنی تعلیم میں اُن مضامین کو اختیار کر لیں جو گیم بنانے یا گیم ڈویلپرز بننے کے لیئے رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں،تو شاید اُن کے زندگی کا بھی نقشہ لمحوں میں بدل جائے۔اس وقت دنیا بھر میں گیم بنانا ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق گیم انڈسٹری کا ریونیو 107 بلین ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔ایک عام سے عام گیم ڈویلپر بھی امریکہ میں باآسانی 83,000 ڈالر کما لیتا ہے۔پاکستانی روپے میں یہ رقم 83 لاکھ روپے بنتی ہے۔ جبکہ ایک درمیانی درجہ کا گیم ڈویلپر 3 سے 4 کروڑ پاکستانی روپے ایک سال میں باآسانی کما سکتا ہے۔اس شعبہ کی شرح نمو میں ہر سال تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی 44 فیصد آبادی اپنی وقت گزری کے لیئے گیم کھیلتی ہے۔جس کی وجہ گیم بنانے والوں کو گیم کی قیمت کے ساتھ ساتھ اشتہارات کی مد میں بھی لاکھوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔آن لائن گیمز ڈویلپرز کی حیثیت سے اگر آپ بھی اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو چند باتیں لازمی ذہن نشین رکھنا ہوں گی۔

اپنے شوق کی درجہ بندی کریں
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ گیم بنانا گیم کھیلنے سے قطعی طور پر ایک مختلف صبرآزما،تخلیقی اور انتہائی مشکل کام ہے۔بعض اوقات کئی کئی ماہ کی مشقت اور پلاننگ کے بعد ایک گیم وجود میں آتا ہے۔اگر آپ جنون کی حد تک گیم کے شائق یا اس کی باریک بینی کو سمجھنے والے نہیں ہیں تو پھر اسے بطور ِ کیر یئر اپنانے سے اجتناب ہی کریں تو زیادہ بہتر ہے۔بنیادی طور ایک گیم ڈویلپرز میں جس وصف کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ اُس کی منصوبہ بندی کی صلاحیت ہے۔ایک گیم ڈویلپرکو گیم کی شکل میں صرف کردار ہی نہیں بلکہ مکمل ماحول بھی تخلیق کرنا ہوتا ہے۔اگر آپ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں تو پھر بطور گیم ڈویلپر ایک کامیاب کیریئر کا آغاز کر سکتے ہیں۔

تعلیم انتہائی ضروری ہے
آپ چاہے کتنے بڑے ہی گیم جینئس ہوں لیکن ایک بات بہر حال طے ہے کہ کمپیوٹر کی تعلیم کے بغیر کبھی بھی آپ گیم نہیں بنا سکتے۔ ایک اچھا گیم ڈویلپر بننے کے لیئے ”کمپیوٹر سائنس“ اور اس کی تمام مبادیات کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔جب تک آپ کمپیوٹر کی باقاعدہ تعلیم کے لیئے خود کو وقف نہیں کریں گے اُس وقت تک آپ ایک اچھا گیم ڈویلپر بننے کے ہدف سے کوسوں دور رہیں گے۔میں ٹویوٹا سینٹر نواب شاہ میں اشفاق احمد نامی ایک ایسے نوجوان سے بھی ملا ہوں جواپنے پیشہ کے اعتبار سے ایک کار مکینک ہے لیکن وہ اسمارٹ فون پر گیم اتنی مہارت سے کھیلتا ہے کہ جس گیم کے لیول طے کرنے میں دوسروں کو ہفتے لگتے ہیں وہ چند گھنٹوں میں طے کرلیتا ہے لیکن اس نوجوان میں ایک منفی پہلو یہ ہے کہ وہ بالکل ان پڑھ ہے۔اس لیئے اُس کا گیم جینئس ہونا کسی طرح بھی اُسے وہ فوائد نہیں دے پا رہا جس کا وہ حقدار ہے۔

گھر والوں کو ضرور اعتماد میں لیں
گیم ڈویلپرز کاکیریئر اختیا ر کرنے سے پہلے اپنے گھر والوں خاص طور پر والدین کو ضرور اعتماد میں لیں کیونکہ جس ماحول میں ہم رہتے ہیں وہاں شاید فوری طور پر ہمارے بزرگ اس بات کا ادراک نہ کرسکیں کہ گیم انڈسٹری میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک بھرپور کیریئر کا آغاز کیا جاسکتا ہے اس لیئے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں اور دوستوں کو اس پروفیشن کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کریں۔تاکہ جب آپ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھ کر گیم بنارہے ہوں تو آپ کے بارے میں اُن کے ذہنوں میں کسی بھی قسم کا کوئی منفی تاثر قائم نہ ہو سکے۔
اس مختصر سے مضمون کے ذریعے ہم اجمالی طور پر اپنے نوجوانوں کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ صرف آپ کے ارد گرد کی دنیا ہی نہیں بدل رہی ہے بلکہ پروفیشن بھی انتہائی تیزی سے بدل رہے ہیں۔کل تک جن کاموں کو انسان وقت گزاری کے لیئے اختیار کرتا تھا وہ آج دنیا کے کامیاب پیشے تصور کیئے جارہے ہیں۔ دنیا کے اکثر معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آنے والے وقت میں گیم انڈسٹری کا شمار بھی دنیا کے کامیاب ترین پیشوں میں کیا جائے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ 7 اکتوبر 2017 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں