NRO or Jilawatni News on Newspaper

این آر او یا پھر سے جِلاوطنی۔۔۔؟

جس طرح زہر کی بوتل پر شہد کا لیبل چسپاں کردینے سے وہ شہد نہیں بن جاتابالکل اِسی طرح مسلم لیگ ن کے متوالے اپنے سیاسی بیانات سے ”سیاست کی پیالی“ میں جتنے چاہے مرضی طوفان برپا کرنے کی کوشش کرلیں مگر صرف اُن کے کہہ دینے سے یا باربار کی لفظی تکرار سے ”جلاوطنی“ این آراو نہیں بن جائے گی کیونکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ”جلاوطنی“ کیا ہوتی ہے اور”این آر او“ کسے کہا جاتاہے۔سادہ لفظوں میں خودساختہ ”جلاوطنی“ اپنی سیاسی،فکری اور نظریاتی شکست کا اعتراف ہوا کرتی ہے اور اِس کی نوبت اُس وقت پیش آتی ہے جب کوئی سیاسی رہنما یا تو مزاحمت کا ارادہ نہ رکھتا یا پھر اتنا نازک اندام اور آسائش کا دلدادہ ہو جائے کہ مزاحمت اُس کے لیئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو۔پس ایسی صورت حال میں عموماً کمزور سیاسی رہنما ”جلاوطنی“ کی معاہدے کرنے میں ہی اپنی اور اپنے خاندان کی عافیت سمجھتے ہیں۔خود ساختہ ”جلاوطنی“ اختیار کرتے ہوئے اُنہیں اِس بات سے قطعاً کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اُن کے اِس ایک کمزور سیاسی فیصلہ کے نتیجے اُن کی پوری سیاسی تحریک یا سیاسی جماعت بددلی کاشکار ہوکر منظرنامے سے یکسر غائب بھی ہوسکتی ہے۔

”جلاوطنی“ کے مقابلے میں ”این آر او“ یا اِس جیسے دیگرمعاہدے عموماً سیاسی رہنماؤں کو اُس وقت انتخاب کے لئے پلیٹ میں رکھ کر پیش کیئے جاتے ہیں جبکہ سیاسی و اخلاقی طور پر وہ رہنما بہت زیادہ طاقت ور ہوں یاپھر اُن کی مخالف حکومتیں یا قوتیں اپنی بے وقوفیوں کے باعث سیاسی تنہائی یا سخت اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوں۔جیسا کہ ماضی میں سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اپنی حکومت کے انتہائی کمزور ہونے کے بعد عالمی طاقتوں کے ایماء پر ایک عدد”این آر او“محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی خدمت میں بصد احترام پیش کیا گیاتھا۔اب وہ ایک الگ بات کہ”این آراو“ حاصل کرنے والی اصل فریق شہید بے نظیر بھٹوصاحبہ خود اچانک ایک حادثہ میں جاں بحق ہوگئیں اور پرویز مشرف کی طرف سے دیئے گئے”این آر او“ کی ساری کی ساری دیگ مع سامان میاں محمد نوازشریف کی ہاتھ لگ گئی اور ایک سوچی سمجھی شریفانہ سازش کے تحت اُس نام نہاد”این آر او“ کی تمام تر ”کالک“پاکستان پیپلزپارٹی کے چہرے پر مل دی گئی۔ فقط ”این آراو“ ہی کیا میاں صاحب نے تو شہید بے نظیر بھٹو کی موت کے واقعہ کو بھی اپنے حق میں کچھ اِس طرح سے استعمال کیا کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو عہدہ صدارت کا لالی پاپ دے کر اُن کے پورے دورِ حکومت میں بھی ”اصل حکومت“ وہ اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد ہی کرتے رہے۔اس لیئے کہا جاسکتاہے ”این آر او“ سے جو سیاسی فائدے شریف خاندان نے حاصل کیئے،شاید ہی اُن کا عشر عشیر کسی دوسرے کے حصے میں آیا ہولیکن اِن سب کے باوجود بھی شریف خاندان کی ”میڈیا منیجمنٹ“ ملاحظہ ہو کہ مجال ہے جو”این آر او“ کے طعنہ کو انہوں نے کبھی اپنی ذات کے ساتھ نتھی ہونے دیا ہو۔ پھر آج کیوں مسلم لیگ ن کے زعماء اپنی زبان سے ہی ”جلاوطنی“ کو”این آر او“ ثابت کرنے کے لیئے زمین و آسمان ایک کیئے جارہے ہیں اورمیڈیا پر آکر دعوی کررہے ہیں کہ شریف خاندان کو ایک بار سے ”این آر او“ مل گیا ہے۔یہ ایک ایسا ”سیاسی راز“ ہے جسے جاننا ازحد ضروری ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فقط میاں محمد نواز شریف ہی ایسے منفرد یگانہ روزگار سیاسی رہنما ہیں، جو اپنے پورے خاندان سمیت خود ساختہ ”جلاوطنی“کا دس سالہ کامیاب تجربہ رکھتے ہیں،اِس لیئے وہ یقینی طور پر خود ساختہ”جلاوطنی“ اختیار کرنے کے اُن تمام نقائص و عواقب سے بھی اچھی طرح باخبر ہیں جن کا سامنا اُن کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کو اُن کے خود ساختہ ”جلاوطنی“ اختیار کرنے کے بعدمستقبل میں کرنا پڑ سکتاہے۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ میاں صاحب کے سامنے جب بھی ایسی نازک صورت حال آئی ہے کہ اُنہیں ”شریف خاندان“ اور اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن میں سے کسی ایک کے مفادات کے تحفظ کا انتخاب کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا ہو توانہوں نے ہمیشہ کمالِ بے نیازی سے ”شریف خاندان“ کے مفادات کو تحفظ دینے کو ہی اولیت بخشی ہے۔ خاطر جمع رکھیئے کہ اِس بار بھی کچھ نیا ہوتا نظر نہیں آرہابلکہ غالب اِمکان یہ ہی ہے کہ سابقہ روایت کے عین مطابق آئندہ بھی میاں محمد نوازشریف ”جلاوطنی“ کو ہی شرفِ پسندیدگی عطافرمائیں گے۔ہاں! سیاسی حکمت عملی میں اتنی سی تبدیلی بہرحال ضرورکی جاسکتی ہے کہ اِس مرتبہ اُن کی طرف سے اپنی خود ساختہ ”جلاوطنی“ پر”این آراو“ کالیبل چسپاں کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف خوب دھول اُڑائی جاسکے اور ساتھ ہی اپنی بہ حفاظت لندن ”جلاوطنی“ ہو جانے کے بعد پاکستان میں پیچھے رہ جانے والے مسلم لیگ ن کے کارکنان کو جب تک اور جہاں تک ممکن ہوسکتاہے”این آراو“ ہوجانے کا راگ سُنا سُنا کر عنقریب مسلم لیگ ن کی حکومت واپس آنے کا سبز باغ دکھایا جاسکے۔اب یہ تو میاں صاحب کے متوالوں کی ہمت پر ہی منحصر ہے کہ وہ کب تک خود ساختہ ”جلاوطنی“ کی حقیقت کو”این آر او“ کا میٹھا سپنا سمجھ کر جہالت کی گہری نیند میں ڈوبے رہتے ہیں۔

موجودہ حالات میں ”این آر او“ کا تو خیر کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا،لیکن وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے لیئے شریف خاندان کو ”جلاوطنی“ کا پروانہ ئ راہ داری دینا بھی ہرگز آسان نہیں ہوگا کیونکہ اُن کا یہ اقدام نہ صرف اُن کے بیانیہ بلکہ حکومت کی جاری ”انسداد کرپشن مہم“ کو بھی سخت نقصان پہنچا سکتاہے۔اِس لیئے شنید یہ ہی ہے کہ شریف خاندان کے پُر زور اصرار کے باوجود عمران خان آخری لمحے تک میاں محمد نوازشریف کو خود ساختہ ”جلاوطنی“ کا اجازت نامہ دینے سے ممکنہ حد تک لیت و لعل سے ہی کام لیں گے اور اگر بہ امر مجبوری اُنہیں میاں صاحب کے صحت کے مسائل کی وجہ سے ”جلاوطنی“ کا اِذن دینا بھی پڑا تو شریف خاندان کے لیئے اِس بار شرائط ضرور اتنی سخت ترین رکھی جائیں گی کہ ”جلاوطنی“ واقعی خود ساختہ ”جلاوطنی“ دکھائی دے اور کوئی اَسے ”این آر او“ نہ ثابت کرسکے۔ایسا کرنا تحریک انصاف کے مستحکم سیاسی مستقبل کے لیئے لازمی ہوگا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 فروری 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں