Next 10 Years in Decade

کیسے ہوں گے اگلے 10 سال

بلاشبہ 2020 ایک نئے سال کی شروعات کے ساتھ ساتھ ایک نئی دہائی کا نقطہ آغاز بھی ہے۔ گزشتہ دہائی میں ہم نے ستارہ مریخ کی جانب مختلف ملکوں کو تیزی سے اپنے قدم بڑھاتے ہوئے دیکھا،بغیر ڈرائیور کی خود کار گاڑیوں کے سڑکوں پر دوڑنے کی باتیں سنیں اور بلیک ہول کی کیمرے سے کھینچی گئی پہلی حقیقی تصویر بھی ملاحظہ فرمائی۔ لیکن اگلی دہائی میں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے بطن سے مزید کیا کچھ برآمد ہونے والا ہے۔یقینا اس متعلق ابھی تک آپ کو کسی نے بھی کچھ نہیں بتایا ہو گا۔مگر بے فکر ہوجائیں کہ کیونکہ اگلے دس سالوں میں رونما ہونے والی محیرالعقول واقعات کا احاطہ زیرِ نظر مضمون میں سب سے پہلے ہم آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اگلی دہائی سے متعلق یہ پیشن گوئیاں محض خیالی و افسانوی باتیں کرنے والے لوگوں یاوہ گوئی نہیں ہیں بلکہ یہ پیشن گوئیاں دنیا کے بہترین سائنس دانوں اور ماہرِ معاشیات کی متفقہ آراء کا دلچسپ ومحققانہ مجموعہ ہیں۔ اِن پیشن گوئیوں میں اُن ایجادات،نظریات اور سائنسی منصوبوں پر اجمالی سی نظر دوڑائی گئی ہے کہ جو ابھی تکمیل کے ابتدائی مراحل میں لیکن اگلے دس برسوں میں میں ان اختراعات و نظریات کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کی قوی اُمید ہے۔شاید اِسی لیئے ہم یہ کہنے حق بجانب ہیں کہ اگلی دہائی سے متعلق یہ تمام کی تمام سائنسی پیشن گوئیاں فقط مسقتبلیات کی حیران کن جھلکیا ں ہی نہیں ہیں بلکہ اگلے دس برسوں میں حضرتِ انسان کو ملنے والے منفردسائنسی تحائف کی تاریخ ساز ”بریکنگ نیوز“ بھی ہیں۔

2021 میں خودکا رگاڑیاں عام ہوجائیں گی
بغیر ڈرائیور کے چلنے والی خودکار گاڑیاں مارکیٹ میں فروخت کے لیئے پیش کی جاچکی ہیں مگر فی الحال اِن خود کار گاڑیوں کو خرید پانا صرف اُس شخص کے لیئے ہی ممکن ہے جو کروڑوں ڈالر اپنے بنک اکاؤنٹ میں رکھتا ہو۔ جبکہ ابھی تک یہ خود کارگاڑیاں بہت تھوڑی تعدادمیں ہی بنائی جاسکیں ہیں۔ لیکن ماہرین کا دعویٰ ہے 2021 میں بغیر ڈرائیور کی یہ خودکار گاڑیاں اتنی زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجائیں گی کہ دنیا میں رہنے والا ہر وہ شخص جو متوسط مالی وسائل بھی رکھتا ہوگا باآسانی ایک اچھی سی خود کار گاڑی خرید سکے گا۔ معروف چینی ٹیک کمپنی بیدو(Baidu) نے اعلان کیا ہے وہ رواں برس کے اختتام تک بیجنگ اور شنگھائی میں وسیع پیمانے پر بغیر ڈرائیور کی خود کار گاڑیاں چلانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر یہ منصوبہ کامیابی سے ہم کنار ہوجاتا ہے تو پھر یہ ہی بیدو کمپنی ہزاروں کی تعداد میں بغیر ڈرائیور کی خودکار گاڑیاں یورپی ممالک میں فروخت کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کررہی ہے۔ اگر چینی حکومت نے اِس ضمن میں کیئے گئے وعدے کے مطابق بیدو کومتوقع سرکاری سہولیات اورمراعات فراہم کردیں تو بیدو انتظامیہ کے مطابق وہ 2021 میں دنیا کے بے شمار شہروں کو ”ڈرائیور لیس سٹی“ بنادیں گے۔



2022 میں شمسی توانائی سے چلنے والے مسافر بردار طیارے پرواز کریں گے
سال 2022 میں ایوی ایشن انڈسٹری نے شمسی توانائی سے آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے دنیا کا پہلا مکمل ترین برقی مسافر طیارہ متعارف کروانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ کوئی سائنسی مفروضہ نہیں ہے بلکہ ایوی ایشن انڈسٹر ی میں پہلے ہی سے دنیا کے مختلف مقامات پر شمسی توانائی سے چلنے والے چھوٹے برقی طیارے بڑی کامیابی کے ساتھ آزمائشی طور پر فضا میں اُڑائے جارہے ہیں۔ شاید یہ وجہ ہے کہ ایوی ایشن انڈسٹری میں اِس پروجیکٹ پر کام کرنے والے ماہرین انتہائی پُراُمید دکھائی دیتے ہیں کہ وہ 2022 تک بغیر فیول کے مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والی پہلی کمرشل فلائیٹ کا باقاعدہ آغاز کردیں گے۔جبکہ 2022 تک فضا میں اُڑنے والے تقریباً ہر مسافر بردار طیارے کو کم ازکم اِس قابل ضرور بنا دیا جائے گا کہ جو فیول کے ساتھ ساتھ اپنے سفر کا کچھ حصہ شمسی توانائی کی مدد سے بھی مکمل کر سکے۔ نیز ناروے کی حکومت نے تو باقاعدہ سرکاری اعلان بھی کردیا ہے کہ وہ 2023 تک اپنے ملک کی ائیر لائینز سے فیول سے چلنے والے طیاروں کا مکمل خاتمہ کرکے اُنہیں شمسی توانائی سے چلنے والے برقی طیاروں سے بدل دے گا۔جبکہ 2025 تک وہ اپنے تمام ائیرپورٹس کو بھی شمسی توانائی پر لے آئے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمرشل ائیرلائنز کے طیارے اگر شمسی توانائی کا استعمال شروع کردیں گے تو فضائی سفر کے مہنگے ترین کرایے ناقابلِ یقین حد تک ارزاں اور سستے ہوجائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر اِس وقت 100 میل کے ہوائی سفر پر 400 ڈالر کا فیول خرچ ہوتا ہے تو شمسی توانائی سے چلنے والے مسافر بردار طیارے یہ ہی فضائی سفر فقط 8 ڈالر کے مختصر سے خرچ میں مکمل کرلیں گے۔ اَب آپ کیلکو لیٹر نکال کر خود ہی حساب کتاب لگا لیں کہ شمسی توانائی سے چلنے والی کمرشل فلائیٹس چلنے کے بعد فضائی سفر کے مہنگے کرایوں میں کس حد تک کمی آجائے گی۔

2023 عالمی کساد بازاری کا سال ہوگا
خوش قسمتی سے اِس وقت دنیا کے تمام بڑے ترقی یافتہ ممالک تاریخ کی بہترین معاشی شرح نمو دکھارہے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ”اچھا وقت ہمیشہ نہیں رہتا“۔پس گلوبل بزنس پالیسی کونسل کے ماہرین کے مطابق معاشی ترقی کا یہ سفر 2023 میں اختتام پذیر ہوجائے گا اور عالمی معیشت جدید معاشی تاریخ کی بدترین عالمی کساد بازاری کا شکار ہوجائے گی۔ یہ پیشن گوئی فرمانے والے معاشی ماہرین دلیل کے طور پر بیشتر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کی طرف سے اختیار کی گئی تازہ ترین سیاسی و معاشی پالیسیوں کو پیش کررہے ہیں۔ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ پالیسیاں رفتہ رفتہ دنیا بھر میں تجارتی مسابقت،امن و امان کی ابتری، غیرمتوقع جنگی حالات جیسی معیشت کش صورت حال پیدا کریں گی۔جس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی ترقی کے سفر کو بریکیں لگ جائیں گی اور معاشی شرح نمو آہستہ آہستہ سست ہونا شروع ہوجائے گی۔یہاں تک کہ 2023 میں پوری دنیا ہی سخت معاشی ابتری اور کساد بازاری کا شکار ہوجائے گی۔ جبکہ جو ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک اِس معاشی بحران کا سب سے زیادہ نشانہ بن سکتے ہیں۔اُن میں امریکہ،برطانیہ،جاپان،بھارت،فرانس اور چین سرفہرست ہوں گے۔

2024 میں پہلا انسان مریخ پر پہنچ جائے گا
جی ہاں! سال 2024 میں اولین انسانی مشن کو مریخ پر بھیجنے کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں اور Elon Musk’s Space X پروگرام کے تحت پہلا راکٹ مریخ کی جانب بھیجنے کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ حالانکہ ابھی بھی یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا زمین اور مریخ کے درمیان دُوری کو دیکھتے ہوئے واقعی 2024 میں بھیجا جانے والا راکٹ،اسی برس مریخ پر اپنا مشن مکمل کرلے گا؟ اور کیا اِس پروگرام کی راہ میں مریخ پر بسنے والی مخلوق جنہیں ہالی وڈ فلموں میں اکثر و بیشتر ایلین کے بہروپ میں دکھایا جاتاہے، رکاوٹ تو نہیں بنے گی؟۔ بہر کیف اِس بارے میں Space X کو منتظمین و ماہرین کو اپنے اِس دعوی بابت ذرہ برابر بھی ابہام نہیں ہے کہ وہ انسان کے قدم 2024 میں مریخ پر پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اگر کوئی ایلین جیسی مخلوق مریخ پر موجود بھی ہوئی تو وہ اُن سے بھی بخوبی نمٹ لیں گے۔یاد رہے کہ مریخ کی جانب بھیجے جانے والا یہ پہلاخلائی جہازہوگا،جو مکمل طور پر ایک نجی کمپنی کی ملکیت ہے۔ جبکہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے بھی 2024 میں سیاحت کے لیئے چاند پر لوگوں کو بھیجنے کے لیئے ایک خصوصی خلائی مشن کا اعلان کیا ہے۔ جس میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیئے ایڈوانس بکنگ زور و شور سے جاری ہے۔ اس طرح کی خبروں کا سادہ سا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ 2024 میں مختلف ممالک کی حکومتوں ہی نہیں بلکہ نجی ٹیک کمپنیوں کے مابین بھی خلا پر قبضہ کی جنگ اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ اَب اِس خلائی جنگ میں فاتح کون ہوگا،اِس کے لیئے 2024 تک انتظار کرنا ضروری ہے۔

2025 میں انسانی دماغ کو مکمل طور پر درست کردیا جائے گا
آپ نے سرِ راہ یونہی کبھی چلتے چلتے اکثر وبیشتر یہ جملہ تو ضرور سُنا ہی ہوگا کہ ”اگر مجھے زیادہ غصہ دلایا تو میں تمہارا دماغ درست کردوں گا“۔ خبر یہ ہے کہ اَب یہ محاروہ بھی مجازی معنی و مفہوم کے پردے کو چاک کرکے حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے اور 2024 میں ہم مغرور انسانوں کے دماغ کو درست کرنے والی کمپنیاں چند سکوں کے عوض باقاعدہ طور پر اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کردیں گی۔ انسانی دماغ کے نقائص دُور کرنے کے اِس منصوبہ کا آغاز 2013 میں امریکی حکومت نے BRAIN Initiative کے نام سے کیا تھا۔ اِس پروگرام کو شروع کرنے کا بنیادی مقصد انسانی دماغ کے تمام وظائف اور اعمال کا تفصیلی مطالعہ کرنا تھا۔ منصوبے کے منتظمین کے مطابق اِس پروگرام کو 2025 تک بہر صورت مکمل کرلیا جائے گااور اسی سال سائنس دانوں کی جانب سے دماغ کے تمام نقائص کو دریافت کرکے انہیں درست کرنے کے لیئے ایسی جدید طبی مشین بھی ایجاد کرلی جائیں گی۔ جن کی مدد سے کسی بھی انسانی دماغ میں سے ڈپریشن، مالخولیا،چڑچڑا پن یا دیگر دماغی نقائص کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر نا فقط چند لمحوں کا کام بن کر رہ جائے گا۔ جبکہ اِن جدید طبی مشینوں سے نشے کی لت سمیت دیگر بُری عادتوں کو بھی کسی بھی انسانی دماغ سے مٹا نا ممکن ہو گا۔خوشی کی بات تو یہ ہے کہ سب کچھ بغیر کسی دوا کے استعمال کیئے جانے کی نوید سُنائی جارہی ہے۔

2026 میں دل کے جملہ معاملات بھی نبٹا دیے جائیں گے
کارڈیو یسکولر دل کی ایسی بیماری ہے،جس میں ہمارا دل آہستہ آہستہ ضعیفی کا شکارہونا شروع ہوجاتاہے۔اِس بیماری کی وجہ سے امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں انسانوں کی اچانک و ناگہانی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ جبکہ دل کے جرمِ ضعیفی کے باعث پیدا ہونے والے اور بھی بے شمار ایسی مہلک اور جان لیوا بیماریاں ہیں۔جن کا بروقت علاج ابھی تک میڈیکل سائنس دریافت نہیں کرسکی ہے۔ مگر شاید 2026 ایک ایسا سال ہو گا۔جب انسان دل کی بیماریوں سے مکمل طور پر نجات حاصل کر لے گا۔ ہاروڈ اسٹیم سیل انسٹیٹیوٹ کے منتظمین کا دعوی ہے کہ انہوں نے انسانی دل کو ضعیفی سے بچانے کے کلینکل تجربات کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیئے ہیں۔ جس کے مطابق جب انہوں نے اپنا دریافت شدہ پروٹین چوہوں کے جسم میں داخل کیا تو اُن کے دل کی دیواروں کی موٹائی کم ہونا شروع ہوگئی اور دل میں شکست و ریخت کا عمل مکمل طور پر رُک گیا۔شنید یہ ہے اَب یہ ادارہ بہت جلد انسانی دل پر بھی اِس طرح کے عملی تجربات شروع کرنے والا ہے اور ادارے کے متظمین کو اُمید ہے کہ وہ 2026 سے قبل اُن کے یہ تجربات مکمل ہوجائیں گے۔ اگر یہ تجربات اُن کی توقع کے عین مطابق انسانی دل پر بھی کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر 2026 میں انسانی دل کو تمام امراض سے کلیتا ًپاک کردیا جائے گا۔جن کی وجہ سے انسان کم از کم دل کی کسی مہلک بیماری کے باعث ناگہانی موت کا شکار ہونے سے بچ سکے گا۔جبکہ ممتاز ماہر مستقبلیات رے کرزویل کا بھی اِس خبر سے متعلق کہنا ہے کہ ”جس طرح میڈیکل سائنس سال بہ سال ترقی کررہی ہے، اُس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ انسان 2029 تک تمام جسمانی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا“۔ بہرحال طبی میدان میں کی جانے والی پیشن گوئیاں کا سچ ثابت بنی نوع انسان کے لیئے ازحد مفید اور خوش آئند خبر ہوگی۔

2027 میں ترقی پذیر ممالک امریکی معیشت پر غلبہ پاجائیں گے
اِس وقت دنیا معاشی میدان میں زبردست انقلابی تبدیلیوں سے گزررہی ہے اور دنیا کی جدید معاشی تاریخ میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جب ترقی پذیر ممالک، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں خطرناک حد تک مثبت معاشی شرح نمو کے اشاریے پیش کررہے ہیں۔اِن معاشی اشاریوں کے باعث سیاسی طاقت کا عالمی توازن کسی گھڑیال کے پنڈولیم کی طرح اِدھر سے اُدھر ڈانواں ڈول ہورہا ہے۔ معرو ف معاشی تجزیاتی ادارے Goldman Sachs کے مطابق اگر سب کچھ آئندہ بھی ایسے ہی جاری رہا تو 2027 میں ترقی پذیر ممالک معاشی میدان میں امریکہ سے بھی بہت آگے نکل جائیں گے۔ جبکہ چین کی معیشت 2026 کے اختتام تک امریکی معیشت کو پچھاڑ کر 2027 میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بننے کا اعزاز اپنے نام کرلے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ سے معاشی میدان میں آگے نکلنے کی دوڑ میں فقط چین ہی اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اِس کے ساتھ کئی دیگر ترقی پذیر ممالک بھی ہمراہ ہوں گے۔ جیسے برکس ممالک برازیل،روس وغیرہ۔پیشن گوئی کرنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 2027 میں اِن درج بالا ممالک کا جی ڈی پی،حالیہ وقت کے سب سے بڑے معاشی طاقت کے گروپ جی 7 ممالک مثلاً کنیڈا،فرانس،جرمنی،اٹلی،جاپان،برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ جی ڈی پی سے بھی کہیں گنا زیادہ ہوجائے گا۔اگر یہ پیشن گوئی من و عن درست ثابت ہوجاتی ہے تو پھر حالیہ برسوں میں طے کیئے گئے عالمی طاقت بننے کے تمام پیمانے و نظریات مستقبل میں مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ جائیں گے۔

2028 معدوم حیاتیات کی واپسی کا سال ہوگا
شاید اَب بہت زیادہ عرصہ تک جراسک پارک سائنس فکشن تصور نہیں رہنے والا،کیونکہ سائنسدانوں کو یقین ہو چلا ہے کہ 2028 میں دنیا سے معدوم ہوجانے والی اکثر حیاتیات کی ازسرِ نو پیدائش کو یقینی بنا لیا جائے گا۔ بظاہر یہ بات کسی دیوانے کی بڑ جیسی محسوس ہوتی ہے لیکن کلوننگ اور جینیٹک انجیئنرنگ کے شعبہ میں ہونے والے انقلابی ایجادات اور دریافتوں نے عام لوگوں کو بھی اِس پہلو پر سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ شاید ڈائنوسار جیسے معدوم ہونے والے جانوروں کی فارمنگ کے لیئے جراسک پارک جیسے فلمی قسم کے تصورات کو عملی جامہ پہنانا عین ممکن حقیقت ہوجائے۔ جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سائنسدان اِس حوالے سے اپنے ابتدائی کام کا آغاز بھی کرچکے ہیں اور وہ زمین پر موجود حیات سے قریبی تعلق رکھنے والے مختلف حیاتیات کے عنقریب معدوم ہونے والے ڈی این اے کو حاصل کرکے اُن کے کلون بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ فی الحال ڈائنوسار تو نہیں لیکن ڈو ڈو اور تسمانین ٹائیگر ز نامی عنقریب دنیا سے معدوم والی حیات کے کلون کے ذریعے ازسرِ نو پیدائش کے تجربات خفیہ جگہ پر قائم ایک سائنیفک زو میں جاری ہیں۔ یاد رہے کہ سائنسدانوں کا ایک عقلمند قبیلہ اِس طرح کے سائنسی تجربات کرنے کی شدیدترین مخالفت بھی کر رہا ہے۔ان سائنسدانوں کا موقف ہے کہ ”جراسک پارک جیسے سائنس فکشن تصورات کا حقیقی روپ دھارن کرنا ہم انسانوں کی بقاء کے لیئے کسی بھی صورت میں نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا“۔

2029 بڑھتی ہوئی عالمی آبادی بڑے بحران کا سبب بن جائے گی
ایک محتاط اندازے کے مطابق 2029 کے اختتام تک دنیا میں انسانوں کی کُل تعداد 8.5 بلین تک پہنچ جائے گی۔جس کے بعد بنی نوع انساں کو پرانے بحرانوں کابالکل نئے انداز میں سامنا کرنا ہوگا۔چند سائنسدانوں کو تو پختہ یقین ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی آبادی کی وجہ سے اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا اختتام تقاضہ کرے گا کہ حضرتِ انسان دنیا کے مسائل کے حل کے لیئے اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرے۔کیونکہ 2029 میں ہماری دنیا کو اِس وقت دستیاب خوراک سے 50 فیصد زائد خوراک، 60 فیصد زائد توانائی اور 30 فیصد زائد صاف پینے کا پانی لازمی چاہئیے ہوگا۔ انسانی بقاء کے لیئے درکار اِن انسانی ضروریات میں تھوڑی سی بھی کمی انسانی بقا کے لیئے ایک بڑے حیاتیاتی بحران کا پیش خیمہ بھی ثابت سکتی ہے۔خاص طور پر جس طرح سے انسان زمین پر موجود قدرتی وسائل کا ضیاع کررہا ہے اُس سے تو یہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی 2029 میں دنیا بھر کے لیئے ایک سنگین مسئلہ بن جائے گی۔ معروف برطانوی سائنٹیفک ایڈوائزر جان بیڈڈنگٹن کا کہنا ہے کہ ”اگر بڑھتی آبادی اور اُس کے لیئے درکار وسائل کے درمیان پیدا ہونے والے عدم توازن کے سدباب کے لیئے عالمی برادری نے ابھی سے ہی کوئی بندوبست نہیں کیا تو پھر اِن مسائل پر قابو 2029 میں ناممکن ہوجائے گا اور پھر یہ مسائل اُس وقت کی طاقتور اقوام اور ممالک کو مجبور کردیں گے کہ وہ اپنے سے کمزور ممالک کے وسائل پر جنگوں کے ذریعے قابض ہوجائیں۔یعنی اگر انسان اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اپنے آپ کو وسائل پر قبضے کی جنگ کے بھیانک دور سے محفوظ رکھنا چاہتاہے تو پھر اُسے ابھی سے زمین پر موجود قدرتی وسائل کی حفاظت اور انہیں بڑھانے کا کوئی قابلِ عمل راستہ نکالنا ہوگا۔وگرنہ بقول شاعر۔داستان بھی نہ ہوگی ہماری داستانوں میں۔

2030 میں 6 جی ٹیکنالوجی متعارف کروادی جائے گی
اِس وقت دنیا بھر میں 5 جی سیلولر ٹیکنالوجی کا تذکرہ خوب زور و شور کے ساتھ جاری ہے حالانکہ دنیا میں بسنے والے بیشتر لوگوں نے 5 جی رفتار سے چلنے والے انٹرنیٹ کا تجربہ بھی اپنے اسمارٹ فون پر حاصل نہیں کیا ہے۔ کیونکہ فی الحال 5 جی سیلولر ٹیکنالوجی کا آغاز دنیا کے چند مخصوص علاقوں میں کیا جاسکا ہے۔ بہر کیف 5 جی ہمارے،آپ کے اسمارٹ فونز میں جب دستیاب ہوگی تب دیکھا جائے گا۔لیکن 2030 میں سکس جنریشن یعنی 6 جی رفتار سے چلنے والی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے آنے کی پیشن گوئی ابھی سے فرمادی گئی ہے۔ 6 جی سیلولر ٹیکنالوجی سے موبائل فریکونسی 100 گیگا ہرٹز سے 1 ٹیرا بائیٹ ہرٹز کے تیز رفتار انقلابی دور میں داخل ہوجائے گی۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ وہ صارف جو اِس وقت چند سو کلو بائٹس کی رفتار سے اپنے اسمارٹ فون پر انٹرنیٹ چلاتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ 2030 میں یہی صارف 6 جی نیٹ ورک کی بدولت ٹیرا بائیٹس فی سیکنڈ یا اُس سے بھی زیادہ رفتار سے انٹرنیٹ چلا نے کے قابل ہوجائے گا۔6جی انٹرنیٹ کتنا برق رفتار ہوگا فی الحال اُس کی مثال پیش کرنا بھی ہم جیسے سست رفتار انٹرنیٹ سروس استعمال کرنے والوں کے لیئے قطعی مناسب نہیں ہوگا۔ بس اتنا سمجھ لیجئے کہ 6 جی ٹیکنالونی ابھی تحقیق و تدوین کے ابتدائی مراحل میں ہے۔لہذا 6 جی ٹیکنالوجی کی اصل ہیت ترکیبی کیا ہوگی یا اس کے لیئے کس قسم کے جدید اسمارٹ فونز،اپلی کیشنز یا سیلولر نیٹ ورک کا نیا نظام درکار ہوگا۔ اس بابت رائے زنی کرنے میں ماہرین بھی حد درجہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔گو کہ 6 جی ٹیکنالوجی کے خدوخال آنے والے برسوں میں واضح ہوں گے لیکن اس کے باوجود ماہرین اپنی اس سائنسی پیشن گوئی پر پوری طرح سے قائم ہیں کہ 2030 کے وسط تک 6 جی ٹیکنالوجی کا عام استعمال دنیا بھر میں شروع کردیا جائے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 16 فروری 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں