New World Order in Shadow Wall of China

دیوار چین کے سائے میں نئی دنیا کی تشکیل

ویسے تو چینی تہذیت ہزاروں برس پرانی ہے لیکن آج کل جس جدید چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے مشکل ہدف کا سامنا عالمی طاقتوں کو کرنا پڑ رہاہے اُس کی تاریخ یکم اکتوبر 1949 سے شروع ہوتی ہے۔جب چین کے عظیم عوامی رہنما ماؤزے تنگ نے خانہ جنگی کے شکار چین کی آزادی کا اعلان کرکے چینی قوم کو دنیا کی طاقت ور اور مضبوظ ترین اقوام کی فہرست میں شامل کرنے کی جانب اپنا پہلا قدم بڑھایا تھا۔ رواں ہفتے چین اُسی عظیم دن کی یاد میں اپنی آزادی کی 71 ویں سالگرہ منارہاہے اور بلاشبہ آزادی کے 71 سالوں کے مختصر سے عرصہ میں چینی قوم نے اپنی ان تھک محنت، لگن اورجدوجہد سے جتنی عظیم کامیاں حاصل کیں،انہیں ایک معجزہ ہی کہا جاسکتاہے۔

یہ بھی پڑھیے: آئیے! چینی زبان سیکھیں

خاص طور پر جس قوم کو 71 برس قبل افیون کا نشہ کرنے والے،چھوٹے قد کے چھوٹے دماغ والے اور سست و کاہل ہونے کے طعنے دیئے جاتے تھے۔ آج وہی چینی قوم ایک نئی اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت کے روپ میں دنیا بھر کے سامنے جلوہ نما ہے اور عالمی سپرپاور امریکا سمیت کئی دیگر بڑے ممالک بھی چین کا راستہ کھوٹا کرنے کے لیئے دن رات خود کو ہلکان کیئے جارہے ہیں۔ مگر صاف نظر آرہا ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک پانا شاید اَب امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیئے ممکن نہیں رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے امریکا کی جانب سے چین کی سالمیت پر حملہ کرنے کے جارحانہ بیانات سامنے آرہے ہیں۔ حالانکہ امریکا کے نامور تھنک ٹینکس اپنی مختلف رپورٹوں میں باربار یہ تنبیہ کرچکے ہیں کہ چین کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں کا جنگ شروع کرنے کا فیصلہ،شاید چین کو اتنا نقصان نہ پہنچائے جتنا اس کے ناقابل تلافی نقصانات امریکا کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ چینی قوم نے گزشتہ 71 برسوں میں جتنے مختلف النوع قسم کے میدانوں میں اپنی شاندار کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔اس کے بعد چین کو شکست دینے کے بارے میں سوچنا۔ایں خیال است،محال است،جنوں است۔

سب سے پہلا میدان جس میں چین اپنے حریف ممالک سے کہیں آگے نکل چکا ہے،وہ عالمی معیشت کا میدان ہے۔گزشتہ 71 برسوں میں چین نے معاشی طور پر اپنے آپ کو اتنا مضبوط کرلیاہے کہ چین کے حریف ممالک بھی مکمل طور پر چینی معیشت پر انحصار کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔لطیفہ ملاحظہ ہو کہ معاشی میدان میں امریکا چین کا سب سے بڑا حریف ہونے کا دعوے دار ہے لیکن اس کے باوجود امریکی دنیا کے جس ملک کے ساتھ اپنی تجارتی سرگرمیاں سب سے زیادہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔اُس ملک کا نام بھی چین ہی ہے۔اس وقت امریکا کی ہر بڑی کمپنی افرادی قوت کے لیئے مکمل طور پر چین کی محتاج ہے۔ اس لیئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ امریکی کے تجارتی روابط منقطع کرتے ہوئے کہا کہ ”صرف ان ہی امریکی کمپنیوں کو امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی جو چین میں موجود اپنا نیٹ ورک بند کرکے اُسے امریکہ میں منتقل کریں گی“۔تو امریکی صدر کے اس مطالبہ کے جواب میں بیشتر کمپنیوں نے مستقبل میں امریکا کو اپنی تجارت کا محور بنانے کے بجائے چین میں کاروبار ی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کرکے امریکی اربابِ اختیار کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا۔

اَب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر چین کا معاشی بائیکاٹ کر نے سے مستقبل میں امریکا کی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں تو پھر دنیا کے دوسرے ممالک کیونکر چین کے ساتھ معاشی میدان میں مقابلہ کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نیز چین کی جانب سے ون روڈ ون بیلٹ ایک ایسا پرکشش تجارتی منصوبہ ہے،جس کے ساتھ منسلک ہونے کے معاشی لالچ اور سیاسی فوائد نے دنیا کے کم و بیش ہر ملک کو چین کے دروازے پر بطور سائل کھڑا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ چین کے دیرینہ حریف جنوبی کوریا،جاپان اور تائیوان کی سیاسی قیادت بھی چین کی بے پناہ معاشی ترقی کو دیکھتے ہوئے شدید تذبذب کا شکا ر ہیں اور وہ بھی انتہائی سنجیدگی کے ساتھ چین کے ساتھ اپنے دوستانہ روابط ازسرِ نو بحال کرنے کے بارے میں سوچ و بچار کررہی ہے۔ کیونکہ دنیا میں کہیں ایسی جگہ باقی نہیں بچی ہے جہاں پر چین کا معاشی اثرورسوخ قائم نہ ہو چکا ہو۔

عالمی سفارت کاری وہ دوسرا اہم ترین میدان ہے جہاں بہت تھوڑے عرصہ میں ہی چین نے اپنے قدم انتہائی مضبوطی کے ساتھ جمالیئے ہیں۔ حالانکہ ایک دہائی قبل تک عالمی سفارت کاری کے اُفق پر امریکی سفارت کار مکمل طور پر چھائے ہوئے تھے،لیکن اَب ایسا نہیں رہا اور چین نے گزشتہ ایک دہائی میں اپنی سفارت کاری کی صلاحیت کو جس بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، اُسے انتہائی متاثر کن عالمی سفارت کاری کے سوا کچھ اور نہیں قرار دیا جاسکتا۔ چین کی زیرک سفارت کاری کا ادنی سا نمونہ ملاحظہ کرنا ہوتو ذرا ایک نظر طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات پر ڈال لیجئے۔ تاکہ آپ پر منکشف ہوسکے کہ ایک ایساعسکری معاملہ جو سراسرامریکہ اور طالبان کے درمیان ہی طے ہونا چاہئے تھا،اُس معاملہ میں بھی کس سیاسی ذہانت سے چین نے اپنے آپ کو داخل کرلیا ہے کہ ساری دنیا کے سامنے ایک دن ایسا بھی طلوع ہوتا ہے کہ جب طالبان کی میزبانی کا فریضہ بیجنگ انجام دیتا ہے اور امریکہ، چین کا سخت ترین حریف ہونے کے باوجود بھی اُس کا خیر مقدم کرنے پر مجبور ہوجاتاہے۔

صرف یہ ہی نہیں سعودی عرب جسے امریکہ کا سب سے پرانا اتحادی ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہاں بھی چینی سفارت کاروں نے خفیہ سفارت کاری کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ سعودی عرب نے بھی تاریخ میں پہلی بار مختلف شعبوں میں امریکی بیساکھیوں کو ترک کرکے چین کی طرف دستِ تعاون دراز کردیاہے۔ اس کے علاوہ ایران اور چین کی بڑھتی ہوئی قربت بھی مشرق وسطی میں چین کے سفارتی عزائم میں غیر معمولی اضافہ کی پیشن گوئی کررہی ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیرس معاہدہ کی یکطرفہ منسوخی کے بعد یورپی ممالک بھی خود کو مکمل طور پر چین کی دائرہ سفارت کاری میں شامل کرچکے ہیں۔ یوں یورپ تاریخ میں پہلی بار مغرب کی دسترس سے نکل کر مشرق کی سمت گامزن دکھائی دیتاہے۔ یورپ کی حمایت مشرق کے لیئے حاصل کرلینا چین کی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے،جس کے دنیا کے مستقبل پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اگر عسکری میدان کی بات کی جائے تو یہاں بھی چین کو اس لیئے اپنے حریف ممالک پر نمایاں برتری حاصل ہے کہ وہ سب کے سب باخبر ہوتے ہوئے بھی چین کی اصل عسکری صلاحیت سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔واضح رہے کہ چین کی عسکری طاقت کے حوالے سے بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی جانب سے وقفہ وقفہ سے جاری ہونے والی رپورٹس کے تفصیلی مطالعہ کے بعد معلوم ہوتاہے کہ چین نے اپنی دفاعی تیاریوں کو، دنیا بھر کی جاسوس نگاہوں سے چھپانے کا خاص التزام کیا ہے اور اپنی اس کوشش میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ چین کی عسکری صلاحیت کے بارے میں درست معلومات کا نہ ہونا،کئی بار تو ایسے ابہام پیدا کردیتا ہے کہ جس کا شکار ہوکر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک،ہر اہم موقع پر چین کے خلاف کسی بھی انتہائی قدم اُٹھانے کے معاملہ میں شدید تذبذب اور مخمصہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اس کی تازہ ترین مثال وادی گلوان میں لائن آف ایکچویل پر چینی افواج کے ہاتھوں بھارتی افواج کی بننے والی المناک درگت ہے۔ کون نہیں جانتا کہ امریکہ نے بھارت کو چین کی تھانیداری کرنے کے لیئے خصوصی طور پر چین کے پڑوس میں تعینات کیا ہے لیکن اس کے باوجود جب چین کے ہاتھوں بھارت کی پٹائی ہورہی تھی تو امریکہ،بھارت کی بروقت اعانت و مدد کے لیئے فقط اس لیئے نہیں آیا کہ وہ چین کی عسکری قوت کے بارے میں زبردست تشکیک کا شکار تھا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ چین کے ساتھ عسکری میدان میں اُلجھنے سے اُس کا اپنا زیادہ نقصان ہوجائے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے برعکس چین کے مقاصد و اہداف بالکل واضح اور صاف ہیں۔جن کی تکمیل کے لیئے صرف لائن آف ایکچوئل پر ہی نہیں بلکہ جنوبی کوریا، تائیوان اور ساؤتھ چائنا سمندر میں بھی چین کی جانب سے اپنی عسکری طاقت کا مختلف انداز میں مظاہرہ کرنے کا ایک بھی موقع ضائع نہیں کیا جارہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ چین کا رویہ اپنے حریفوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ جارحانہ اور تحکمانہ ہوتا جارہاہے اور لگ ایسا رہا کہ جیسے چین خود چاہتاہے کوئی حریف ملک اُس کے ساتھ جنگ کی بساط پر اُلجھنے کی غلطی کرے۔ تاکہ وہ اُس کے شکست خورہ، وجود پر کھڑا ہوکر اپنی سپر پاور ہونے کا اعلان کرسکے۔

مزید پڑھیں: انسداد کرپشن کے چینی نسخے

دلچسپ با ت یہ ہے کہ چین کے بدلتے ہوئے یہ سرخ،سرخ تیور،چینی قوم کا ایک ایسا نیا بہروپ ہے، جس سے دنیا پہلی بار آشنا ہورہی ہے کیونکہ ماضی میں ہمیشہ چینی قوم نے اپنے دشمنوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے بجائے دفاعی حکمت عملی سے اُن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ کئی ہزار سال قبل چین نے دنیا کے سیاسی تنازعات سے بچنے کے لیئے عظیم دیوار چین بھی اسی دفاعی اُصول کے تحت تعمیر کی تھی لیکن آج کی چینی قیادت اپنے عظیم رہنما ماؤزے تنگ کے بیان کردہ اُس بنیادی اُصول کی روشنی میں دنیا فتح کرنے کے لیئے نکل چکی ہے۔ جس کی تعلیم ماؤ نے یکم اکتوبر 1949 میں چین کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے دی تھی کہ ”ایک دن چین دنیا کا عظیم ترین ملک بنے گا اور چینی قوم دنیا کی معزز اقوام میں شمار کی جائے گی“۔ماؤ زے تنگ کا 71 برس قبل دیکھا گیا یہ خواب،آج اپنی تعبیر کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ کیونکہ چین کی موجودہ قیادت دیوار چین کے سائے میں ایک ایسی نئی دنیا تشکیل دینے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکی ہے جس میں دنیا کے نقشہ میں موجود ہرملک کے معاشی مفادات چین کی سالمیت کے ساتھ مکمل طورپر جڑ چکے ہیں۔لہٰذا چین کے حریف جب چین پر کوئی کاری ضرب لگانے کا ارادہ بھی کرتے ہیں تو اُنہیں خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں یہ ضرب اُن کی معاشی کمر بھی توڑ کرنہ رکھ دے۔ بس یوں سمجھ لیجئے!کہ چین کے بے پناہ معاشی پھیلاؤ نے چینی قوم کو ایک حقیقی ناقابل تسخیر قوت میں تبدیل کردیا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 01 اکتوبر 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں