Politics in Sindh

اندرون سندھ میں سیاسی نقشہ بدلنے لگا

عمران خان کے قبل از وقت الیکشن کے مطالبہ کو بظاہر تو پاکستان پیپلزپارٹی نے یکسر مسترد کردیا ہے لیکن درپردہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے قبل از وقت الیکشن کے امکان کو ذہن میں رکھتے ہوئے سندھ میں اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز بھی کردی ہیں۔پنجاب کی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کی وجہ سے،سندھ پیپلزپارٹی کے لیئے فیصلہ کُن صورت حال اختیار کر گیا ہے۔اگر آنے والے انتخابات میں پاکستان بھر میں انتخابی نتائج پاکستان پیپلز پارٹی کی توقعات کے مطابق نہیں آتے جیسا کے اکثر سیاسی پنڈتوں کا خیال بھی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے لیئے آنے والے انتخابات میں اپنی سیاسی ساکھ بچانے کا واحد راستہ سندھ میں بھر پورانتخابی نتائج کا مظاہرہ ہی ہوگااور اس بات کا ادراک پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اچھی طرح ہوگیاہے اس لیئے صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی انتہائی طاقت ور رہنما نے اندرونِ سندھ میں سیاسی رابطوں کا وسیع پیمانے پر آغاز کر دیا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: اسکول ، کورونا وائرس اور سندھ حکومت

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ باوثوق ذرائع سے مسلسل یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اگلا وزیراعظم اب اُس کا بننا تقریباً ناممکن ہی ہے اس لیئے پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں اگلے انتخابات کے بعد اپنا ایک انتہائی مضبوط اور بااعتماد وزیرِ اعلیٰ لانا چاہتی ہے اس کے لیئے آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریا ل تالپور یا پھر ضیاء الحسن لنجار جو کو کہ اس وقت وزیرِقانون سندھ بھی ہیں کا نام ہی سابق صدر پاکستان، آصف علی زرداری کے نزدیک سب سے موزوں رہے گا۔اسی ہدف کو نظر میں رکھتے ہوئے سندھ کے تمام تر معاملات مکمل طور پر فریال تالپور اوران کے متعمد خاص ضیاء الحسن لنجارکے حوالے کر دیئے گئے ہیں اور فریال تالپور نے بھی اندرون سندھ میں اپنی بھرپور مہم جوئی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے،بظاہر یہ منصوبہ پیپلز پارٹی کو کتنا ہی سہل کیوں نہ نظر آتا ہو مگر فریال تالپور صاحبہ کا اس ہدف تک با آسانی پہنچ جانا اندرونِ سندھ کی موجودہ سیاسی و انتخابی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اتنا آسان بھی نہیں ہے۔

اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے لیئے سب بڑا دردِسر اندرون سندھ میں ان جیالے رہنماؤں کی ناراضگی ہے جنہیں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے پورے دورِ حکومت میں خود سے دور رکھاجن میں بے شمار اہم ترین سیاسی خاندان اور شخصیات شامل ہیں جن کا سندھ میں انتہادرجے کا سیاسی اثرو نفوذ ہے،ان سیاسی شخصیات اور خاندانوں کی آنے والے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی سے دوری سندھ کی سیاست میں پیپلز پارٹی کے لیئے کسی شدید سیاسی سانحہ کا باعث ہو سکتی ہے۔ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے لیئے ایک اور تشویشناک سیاسی صورت حال تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان کے اچانک متحرک ہوجانے کی وجہ سے بھی پیدا ہو گئی ہے۔اگر ماضی کی سیاسی تاریخ کابہ نظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے سندھ میں جب بھی سندھ کے باہر سے تعلق رکھنے والی کسی سیاسی جماعت نے سندھ میں سیاسی خاندانوں سے اپنے روابط کو استوار کیا ہے یا بہت زیادہ سیاسی سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا ہے جس سے تاثر ملے کہ کوئی غیرسیاسی قوت اُن کے پیچھے ہے اس طرح کی سیاسی صورتحال ہمیشہ سے حکمران جماعت کے لیئے الیکشن کے دنوں میں شدید ترین مسائل کا باعث بنتی رہی ہے۔اگر ماضی کی تجربہ کو مدنظر رکھا جائے تو پھر سندھ میں عمران خان اور ان کی جماعت کے متحرک ہونے سے پیپلز پارٹی کے لیئے مستقبل کا نقشہ مزید پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا جائے گا۔

دوسری طرف سکھر میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے اپنے ہی ہم جماعت دیگر رہنماؤں کے ساتھ اختلاف بھی کھُل کر سامنے آنے لگے ہیں گو کہ یہ پرانے سیاسی اختلافات ہیں جنہیں کچھ عرصہ پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت نے حل کر دیا تھا، مگر شاید یہ صرف ایک بناوٹی سیاسی حل تھا جو فریقین کی طرف سے کسی نہ کسی سیاسی مفاد یا مجبوری کے تحت قبول کیا گیا تھاجسے مطلوبہ سیاسی مفاد پورا ہوتے ہی یا مجبوری ختم ہوتے ہی بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔مگر صرف اسی پر بس نہیں ہے سکھر میں ایک پریشانی اور بھی ہے جو پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں کی اُمیدوں کے لیئے زہر ہلاہل بنی ہوئی ہے۔وہ سید خورشید شاہ کا وہ سیاسی حلقہ جس سے وہ ہمیشہ انتخاب لڑتے آرہے ہیں، مگر خبریں یہ ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کئی دیگر سرکردہ رہنما بھی اس حلقہ سے مستقبل میں انتخابات لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیئے انہوں لابنگ کرنا بھی شروع کردی ہے۔بلکہ معاملات یہاں تک چلے گئے ہیں خورشید شاہ کے سیاسی مخالفین پیپلزپارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آزاد حیثیت سے خورشید شاہ کے خلاف میدان میں آنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، جن کا واضح مقصد یہ ہے کہ یا تو پیپلزپارٹی انہیں ٹکٹ دے یا پھر وہ اپنا وزن پیپلزپارٹی مخالف پلڑے میں ڈال دیں گے۔

کیونکہ اندرونِ خانہ پاکستان پیپلز پارٹی اس حلقے پر ٹکٹ کا وعدہ بہت سے لوگوں سے کر چکی ہے کیونکہ خورشید شاہ کے سیاسی مخالفین اسی شرط پر پیپلزپارٹی میں آئے تھے کہ یہ حلقہ انہیں ملے گااور وہ بھی اس فرمائش کے ساتھ کہ ان کے مقابل کسی بھی صورت سید خورشید شاہ یا ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد نہ آئے، بظاہر یہ ایک معصوم سی خواہش لگتی ہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے توقع رکھتے ہیں اس حلقہ انتخاب پر ٹکٹ سید خورشید شاہ یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو ہی دے گی۔ اگر یہ تنازعہ جلد از جلد خوش اسلوبی سے حل نہ ہوا تو پاکستان پیپلزپارٹی کے لیئے کسی اچانک ”صدمہ“ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

سب سے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ صورت حال صرف سکھر کی ہی نہیں ہے بلکہ اندرونِ سندھ کے اکثر انتخابی حلقے اسی سیاسی کشمکش سے گزر رہے ہیں، سب کے ساتھ مفاہمت کی ”سنہری پالیسی“جاتے جاتے پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے لیئے ہی دردِ سر بنتی جارہی ہے اور یہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ میں سب سے متحرک اور بااختیار رہنما فریال تالپور کی سیاسی بصیرت کا کڑا امتحان ہے۔کیونکہ سیاست میں اپنے ہاتھوں پر نئے نئے طوطوں کو بٹھانا یقینا ایک اچھی حکمت عملی ہے مگر کہیں اس کے نتیجے میں ہاتھوں پر پہلے سے بیٹھے ہوئے طوطے ہی نہ اُڑ جائیں اس امر کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہوتاہے۔اس لیئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی مستقبل کے لیئے ضروری ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں میں کم از کم سندھ میں ایک انتہائی مضبوط حکومت کے امکان کو یقینی بنائے۔اس امکان کو حقیقت کا روپ دینے کے لیئے فریال تالپور پر لازم ہے کہ وہ اب اپنے بھائی اور سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کی توقعات پر پورا اُترے کیونکہ کئی سالوں سے پورا سندھ تمام تر انتظامی و سیاسی اختیارات کے ساتھ فریال تالپور کے حوالے ہے۔اب یہ وقت آصف علی زرداری کی جانب سے اُن پر کیئے گئے اعتماد کو درست ثابت کرنے کا ہے۔آئندہ انتخابات میں سندھ کے انتخابی نتائج پاکستان پیپلزپارٹی کے لیئے جو بھی ہوں لیکن اُن نتائج کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف فریال تالپر کو ہی قبول کرنا پڑے گی کیونکہ کسی بھی قسم کی معذرت کی وجہ کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 23 نومبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہو

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں