Nelson Mandela

نیلسن منڈیلا۔۔۔ ایک عہد ساز شخصیت

”سیاستدان اور قومی رہنما میں کیا فرق ہوتا ہے؟“
”سیاستدان اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتا ہے اور قومی رہنما اگلی نسل کے بارے میں“
سوال کرنے والا ایک صحافی تھا اور جواب دینے والا نیلسن منڈیلا،بیسوی صدی کا سب سے بڑا سیاستدان،سب سے بڑا مدبر،سب سے بڑا ترقی پسند،سب سے بڑا مصلح اور سب سے بڑھ کر ایک عظیم انسان جسے دنیا نیلسن منڈیلا کے نام سے جانتی ہے۔جن کے بارے میں ایک بار سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا تھا کہ”وہ جب کبھی ہمارے کمرے میں قدم رکھتا،ہمیں محسوس ہوتا ہمارے قد بڑھ گئے ہیں،ہم اس کے احترام میں فوراً کھڑا ہوجانا چاہتے“۔نیلسن منڈیلا دنیا کی وہ واحدسیاسی شخصیت ہیں جن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی خاطر اقوام متحدہ کی طرف سے اُن کے یوم ِ پیدائش کے دن 18 جولائی کو ہرسال دنیا بھر میں عالمی دن کے طور پر منائے جانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔نیز اس برس نیلسن منڈیلا کا صد سالہ جشنِ پیدائش منایا جارہاہے۔

نیلسن منڈیلا 18 جولائی 1918 ء کو جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں مویذو میں پیدا ہوئے۔والد نے اِن کا نام رولہلاہلا Rolihlahla) (رکھا،جوجنوبی افریقہ کی ISIXHOSA زبان کا لفظ ہے،جس کا مطلب مشکل پسند یعنی (Trouble Maker) ہے۔نیلسن منڈیلا کے والدین نے تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود بھی اُسے سات سال کی عمر میں اسکول بھیجا،نیلسن منڈیلا اپنے قبیلہ کا پہلا بچہ تھا جس نے اسکول میں باقاعدہ داخلہ لیا۔عموماً کہا جاتا ہے بچپن بادشاہی عمر ہوتی ہے، اس عمر میں کوئی آپ سے بغض و عناد نہیں رکھتا،سب لوگ بچوں کے بچپن او راُن کے بچپنے کو جی بھر کے سراہتے ہیں مگر شاید یہ بات غلام اقوام کے بچوں پر صادق نہیں آتی کیونکہ غلام قوم کے بچوں کے بچپن کابھی کوئی لحاظ نہیں کرتا اور ایسا ہی کچھ نیلسن منڈیلا کے ساتھ بھی ہوا۔اسکول کے پہلے ہی دن اُس کی اُستانی نے اُس کے اصلی نام کو انگریزی کے نام ”نیلسن“ سے بدل دیا۔کیونکہ ان دنوں افریقہ میں عام رواج تھا بچوں کے ناموں کو انگریزی ناموں سے بدل دیا جاتاتھا۔یہ اس لیئے کیا جاتا تھا کہ جنوبی افریقہ انگریزوں کے زیرِ تسلط تھا اور وہ اپنی تہذیبی روایات کے سامنے مقامی روایات کے فروغ کو ممنوع خیال کرتے تھے۔



نیلسن منڈیلا کی عمر جب 19 برس ہوئی تو فورٹ ہیئر یونیورسٹی میں اس کی ملاقات ”اولیوتھمبو“نام کے ایک نوجوان سے ہوئی اور یہ ملاقات عمر بھر کی رفاقت میں بدل گئی۔نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کی پہلی بغاوت اپنی یونیورسٹی کے دنوں میں یونیورسٹی کی پالیسیوں کے خلاف کی۔نیلسن منڈیلا سے کہا گیا کہ یا تو وہ نام نہاد ”طلباء کونسل“ کے انتخابات کو تسلیم کریں یا پھر وہ یونیورسٹی چھوڑ دیں۔انہوں نے اپنی سیاسی و فکری آزادی گروی رکھنے کے بجائے یونیورسٹی کو خیر بادکہنا زیادہ پسند کیا، مگرچونکہ قدرت نے نیلسن منڈیلا کو صرف سیاست دان نہیں بلکہ ایک دانشور سیاستدان کے روپ میں ڈھالنا تھا اس لیئے فطری طور پر تعلیم کے حصول کا شوق اُن میں بدرجہ اتم موجود رہا۔علم کا یہ شوق ہی تھا کہ آگے چل کر انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے بھی یونیورسٹی آف لندن سے پرائیویٹ طالب علم کے طور پر قانون کی تعلیم امتیازی نمبروں سے پاس کی۔ بلاشبہ جدید سیاست میں نیلسن منڈیلا پہلے شخص تھے جنہوں نے سیاست اور دانشوری کو آپس میں شیر و شکر کردیا۔وہ بیک وقت ایک مکمل دانشور بھی رہے اور ایک منجھے ہوئے انقلابی سیاست دان بھی۔
نیلسن منڈیلا نے عملی سیاست کا آغاز 1948 ء میں اُس وقت کیا جب نسلی امتیاز کی حامی جماعت افریقن نیشنل پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس نامی جماعت کے تحت ہونے والے نسلی امتیاز کے خلاف اپنی سیاسی مہم جوئی کا باقاعدہ آغاز کیا اور 1955 ء میں ”کانگریس آف پیپلز“ کی قیادت کی جس کے چارٹرڈ آف فریڈم کی بدولت انسدادِنسلی امتیاز کی مہم کوعوامی حلقوں میں پذیرائی اور تقویت ملنا شروع ہوئی۔اس دوران نیلسن منڈیلا اور ان کے دوست ”اولیو تھمبو“ نے ایک قانونی فرم کی بنیاد بھی رکھی۔یہ لوگ سفید فام افراد کی طرف سے تعصب اور ظلم کا شکار ہونے والے سیاہ فام باشندوں کو جنوبی افریقہ میں مفت قانونی معاونت اور امداد فراہم کرتے تھے۔ان ہی برسوں میں نیلسن منڈیلا نے اُن قوانین کی بھی سختی سے مخالفت کی جن کے تحت جنوبی افریقہ کے کچھ علاقے صرف سفید فام باشندوں کے لیئے مخصوص کیئے گئے تھے۔جہاں جانے کے لیئے سیاہ فام باشندوں کوباقاعدہ اجازت نامے کی ضرورت پڑتی تھی جنہیں جاری کرنے کا اختیار بھی سفید فام حکمرانوں کے پاس ہی تھا۔نیلسن منڈیلااس جیسے قوانین کو سیاہ فام باشندوں کی عزتِ نفس کے لیئے زہر ِ قاتل سمجھتے اس لیئے انہوں نے ملک کے چپے چپے میں ہنگامی دورے کیئے اور لوگوں میں ان امتیازی قوانین کے خلاف شعور پیدا کرنے اور اُنہیں متحرک کرنے کی ملک گیر جدوجہد کا آغاز کیا۔نیلسن منڈیلاکا ایک اہم کارنامہ انقلابی نظریات کی ترویج ہے۔ آپ نے مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے ان کے اندر تسلط کے نظام کے مقابل ڈٹ جانے کی جرات پیدا کی۔ نیلسن منڈیلانے دھمکیوں سے نہ ڈرنے اور سامراجی طاقتوں کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے جیسے دو اہم اصولوں کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں ایک عظیم انقلاب کی داغ بیل ڈالی۔نیلسن منڈیلا کی نسلی امتیاز کے خلاف اس وسیع تر جدوجہد کے آغاز نے حکمرانوں کو ان کا سخت مخالف بنا دیا۔جس کے نتیجے میں 1956 ء میں اُن پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔اب نہ ہی وہ سفر کر سکتے تھے اور نہ ہی کسی سے ملاقات۔نیلسن منڈیلا پر عوامی مقامات حتی کے اپنے گھر میں بھی تقریر کرنے پر پابندی تھی۔5 دسمبر 1956 ء کو انہیں ایک سو پچاس ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر کے اُن پر غداری کا مقدمہ بنا دیا گیا۔یہ قانون خصوصی طور پر نسلی امتیاز کے خلاف متحرک کارکنوں کو ہراساں کرنے کے لیئے بنایا گیا تھا۔نیلسن منڈیلا پر مقدمہ چلتا رہا اور باالآخر 1961 ء میں انہیں شواہد ثابت نہ ہونے کی بناء پر رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس کے تحت حکمران جماعت کے خلاف ایک بہت بڑامظاہرہ کیا جس پر پولیس کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ جس میں بے شمار سیاہ فام اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پولیس کی جانب سے نہتے سیاہ فام افریقیوں کے قتل عام اور افریقن نیشنل کانگریس پر پابندی کے بعد نیلسن منڈیلا نے اپنی غیر مسلح جدوجہدکو ترک کے مسلح جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کرکے اُنہوں نے اپنی زندگی کابنیادی ہدف نام نہاد افریقی حکومت کا خاتمہ کو قرار دے دیا۔اپنی مسلح جدوجہد کے دوران وہ مسلسل روپوش رہے۔اُن کی مسلسل روپوشی اور پولیس کی انہیں گرفتار کرنے میں ناکامی نے انہیں ”بلیک پیمپیرنل“کے نام مشہور کردیا۔1962 ء میں وہ الجیریا گئے جہاں انہوں نے گوریلا جنگ اور ہتھیارچلانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔اُن کی افریقہ واپسی کے تھوڑے عرصہ ہی بعد 5 اگست 1962 ء کو ٹریفک جام کے دوران انہیں گرفتار کر کے پانچ سال کے لیئے جیل بھیج دیا گیا۔اکتوبر 1963 ء میں نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں پر تخریب کاری اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا مقدمہ کے دوران اُن کی کی گئی ایک تقریر جس کا عنوان تھا”میں مرنے کو تیار ہوں“نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیااس تقریر میں انہوں نے واضح کیا کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کے باعث اُن کی جماعت افریقن نیشنل کانگریس پرُامن جدوجہد ترک کر کے اسلحہ اُٹھانے پر مجبور ہوئی۔نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں حکومت اور بدعنوان نظام کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ آپ کبھی بھی دھمکیوں اور سزاسنائے جانے سے خوفزدہ نہیں ہوئے کیونکہ آپ حقیقی طور پر انقلابی تھے اوراپنے انقلابی ہونے پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ آپ کی یہی صفت جنوبی افریقہ میں عظیم عوامی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔12 جون 1964 ء کو نیلسن منڈیلا اور اسکے تمام ساتھیوں کو غداری کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنادی گئی۔1964 ء سے 1982 ء تک نیلسن منڈیلا نے کیپ ٹاؤن کے جزیرے روبن میں قید بامشقت برداشت کی۔قید کے دوران نیلسن منڈیلا کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوااور وہ افریقہ میں اہم ترین سیاہ فام رہنما کے طور پہچانے جانے لگے۔مارچ 1982 ء میں نیلسن منڈیلا اور اس کے دیگر ساتھیوں کو جزیرہ روبن سے پولسی موری جیل منتقل کر دیا گیا۔نیلسن منڈیلا کے رہائی کے لیئے شدید عوامی دباؤ کے باعث فروری 1985 ء میں صدر پی ڈبلیو بوتھا نے نیلسن منڈیلا کو اس شرط پر رہائی کی پیشکش کی کہ وہ مسلح جدوجہد کو مکمل طور پر ترک کردیں۔نیلسن منڈیلا نے یہ پیشکش مسترد کردی۔ان کا کہنا تھا کہ”اس طرح کے مذاکرات کے لیئے انسان کا آزاد ہونا ضروری ہے“۔1989 ء میں ”منڈیلا کو رہا کرو“کا نعرہ اس قدر مقبول ہو ا کہ افریقی حکومت ایک منجدھار میں پھنس گئی۔اسی دوران صدر بوتھا پر فالج کا حملہ اور اس کی جگہ فریڈرک ولیم ڈی کلارک کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا۔1988 ء میں نیلسن منڈیلا کو وچ واسٹر جیل منتقل کر دیا گیا۔اس دوران نیلسن منڈیلا پر سے کئی پابندیاں بھی اُٹھالی گئیں اور وہ لوگوں سے ملنے لگے۔نئے صدر نے فروری 1990 ء میں نیلسن منڈیلا کی رہائی کا اعلان کیا۔رہائی کے فوراً بعد نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالی اور پارٹی کو آئندہ چاربرس بعد ہونے والے عام انتخابات کے لیئے تیا ر کرنا شروع کردیا۔

27 اپریل 1994 ء کو جنوبی افریقہ میں انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ان انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ پہلی مرتبہ اس میں ہر رنگ و نسل کے باشندوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ان انتخابات میں افریقن نیشنل کانگریس نے 62 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیئے اور نیلسن منڈیلا 10 مئی 1994 ء کو ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوگئے۔ نیلسن منڈیلا نے صدر منتخب ہونے کے بعد گوروں سے سیاہ فام باشندوں یا اپنے اُوپر ہونے والے ظلم کا انتقام لینے کے بجائے ایسے فیصلے کیئے جس نے دنیا بھر کو حیران کر دیاسب سے پہلے فیصلہ انہوں نے یہ کیا کہ صدارتی محل میں داخل ہوتے ہی اپنے تمام حفاظتی عملے اور پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کے تمام گورے اہلکاروں کو بلایا اور انہیں کہا کہ”آپ اپنی ملازمت جاری رکھیں میری حفاظت اب آپ کی ہی ذمہ داری ہوگی“۔ اُن کا دوسرا فیصلہ صدارتی محل میں تمام گورے اسٹاف کی بحالی تھا۔انہوں نے آفس سیکریٹری سے لے کر آفس بوائے تک تمام گوروں کو اُن کو ملازمت پرپرانی حیثیت میں برقرار رکھا اور ان کا تیسرا فیصلہ ملک میں موجود تمام گورے بیوروکریٹس کو اپنی نوکریاں بدستور جاری رکھنے کی ہدایت تھی اور ان کا چوتھا فیصلہ جنوبی افریقہ کی رگبی ٹیم جس کے تمام کھلاڑیوں گورے تھے انہیں اپنے آفس میں ایک خصوصی دعوت پر بلایا اور اُن سے درخواست کی کہ برائے مہربانی آپ جنوبی افریقہ نہ چھوڑیں ہم ایک بار پھر ورلڈ چیمپیئن بننا چاہتے ہیں ان تمام فیصلوں نے جہاں پوری دنیا کو حیرانی میں مبتلا کردیا وہیں انہوں نے اپنے طرز عمل سے جنوبی افریقہ میں موجود گوروں کے دل بھی جیت لیئے اور یہ لوگ نیلسن منڈیلا کے ہاتھوں اپنی نسلی شکست کو بھول کر جنوبی افریقہ کے سیاہ فاموں کی خدمت کرنے لگے۔ نیلسن منڈیلانے جنوبی افریقہ میں طبقاتی فرق کو تقریباً ختم کر کے رکھ دیا۔ تمام عوام نہ صرف قانونی بلکہ سماجی طور پر بھی ایک ہی سطح پر آگئے۔ جہاں یہ محسوس کیا گیا کہ بوجوہ کوئی تفا وت نظر آتا ہے تو اسے ایسے اقدامات سے دور کیا کہ جس سے نسبتاً برتر حیثیت کے مالک شخص کو برتری کا احساس نہ ہو۔ مثلاً جنوبی افریقہ میں و ہ افسران جنہیں سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی سہولت حاصل تھی،اُن پر یہ لازم کردیا گیا کہ اگر اس کی گاڑی میں جگہ ہے تو وہ کسی بھی لفٹ مانگنے والے کو لازمی اپنی گاڑی میں جگہ دیں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔نظام تعلیم یکساں اور تعلیمی ادارے بھی یکساں معیار کے بنادیئے گئے۔ ہسپتالوں میں جو سہولت صدر مملکت کو حاصل تھی وہ ایک عام مزدور یا کسان کو بھی بہم پہنچادی گئی۔ تمام اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو سرکاری ہسپتالوں سے علاج کرانے کے پابند بنا دیا گیا۔ غرض زندگی کے کسی شعبہ میں وی آئی پی کا تصور موجود نہ رہنے دیا۔نیلسن منڈیلا کی سیاہ اور سفید فام باشندوں کے مابین مفاہمت کی اس پالیسی کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔نیلسن منڈیلا کے دور صدارت میں بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی اصلاحات ہوئیں۔نیلسن منڈیلا نے1995 ء میں ”ٹرتھ اینڈ ری کنسی لیشن کمیشن“ بنایا جو نسلی امتیاز کے تحت انسانی حقوق کی پامالی کی منصفانہ تحقیق کرتا اور متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرتا تھا۔نیلسن منڈیلا نے سیاہ فام باشندوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیئے تعلیم،صحت،اور معاشی ترقی کے لیئے موثر ترین اقدامات اٹھائے۔نیلسن منڈیلا کو جنوبی افریقہ کی دوسری مدت کے لیئے صدر بننے کی خواہش نہیں تھی۔اس لیئے نیلسن منڈیلا کی خواہش و اصرار پر اُن کی جگہ 1999 ء میں تھابو میبیکی کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ملکی صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے بعد نیلسن منڈیلا نے عملی سیاست سے بھی مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی،لیکن اُنہوں نے امن، مفاہمت اور سماجی انصاف کا پیامبر بن کر دنیا بھر میں اپنی خدمات بدستور جاری رکھیں۔نیلسن منڈیلا کا شمار بین الاقوامی تنظیم ”ایلڈر“ کے بانی ارکان میں بھی ہوتا ہے۔ عالمی رہنماؤں پر مشتمل اس تنظیم کا قیام 2007 ء میں عمل میں آیا جس کا مقصد دنیا بھر میں مسائل اور تنازعات کا پرامن طو ر پر حل تلاش کرنا ہے۔اپنی پہلی دہائی میں ایلڈر نے ناانصافی اور امتیازی سلوک جیسے فراموش کردہ مسائل کو اُجاگر کیا جن میں کم عمر شادیاں،ماحولیاتی آلودگی کے سدباب کے لیئے ہنگامی اقدام کے لیئے واضح مؤقف اور جنوبی سوڈان سے کوٹ ڈی آئیور تک تنازعات کے پُر امن تصفیے کے لیئے کام کرنا شامل تھا۔ رواں سال ایلڈر نے ”واک ٹو گیدر“(سب ساتھ چلو)کے عنوان سے ایک منفرد اقدام کا آغازکیا ہے۔جس کا مقصد امن،صحت،مساوات اور انصاف کے فروغ کے لیئے 100 اختراعی اور قابلِ عمل تجاویز کو اکٹھا کر کے نیلسن منڈیلا کی سوویں سالگرہ پر دنیا بھر کے عالمی رہنماؤں کے سامنے پیش کرنا ہے۔تاکہ آزاد اور عدل پر مبنی یہ خیالات دنیا بھر کی عوام کو مزید بااختیار بناسکیں جن کے لیئے نیلسن منڈیلا نے جدوجہد کی تھی۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی خدمات پر 250 سے زائد اعزازات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابل ذکر 1993 ء کا نوبل پرائز برائے امن ہے۔

دنیا کے اس عظیم رہنما نے 95 سال کی عمر میں 5 دسمبر 2013 ء کو انتقال کیا۔ان کے انتقال پر جنوبی افریقہ کے سفید فام بھی اتنے ہی دکھی اور صدمہ میں تھے جتنے سیاہ فام باشندے تھے۔حتی کہ دنیا بھر میں بھی ان کی موت کے غم کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔شاید یہ اس صدی کے واحد سیاسی رہنما تھے جن کے انتقال پر دنیا بھر میں بے شمار ممالک میں قومی پرچم سر نگوں کیئے گئے۔آج نیلسن منڈیلا اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن اُن کی عظیم و دلفریب داستانِ حیات یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر اقتدار کو عوام کی بہتری اور ان کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو زوال آشنا نہیں کر سکتی۔نیلسن منڈیلا نے ایک بار کہا تھا کہ ”انسان پیدائشی طور پر کسی سے نفرت نہیں کرتا،نفرت کرنا اُسے سکھایا جاتا ہے۔والدین سکھاتے ہیں،اسکول کی کتابیں سکھاتی ہیں،میڈیا سکھاتا ہے۔۔۔۔ ورنہ انسانی فطرت تو صرف محبت کرنا ہی ہے“۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 15 جولائی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں