Kashmir On Fire

مودی سیکھے گا سبق اور کتنی ذلتوں کے بعد

تھوتھا چنا ایک ایسے چنے کو کہا جاتاہے،جو اندر سے بالکل کھوکھلا ہوتا ہے۔’تھوتھا چنا“ دنیاکے ہر ملک میں،ہرجگہ کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے لیکن اس کی زیادہ تر کاشت ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ہوتی ہے، کیونکہ وہاں کی عوام اور حکمران یکساں طور پر”تھوتھے چنے“کے شیدائی ہیں۔یوں تو تاریخ کی نادر و نایاب کتابوں میں ”تھوتھے چنے“کے حوالے سے بے شمار محاورے جابجا رقم ملتے ہیں لیکن عوام میں سب سے زیادہ مقبول محاورہ ہے”تھوتھا چنا،باجے گھنا“۔جس کا سلیس اُردو زبان میں سادہ سا مطلب یہ ہے کہ”تھوتھا چنا“ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن بج بج کر شور بہت مچاتا ہے۔چونکہ آج کل اس”تھوتھے چنے“ کا ٹریڈ مارک ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے نام پر الاٹ ہے اس لیئے دنیا میں جس کسی فرد و بشر کو بھی”تھوتھے چنے“کی خصلتیں تفصیل سے ملاحظہ کرنی ہوتی ہیں وہ پڑوسی ملک جاکر وہاں کے وزیراعظم نریندر مودی کی ہمارے ملک کے خلاف کی جانے والی گفتگو اور بیانات سُن لیتا ہے جسے سننے کے بعد سننے والا بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے کہ واقعی ”تھوتھا چنا،باجے گھنا“۔ پلوامہ ڈرامے کے بعد نریندر مودی نے بھارتی میڈیا کی مدد سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیئے لیکن بدقسمتی سے یہ دعوے بھی ”تھوتھے چنے“ ہی ثابت ہوئے اور پاک فضائیہ کی ایک چھوٹی سی کارروائی کے بعد ”مودی سرکار“ کی حقیقت پسندی کا اِتنا بُرا حال ہوگیا ہے کہ اِس وقت اُنہیں اپنے ملک میں ہر دوسرا شخص پاکستان کا حمایتی یاپھر پاکستانی کی حساس سیکورٹی ایجنسی آئی ایس آئی کا ایجنٹ نظر آرہاہے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کوگزشتہ چند دنوں کے دوران پاکستان کی طرف سے کس کس محاذ اور کس کس مقام پر کتنی ذلت آمیز شکستیں چکھنے کو ملیں اُس کا شمار بھارتی عوام اور دنیا بھر کے میڈیا نے ابتدائی مرحلے میں کرنا شروع کردیاہے۔ غالب اِمکان یہ ہی ہے کہ ”مودی سرکار“ کی رسوائیوں کا شمار کرنے میں بھارتیوں کا کافی وقت لگے گا لیکن جوں جوں اُنہیں معلوم ہوتا جائے گا کہ پاکستانیوں نے من حیث القوم اُنہیں کس کس محاذ پر شکستِ فاش سے دوچار کیا ہے۔اُن میں اپنی ہزیمت و رسوائی کا احساس مزید بڑھے گااور ہم تو صرف اُمید ہی رکھ سکتے ہیں کہ شاید یہ ہی احساس اُنہیں سوچنے پر مجبور پر کردے کہ اُنہوں نے اپنی ملک کی زمامِ اقتدار ”نریندر مودی“ جیسے ایک جیسے جنونی شخص کے حوالے کیوں کی تھی۔

اگر شعور کی آنکھ سے دیکھا جائے تو سبق کچھ اِتنا چھوٹا سا بھی نہیں ہے، جو پاکستانی قوم نے بھارتیوں کو پڑھانے اور سکھانے کی کوشش کی ہے مگر یاد رہے کہ بھارتی قوم دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو عقل و شعور سے مکمل طور پر عاری ہے۔اِس لیئے ”چانکیہ کے چیلے“ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے محض اپنے دو طیاروں کی ہولناک تباہی یا ایک عدد بزدل پائلٹ ابھے نندن کی گرفتاری پر رام ہونے والے نہیں ہیں۔ بظاہر تواِس وقت پاکستانی شاہینوں کے خوف کے باعث اِن کے لبوں پر رام رام کا راگ ہلکا ہلکاسنائی دے رہاہے لیکن اندرونِ خانہ یہ ابھی بھی کسی ایسے”شاطرانہ موقع“ کی تلاش میں ضرور ہوں گے جس سے یہ اپنی بین الاقوامی ہزیمت کا بدلہ چکا سکیں۔ ایک بات تو پوری طرح سے صاف ہوگئی ہے کہ سینہ ٹھوک کر اور سامنے سے آکر جنگ کرنا ”چانکیہ کے چیلوں“ کے بس کی بات ہرگز نہیں ہے۔اِس لیئے شاطروں سے توقع یہ ہی کی جاسکتی ہے کہ زخم خوردہ بھارتی زعماء اپنی تاریخی روایت اور اپنے سیاسی گُرو کوتلیہ چانکیہ کے افکار کے عین مطابق کسی اخلاق سے گری ہوئی مذمومانہ حرکت کا ارتکاب کرنے کی کوشش ضرور کریں گے۔اِس لیئے وقت کی ضرورت ہے کہ ہم بہ طور پاکستانی من حیث القوم اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت بدستور ویسے ہی برقرار رکھیں جس قسم کے اتفاق کا مظاہرہ گزشتہ چند دنوں سے ہم نے پوری دنیا کو کر کے دکھادیاہے۔کیونکہ ابھی تک بھارتی جارحیت کا خطرہ پوری طرح سے ٹلا نہیں ہے۔ ہمارا دشمن ”نریندر مودی“ شدید زخم خوردہ حالت میں،انتہائی مایوسی و بے بسی کے عالم میں اپنے زخم چاٹ رہاہے اور روایتی میدان ِجنگ میں شکست کھانے کے بعدوہ ہم پر کسی غیر روایتی انداز میں بھی حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی بھی کرسکتاہے۔

بطورِ پاکستانی ہمارے لیئے سب سے زیادہ باعثِ اطمینان بات یہ ہے کہ ہماری افواج نے قومی اُمنگوں اور توقعات سے بھی کئی گنا بڑھ کر اپنی جنگی و عسکری قابلیت کا مظاہرہ کیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے جس طرح واشگاف لفظوں میں قوم کو یقین دلایا تھا کہ وہ دشمن کو اپنی صلاحیت سے حیران کردیں گے۔اپنے قول کے عین مطابق نہ صرف اُنہوں نے دشمن کو حیران و پریشان کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھارکھی بلکہ دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو بھی اپنی حربی و دفاعی صلاحیت سے ششدر کر کے رکھ دیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری مسلح افواج کی صلاحیتوں کا دشمن ملک کے عسکری ماہرین بھی کھلے دل سے اعتراف کر نے پر مجبور ہو گئے ہیں۔خاص طور پر جس طرح کی ذمہ دار ”جنگی رپورٹنگ“ کا مظاہرہ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے کیا گیا اُس پر وہ بلاشبہ خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں۔دل خوش ہوگیا تھا یہ جان کر کہ جس ملک کے ساتھ ہماری جنگ جاری ہے،اُس ملک کے عسکری ماہرین بھی افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے متعلق اپنے میڈیا پر یہ بات کہتے پائے گئے کہ ”ہمیں جنگی صورتحال سے متعلق اہم ترین اور مستند ترین خبریں فقط آئی ایس پی آر سے ہی سننے کو ملیں“۔ یعنی ہم نے صرف حربی محاذ پر ہی نہیں بلکہ اطلاعی محاذ پر بھی بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔اتنی ڈھیر ساری شکستوں کے بعد مودی سرکار کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ ہمارے اس ”تھوڑے سے سبق“ کو ہی زیادہ جانتے ہوئے راہِ راست پر آجائے وگر نہ اگلی بار ہم اُسے یہ موقع بھی نہیں دینے والے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور کے شمارہ 14 مارچ 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں