Narendar Modi in Worry Mode

مودی کی غلط فہمی کی قیمت بھارتی عوام چکائے گی

بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں فقط اتنی دیر تک ہی ٹہر سکے تھے جتنی دیر بھارتی سیکریٹری خارجہ اپنی پریس بریفنگ میں میڈیا کے سامنے ٹہر سکے یعنی صرف 3 منٹ اور 10 سیکنڈ۔اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ بھارتی طیارے پاک فضائیہ کے شاہینوں کے سامنے کس طرح سے دُم دبا کر بھاگے ہوں گے اُس کے لیئے بھی بھارتی سیکریٹری خارجہ کا پریس کانفرنس سے صحافیوں کے سوالوں کے ڈر سے دُم دبا کر بھاگنا ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔بھارتی طیاروں کا پاکستانی حدود میں داخل ہونا اگر بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فضائیہ کی اتنی ہی بڑی کامیابی تھی تو کیا اپنی اِ س کامیابی کی کھل کر دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے پیش کرنے کے لیئے بھارت کے چرب زبان زعماء کے پاس 21 منٹ بھی نہیں تھے۔ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں کسی مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے نہیں بلکہ پکنک منانے آئے ہوں اور اُن کا ”مطلوبہ ہدف“ کوئی چھوٹا سا ہدف تو ہوگا نہیں کیونکہ چھوٹا موٹا ہدف تو بھارتی افواج کی طرف سے دو چار میزائل وغیرہ پاکستانی سرزمین پر داغ کر بھی باآسانی حاصل کیا جاسکتاتھا۔یقینا کوئی ایسا بڑا ہدف مودی سرکار کے پیش نظر ضرور ہوگا جس کے لیئے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو پاکستان کے اندر داخل ہونے کے لیئے کہا گیا،شاید اُن کا خیال تھا کہ رات کو 3 بجے سارا پاکستان سویا ہوا ہوگا اور وہ اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر چُپ چاپ واپس اپنے ملک نکل جائیں گے اور پاکستان میں کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوگی لیکن دشمن ایک بات بھول گیا تھا کہ پاکستانی افواج زمانہ اَمن میں کبھی اپنے ازلی دشمن بھارت سے غافل نہیں رہی، اب تو ویسے ہی بھارت کی طرف سے جنگی حالات کا نقارہ بجایا جاچکا تھا۔پس بھارتی طیاروں کی پاکستانی سرحد میں گھسنے کی دیر تھی کہ پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی نے بھارت کے لیئے ”مخصوص ہدف“ کا حصول انتہائی ناممکن بنا کر نام نہاد بھارتی پائلٹوں کی بہادری کا سارا پول کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دیا۔

بھارت اِس بار خوش فہمی میں بہت ہی بڑی غلطی کر بیٹھا ہے اور اپنی اِس غلطی کی سنگینی کا احساس اب آہستہ آہستہ بھارت کو بھی بخوبی ہورہاہے۔ پاکستانی سیاسی و فوجی قیادت کے بروقت ردعمل کے بعد بھارت کی سیاسی و فوجی قیادت پر پوری طرح واضح ہو گیاہے کہ اُس نے اپنے ملک کے مستقبل کو مکمل طور پر تاریک کرنے کا اختیار و اجازت نامہ خودہی پاکستان کے ہاتھوں میں تھما دیا۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے اِس اعلان کے بعد کہ ہم بھارت میں اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر بھرپور جوابی کارروائی ایسے حیران کُن اندازمیں کریں گے کہ بھارت کی آنے والی سات نسلیں بھی یاد رکھیں گی کہ اُنہوں نے شاہینوں کے نشیمن میں داخلہ کی جسارت کیونکر کی تھی۔پاکستانی افواج کے ارادوں سے اِس وقت پورے بھارت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔پاکستانی افواج بھارتی نے بھارتی جنگی جنون کو نکیل ڈالنے اور اُن کی نام نہاد فلمی قسم کی فتح کا نشہ ہَرن کرنے کے لیئے ابتدائی مرحلہ کاآغاز بھارتی فضائیہ کے دو طیارے تباہ کر کے کر بھی دیا گیاہے۔ہماری طرف سے یہ ایک چھوٹی سی ابتداء ہے آگے آگے دیکھئے پاک فوج کے جری جوان بھارتی ا فوج کے ساتھ کیا کیا کچھ کرتے ہیں۔بھارت اِس بھول یا غلط فہمی میں نہ رہے کہ اُس کے سپاہیوں کا اُس وقت ہی شکار کیا جائے گا جب وہ پاکستانی حدودو میں داخل ہوں بلکہ اب اُسے تیار رہنا چاہئے کہ پاکستانی شاہین کسی بھی جگہ سے اور کسی بھی وقت بھارتی گدھوں پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔

ویسے بھی دنیا کی جنگی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں کبھی بھی محض عدد ی برتری سے نہیں جیتی جاسکتیں بلکہ جنگیں جیتنے کے لیئے ایک خاص جذبہ اور جنون کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ جذبہ ہے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جانِ آفریں کے سپرد کرنے کا حوصلہ رکھنا۔ساری دنیا جانتی ہے کہ ہماری افواج ”جذبہ شہادت“ سے پوری طرح لبریز ہے اور اگر معاملہ درپیش ہو بھارت سے جنگ کرنے کا تو ہماری افواج کے ہر سپاہی کا یہ جذبہ دو آتشہ ہوجاتاہے۔ہمارے نوجوان تو فوج میں بھرتی ہی اسی دن کے لیئے ہوتے ہیں کہ شاید اُنہیں کبھی بھارت کے خلاف لڑنے کا موقع میسر آسکے اور آج جب کہ یہ عظیم الشان موقع ہمارے نوجوان سپاہیوں کو مل ہی رہا ہے تو اُن کا جذبہ شہادت بھی دیدنی ہے۔صبح میری ایک دوست سے ملاقات ہوئی جس کے دو بھائی پاکستان آرمی میں ہیں۔ ایک پاکستان بری فوج میں ہے اور دوسرا پاکستان ائیر فورس میں۔میں نے اُس سے دریافت کیا کہ ”سناؤ فیصل اور سرفراز کی کیا خبر ہے؟“۔ اُس کا کہنا تھا کہ ”کل رات کو میری اپنے دونوں بھائیوں سے موبائل فون پر بات ہوئی ہے اور وہ بتا رہے تھے کہ بھائی جان ہم آپ کو لفظوں میں بتا نہیں سکتے کہ یہاں کیساجذبہ شہادت سے لبریز ایمانی ماحول ہے۔ہر سپاہی کی خواہش ہے کہ اُسے پر لگ جائیں اور وہ اُڑ کر بھارتی سورماؤں کے سامنے پہنچ کر اُنہیں اُن کی صحیح اوقات یاد دلادے“۔ میرے دوست کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”میں نے اپنے دونوں بھائیوں کو اتنا خوش آج سے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا“۔ اَ ب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ہمارے سپاہیوں کا اولین نصب العین ہی بھارتی افواج کو جہم واصل کرنا ہو تو پھر کون ہے جو بھارت کی مودی سرکار کو پاکستان کے غیض و غضب کا شکار ہونے سے بچاسکے۔
ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
جسے نشانے پر رکھیں بتا کے رکھتے ہیں

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور کے شمارہ 07 مارچ 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں