Asif Ali Zardari with Press

سندھ میں ممکنہ بڑی گرفتاریاں

کہتے ہیں کوئلہ کی دلالی میں ہاتھ ضرور کالے ہوتے ہیں لیکن اگر معاملہ ”کالے پیسہ“ کا ہوتو پھر آدمی کا سب کچھ ہی کالا سیاہ ہو کر رہ جاتا ہے۔شاید اسی لیئے دنیا بھر میں کالے پیسہ کو سفید کرنے کے لیئے منی لانڈرنگ کی ”معاشی سائنس“ کا استعمال کیا جاتا ہے۔مگر فکر کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں دیگر سائنسی علوم کی طرح یہ سائنس بھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کرپارہی ہے،جس کی وجہ سے کالے پیسہ کی منی لانڈرنگ نے پیسہ کو تو خیر سے کیا سفید کرنا تھا بلکہ اُلٹامنی لانڈرنگ اسکینڈل نے طبقہ اشرافیہ کے چہروں پر ہی کالک مل کر رکھ دی ہے۔افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ آج کل منی لانڈرنگ کی اِس کالک کو بھی طبقہ اشرافیہ کے نزدیک ایک ”سیاسی غازہ“ سمجھا جارہاہے، اور صبح و شام پاکستانی عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ منی لانڈرنگ اَب کوئی ایسا قابل ِ اعتراض جرم بھی نہیں کہ جس پر نقطہ اعتراض اُٹھایا جاسکے بلکہ یہ تو ایک ”آرٹ“ ہے۔ جسے کرنا امیروں کے لیئے ضروری اور اِسے برداشت کرنا غریبوں کے لیئے مجبوری ہے۔ویسے تو میاں محمد نواز شریف بھی منی لانڈرنگ کے ہلکے سے شائبہ کی وجہ سے ہی آج کل نا اہل ہوکر جیل میں تشریف فرما ہیں لیکن اس کے باجود جب بھی کوئی منی لانڈرنگ کا”ذکرِ شر“ کرتا تو نہ جانے کیوں سب پاکستانیوں کی نظریں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت پر ہی جاکر مرکوز ہوجاتی ہیں۔شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احتسابی اداروں کی طرف سے منی لانڈرنگ کرنے کے جن منفرد طریقوں کو اختیار کرنے کا الزام پیپلزپارٹی کی قیادت پر لگایا جاتارہا ہے۔اِن میں سے ایک بھی طریقہ میاں محمد نواز شریف کے پاس سے بھی ہوکر نہیں گزرا۔اگر میاں صاحب بھی زرداری صاحب کی طرح منی لانڈرنگ کا کوئی منفرد سا طریقہ اختیار کرلیتے تو شاید اتنی جلد ی نااہل ہوکر جیل جانے سے بچ جاتے۔مگر اَب پچھتائے کیا ہوت،جب چڑیا چُگ کئی کھیت۔

منی لانڈرنگ کیس کی سندھ سے اسلام آباد منتقلی کے بعد پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کافی زیادہ دباؤ میں نظر آرہی ہے، اور یہ دباؤ بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات سے صاف محسوس بھی کیا جاسکتاہے۔سیاسی بیانات سے تو یہ لگ رہا ہے کہ بلاول نے سیاسی میدان میں فرنٹ فٹ پر کھُل کر کھیلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آنے کے بعد سندھ کی نجی بیٹھکوں میں عام موضوع یہ ہی زیرِ بحث ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں بڑی گرفتاریاں مارچ میں ہوں گی یاپھر اپریل میں۔ شاید سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی بھی ذہنی پر طور پوری طرح تیار ہے کہ ایک سے زیادہ بڑی گرفتاریاں کبھی بھی اور کسی بھی وقت ہوسکتی ہیں۔لیکن 4اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے باعث پیپلزپارٹی کی یہ شدید خواہش ہے کہ کسی طرح یہ گرفتاریاں ماہِ اپریل کے آخر تک ٹل جائیں تاکہ ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ہونے والے سیاسی اجتماع پر منی لانڈرنگ کیس کے معاملہ کو سیاسی رنگ دے کر جیالوں کو حکومت کے خلاف کسی بڑی سیاسی تحریک کے لیئے مجتمع کیا جاسکے، یا اِس بڑے سیاسی اجتماع میں ایسی ذو معنی سیاسی تقریریں کی جائیں جن سے وفاقی حکومت اور احتساب کرنے والے اداروں کو دباؤ میں لیا جاسکے۔اگر یہ ”تقریری طریقے“ کارگر ثابت نہ ہوسکے تو پھر ممکنہ گرفتاریوں کے بعد حکومت کے خلاف بھرپور سیاسی تحریک چلانے کے لیئے بھی کئی حکمت عملیاں بھی سنجیدگی سے زیرِ غور ہیں۔اب تک چار مختلف احتجاجی طریقہ کار پر پورے شدومد کے ساتھ پیپلزپارٹی کے مختلف اجلاسوں میں بحث کی جاچکی ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے پرجوش رہنما جیل بھرو تحریک چلانے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔اس کے برعکس سینئررہنماؤں کی اکثریت کا خیال ہے کہ سندھ سے پنجاب یا پشاور تک ملین مارچ کر کے حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جائے۔جبکہ بعض رہنما حکومت کے خلاف احتجاجی ٹرین مارچ اور دھرنے کی بھی تجاویز دے رہے ہیں۔اگر پیپلزپارٹی کی سیاسی مشکلات کا درست معروضی جائزہ لیا جائے تو اِن تمام تجاویز میں سے سندھ سے پنجاب یا پھر پشاور تک ایک بڑا ملین مارچ کرنے کی تحریک چلانا زیادہ آسان اور قرین قیاس تجویز دکھائی دیتی ہے۔کیونکہ ایک بڑے احتجاجی ملین مارچ کی صورت میں پیپلزپارٹی اپنے کارکنان کو بھی زیادہ سے زیادہ متحرک کر سکے گی جبکہ ملک گیر احتجاج کے باعث سندھ حکومت بھی زیادہ دباؤ کا شکار نہیں ہوگی۔بصورت دیگردوسری تجاویز یعنی جیل بھرو تحریک یا دھرنے سے سندھ حکومت کی بقا کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں ممکنہ بڑی گرفتاریوں کے بعد پیپلزپارٹی کی طرف سے احتجاجی تحریک چلانے کے روشن اِمکانات اپنی جگہ پر مگر آغاسراج درانی کی گرفتاری کے بعد جس طرح کا”بودا“ سا احتجاجی ردعمل پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے کارکنان کی طرف سے دیا گیا تھا،اِس سے سنجیدہ سیاسی حلقے شدید تذبذب کا شکار ہیں کہ کیا پیپلزپارٹی سندھ حکومت کو داؤ پر لگا کر واقعی کوئی بہت بڑی ملک گیر سیاسی تحریک چلا بھی سکے گی یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا فی الحال کسی کے پاس بھی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔کیونکہ ایک بڑی احتجاجی تحریک سیاسی رہنماؤں سے زیادہ سیاسی کارکنان کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حالیہ قیادت گزشتہ کئی سالوں سے پرانے اور جانباز قسم کے جیالے کارکنان سے کافی فاصلے پر دکھائی دیتی ہے۔نظریاتی و تحریکی کارکنان سے روا رکھا جانے یہ ہی ”سیاسی فاصلہ“تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف کامیاب احتجاجی تحریک کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اگر بلاول بھٹو زرداری منی لانڈرنگ کیس میں ممکنہ احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کا آخری فیصلہ کرہی چکے ہیں تو اِس سے پہلے انہیں اپنے جیالے کارکنان کے ساتھ رابطوں کا کوئی نہ کوئی ایسا مؤثر راستہ یا پُل فوری طور پر ضرور تعمیر کرنا ہوگا۔جو پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت اور نظریاتی کارکنان کے درمیان برسوں سے حائل خلیج کو پاٹ سکے۔ بصورت دیگر پاکستان پیپلزپارٹی کا ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 28 مارچ 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں