Mustafa Kamal PSP

پاک سرزمین پارٹی کا نیا جنم

آخر کارڈپٹی میئر کراچی ارشد دہراکی صورت میں پاک سرزمین پارٹی کو اس سال کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی حاصل ہو ہی گئی۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے لندن سے علحیدگی اختیار کرنے کے بعدسیاسی حلقوں میں یہ چہ مہ گوئیاں ہونا شروع ہو گئی تھیں کہ شاید پاک سرزمین پارٹی کا سندھ میں سیاسی سفر اتنا ہی تھا اور اسے آئندہ کوئی بڑی سیاسی کامیابی میسر نہ آسکے، لیکن ارشد دہرا کی پاک سرزمین پارٹی میں انتہائی غیر متوقع شمولیت نے ان سب قیاس آرائیوں کو مکمل طور پر غلط ثابت کردیا اور مصطفی کمال نے اپنی اس بڑی سیاسی کامیابی سے سندھ کی سیاسی صورتحال میں دوبارہ سے باؤنس بیک کیا ہے۔اب لگ یہ رہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سندھ کے سیاسی منظر نامہ سے خاتمہ کا وقت واقعی ہی قریب آگیا ہے کیونکہ ارشد دہراکی پاک سرزمین پارٹی کی شمولیت کی خبر نے ایم کیوایم پاکستان کی صفوں میں ایسا بھونچال برپا کردیا ہے جس نے فاروق ستار کی اپنی پارٹی پر گرفت کی قلعی پوری طرح کھول کر رکھ دی ہے۔فاروق ستار سمیت ایم کیوایم پاکستان کی تمام مرکزی قیادت اس وقت یہ سمجھ ہی نہیں پارہی ہے کہ انہیں آخر اس ساری صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کونسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔پارٹی رہنماؤں کا ایک دوسرے پر بد اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص دوسرے سے عام سیاسی گفتگو کرتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتاکہ وہ اپنے جس ساتھی سے محو گفتگو ہے کہیں وہ صبح کو پاک سرزمین پارٹی کا ہی کارکن بننے کا اعلان نہ کردے۔ بظاہر اجلاسوں پر اجلاس ہو رہے ہیں لیکن اُن اجلاسوں میں فاروق ستار سمیت ایم کیوایم پاکستان کے کسی مرکزی رہنما کے پاس کرنے کے لیئے کام کی کوئی بات نہیں ہے۔



اب تو یہ بھی اطلاعات مل رہی ہیں ایم کیوایم پاکستان کی پوری پوری یونین کونسل کے ارکان ٹولیوں کی شکل میں پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کے لیئے پر تول رہے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم پاکستان نے فی الحال ڈپٹی میئر ارشد دہراکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کو خارج امکان قرار دے دیا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اُن کی طرف سے عجلت میں لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار نہ ہوجائے اور پھر انہیں مزید سیاسی ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے کیونکہ اگر ایسا کچھ واقعی ہو گیا تو پھر میئر کراچی وسیم اخترکے لیئے اپنے عہدہ پر برقرار رہنا مشکل ہوجائے گا یعنی سادہ لفظوں میں آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں اگر ایم کیوایم پاکستان نے ذرا بھی عجلت کا مظاہرہ کیا تو ارشد دہراکے خلاف آنے والی تحریک عدم اعتماد مئیر کراچی وسیم اختر کے لیئے بھی سیاسی موت کا باعث بن سکتی ہے۔اس لیئے گمان یہ ہی لگایا جا رہا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان اتنا بڑا رسک نہیں لے گی۔ کیونکہ مئیر کراچی وسیم اختر کا بھی ایم کیو ایم پاکستان میں ایک طاقت ور گروپ موجود ہے جس نے واضح کردیا ہے کہ اگر وسیم اختر کو مئیر کے عہدہ سے ہٹایا گیا تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ایم کیوایم پاکستان کے خیر باد کہہ دیں گے۔اس ساری صورتحال میں فاروق ستاربری طرح پھنس کر رہ گئے ہیں،اگر وہ ارشد دہرا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے تو اُس سے ایم کیوایم پاکستان چھوڑ کر جانے والے رہنماؤں اور کارکنان کو شہ ملے گی اور اگر کارروائی کرتے ہیں تو پھر وسیم اختر کو مئیر برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا یعنی ہر صورت میں ایم کیوایم پاکستان کو بڑا سیاسی دھچکہ لگنے کا قوی امکان ہے۔یعنی فاروق ستار کے لیئے اس وقت آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی کیفیت ہے۔

ایم کیوایم کی پوری سیاسی تاریخ میں اتنا زیادہ سیاسی دباؤ آج تک کبھی بھی مرکزی رہنماؤں پر نہیں گزرا،کیا ایم کیوایم پاکستان کی قیادت اس سیاسی دباؤ کو آنے والے دنوں میں بھی برداشت کر پائے گی؟یہ ایک ایسا سوال جس کا جواب اس وقت شاید خود ایم کیوایم پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کے پاس بھی نہیں ہے۔کراچی سے شروع ہونیوالاسیاسی وفاداریاں بدلنے والا طوفان سندھ کے دیگر شہری علاقوں یعنی جہاں جہاں ایم کیو ایم کی اکثریت ہے وہاں بھی پہنچ چکا ہے خاص طور پر حیدرآباد،نواب شاہ،سکھر اور میر پورخاص اس کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ان تمام شہروں میں ایم کیوایم پاکستان روز بہ روز سیاسی طور پر کمزور ہوتی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب پاک سر زمین پارٹی نے ان شہروں میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے ایم کیوایم پاکستان کے بڑے بڑے رہنماؤں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا ہے جس پر فی الحال کسی کی توجہ نہیں جارہی۔اس کی ایک تازہ مثال حیدرآباد ہے جو پاک سرزمین پارٹی کے اہم ترین رہنما انیس قائم خانی کی تمام تر سیاسی سرگرمیوں مرکز بنا ہوا ہے۔اُن کی بے پناہ سیاسی سرگرمیوں کی بدولت وہاں اس وقت تیزی کے ساتھ ایم کیوایم پاکستان کے کارکنان اور رہنما پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔خبریں یہ بھی گرم ہیں کہ بہت جلد سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی ایک نئے نام سے اپنی پارٹی کا باضابطہ اعلان کرنے جارہے ہیں۔اگر ایسا ہوگیا تو پھر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے لیئے اپنی سیاسی شناخت بھی برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 01 نومبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں