Farooq Sattar and Aamir Khan Photo

ایم کیو ایم اندرونی خلفشار کا شکار

انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی جہاں ملک بھر میں مختلف سیاسی جماعتیں آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور انتخابی اتحاد بنارہی ہیں وہیں ایم کیو ایم اس بات کے لیئے کوشاں ہے کسی طرح وہ اپنے تمام ڈھڑوں پر مشتمل ایک انتخابی اتحاد بنانے میں کامیاب ہوجائے۔ایسی ہی ایک ناکام کوشش ایم کیو ایم کے مختلف رہنماؤں کی طرف سے چاند رات پر بھی کی گئی۔ایم کیو ایم کے مختلف رہنماؤں کی طرف سے میڈیا کو عیدالفطر کے موقع پر ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی کے ایک ہونے کا اعلان کیا گیااور فاروق ستار اچانک اپنے تمام اختلافات بھلاکر بہادر آباد دفتر جا پہنچے۔ بہادرآباد آفس میں خالد مقبول صدیقی، فیصل سبزواری اور خواجہ اظہار سمیت دیگر رہنماؤں نے اُن کا استقبال کیا۔جس کے بعد سینئر رہنما ؤں کا اجلاس ہوا۔اجلاس کے بعد دونوں دھڑوں نے ایک بار پھر سے مل کر کام کرنے کا ا علان کر دیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے کہا کہ”ہمارے اس اتحاد کا مقصد ایم کیو ایم کو ہر حال میں ایک رکھنا مقصد ہے۔ ہم نے صرف الیکشن نہیں بلکہ اس کے بعد بھی ایک رہنا ہے۔ایم کیو ایم کے دھڑوں کو یکجا کرنے کے لیے چاند رات کے انتخاب کا مقصد عید پر خوشخبری اور عیدی دینا تھا“۔اس موقع پر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ”چاند رات پر چار چاند لگ گئے، عید کا مزا دوبالا ہو گیا۔ایم کیو ایم کسی ایک کی نہیں،سب کی ہے، ہم ایک ہیں،کسی فارمولے کی ضرورت نہیں،سازشیوں کا پتہ ہے۔ ہمارے دشمنوں کو چند ماہ میں ایم کیو ایم کی طاقت کا اندازہ ہوجائے گا۔ بہت سارے سوالوں کا ہم نے ملکر جواب دے دیا،باقی سوالوں کے جواب عید کے بعد دیں گے۔خلوص اور محنت کو دیکھتے ہوئے پارٹی ٹکٹ دیے جائیں گے“۔ لیکن ابھی اس اتحاد کی چھتری تلے کیئے گئے خوش کن اعلانا ت کوچند گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک بار پھر سے اختلافات کی خبریں سامنا آنا شروع ہوگئیں اور پی آئی بی گروپ کے لیبر ڈویژ ن کے انچارج کا شف انجینئر نے فو ری طو ر پر وڈیو پیغام جا ری کر دیا جس میں واضح طور اس اتحاد کی سختی مخالفت کی گئی اُن کا کہنا تھا کہ”اگرفا روق ستار بہادر آباد گر وپ کے ساتھ الیکشن لڑتے ہیں تو پھر ہم کسی صورت بھی فاروق ستار کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ بہادرآباد گروپ اپنے من پسند افراد کوٹکٹ جا ری کر رہا ہے اور یہ لو گ فا روق ستار کواستعمال کرنے کے لیے اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ فا روق ستار بھی چند ٹکٹو ں کے لیے بہادر آباد گر وپ کے ساتھ مل ر ہے ہیں اگر وہ ملے تو ہم ان کا ساتھ نہیں دینگے“۔ایم کیوایم کے عام کارکن بھی اس اعلان پر انتہائی بددل دکھائی دیتے ہیں اور حیدرآباد، میر پور خاص سمیت دیگر سند ھ کے شہر ی علاقوں میں بھی ایم کیوایم کے کارکنان نے فاروق ستار کے اس فیصلے پر چھوٹے بڑے احتجاج کی صورت میں شد ید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اکثر کارکنان کہتے دکھائی دیئے کہ اگر فاروق ستار بہادر آباد کے ساتھ الیکشن لڑیں گے تو وہ ان کا ساتھ نہیں دینگے۔دوسری جانب ذرا ئع پی آ ئی بی گر وپ کے مطابق اے پی ایم ایس او کے اکثر کارکنان نے بھی بہادر آباد کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی سخت مخالفت کردی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس اتحاد کی مخالفت میں کچھ ہی ایسی صورت حال بہادر آباد گروپ کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔بہادر آباد گروپ کی اکثریت بھی پی آئی بی گروپ کو دل سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ ذرائع کے کہنا ہے کہ بہادر آباد گر وپ میں موجود اعلیٰ قیادت نے بھی پی آ ئی بی گر وپ کے اہم رہنماؤں کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہادرآباد گر وپ انتخابی ٹکٹو ں کے حوالے اپنے تمام امیدوار فا ئنل کر چکی ہے لیکن فا روق ستار کی آمد کے بعد صورتحال تبد یل ہوئی ہے کیونکہ فا روق ستار نے بھی اپنے امیدوارو ں کی فہرست بہادر آبا دکو دے دی ہے۔بظاہر پی آئی بی گر وپ کے فا روق ستار سمیت چند افرادکو ٹکٹ ملنے کا امکان ہے لیکن 5 فر وری سے جن رہنما ؤں کے بہادر آباد گروپ کے رہنماؤ ں کے خلاف اشتعال انگیز بیانا ت تھے ان کو کسی بھی صورت ٹکٹ نہیں دیا جا ئے گا۔دونوں گر وپ کے مل بیٹھنے کے باجود ٹکٹوں کی تقسیم پراختلافات اب تک جوں کے توں برقرارہیں۔فا روق ستار کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیا دہ اپنے لو گوں کو ٹکٹ دلا سکیں لیکن بہادر آباد گر وپ نے الیکشن کی حکمت عملی بہت پہلے ہی مرتب کرلی ہے،جس میں پی آئی بی گروپ کے ارکان کو ٹکٹوں سے محروم رکھنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا۔جس پر اکثر سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ اگر بہادرآباد گروپ اپنے اسی موقف پر ڈٹا رہتا ہے تو قوی امکان ہے دونوں ڈھڑوں کے درمیان ایک بارپھر سے اختلا فات ہوسکتے ہیں اور یہ اختلافات ماضی کی بہ نسبت کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔ غالب امکان یہ ہے کہ جن رہنماؤں کو ٹکٹ نہیں ملیں گے وہ فاروق ستار سے علیحدگی کا اعلا ن کر دیں گے گو کہ فا روق ستار اپنے حلقہ احبا ب اور پی آ ئی بی گر وپ کے رہنما ؤں کو سمجھا نے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن ان کو شد ید مزاحمت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ چاند رات کو بھی فا روق ستار کو اپنے گروپ کی طرف سے بہادر آباد جا نے میں شد ید مشکلا ت کا سامنا کر نا پڑا تھا، جبکہ بہادر آباد گروپ کی طرف سے بھی ان کو اُس خوش دلی سے قبول نہیں کیا گیا جس کی فاروق ستار کی طرف سے توقع کی جارہی تھی۔جس کا ایک واضح ثبوت علی رضا عابد ی، عبد الوسیم، شیخ صلا ح الدین، نگہت شکیل، سمیت دیگر رہنما ؤں کے ٹکٹ کیلیے فا روق ستار کی درخواست تھی جو بہادرآباد گروپ کو پیش کی گئی تھی لیکن بہادر آباد گر وپ کی جانب سے تاحال کسی ایک کو بھی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔ایم کیوایم میں بپا ہونے والی اس تمام تر صورتحال پر پاک سرزمین پارٹی اپنی گہری نظریں جمائے بیٹھی ہے کیونکہ مصطفی کمال اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس بار جتنے بھی سیاسی پرندے ایم کیو ایم کی منڈیر سے اُڑیں گے وہ آخر کار پاک سرزمین پارٹی کی سیاسی مچان پر ہی آئیں گے،کہیں اور نہیں جائیں گے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور28 جون 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں