Farooq Sattar and Shahid Khaqan Abbasi

ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے تعلقات کا نیا دور

نواز شریف کی نااہلی اور نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نامزدگی کاسب سے زیادہ فائدہ ایم کیو ایم پاکستان کو ہواہے۔فاروق ستار اینڈ کمپنی جو کافی عرصہ سے سیاسی منظر نامہ سے تقریباً غائب ہی ہوگی تھی۔اب پھر سے سندھ کے سیاسی منظر نامہ پر اُبھرنا شروع ہوگئی ہے۔وزیراعظم کو حمایت کا ووٹ دینے کے لیئے فوری طور پر کیا کچھ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ہاتھ لگا، اُس کی مکمل تفصیلات تو آنے والے دنوں میں آہستہ آہستہ پتہ چلیں گی۔ لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اعتماد کا ووٹ دینے کے بعد فاروق ستار کی پراعتماد گفتگو سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سودا جو بھی طے پایا ہو،اُس میں زیادہ نفع ایم کیو ایم پاکستان کے حصہ میں ہی آیاہے۔

ایم کیو ایم پاکستان نئے وزیراعظم کو فی الحال اپنے لیئے کسی غیبی امداد سے کم نہیں سمجھ رہی۔اس لیئے فاروق ستار اینڈ کمپنی کی بھر پور کوشش ہے کہ اس آئے ہوئے موقع کو اب ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے اور جتنا سیاسی فائدہ نئے وزیراعظم سے حاصل کیا جاسکتا ہے وہ جلد از جلد حاصل کر لیا جائے۔سندھ میں اس نئی بنتی ہوئی سیاسی صورت حال میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ زبیر احمد کے سیاسی اختلافات بھی ایم کیوایم پاکستان کے لیئے خوب مدد گار ثابت ہورہے ہیں۔ زیادہ تر اطلاعات بھی یہ ہی آرہی ہیں کہ ایم کیوایم پاکستان اور مسلم لیگ (ن) سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف اتحاد کے لیئے پوری شد و مد کے ساتھ سرگرم ہوگئے ہیں۔اس مشترکہ سیاسی مہم جوئی کو شروع کرنے کے اہداف یہ ہیں کہ گورنر سندھ کے سیاسی اثرورسوخ کو استعمال میں لاتے ہوئے پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری سے ناراض تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے لیکن ایم کیوایم پاکستان کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ عجلت میں پیپلزپارٹی مخالف اتحاد بنانے کے بجائے،مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنے تعلقات کی مزید بہتری اور مضبوطی کے لیئے اپنے تمام مطالبات کی منظوری تک انتظار کیاجائے۔ایم کیوایم پاکستان نے نئے وزیراعظم کے سامنے اپنے چار اہم ترین مطالبات رکھے ہیں جن میں کراچی سمیت سندھ کے تمام شہری علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیئے متحدہ کے تمام اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ ز فوری طور پر جاری کرنے،گرفتار کارکنوں کے رہائی کے لیئے خصوصی امدادکرنے،پاک سرزمین پارٹی کے مقابلے میں وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ بھر میں خصوصی سیاسی حمایت کرنے اور ایک سال سے بند تمام دفاترفوری طور پر کھولنے کے مطالبات شامل ہیں۔دو مطالبات جن میں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی اور پاک سرزمین پارٹی کے مقابلے میں سیاسی حمایت کے لیئے گورنر سندھ کو گرین سگنل دے دیا گیا ہے۔اور باقی دو مطالبات کے لیئے نئے وزیراعظم کی طرف سے کچھ وقت مانگاگیا ہے۔

ایم کیوایم پاکستان اور مسلم لیگ(ن) کے سیاسی تعلقات کے اس نئے آغاز کے بعد سندھ کی سیاست میں زلزلہ آگیا ہے۔کیونکہ گورنر سندھ کی طرف سے فاروق ستار کو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر ایم کیوایم پاکستان نے سندھ میں پیپلزپارٹی کو ذرا بھی مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا تو پھر ایم کیوایم کو وفاقی کابینہ میں اہم ترین وزارتوں کے ساتھ یقینی طور پر شامل کر لیا جائے گا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن)،ایم کیوایم پاکستان کے مطالبات پر من و عن عمل شروع کر دیتی ہے تو پھر آئندہ انتخابات میں دونوں جماعتوں کے درمیان ایک وسیع تر انتخابی اتحاد کے امکانات یقینی ہیں۔جس سے سندھ کے شہری علاقوں میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو شدید مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم پاکستان کا اچھا خاصا ووٹ بنک بہرحال اب بھی موجود ہے۔جس سے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے لیئے کافی سیاسی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔جس کا بروقت اندازہ شاید پیپلزپارٹی نے بھی لگا لیا ہے، پیپلزپارٹی کے حلقوں کی طرف سے مصدقہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتحال کا بھرپور مقابلہ کرنے اور نئی سیاسی صف بندی تشکیل دینے کے لیئے پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی قائد سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے عید سے تین روز قبل وطن واپسی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔آصف علی زرداری نے مائنس ون فارمولے سے خود کو بچانے کے لیے بلاول بھٹو زرداری کو فرنٹ سیٹ پر اورمحترمہ آصفہ بھٹو زرداری کو بلاول کے ساتھ والی سیاسی سیٹ پر بٹھانے کا پروگرام بنا لیا ہے۔آصف علی زرداری کا خیال ہے کہ سندھ کی سیاست میں بلاول کے ساتھ اُس کی بہن محترمہ آصفہ بھٹو زرداری اگلے الیکشن میں مخالفین کے لیئے ایک سرپرائز پیکچ ثابت ہو سکتی ہیں۔جس کا ایک ہلکاسا اندازہ محترمہ آصفہ بھٹو کے جشن آزادی کی تیاریوں کے سلسلے میں لیاری کے اچانک دورے میں ہو بھی گیا ہے۔ لیاری میں محترمہ آصفہ بھٹو نے نوجوانوں میں پاکستان کے پرچم تقسیم کیئے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کیئے تو وہاں موجود حاضرین کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے لیاری میں محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) خود آگئی ہیں۔وفورِ جذبات سے وہاں موجود اکثر حاضرین آبدیدہ بھی ہوگئے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی سندھ کی سیاسی بساط پر کس طرح اپنی سیاسی چالوں کو ترتیب دیتی ہے۔اگر پیپلزپارٹی نے اپنی سیاسی بساط پر اہم ترین مہروں کا کردار بے نظیر بھٹو (شہید) کے بچوں کو دیا تو پھر پیپلزپارٹی سندھ میں کسی بہت بڑے سیاسی نقصان سے باآسانی اپنے آپ کو بچا سکتی ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں پیپلزپارٹی مخالف سیاسی قوتیں آئندہ انتخابات میں سندھ کے بڑے بڑے سیاسی قلعے فتح کرنے کی پوزیشن میں آسکتیں ہیں۔ اب فیصلہ بہر حال آصف علی زرداری نے ہی کرنا ہے کہ سیاست کے اس کھیل میں اُنہیں آل آؤٹ جانا ہے یا پھر میاں محمد نوازشریف کی طرح آؤٹ ہو کر جانا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 17 اگست 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں