Khalid Maqbool in Press Meeting

ایم کیو ایم پھر ٹوٹ گئی

سینٹ انتخابات کا مرحلہ قریب آتے ہی توقع کے عین مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کامران ٹیسوری کو سینیٹر بنانے کے معاملے پر ایم کیوایم پاکستان شدید ترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے اور فاروق ستار کی قیادت پر ایک بار پھر سے سوالیہ نشان کھڑا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔جس سے عام کارکنان کی توجہ ہٹانے کے لئے فاروق ستار نے اپنے سابقہ پیشرو الطاف حسین کی طرز پر منانے اور ناراض ہونے کے ”سپر ہٹ ڈرامہ سیریل“ کا سیزن 2 شروع کردیا ہے،لیکن اس بار یہ ڈرامہ نہ صرف عام عوام بلکہ میڈیا کی بھی بھرپور توجہ اپنی جانب کھینچنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔اس لیئے فاروق ستار اینڈ کمپنی کے درمیان صلاح مشورہ جاری ہے کہ کیا مزید ایسا نیا اور چونکادینے والا کام کیا جائے جس سے وہ عام کارکنوں کی ہمدردیاں اپنی جانب سمیٹ سکیں تاکہ جذباتی ماحول بنا کر ایم کیو ایم پاکستان کو مزید دھڑوں میں تقسیم ہونے سے روکا جاسکے،مگر حالات و واقعات جس سمت اشارہ کررہے ہیں اُ ن کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے لیئے دھڑے بندی کے بحران سے نکلنا اتنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔

میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق بظاہر معاملہ پارٹی کے ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کی وجہ سے خراب ہوا ہے،لیکن حقیقت میڈیا میں پیش کی جانے والی صورت حال سے یکسر مختلف ہے کیونکہ وجہ تنازعہ کامران ٹیسوری نہیں ہے بلکہ اصل لڑائی ایم کیوایم کے دو ہیوی ویٹ رہنماؤ ں فاروق ستار اور عامر خان کے درمیان ہے،جس میں کامران ٹیسور ی کو صرف ایک پیادہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔جس کا اندازہ فاروق ستار کی پریس کانفرنس سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ”میں جانتا ہوں کہ کس نے،رہنماؤں کو دھوکا دے کر میرے نام سے بہاد آباد پر بلایا ہے، جس بات کو ایشو بنایا جارہا ہے وہ اصل ایشو نہیں ہے، 15 ماہ سے مجھے ہر فیصلہ کرنے میں لوگوں کی منت سماجت کرنی پڑے تو کیسی سربراہی؟ اگر آپ لوگوں کو کوئی اور سربراہ منتخب کرنا ہے تو بتادیں۔لیکن اصل ایشو یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو ایسا سربراہ چاہیے جو ڈمی ہو۔ انہیں ایسا سربراہ نہیں چاہیے جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے، کامران ٹیسوری کو 6 ماہ کے لیے کیوں معطل کردیا گیا؟ اس طرح سے میں پارٹی کو نہیں چلاسکتا، مجھے فیصلوں کا اختیار درکار ہے اگر مجھے سربراہ بنایا جارہا ہے تو فیصلوں میں میری حکمت کو بھی سمجھا جائے اگر میرے فیصلوں میں حکمت نہیں تو مجھے سربراہ ہونا ہی نہیں چاہیے۔ رابطہ کمیٹی کے کچھ اراکین نے مجھے دکھانے کے لیئے جو پریس کانفرنس کی ہے وہ تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک اور بڑی خلاف ورزی انہوں نے یہ کی کہ انہوں نے میری اجازت اور بار بار منع کرنے کے باوجود بہادر آباد پر اجلاس بلایا، پارٹی کے دستور کے مطابق یہ غیر آئینی اجلاس ہے کیوں کہ یہ اجلاس منعقد ہو ہی نہیں سکتا اگر میں منع کردوں۔اگر دشمنوں میں ہمت ہے تو وہ سامنے آئیں،چھپ چھپ کر وار کیوں کرتے ہو۔ ایک جلسہ آپ کریں اور ایک جلسہ میں، آپ نشتر پارک میں کریں اور ایک جلسہ میں مزار قائد پر، میں سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ بھلے ہی میرے ساتھ صرف دو افراد رہ جائیں لیکن میں ایسی سربراہی قبول نہیں کروں گا جس میں مجھے باربار لوگوں کی منتیں کرنی پڑیں، اگر پارٹی میں نااتفاقی تھی تو بیٹھ کر بات کی جاسکتی تھی نہ کہ اس طرح اجلاس بلا کر میڈیا پر اعلانات کردیے جائیں، یہ جو کچھ ٹی وی اسکرین پر نظر آرہا ہے وہ ایک فیصلے کی نہیں بلکہ 15 ماہ پر محیط ایک طویل کہانی ہے“۔فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ”میں اب بلیک میل ہونا نہیں چاہتا، میری شرافت کو میری کمزوری نہ سمجھا جائے،اگر کارکنوں کو ان کے ساتھ جانا ہے جنہوں نے پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی اور بڑے فیصلے کیے تو یہ میری سربراہی پر سوال ہے، یہ مجھ پر عدم اعتماد ہے، سینیٹ کے ٹکٹوں کا فیصلہ بعد کی بات ہے لیکن پہلے مجھے یہ بات بتائی جائے کہ میرے علم میں لائے بغیر کامران ٹیسوری کی معطلی کیوں کی گئی، سینیٹ کا الیکشن جسے لڑنا ہے لڑ لے مجھے پارٹی بچانی ہے، مجھ پر ہر روز سوال اٹھائے جاتے ہیں، میری اہلیت پر سوال کیا جاتا ہے اس لیے کہ میمن بچہ ہوں؟ 1998ء میں حقیقی بن گئی تھی لیکن 2018ء میں حقیقی بننے نہیں دوں گا۔ ایسا نہیں کہ کامران کا نام زیر غور نہیں تھا بلکہ سینیٹ کے امیدواروں میں کامران کا نام آچکا تھا، چوتھی سیٹ پر مقابلہ تھا تو شبیر قائم خانی نے اختیار مجھے دیا کہ آپ جسے چاہیں منتخب کرلیں۔ جب میں نے انتخاب کر لیا تو مجھے نیچا دکھانے کے لیئے معاملہ کو میڈیا میں اُچھالا جارہا ہے“۔ فاروق ستار کی طرف سے کی گئی ان باتوں سے ایم کیوایم پاکستان کی شکست ور ریخت تمام کہانی کو بخوبی سمجھا جاسکتاہے۔اس موقع پر پاک سرزمین کہاں خاموش رہنے والی تھی،پی ایس پی کے رہنما رضاہارون نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کی تمام مرکزی قیادت کے بخیئے اُڈھیڑ کر رکھ دئیے ہیں۔پی ایس پی رہنما رضا ہارون نے کہنا ہے کہ”ایم کیو ایم کا چہرہ گھناؤنے طریقے سے سامنے آیا، لڑائی کراچی کے مسائل پر نہیں بلکہ سینیٹ ٹکٹ پر ہو رہی ہے، لڑائی اس بات پر ہو رہی ہے کہ چوتھا ٹکٹ کس کو دیا جائے۔ فاروق ستار جس ایم کیو ایم کی بات کرتے ہیں وہ ختم ہو چکی ہے، فاروق ستار کا کردار کرکٹ میچ کے 12 ویں کھلاڑی والاہے، 12 واں کھلاڑی کیسے کپتان بن سکتا ہے؟۔ انہوں نے کہا جن لوگوں کو سینٹ کے ٹکٹ نہیں ملے انہیں پی ایس پی میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں، یہ جماعت ایک ٹکٹ پر ہاتھا پائی تک جاسکتی ہے تو عام انتخابات میں سیکڑوں ٹکٹ بانٹنے ہیں، عام انتخابات میں ٹکٹوں کیلئے تو یہ ایک دوسرے کے گلے کاٹیں گے“۔

کراچی کا مینڈیٹ لینے والوں کا اختلاف، مینڈیٹ دینے والوں کیلئے سوالیہ نشان بن گیا ہے، ابھی بلدیاتی نمائندوں کی عدم کارکردگی کا کچرا صاف نہیں ہوا تھا کہ نیا نیا گند سامنے آنا شروع ہوگیا۔کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایم کیو ایم پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ جب پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں سینٹ الیکشن میں جوڑ توڑ میں مصروف ہوں گی،اُس وقت ایم کیوایم تو ڑ پھوڑ کے مرحلے سے گزر رہی ہوگی۔ایم کیو ایم کا ووٹر زسوچ رہا ہے کہ کیایہ نیا اختلاف ایم کیو ایم کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا؟ کیا ایم کیوایم تاش کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے بکھر جائے گی؟ یا پھر اس سیاسی فلم کے عین اختتام پر امی جان اور بھابھی جان کی انٹری ڈال کر فلم کو مکمل طور پر فلاپ ہونے سے بچایا جائے گا؟ پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 15 فروری 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں