Molana Dr Aadil Khan Death

تتلی کی موت اصل میں پھولوں کی موت ہے

جس دوران وفاق اور سندھ حکومت کے مابین کراچی کے پرکشش ساحلی جزیروں پر حق ملکیت کے حصول کے لیئے ”سیاسی جنگ“جاری تھی۔عین اُسی وقت ملک دشمن عناصر نے وطنِ عزیزپاکستان کے ایک نامور عالم دین اور جامعہ فاروقیہ کراچی کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ان کے ڈرائیور سمیت ایک ٹارگٹڈ حملے میں شہید کردیا۔جیسا کہ حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ”موت العالِم،موت العالَم“ یعنی ایک عالم کی موت تمام زمانے کی موت ہوتی ہے۔لہٰذا دہشت گردی کی اس الم ناک کارروائی نے دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کو انتہائی رنج و صدمہ میں مبتلاء کردیا لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ سانحہ بھی ہمارے ملک میں جاری ”سیاسی جنگ“ کے لیئے وجہ تعطل یعنی سیز فائر کا باعث نہیں بن سکا۔ہاں! اتنا ضرور ہوا کہ بس ایک دن کے لیئے مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے متعلق سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے وزراء کی جانب سے معمول کے تعزیتی بیانات جاری کئے گئے اور اگلے دن پھر سے سب اہلِ سیاست اپنی اپنی ”سیاسی دُکانداری“چمکانے میں مصروف ہوگئے۔ بظاہر مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے واقعہ کا ملک میں جاری غیرمعمولی اور جارحانہ سیاسی کشمکش سے براہ راست کوئی تعلق تو نہیں بنتا مگر پھر بھی یہ کہنا عین قرین قیاس ہوگا کہ اہلِ سیاست کی کبھی نہ ختم ہونے والی آپس کی ”معاندانہ چپقلس“ نے ملک دشمنوں کوایک آسان اور سنہری موقع ضرور مہیا کیا ہے کہ جس کا فائدہ اُٹھا کر مولانا ڈاکٹر عادل خان جیسی صلح جواور امن کی داعی شخصیت کو ایک دہشت گردی کی کارروائی میں شہید کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: آہ محمد رمضان۔۔۔! یہ کس مقام پر سوجھی تجھے بچھڑنے کی

واضح رہے کہ ڈاکٹر عادل خان کی شہادت ملک میں بالعموم اور شہر کراچی میں بالخصوص فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی ایک جامع سازش ہے۔جس کے تانے بانے براہ راست بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ جا ملتے ہیں۔کیونکہ بھارت کی شدید ترین خواہش ہے کہ آنے والے ایام میں پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات کی آگ پر سیاسی احتجاج کا تیل چھڑ کر بدامنی کے شعلوں کو اتنا زیادہ بڑھاوا دے دیا جائے کہ دنیا ایک بار پھر سے ریاستِ پاکستان کے پرامن چہرے پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے پر مجبور ہوجائے۔جبکہ ہمارے اس اندیشہ کو تقویت پہنچانے والے چند واضح اشارے ابھی سے موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔اگر ان رموز کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو منکشف ہوتا ہے کہ بعض بدطینت افراد کی جانب سے ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے واقعہ کو بنیاد بناکر ملک بھر میں فرقہ ورانہ فسادت کی آگ بھڑکانے کی بھرپور عملی کوششوں کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اہلسنّت والجماعت پاکستان کے صدر علامہ اورنگزیب فاروقی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”وفاقی حکومت سمیت پاکستان کی تمام ایجنسیز 24 گھنٹے کے اندر مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے منظر عام پر لائیں۔بصورت دیگر ملک بھر میں شدید ترین احتجاج کیا جائے گا“۔کی بعض شر پسند عناصر کی جانب سے مختلف تاویلیں اور تشریحات کرکے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جیسے اگر دی گئی مقررہ ڈیڈ لائن تک مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا توملک بھر میں نظامِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ پروان چڑھنے والے اس منفی تاثر کی جلد ازجلد نفی ہونا ازحد ضروری ہے۔ وگرنہ ذرا سی بداحتیاطی کسی مزید الم ناک حادثہ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔

اس لیئے ہماری اہلسنت و الجماعت کی قیادت سے مخلصانہ گزارش ہے کہ مولانا ڈکٹر عادل خان شہید کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیئے اپنا احتجاج حکومتی ایوانوں تک پہنچانے کے لیئے وہ ہی مستحسن رویہ اور طرز عمل اختیار کیا جائے۔جس کے داعی اور علم بردار خود مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید اپنی ساری زندگی رہے ہیں۔مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید علمائے حق کے اُس قبیلہ کے سرخیل تھے، جسے گزشتہ چند برسوں میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنا یا گیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ فرقہ ورانہ فسادات کے شعلوں پر پانی ڈالنے کو ہی اپنی اولین ترجیح بنائے رکھا۔ کیونکہ مولانا بخوبی جانتے تھے کہ دہشت گروں کے مذموم عزائم ایک عالم کو قتل کرنے کے بعد ختم نہیں ہوجاتے بلکہ شروع ہوتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے اپنے کئی محترم اساتذہ اور ہردلعزیز شاگردوں کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اُتارنے کے بعدبھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔انہوں نے اپنے متعلقین کودہشت گردی کے ہراندوہ ناک سانحہ کے بعد مذہبی رواداری کی فضا برقرار رکھنے کی ہی تلقین ہی کی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اپنی زندگی کی آخری تقریر میں بھی انہوں نے ملک میں جاری حالیہ فرقہ وارانہ فسادت پھیلانے کی کوششوں کو صبر،تحمل اور مذہبی ہم آہنگی کے ہتھیار سے ناکام بنانے پر ہی زور دیا تھا۔ مولانا ڈاکٹر عادل خان صحیح معنوں میں دہشت گردی کی مشکل ترین سائنس کو سمجھنے والے ایک باعمل عالم دین تھے۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک دشمن عناصر آہستہ آہستہ ایسے تمام اعتدال پسند علمائے حق کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے چلے جارہے ہیں۔جو اپنی علمی، فکری اور عملی کاوشوں سے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے حوالے سے خصوصی شناخت کے حامل ہیں۔چند برس قبل دہشت گردوں نے ہم سے جامعہ نعیمیہ کے مہتمم مفتی ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہید کو چھین لیا تھا اور اَب کی بار مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ہم سے دُور کردیا۔ یہ دونوں علمائے کرام مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا ایک استعارہ تھے۔ان عظیم علمی وفکری شخصیات کے بچھڑنے کا غم اپنی جگہ مگر دوسری جانب ایک بہت بڑا دُکھ اور المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اہلِ سیاست کو احساس ہی نہیں کہ اعتدال پسند علمائے کرام کا ایک ایک کرکے دہشت گردی کا شکار ہو کر رخصت ہوجانا،مستقبل میں ریاستِ پاکستان کے لیئے کس قدر سنگین خطرات اور مشکلات کا باعث بن سکتاہے۔ ہمارے سیاسی قائدین کو جتنی فکر اور پریشانی اپنی کرپشن زدہ سیاست کو بچانے کی لاحق ہے، کاش! اتنی ہی لگن ریاست کو بچانے کی بھی ہوتی۔کیونکہ بقول شاعر
ماحول کی حفاظتیں لازم ہے دوستو!
تتلی کی موت،اصل میں پھولوں کی موت ہے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 15 اکتوبر 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں