Capital Hill USA Under the Attack

مشن کیپیٹل ہل اِمپاسیبل

کچھ کچھ اندیشہ تو دنیا بھر میں سب ہی کو تھا لیکن پختہ یقین شاید ہی کسی کو ہو کہ متحدہ ہائے امریکا میں منتقلی اقتدار سے چند روز قبل پرتشدد فسادات امریکی پارلیمنٹ کیپیٹل ہل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔واضح رہے کہ کیپیٹل ہل امریکی دارلحکومت کی وہ اہم ترین ریاستی عمارت ہے،جسے صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی جمہوریت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتاہے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کر کے ساری دنیا کی جمہوریت کو یرغمال بنانے کی خطرناک کوشش کی ہے۔جبکہ جس آسانی اور سہولت سے مظاہرین نے امریکی پارلیمنٹ کو اپنے قبضہ میں لے لیا،اُس سے امریکی نظام ہائے حکومت کے جملہ اداروں کی”انتظامی اہلیت“ پر بھی سنگین سوالات اُٹھتے ہیں۔کیونکہ جس منظم انداز میں مظاہرین نے کیپیٹل ہل پردھاوا بولا،اُسے صرف ایک”سیاسی حادثہ“ قرار دے کر ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: ہائے امریکا، بائے امریکا

نیز امریکی پارلیمنٹ پر حملے کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہماری نگاہوں کے سامنے ہالی وڈ کی ایکشن سے بھرپور ایک ایسی فلم چل رہی ہے،جسے کسی مشاق اسکرپٹ رائٹر سے لکھوایا اور ماہر فلم ڈائریکٹر سے عکس بندکروایا گیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق کیپیٹل ہل پر حملے کے لیئے جن مناسب لمحات کا انتخاب کیا گیا،اُس وقت نائب امریکی صدر مائیک پینس کی سربراہی میں نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں جیت کی باقاعدہ تصدیق کے لیے کانگریس اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا کہ اچانک سے پردہ اُٹھتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی نیلے پرچم اٹھائے ایک ہجوم کی شکل میں کیپٹل ہل کے باہر رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔

یہاں سے فلم کا دوسرا منظر شروع ہوتاہے اور مظاہرین کیپیٹل ہل کی ہرایک شئے پر پوری طرح سے قابض ہوجاتے ہیں صرف یہ ہی نہیں بلکہ ٹرمپ کا ایک حامی تو سینیٹ کے مرکزی ہال میں موجود ڈائس پر چڑھ کر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کا دعویٰ بھی کردیتاہے۔ مظاہرین کے شدتِ جذبات اوراُن کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے عمارت کے ایک کمرے میں جاری سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا مشترکہ اجلاس کچھ وقت کے لیے معطل کردیا جاتاہے۔یہ ہی وہ وقت ہوتا ہے جب پولیس ایکشن میں آتی ہے اور ارکان کانگریس کو اپنے گھیرے میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کرنا شروع کردیتی ہے۔جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کی عمارت کے اندر ہی مڈبھیڑ ہوجاتی ہے۔پولیس اپنے بچاؤ اور مظاہرین کو کیپیٹل ہل سے نکالنے کے لیئے مظاہرین پر شیلنگ کرنا شروع کر دیتی ہے۔جواب میں مظاہرین کی طرف سے بھی زبردست مزاحمت کے پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں صرف کیپیٹل ہل کے اندر اور اس کے اطراف میں کم ازکم 4 افراد ہلاک اور 52 سے زائد افراد گرفتار کرلیئے جاتے ہیں۔جبکہ شہر بھر میں پھیلے ہوئے مظاہرین پر قابو پانے کے لیئے واشنگٹن اور دیگر ریاستوں سے فوری طور پر نیشنل گارڈ کے دستے بلا کر دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیاجاتاہے۔مگر یہ سارے اقدامات بھی فی الحال ناکافی ہی سمجھئے کیونکہ ٹرمپ کے حامی کسی بھی صورت مظاہروں سے باز نہیں آرہے ہیں اور جب جب،جہاں جہاں اُنہیں موقع میسر آرہا ہے،وہ ہنگامہ آرائی کرنا شروع کردیتے ہیں۔دراصل ٹرمپ کے حامی مختلف ریاستوں سے بطور خاص دارلحکومت آئے ہی فقط اس نیت سے ہیں کہ وہ اَب جوزف بائیڈن کی جیت کا فیصلہ کالعدم کرواکر ہی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔

لیکن تمام ترپرتشدد مظاہروں کے باوجود بھی مظاہرین کی دلی خواہش پوری نہیں ہوپاتی اور باالآخر ارکانِ کانگریس جوبائیڈن کی نئے امریکی صدر بن جانے کی قانونی و سرکاری تصدیق کردیتے ہیں۔جس کے بعد نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن احتجاجی صورتحال پر اپنا پہلا مختصر خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ”آج کا دن امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، مظاہرین نے ووٹ کا تقدس پامال کیا، دارالحکومت میں پرتشدد مظاہرہ ہماری جمہوریت پر حملہ ہے، آج کے واقعے سے دکھ ہوا، امریکی جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے، انتہا پسندوں کی ایک چھوٹی سی جماعت لاقانونیت پھیلا رہی ہے، کیپٹل ہل کے باہر پرتشدد مظاہرہ امریکی جمہوریت کاعکاس نہیں، پرامن رہیں اور قانون کا احترام کریں، ٹرمپ نیشنل ٹی وی پرحامیوں سے مظاہرہ ختم کرنیکا کہیں“۔نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کے خطاب کے فوراً بعد امریکی صدر ٹرمپ بھی اپنے حامیوں سے احتجاج ختم کرنیکی اپیل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”مجھے اپنے حامیوں سے پیارہے، لیکن اُن سے گزارش ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں،اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں“۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ایک بیان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ امریکی کانگریس کی عمارت پر اپنے حامیوں کے بلوے سے پیدا ہونے والی قانونی پیچیدگیوں اور مقتدر حلقوں کی جانب سے مواخذے کے مطالبے سے خوف زدہ ہو کر ٹرمپ نے بالآخر پہلی بار، باضابط طور پر اپنی شکست بھی تسلیم کرلی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے قومی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ”نومنتخب حکومت 20 جنوری کو حلف اٹھائے گی جس کے لیے میری ساری توجہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر اقتدار کی منتقلی پر ہو گی“۔جبکہ مقتدر حلقوں کی جانب سے انتقال اقتدار میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے پر صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ بھی کیا جارہاہے۔ غالب امکان یہ ہی ہے کہ جلد یا بدیر بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کے کٹہرے میں بھی کھڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر دنیا کی عظیم ترین امریکی ریاست زوال کے اس آخری مقام تک کیسے پہنچی؟کہ دنیا بھر کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے منتقلی اقتدار کے ایک چھوٹے سے فیصلے میں اُلجھ کر اوندھے منہ گر پڑے اور دنیا کی دیگر ریاستوں میں ”بنانا ری پبلک“کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے والوں کو آج خود”بنانا ری پبلک“کے طعنے خاموشی سے سننے پڑرہے ہیں۔ یہ اور اس جیسے کئی سوالات ایسے ہیں جن کے تسلی بخش جوابات تلاش کیئے بغیر امریکی ریاست کی عزت و توقیر عالمی سطح پر کبھی بھی دوبارہ بحال نہیں کی ہوسکے گی۔

دراصل کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے نے دنیا بھر کے سامنے ایک کمزور اور نااہل امریکی ریاست کا تصور اُجاگر کیا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر امریکی پارلیمان پر ہونے والے حملے کو پاکستان میں ہونے والی وقتاً فوقتاً سیاسی کشیدگی سے مشابہ قرار دے امریکی ریاست کی خوب بھد اُڑائی جارہی ہے۔ جبکہ بعض سنجیدہ سیاسی حلقوں میں یہ بھی بحث جارہی ہے کہ کیا امریکا داخلی طور پر واقعی اتنا کمزور اور شکست خورہ ہوچکا ہے کہ غیر مسلح مظاہرین کا ایک چھوٹا گروہ جس وقت چاہے،امریکی پارلیمنٹ پر قبضہ کرلے۔ کچھ افراد تو یہ بھی کہہ رہے کہ اگر یہ مظاہرین مسلح ہوتے تو پھر کیپیٹل ہل اور دارلحکومت کی کیا حالت ہونا تھی؟۔ غرض جتنے منہ اُتنی باتیں ہر طرف سے سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ امریکا کے ریاستی ادارے کیپیٹل ہل پر حملے کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے حامیوں پر ڈال کر اپنی جان نہیں چھڑاسکتے۔کیونکہ ٹرمپ اور اس کے حامیوں کے عزائم کچھ اتنے چھپے ہوئے بھی نہیں تھے کہ امریکی ریاست کے تحفظ کے ذمہ داراں اُن کا سراغ نہ لگاپاتے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ کیپیٹل ہل پر حملہ ہونے والے تمام مظاہرین دور دراز امریکی ریاستوں سے پورے بندوبست کے ساتھ آئے تھے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی سیاسی حرکت کا امریکی ایجنسیاں بروقت ادراک اور پیش بندی کیوں نہ کرسکی؟۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا بھر میں اپنا اثرو نفوذ قائم کرتے کرتے امریکا کے ریاستی ادارے اپنے ملک میں مکمل طور پر بے اثر اور بے دست و پا ہوچکے ہیں۔

بظاہر کیپیٹل ہل کو ٹرمپ کے حامی مظاہرین سے وا گزار کرواکر ٹرمپ کو انتخابات میں شکست تسلیم کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے اور جوبائیدن کی کرسی صدارت پر متمکن ہونے کی راہ میں حائل ہونے والی ہر ممکنہ سیاسی و انتظامی رکاوٹ کو کمال مہارت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ لیکن اس تمام تر ریاستی بندوبست کے باوجود بھی یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتاکہ امریکی معاشرے میں پیدا ہونے والے سیاسی ونسلی تعصب کے سارے سوراخوں کو بند کردیا گیاہے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا آغاز کرنے سے امریکی سیاست نہ صرف مزید تقسیم در تقسیم ہوگی بلکہ پرتشدد بھی ہوجائے گی۔ کیونکہ صاف سی بات ہے کہ امریکا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ٹرمپ کے جاں نثار حامی، جب اپنے رہنما کی انتخابی شکست کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں،تو وہ بھلاٹرمپ کا مواخذہ اتنی آسانی سے کیسے اور کس طرح ہونے دیں گے؟۔

مزید یہ بھی پڑھیں: امریکیوں کی سیاسی سَر پھٹول

لہٰذا ٹرمپ کے مواخذے پر بار بار اصرار کرنے والے دانش و بنیش افراد کو کسی حد تک جذباتی تو ضرور کہا جاسکتاہے مگر امریکی ریاست سے مخلص ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ ٹرمپ کی سیاست ایک ایسی واضح سیاسی حقیقت ہے،جسے کم ازکم مواخذے کا سہارا لے کر ملیامیٹ کرپانا ٹرمپ کے مخالفوں کے لیئے کسی بھی صورت آسان نہ ہوگا۔ ویسے بھی فی الحال ٹرمپ صرف کرسی صدارت سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوئے ہیں،جبکہ سیاست سے کنارہ کش ہونے کا انہوں نے کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ یعنی بطور ایک اپوزیشن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ بدستور امریکی سیاست میں متحرک رہیں گے اور جیسا کہ وہ امریکا کے قدامت پسند حلقوں میں زبردست مقبولیت بھی رکھتے ہیں،اُسے دیکھتے ہوئے کچھ بعید نہیں کہ اگلے امریکی انتخابات میں جیت کر وہ ایک بار پھر سے امریکا کے صدر بھی بن جائیں۔یوں سمجھ لیجئے کہ معروف بلاک بسٹر فلم ”مشن کیپیٹل ہل امپاسیبل“ کا یہ پہلا حصہ ریلیز ہوا ہے،جبکہ ایکشن سے بھرپور اس فلم کے دوسرے حصہ کی عالمی نمائش جلد متوقع ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 11 جنوری 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں