Maleeha Lodhi in United Nations

سفارتی معجزہ۔۔۔!

آخر کار پاکستان کشمیر کا مسئلہ50 سال بعد ایک بار پھر سے سلامتی کونسل تک پہنچانے میں کامیاب ہی ہو گیا اور سلامتی کونسل کے مستقل رُکن چین کی جانب سے دی گئی درخواست پر سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا گیا۔بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر حاصل ہونے والی پاکستان کی یہ ایک تاریخ ساز سفارتی کامیابی کہی جاسکتی ہے۔ اِس کے علاوہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر جو دوسری بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ میں نائب روسی مندوب دمیتری پولیانسکی کا سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیرلے جانے کے معاملہ کی مخالفت کرنے سے انکار کرناہے۔ گزشتہ 73 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب روس نے بھارت کا سفارتی محاذ پر کھل کر دفاع کرنے کے بجائے، محتاط انداز میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ بھارت کے سفارتی حلقوں پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہے۔ جس نے صحیح معنوں میں پہلی بار بھارت کو کافی سے زیادہ پریشان کردیا ہے۔کیونکہ ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی سلامتی کونسل میں بھارت کا زیادہ تر انحصار روس پر ہی تھا اور روس کے بل بوتے پر ہی بھارت کو قوی اُمید تھی کہ وہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو زیرِ غور آنے ہی نہیں دے گا، چہ جائکہ کے پاکستان اور چین مل کر مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں بحث و مباحثہ کرسکیں۔جبکہ پاکستان کے سفارتی حلقوں کو بھی روس سے کوئی اتنی زیادہ خیر کی توقع نہیں تھی۔کیونکہ سلامتی کونسل میں روس وہ واحد ملک ہے،جوماضی میں ہر ایک موقع پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرار داد کو بھارت کی ایماء پر ویٹو کرتا آیا ہے۔اِس سارے تناظر میں روس کا کشمیر کے مسئلہ پر غیر جانبدار رہنا ایک ”سفارتی معجزہ“سے کم نہیں ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں اَب بھی اکثریتی رائے یہ ہی پائی جاتی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کے حل میں ٹھوس اور دیرپا اقدامات نہیں کرسکتی۔لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں اقوام ِ متحدہ کی حالیہ ساکھ جیسی بھی ہواور بھلے ہی یہ عالمی ادارہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مخلص نہ بھی نظر آتا ہو لیکن بہر حال جدید دنیا میں یہ ہی وہ عالمی جگہ ہے۔جہاں جاکر آپ اپنی بات پوری دنیا کے گوش گزار کرسکتے ہیں۔جبکہ اقوامِ متحدہ میں سلامتی کونسل سب سے موثرذیلی ادارہ ہے۔جس میں اگر کوئی بھی معاملہ ایک بار زیرِ بحث آجائے تو پھر وہ معاملہ دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب ضرور سمیٹ لیتاہے۔یہ ہی وجہ ہے بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کسی بھی طرح سلامتی کونسل میں زیرِ بحث نہ آسکے اور سچی بات تو یہ ہی ہے گزشتہ 50 برسوں سے بھارت اپنی اِس سفارتی کوشش میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوتا رہا ہے۔ لیکن اِس بار خلافِ توقع بھارت کو بڑی سفارتی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور کشمیر کا نام ایک بار پھر سے سلامتی کونسل میں سنائی دے رہاہے۔



اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل میں پاکستان کشمیر کا مقدمہ لڑے گا کیسے؟اور کونسا ایسا آسان راستہ ہے،جسے سلامتی کونسل میں اختیار کرنے سے پاکستان مسئلہ کشمیر کی جانب عالمی برادری کی توجہ زیادہ سے زیادہ مبذول کرواسکتاہے۔یہ اور اِس جیسے دیگر سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیئے ہمیں سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ آخر سلامتی کونسل میں پیش ہونے والے دیرینہ تنازعہ زیرِ بحث کیسے آتے ہیں؟ تو یاد رکھیئے کہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان ہوتے ہیں۔بنیادی طور پر یہ ہی اراکین سلامتی کونسل میں کسی تنازعہ یا مسئلہ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں اور اِس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔یعنی سب سے پہلے سلامتی کونسل کے 5 سب سے بڑے امریکہ،روس،چین،فرانس اور برطانیہ نے ایک خفیہ اجلاس میں یہ صلاح مشورہ یا فیصلہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے معاملہ کو مزید آگے کیسے بڑھانا ہے۔

گو کہ فی الحال اِس خفیہ اجلاس کی تفصیلات عالمی ذرائع ابلاغ پر افشاں نہیں کی گئیں ہیں لیکن خفیہ اجلاس کے بعد جاری کیئے گئے مختصر اعلامیہ کے مطابق سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازعہ تسلیم کر کے بھارت کے اِس موقف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے دفن کردیا ہے کہ کشمیر کا انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔آنے والے دنوں میں اگریہ پانچوں عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل میں مزید پیش رفت پر متفق ہوجاتی ہیں تو پھر مسئلہ کشمیر کے معاملہ کو باقاعدہ بحث کے لیے منظور کرلیا جائے گا،اعلامیہ جاری ہونے کے بعد اِس بات کے انتہائی روشن مکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ کسی بھی وقت سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر پر بحث کا آغاز کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔ پاکستان کی بھرپور کوشش ہوگی کہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں صرف ”ڈیبیٹ“ کے لیئے نہیں بلکہ ”اوپن ڈیبیٹ“ کے لیئے منظور کر لیا جائے کیونکہ صرف ”ڈیبیٹ“ کے لیئے منظور ہونے کی صورت میں مسئلہ کشمیر بند کمرے میں سلامتی کونسل کے 5 مستقل اور10غیر مستقل اراکین کے سامنے ہی زیربحث آسکے گا۔ جبکہ ”اوپن ڈیبیٹ“ ہونے کی صورت میں اقوامِ متحدہ کے تمام 192 رُکن ممالک مسئلہ کشمیر پر کھل کر بحث کرنے کے پابند ہوں گے۔ایسی صورت میں سلامتی کونسل کا اجلاس 20 روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ہی وہ مقام ہے جسے پاکستان سلامتی کونسل میں ضرور حاصل کرنا چاہے گا کیونکہ دنیا بھر تک کشمیر میں ہونے والے مظالم کو سامنے لانے کے لیئے اِس سے بہتر پلیٹ فارم کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

یادش بخیر کہ اگر پاکستان کسی نہ کسی طرح سلامتی کونسل میں بھارت کو سفارتی شکست دے کر مسئلہ کشمیر کو اِس مرحلے تک لے جانے میں کامیاب ہوجاتاہے تو پھر بہر صورت بھارت عالمی رائے عامہ کے شدید ترین دباؤ کا شکار ہوجائے گا اور یہ ہی وہ سنہری موقع ہوسکتا ہے جب پاکستانی افواج مشرقی سرحدوں پر جنگ یا جنگ کی سی کیفیت پیدا کر کے بھارت میں پنپنے والی دیگر علحیدگی پسند تحریکوں کو بھی ہندوانتہاپسندوں کے خلاف سر اُٹھانے کا حوصلہ فراہم کرکے نریندر مودی کو ملک کے اندر سے بھی سخت دباؤ میں مبتلا کرسکتی ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ اِس حوالے سے پہلی حوصلہ افزا خبر یہ آگئی ہے کہ بھارت کے شورش زدہ علاقہ ناگا لینڈ میں عوام کی کثیر تعداد نے15 اگست کو بھارتی یومِ آزادی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے جھنڈے تلے آزاد ناگا لینڈ کا یومِ آزادی ببانگ دہل منا یا ہے۔بس اِس طرح کے دو چار مزید واقعات رونماہوجائیں تو پھر جلد ہی ہندوستان کا گیم اوور ہوجائے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 19 اگست 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں