Mir Hazar Khan Bijarani Death

میر ہزار خان بجارانی کی موت، قتل یا خودکشی؟

جیکب آبا دکی سب سے بااثر سیاسی شخصیت نے خودکشی کی یا وہ قتل ہوئی؟ سندھ کے صوبائی وزیر اور بلوچ سردار کے طور پر ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والے میر ہزار خان بجارانی او ر ان کی اہلیہ کی المناک موت کو بھی ایک چھوٹا سا حادثہ قرار دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے عوام کے اذہان سے مٹانے کی تمام تر تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔گو اس تمام تر صورت حال کو افسوس ناک ہی قرار دیا جاسکتاہے مگر کیا جائے سندھ میں مقتول کی اپنی ہی جماعت برسرِ اقتدار ہے پھر بھی اطلاعات یہ ہی ہیں کہ اس اہم ترین قتل کے حوالے سے پولیس نے بلا کسی تاخیر انتہائی جانفشانی کے ساتھ اپنی تمام تر تفتیش مکمل کرلی ہے جو صرف اس نتیجہ تک ہی پہنچی سکی ہے کہ اس طرح کے واقعات کا مقدمہ درج نہیں کیا جاتا،اس لیئے دفعہ 174 کے تحت کی گئی کارروائی منظوری کے لیے علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی جائے گی تاکہ کیس کو داخل دفتر کیا جاسکے۔یعنی سندھ کی اتنی اہم ترین سیاسی شخصیت اپنی جان سے گئی اُسکے باوجود بھی یہ سارا واقعہ ارباب اقتدار کی اتنی سی توجہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا کہ اس کا باقاعدہ مقدمہ ہی درج ہوسکے۔ حالانکہ مقتول اور مقتولہ کا اپنا تعلق بھی سندھ میں برسرِ اقتداراربابِ اختیار سے ہی تھا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ کراچی فاروق اعوان نے میڈیا کے نمائندوں کو کیس کی تفتیش سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ”یکم فروری کے واقعہ کی اطلاع حکومتی عہدیداروں کے ذریعے پولیس کو ملی۔ جس پر پولیس حرکت میں آئی اور فوری طور پر جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پولیس نے انتہائی باریک بینی سے عین بین الاقوامی معیار کے مطابق تفتیش شروع کی۔ جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس لئے گئے۔ ملنے والی مشکوک اشیاء، اسلحہ، گولیوں اور خالی خولز کا فرانزک ٹیسٹ کیا گیا۔ موقع کی مختلف زاویوں سے تصاویر حاصل کی گئیں۔ لاشوں کے پوسٹ مارٹم اور دیگر شواہد سے 20 گھنٹے بعد موت کی حتمی وجہ کا اعلان کیا گیا۔ بنگلے میں سیکورٹی ڈیوٹی دینے والے دو سرکاری اہلکاروں کانسٹیبل محمد یونس اور عرفان یوسف، ڈرائیور پرویز احمد، خانسامہ سید صلاح الدین اور گھریلو ملازم میاں بیوی غلام عباس اور شازیہ کے بیانات قلمبند کیے گئے۔مقتولہ فریحہ رزاق کی ملکیت بنگلے میں لگے 8 سی سی ٹی وی کیمروں میں سے 2 بند تھے جبکہ دیگر 6 کیمروں کی ریکارڈنگ کا معائنہ کیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں فائرنگ کا امپیکٹ ظاہر نہیں ہوا تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملازمین کے پولیس کو دیئے گئے بیانات کی تصدیق ہوئی ہے۔جس کے مطابق فوٹیج میں ملازمین کی حرکات و سکنات سے واقعہ صبح 7 بجے پیش آنے کا ثبوت ملا ہے۔ کانسٹیبل یونس کی رات 8 بجے سے صبح 10 بجے تک ڈیوٹی تھی جبکہ دوسرا پولیس گارڈ عرفان یوسف صبح 10بجے ڈیوٹی پرآیا۔ فائرنگ کے بعد یونس ہڑبڑا کر کوارٹر سے نکلا، ادھر ادھر دیکھا پھر بنگلے کے عقب میں گیا لیکن فائرنگ کے مقام کا تعین نہ کرسکا۔ یونس کے بیان کے مطابق ملازمین نے کہا کہ یہاں ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے۔ اس پر وہ بھی خاموش ہوگیا اور کسی کو اطلاع نہیں دی۔ ملازمین کے بیانات کے مطابق چونکہ ملازمین کو بنگلے کے اندر جانے یا انٹرکام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لئے کسی کومزید تحقیق کی ہمت نہ ہوئی۔ایک ملازم کے بیان کے مطابق میر ہزار خان بیدار ہوکر صبح 7 بجے اخبار لینے خود باہرآتے تھے۔ جمعرات کی صبح 7 بجے نہ آئے تو ملازمین نے خود ہی سوچ لیا کہ کہ رات بھر لڑائی سے تھک کر مالکان سوگئے ہوں گے اس لئے کسی نے سنگین واقعہ کے بارے میں مزید سوچا بھی نہیں۔ ڈرائیور پرویز احمد کے بیان کے مطابق میڈم فریحہ نے 11 بجے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا، جس کے لیے اس نے گاڑی تیار کرلی تھی لیکن جب میڈم 11 بجے تک باہر نہ آئیں تو اسے تشویش ہوئی اور انہوں نے دیگر اہلخانہ کو فون کئے۔ جن کے پہنچنے کے بعد گھر کے اندر سے بند دروازے توڑنے پر سنگین صورتحال کا علم ہوا“۔پولیس حکام کے مطابق کسی کو قتل کرکے خودکشی کرنے کی اس نوعیت کے لاتعداد واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ایسے واقعات کے مقدمات درج نہیں کیے جاتے، ملزم کے زندہ بچنے کی صورت میں ایف آئی آر ضرور درج کی جاتی ہے۔اس لیئے اس واقعہ کی کارروائی بھی دفعہ 174کے تحت ہی کی جا رہی ہے، جونہی فائل مکمل ہوگی مجسٹریٹ سے کیس داخل دفتر کرنے کی منظور ی حاصل کر لی جائے گی۔ایک اور تفتیشی افسر کے مطابق میر ہزارخان بجارانی نے اپنی اہلیہ کے قتل جیسا سنگین اقدام کیوں کیا؟ اور پھر خود بھی موت کو کیوں گلے لگا لیا؟ اس کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔پولیس نے ان سوالات کے جوابات ملازمین اور سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے بیانات سے بھی لینے کی کوشش کی لیکن کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ میاں بیوی کے انتہائی قریب رہنے والے ملازمین نے بھی اس بارے میں کوئی انکشاف نہیں کیا۔ملازمین کہتے ہیں کہ ”میاں بیوی میں لڑائی انگریزی میں ہوتی تھی، جس کی انہیں سمجھ نہیں آتی تھی“۔



یکم فروری 2018 کو اہلیہ کے ساتھ مردہ حالت میں پائے جانے والے 72 سالہ میر ہزار خان بجارانی کی زندگی کے 44 سال پاکستانی پارلیمنٹ اور سیاست میں کچھ سرد اور کچھ گرم ماحول میں گزرے۔میر ہزار خان بجارانی اپنی موت کے وقت میں رکن سندھ اسمبلی اور صوبائی وزیر تھے، جب کہ ان کی اہلیہ فریحہ رزاق میر ماضی میں رکن سندھ اسمبلی رہ چکی تھیں۔میر ہزار خان بجارانی صوبہ سندھ کے شمالی ضلع کندھ کوٹ ایٹ کشمور کے شہر کرم پور میں قیام پاکستان سے ایک سال قبل یعنی 1946 میں ایک سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔میر ہزارخان بجارانی نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالحکومت کراچی کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے نہ صرف گریجوئیشن کی، بلکہ انہوں نے قانون کی تعلیم بھی حاصل کی۔ میرہزار خان بجارانی نے نیشنل کالج کراچی سے بی اے کرنے کے بعد سندھ مسلم لا کالج سے ہی ایل ایل بی کی ڈگری لی، جس کے بعد انہوں نے سیاست کی تعلیم حاصل کی۔سیاست اور سرداری میر ہزار خان بجارانی کو وراثت میں ملی تھی، ان کے والد شیر محمد خان بومبے کاؤنسل کے ممبر تھے اور دادا ویسٹ پاکستان کاؤنسل کے رکن تھے۔ وہ پیپلز پارٹی کی نوجوانوں کے لیئے بنائی گئی سیاسی طلبا ء تنظیم ’سپاف‘ کے بانیوں میں سے تھے۔ انہیں بلوچ قبائلی روایات کا امین سمجھا جاتا تھا۔ بجارانی، کنرانی، نندوانی، جعفری سمیت 7 بلوچ ذاتوں کے سردار تھے بلکہ مقامی طور پر انہیں 7 کلہاڑیوں کا سردار کہا جاتا تھا۔ ان کا اثر صرف سندھ میں ہی نہیں بلکہ بلوچستان میں بھی ان کا بڑا نام تھا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بھی سیاست میں متعارف کرایا۔میر ہزار خان بجارانی کے بڑے بیٹے میر شبیر علی بجارانی 2013 کے انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔اس وقت منصوبہ بندی و ترقی کی صوبائی وزارت کا قلمدان اپنے پاس رکھنے والے میر ہزار خان بجارانی اس سے قبل سندھ کے وزیر تعلیم تھے، مگر انہوں نے اس وقت کے سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کرلی تھی، جس کے بعد سیکریٹری تعلیم کو تبدیل کیا گیا۔سیکریٹری تعلیم کی تبدیلی کے بعد انہوں نے وزیر تعلیم کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں، تاہم سندھ کے وزیر اعلیٰ تبدیل ہونے کے بعد ان کی وزارت بھی تبدیل کردی گئی۔ میر ہزار خان بجارانی نے ساری عمر یا تو سیاست کی یا پھر اپنی ذات، برادری اور خاندان کے تنازعات ختم کرانے، جرگے اور فیصلے کرنے میں گزاردی، لیکن اس تمام تر واقعہ سے عوام کے لیئے سیکھنے والا مثبت پہلو یہ ہے کہ جو شخص ساری زندگی دوسروں کے مسائل حل کرنے میں مہارت رکھنے کے حوالے سے مشہور رہا، وہ اپنا مسئلہ حل نہیں کرسکا اور لاینحل تنازعات کا اس برے طرح سے شکار ہوا کہ بند کمرے سے لاش ملی اور دوسرے دن پولیس کو ہی آکر یہ اعلان کرنا پڑا کہ میر ہزار خان بجارانی نے بیوی کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی ہے۔ پولیس کی تفتیش جو بھی کہہ رہی ہو تاہم پیپلز پارٹی کے بیشتر اہم ترین رہنماؤں نے میرہزار خان بجارانی کی جانب سے خودکشی کرنے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر ہرگز ہرگز ایسا نہیں کر سکتے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا واقعہ قتل کی کوئی واردات ہے یا اقدام خودکشی آخر اس اُلجھی گتھی کو سلجھائے گاکون سندھ حکومت یا پھر عدالت عالیہ؟
حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 15 فروری 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں