Meray Pass Tum Ho

کیا واقعی میرے پاس تم ہو

کئی برسوں سے ہمارے ہاں یہ مباحثے جاری تھے کہ ہماے ملک میں پاکستانی ڈرامے دیکھے کیوں نہیں جاتے؟لیکن گزشتہ دو،چار سالوں سے جیسے ہی پاکستانیوں نے پاکستانی ڈرامے دیکھنا شروع کردیئے ہیں تو آج کل ہمارے ہاں بڑے زور و شور کے ساتھ یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آخر پاکستانی ڈرامے اتنے ذوق وشوق سے دیکھے کیوں جارہے ہیں؟۔کل تک آوازیں بلند ہوتیں تھیں کہ ہمارے ملک میں ایساڈرامہ لکھنے والے لکھاری ہی نہیں ہیں جن کے لکھے ہوئے ڈرامے پاکستانی ناظرین کے ذوق کی تسکین کرسکیں مگر اَب جب کہ خلیل الرحمن قمر، ہاشم ندیم،عمیرہ احمد جیسے رائٹر ز کے لکھے ہوئے ڈرامے نہ صرف پاکستانیوں بلکہ پڑوسی ملک کے ناظرین کی تفریح طبع کے معیار پر اُتر رہے ہیں تو پھر ہمارے کئی سنجیدہ قسم کے دانشوروں کی رنجیدہ رنجیدہ سے چیخیں بصورت دہائی سنائی دے رہی ہیں کہ اِن ”ڈائجسٹ رائٹرز“ کے لکھے ہوئے ڈراموں کو مقبولیت کے نئی بلندیاں کیوں عبور کرنے دی جارہی ہیں؟۔یعنی پہلے اچھا ڈرامہ نہ لکھنا اور نہ بنانا جرم ہوا کرتا تھا اور اَب ایک مقبول ڈرامہ لکھنا اور بنانا جرم قرار دیا جارہا ہے۔بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی ڈرامہ کی مقبولیت کا توڑ کرنے کے لیئے حکومت سے اپیلیں کی جارہیں، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جارہے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سامنے گزارشات پیش کی جارہی ہیں کہ خدارا کسی بھی طرح یا تو ڈرامہ کو آن ائیر ہونے سے روک دیا جائے یا پھر کم ازکم ڈرامہ کے ”ڈائجسٹ رائٹر“ کو پابند کردیا جائے کہ اپنے ڈرامے میں ایسے موضاعات پر قلم کشائی نہ کرے،جسے ملاحظہ کرنے کے بعد کسی ناظر کی دل میں ڈرامہ دیکھنے کی ایسی خواہش بیدار ہو۔جیسی خواہش ڈرامہ ”میرے پاس تم ہو“ دیکھنے کے بعد ہوئی ہے۔

اگر خدا سوچنے کی توفیق دے تو پھر پاکستانی ڈرامے ”میرے پاس تم ہو“ پر تنقید کرنے والوں کو اِس متعلق بھی ضرور سوچنا چاہئے کہ آخر فنون ِ لطیفہ کی کوئی صنف اَب چاہے وہ ڈرامہ ہو،شاعری ہو یاکچھ اور آخر عوام میں مقبول کیوں ہوتی ہے؟۔بلاشبہ ڈرامہ ہو شاعری کسی بھی معاشرے میں اُسی وقت ہی مقبولیت حاصل کرتی ہے جب معاشرے کی اکثریت کو محسوس ہوتا کہ اِس ڈرامہ یا شعر میں اُس کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرنے کا حق ادا کردیا گیا ہے۔ ایک ایسا ڈرامہ یا شعر جو اپنے ناظر یا سامع کی حسِ ادراک کو متاثر ہی نہ کرسکے وہ آخر کیوں مقبول ہوگا۔ڈرامہ ہو یا شعر ہر شخص اُس میں اپنی ذات کا تعلق یا مطابقت تلاش کرتا ہے۔جب اُسے وہ فکری تعلق اور ذاتی واردات کسی ڈرامہ یا شعر میں نظر آجاتی ہے تو پھر وہ اُسے پسندیدگی کے مقامِ جلیلہ پر فائز کردیتا ہے۔ یہ پسندیدگی پھر اُسے کسی شعر کو بار بار دہرانے اور کسی ڈرامے کو بار بار دیکھنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اِس ڈرامہ لکھنے والے کا تو بس اتنا سا ہی کمال ہوتا ہے وہ اپنی تحریر میں ایسے موضوع کو مرکز و محور بنائے جسے معاشرے کی اکثریت دیکھنا چاہتی ہو،سننا چاہتی ہو اور بار بار پڑھنا چاہتی ہو۔ میرے خیال میں بس یہ ہی وہ تخلیقی غلطی ہے جو ”میرے پاس تم ہو“ ڈرامہ کے خالق جناب خلیل الرحمن قمر سے سرزد ہوگئی ہے۔

خلیل الرحمن قمر کی یہ ”ڈامائی غلطی“ کچھ اِس لیئے بھی ناقابلِ معافی ہے کہ ایسا ڈرامہ، میں نہیں لکھ سکتا،میرے ساتھ بیٹھا ہوا کاغذ کے کاغذ سیاہ کرنے والا دانشور نہیں لکھ سکتا اور سب سے بڑھ کر اپنے کالموں کی سیاسی کاٹ سے عام قاری کا دل چھلنی کر دینے والا کالم نگار بھی نہیں لکھ سکتا۔آپ تصور کریں کہ خلیل الرحمن قمر کاگناہ کتنا بڑا ہے کہ پرائم ٹائم 8 بجے کا وہ وقت جو بڑی محنت اور تگ و دو کے بعد نیوز اینکرز اور سیاسی تجزیہ کاروں نے مل کر پاکستانی ڈرامے سے چھین لیا تھا۔ اَب ٹی وی اسکرین کے وہی سنہری لمحات ایک بار پھر سے ناظرین نے پاکستانی ڈرامے کو تفویض کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ لہٰذا نیوز چینلوں پر یہ بحث تو بنتی ہے کہ خلیل الرحمن قمر نے ”میرے پاس تم ہو“ کے اسکرپٹ میں موضوع کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا۔حیرانگی تو اِس پر ہوتی ہے کہ یہ بات وہ ٹی وی اینکرز اور سینئر تجزیہ کار کر رہے ہیں جو گزشتہ 10 سالوں سے مسلسل فقط ایک ہی موضوع ”سیاست،سیاست“ کی گردان کیئے جارہے ہیں بغیر ایک لمحہ کا توقف کئے اور یہ سوچے بغیر کہ ٹی وی ناظرین کو سیاسی معلومات کے بھاری بھرکم و سنسنی خیز اسکرپٹ کے ساتھ تفریح طبع کے لیئے کچھ ہلکی پھلکی ”نان اسکرپٹڈ“ قسم کی زود ہضم غذا بھی درکار ہوتی ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ”میرے پاس تم ہو“ ڈرامہ میں نے بالکل بھی نہیں دیکھا کیونکہ بچپن سے پڑھنے کا اتنا زیادہ شوق ہے کہ اتنا وقت ہی نہیں بچ پاتا کہ پڑھنے کے علاوہ بھی کوئی ڈھنگ کا کام کرسکوں لیکن اِس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اگر ڈرامہ دیکھنے کا شوق مجھے نہیں ہے تو ہر وہ پاکستانی جو ڈرامہ دیکھ رہا ہے،وہ قابلِ گردن زنی اور اُس کا پسندیدہ ڈرامہ میری نظروں میں قابلِ مذمت ہے۔بھئی ہر شخص کا اپنا رجحان اور اُس کے مطابق اپنے مشاغل ہوتے ہیں اور کیا یہ ضروری ہے کہ اپنے ساتھ رہنے والے ہمراہی سے تعلق کو استور رکھنے کے چکر میں دوسرا اپنے پسندیدہ مشاغل ترک کرکے کسی اور کے پسندیدہ مشغلہ کو اختیار کرلے۔ بہرحال ہمارا معاشرتی المیہ ہی یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص دوسرے کی فکر،خیال اور عمل کو تبدیل کرنے کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن خود اپنی صحیح یا غلط فکر،خیال اور عمل پر نظرثانی کرنے کا نہ تو حوصلہ رکھتا ہے اور نہ ہی اُمنگ۔ہمارے اِسی قومی طرزِ عمل کا سامنا فی الحال خلیل الرحمن قمر اور اُن کے ڈرامے ”میرے پاس تم ہو“ کو کرنا پڑرہاہے۔

معاملہ صرف ڈرامے اور لکھاری کے طرزِ تحریر یا موضوعاتی انتخاب پر تنقید تک ہی محدود ہوتا تو پھر بھی کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی،کیونکہ اُردو اَدب میں ہمیشہ تنقید کامطلب تنقیص کے بجائے ستائش اور اصلاح مراد لیا جاتاہے۔ لہٰذا ہمارے ہاں عام دستور ہے کہ لکھنے والا اپنے خرچہ پر ہی اپنی تخلیق پر ”تنقیدی نشستوں“ کا خصوصی اہتمام کرتا ہے اور اُن”تنقیدی نشستوں“میں اپنی تخلیق پر ہونے والی تنقید کی نشرو اشاعت پر خوشی و مسرت کا اظہار فخریہ انداز میں کرتا ہے۔ مگریہاں ”میرے پاس تم ہو“ کے رائٹر اور اداکاروں کو سوشل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک میں تنقید کے بجائے تنقیص یا یوں سمجھ لیجئے کہ تذلیل کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔خاص طور سوشل میڈیا پر تو ڈرامے کے کرداروں پر ایسی ایسی پھبتیاں کسی جارہی ہیں کہ ذرا سا بھی کمزور اخلاق رکھنے والا شخص اُن عبارتوں کو مکمل نفسِ مضمون کے ساتھ پڑھنے کا حوصلہ نہیں کرپاتا۔”میرے پاس تم ہو“پاکستانی ڈرامے کی تاریخ میں واحد ایسا ڈرامہ ہے جو اپنے ناظرین کے دلوں پر ہی راج نہیں کر رہا بلکہ اپنے مخالفین کے حواسوں پر بھی پیر تسمہ پاکی طرح سوار ہوگیا ہے۔یقینا خلیل الرحمن قمر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آج ہر پاکستانی کو یہ محسوس ہورہا کہ واقعی ”میرے پاس تم ہو“۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 فروری 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں