Long Live Sindh Lockdown

لاک ڈاؤن کی عمر دراز ہو

صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیئے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کا نفاذ کیاگیا تھا اور یوں سندھ میں لاک ڈاؤن کو نافذ ہوئے تین ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔گو کہ لاک ڈاؤن کے بعد سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا غریب اور متوسط طبقے کو کرنا پڑا،بہرحال انتہائی نامساعد خانگی و معاشی حالات کے باوجود بھی سندھ کے عوام نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے فیصلہ پر لبیک کہتے ہوئے اَب تک لاک ڈاؤن کو بھرپور انداز میں کامیابی سے ہمکنا رکرنے میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیاہے۔ لیکن جیسے جیسے لاک ڈاؤن کی مدت طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے ویسے ہی غریب اور متوسط طبقہ کی معاشی و سماجی پریشانیوں میں بھی روز افزوں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔شاید اِسی لیئے گزشتہ دنوں تاجروں کے ایک نمائندہ وفد نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی سے ایک خصوصی ملاقات میں تجویز پیش کی تھی کہ 14 اپریل کے بعد سندھ میں لاک ڈاؤن میں کچھ نرمیاں فراہم کردی جائیں تاکہ سندھ میں تجارت کارُکا ہوا پہیہ پھر سے رواں دواں ہوسکے اور غریب کے گھر کا بجھا ہوا چولہا بھی روشن ہوکر اُن کے لئے لذت کام و دہن کابندوست کرسکے۔ تاجروں کے ساتھ ملاقات کے بعد بڑی اُمید ہو چلی تھی کہ شاید وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ 14 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن میں مزید توسیع نہ کریں لیکن اگلے ہی روز اِن ساری اُمیدوں پر اُس وقت پانی پھر گیا جب نجی اسپتالوں کے مالکان، چیف ایگزیکٹو افسران اور ملک کے سرکردہ ڈاکٹروں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ایک خصوصی ملاقات میں 14 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن میں لازمی توسیع کی اپیل کردی۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ”سندھ میں لاک ڈاؤن کو ہرگز آسان یا نرم نہ کیا جائے کیونکہ اگر لاک ڈاؤن کا فیصلہ واپس لیا گیا تو کورونا وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائیگا“۔ڈاکٹروں کی جانب سے سندھ حکومت کو تجویز کردہ تازہ ترین نسخہ کے بعد یقینی طور پر کہا جاسکتاہے کہ 14 اپریل کے بعد سندھ بھر میں لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کردی جائے گی۔

ڈاکٹری نسخہ کے مطابق لاک ڈاؤن میں ہونے والی’انتظامی توسیعی“کے بعد بلاشبہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا ہدف تو باآسانی حاصل ہو ہی جائے گا لیکن سندھ کی غریب عوام دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے ہدف سے کوسوں میل دُور ہوجائے گی۔ کیونکہ اَب تک سندھ حکومت لاک ڈاؤن کو نافذ العمل بنانے میں تو پوری طرح سے کامیاب دکھائی دیتی ہے مگر لاک ڈاؤن کے مضراثرات سے صوبہ کی غریب عوام کو بچانے میں بُری طرح سے ناکام بھی نظر آ رہی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کا یہ دعویٰ اپنی جگہ پر درست کہ”اُن کی جماعت سندھ میں کسی کو بھی لاک ڈاؤن کے باعث بھوکے پیٹ سونے نہیں دے گی“۔ لیکن حقیقت احوال یہ ہے کہ اَب لوگ واقعی رات کو اپنے سر کے نیچے سرہانے کی جگہ چپکے سے بھوک رکھ کر سونے لگے ہیں۔ جب کہ سماجی دُوری اختیار کرنے کا لاک ڈاؤن والا فلسفہ بھی راشن کی تقسیم کے دوران سندھ کے ہر شہر میں رسوا ہوتا ہو ا صاف دیکھا جاسکتاہے۔حالانکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے لاک ڈاؤن کے دوران سڑکوں اور دُکانوں پر راشن کے حصول کے لیئے ہونے والے عوام کے رَش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ”قانون نافذ کرنے والے ادارے لاک ڈاؤن پر من و عن ویسے ہی عمل در آمد کروائیں جیسے انہوں نے ابتدائی دنوں میں کروایا تھا“۔ مگر شاید قانون نافذ کرنے والے ادارے اِس نازک مرحلے پر وزیراعلیٰ سندھ کو یہ بات سمجھنانے سے قاصر ہیں کہ جس طرح گزرا ہوا وقت پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتابالکل ویسے ہی سندھ میں سخت ترین لاک ڈاؤن کے مناظر کا پھر سے لوٹ آنا کم وبیش ناممکن ہی ہوگا۔



اِس کی ایک بڑی بنیادی وجہ ہے اور وہ یہ کہ جب کسی انسان کو بیک وقت دو خوف لاحق ہوجائیں تو اُن میں سے فقط سب سے طاقت ور خوف ہی برقرار رہتا ہے اور دوسرے خوف کو عموماً انسان خود ہی موت کی نیند سُلادیا کرتاہے۔عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے کورونا وائرس کا خوف بہت بڑا ہے لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ ایک غریب کے نزدیک بھوک کا خوف کورونا وائرس سے بھی کئی ہزار گنا زیادہ بڑاہوتاہے۔شاید ہی ہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے تین ہفتہ گزرجانے کے بعد زیادہ تر لوگ بھوک کے خوف کو کورونا وائرس کے خوف پر ترجیح دینا شروع ہوگئے ہیں۔ لہٰذا اَب لاک ڈاؤن کے نفاذ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اگر اربابِ اختیار کی ساری توجہ صرف لاک ڈاؤن کو ہی سخت سے سخت تر بنانے پر ہی مرکوز رہی اور انہوں نے لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیئے جلدازجلد کوئی موثر حکمت عملی نہیں بنائی تو پھر ڈر اِس بات کا بھی ہے کہ وہ غریب لوگ جنہوں نے کورونا وائرس کے خوف کو فی الحال صرف تھپکی دے کر سُلایا ہے کہیں بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر اُسے جان ہی سے نہ مار دیں اگر ایسا ہوا تو لاک ڈاؤن کی اصل روح کو برقرار رکھنا سندھ حکومت کے لیئے بہت مشکل ہوجائے گا۔

جیسا کہ خو د وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پہلی بار سندھ میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”عوام کی مدد کے بغیر سندھ میں لاک ڈاؤن کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا“۔ہمارا خیا ل ہے کہ بالکل ویسے ہی حکومت کی امداد کے بغیر بہت زیادہ دیر تک غریب عوام بھی لاک ڈاؤن پر رضاکارانہ عملد آمد کو یقینی نہیں بناسکتی۔ سندھ کی عوام نے لاک ڈاؤن کے دوران سندھ حکومت کی بھرپور انداز میں مدد کی لیکن لاک ڈاؤن نافذ ہوجانے کے بعد سندھ حکومت نے اپنے صوبہ کی عوام کو ویسے امداد بہم نہیں پہنچائی جیسا کہ پہنچانے کا حق تھا۔ مگر پھر بھی ہم یہ ہی کہیں گے اگر کورونا وائرس کے عفریت سے لڑنے کے لیئے سندھ حکومت مناسب سمجھتی ہے تو بھلے ہی لاک ڈاؤن کی عمر دراز کردے۔مگرمزید کتنے دن؟۔سندھ کی عوام کو کم ازکم اتنا تو بتا دیاجائے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 13 اپریل 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں