Lockdown Death In Sindh

لاک ڈاؤن کی ہچکیاں

لاک ڈاؤن نافذ کرنے فقط ایک ہی طریقہ رائج الوقت ہے اور وہ یہ کہ کوئی بھی حکومت اپنے ملک میں سرکاری حکم نامہ کے ذریعے ”لاک ڈاؤن“ کے نفاذ کا اعلان کردے۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیئے دنیا بھر میں ”لاک ڈاؤن“ نافذ کرنے کے لیئے اِسی انتظامی طریق کار کا سہارا لیا گیا لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ ”لاک ڈاؤن“ ختم کرنے کے دومستند طریقے ہیں۔پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ جس حکومت نے ایک سرکاری حکم کے ذریعے ”لاک ڈاؤن“ کے نفاذ کا اعلان کیا تھا،اَب وہی حکومت،حالات کی حسیاسیت کو دیکھتے ہوئے،اپنے دوسرے حکم نامے کے ذریعے ”لاک ڈاؤن“ کو ختم کرنے اعلان کردے۔

چین کے شہر ووہان سمیت ساری دنیا میں فقط اِسی انتظامی اُصول کی بنیاد پر ”لاک ڈاؤن“ کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ شاید پاکستان اور بالخصوص سندھ میں بھی اِسی انتظامی اُصول کی پیروی کرتے ہوئے ”لاک ڈاؤن“ ختم کرنے کا اعلان کردیا جائے گا۔ مگر ہمارا یہ خیال تو اُس وقت درست ثابت ہوتا نا! جب ہمارے ہاں بھی لاک ڈاؤن ختم کرنے یا نہ کرنے کے لیئے ”سیاست“ کے بجائے ”معروضی حالات“ کو پیش ِ نظررکھا جاتا۔پس ہمارے ہاں! ”لاک ڈاؤن“ کے خاتمہ کے لیئے دوسرا طریق اختیار کیا گیا،جس کے مطابق ”لاک ڈاؤن“ کے خاتمے کی تمام تر ذمہ داری بے چاری عوام کے کمزور و ناتواں کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔

کیونکہ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت دونوں کی ”سیاسی خواہش“ فی الحال یہ ہی نظر آرہی ہے کہ فدوی لاک ڈاؤن آہستہ آہستہ،سسک سسک کر اپنی موت آپ مر جائے،تاکہ اُن میں سے کسی کے سر بھی ”لاک ڈاؤن“ کی ناگہانی موت کا الزام نہ دھرا جاسکے۔”لاک ڈاؤن“ ختم کرنے کا یہ وہ دوسرا طریقہ ہے۔ جسے دنیا میں پہلی بار ہمارے ہاں ہی تجرباتی طورپر آزمایا جارہاہے۔ اگر ہمارے ملک میں یہ سیاسی تجربہ کامیاب رہا تو بلاشبہ یہ ”سیاسی کارنامہ“ عالمی ذرائع ابلاغ کی اسکرین پر کورونا وائرس کی ویکسین کی ایجاد کی خبر سے بھی بڑی خبر بن کر گرے گا۔



یادش بخیر! کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جزوی لاک ڈاؤن میں چند مزید رعایتوں کے ساتھ دوہفتوں کی توسیع کردی ہے مگر وزیراعظم کے کئے گئے اِس فیصلے کی تعبیر سندھ حکومت نے مزید سخت لاک ڈاؤن کرنے کی ہے جبکہ دوسری جانب سندھ کے تاجر اتحاد نے اِس فیصلہ کی تشریح اپنی دانست میں لاک ڈاؤن معطل ہونے کی فرمائی ہے اور انہوں نے صوبہ بھر میں اپنے تجارتی مراکز کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔

اِن تاجروں کا موقف ہے کہ بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بہتر ہے کہ پولیس کے ڈنڈوں سے مرجائیں۔ طرفہ تماشہ یہ بھی ہے کہ لاک ڈاؤن کے اِسی توسیعی پسندانہ فیصلے کی روشنی میں علمائے کرام نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں فرما دیا ہے کہ ”اَب کسی بھی صورت مساجد میں لاک ڈاؤن نہیں ہوگا“۔کیونکہ علمائے کرام کا ماننا ہے لاک ڈاؤن کے دوران جن شعبہ جات کو”لازمی سروس“کے تحت استثنا دینے کا کہا گیا ہے،اُس میں یقینا کہیں نہ مساجد بھی ضرور شامل ہوں گی اور اگر نہیں بھی ہیں تو اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کیونکہ سماجی دوری کے اُصول پر جتنا عمل راشن بانٹتے ہوئے کیا جارہا ہے،اُتنا عمل تو مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے دوران با آسانی ہوسکتاہے۔ یعنی پاکستان میں ہر طبقہ فکر کا نمائندہ لاک ڈاؤ ن میں ہونے والی دو ہفتوں کی توسیع کو موم کی ناک سمجھتے ہوئے جس طرف چاہ رہا ہے، اُس طرف موڑ تا جارہا ہے۔اِس نازک صورت حال میں بھی اگر لاک ڈاؤن راہی ملک عدم ہوجانے سے بچ جاتاہے تو پھر یہ اُس کی خوش قسمتی ہی ہوگی وگر نہ ہم پاکستانیوں نے تو لاک ڈاؤن کو ختم کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی۔

دوسری جانب لاک ڈاؤن پر سیاسی بیانات داغنے کے سلسلہ بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے اور تحریک انصاف کے جید ترجمانوں کی طرف سے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو ہدفِ خاص بناتے ہوئے کہا جارہاہے کہ سندھ حکومت اپنی ذمہ داری درست طور پر ادا نہیں کرپارہی جس کے جواب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمانوں کی طرف سے بھی تیکھے،تیز اور تند سیاسی بیانات کا سلسلہ پورے شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔

حالانکہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیئے ہمیں ملی یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن ہمارے قابلِ فخر سیاست دان کورنا وائرس جیسے حساس موضوع پر بھی سیاست کی نمک پاشی کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ سیاسی جماعتوں کی آپسی لڑائی سے کورونا وائرس کے انسداد کے لیئے اُٹھائے جانے والے تما م تر حکومتی اقدامات عوام کے نزدیک مذاق بنتے جارہے ہیں،جس کی جھلک اَب تو عوامی رویوں سے بھی صاف جھلکنے لگی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند دنوں سے تو جزوی لاک ڈاؤن کی تھوڑی بہت عزت برقرار رکھنے کے لیئے بھی پولیس کو شدید مشکلات کا سامنا کر پڑ رہاہے اور عوام کی جانب سے جگہ جگہ پولیس اہلکاروں سے جھگڑے اور تکرار کے واقعات میں روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

جبکہ سوشل میڈیا پر بھی آئے روز مشتعل ہجوم کی جانب سے پولیس موبائلوں پر حملے کی نئی نئی ویڈیوز سامنے آرہی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق صرف سندھ میں اَب تک لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر 6500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔اِن اعدادو شمار سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام لاک ڈاؤن کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

شاید اِسی لیئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں سندھ حکومت کے تمام تر دعوی اور کوشش کی باوجود اَب لاک ڈاؤن عملی طورپر آہستہ آہستہ غیر موثر ہوتا جارہاہے۔ جس کی بنیادی وجہ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر ایک قومی پالیسی کا نہ ہونا ہے۔ اگر یہ ہی صورت حال جاری رہی تو 30 اپریل تک پہنچتے پہنچتے لاک ڈاؤن اپنی بنیادی شناخت ہی کھود ے گا۔ افسوس! ہماری سیاست کورونا وائرس کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکی لیکن اِس ظالم سیاست نے چند ہی ہفتوں میں لاک ڈاؤن کو ضرور ادھ مواسا کردیا ہے اور بے چارہ لاک ڈاؤن شہر کی کسی پرہجوم گلی کے کونے میں کھڑا اپنا منہ چھپائے سسکیاں لے لے کر بین کر رہاہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 16 اپریل 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں