Nawaz Sharif as a Lion of PMLN

شیر ظالم ہے

ایک مرتبہ شیر اور بکری کا مقابلہ ہوگیا،دونوں کے درمیان بڑی زبردست جنگ ہوئی،آخر کار شیر بکری کو کھا گیا۔یہ منظر ایک چڑیا دیکھ رہی تھی،تو چڑیوں نے آپس میں بات کی،ایک بزرگ اور دانشور چڑیا نے باقی چڑیوں کو بتایا کہ تم یہ سمجھ لو کہ بکری جیت گئی ہے۔باقی چڑیوں نے کہا کہ شیر تو بکری کھا گیا ہے لیکن بزرگ چڑیا نے کہا تم یہ سمجھ لو کہ بکری جیت گئی ہے، بکری جیت کس طرح گئی ہے؟بزرگ چڑیا نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ”بکری اس طرح جیت گئی ہے کہ بکری نے ثابت کردیا کہ شیر ظالم ہے“۔ایسا ہی ایک مقابلہ آج کل طبقہ اشرافیہ کا ”تبدیلی حکومت“ کے ساتھ جاری ہے۔آپ طبقہ اشرافیہ کو شیر اور ”تبدیلی حکومت“ کو کچھ دیر کے لیئے بکری فرض کر لیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ ”تبدیلی حکومت“ بیچاری اس وقت کس خطرناک قسم کے بحران سے گزر رہی ہے۔ بظاہر طبقہ اشرافیہ کے شیر کے سامنے ”تبدیلی حکومت“ منمنا رہی ہے اور دیکھنے والے تمام سامعین کو یہ ہی لگ رہا ہے کہ اس مقابلہ میں بھی شیر بکری کو کھا جائے گا۔
”تبدیلی حکومت“ نامی بکر ی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ اس وقت نہ صرف جنگل میں ہے بلکہ شیر کی کچھار میں عین شیر کے تخت شاہی پر براجمان ہے اور تخت شاہی بھی وہ جس پر شیر گزشتہ 35 برسوں سے مسلسل راج کرتا آرہا تھا۔اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ سارا جنگل شیر کا ہے،رعا یا بھی شیر کی ہے، مصاحب بھی شیر کے اور کچھار تو ویسے ہی شیر کی ہوتی ہے۔ یعنی ”تبدیلی حکومت“ کی بکری کو اس بار اپنی بقا کا پورا معرکہ جنگل میں ہی لڑنا پڑے گا۔ایک اور اہم ترین بات جو اس کے خلاف جاتی ہے وہ یہ ہے کہ”تبدیلی حکومت“ کی نادان بکری ”جنگل کے قانون“کو تبدیل کرنے کے سہانے و دل لبھانے والے نعرے لگاتے لگاتے جنگل کے عین بیچوں بیچ اُس جگہ تک آپہنچی جہاں تک آنے کا اُس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔یوں سیاست کے اس جنگل میں ”تبدیلی“ کی علمبردار یہ بکر ی ہر طر ف سے پوری طرح گھیری جاچکی ہے اور ”تبدیلی حکومت“ کی بکری کے لیئے فرار کا راستہ کوئی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگل کی بے رحم سیاست کا منظرنامہ گھمسان کی جنگ کے لیئے بالکل صاف ہے،یہاں تک کے دوستوں اور دشمنوں کے صف بندی بھی ہوچکی ہے۔یعنی جنگل کے جتنے درندے ہیں جیسے تیز رفتار چیتا،بدمست ہاتھی،پاگل گینڈا،شرارتی بند راور چالاک لومٹری سب کے سب ”طبقہ اشرافیہ“ کے شیر کے ساتھ ہیں اور اس کوشش میں ہیں کسی طرح شیر کو ایک بار پھر سے جنگل کے تخت شاہی پر بٹھادیں جبکہ دوسری جانب جنگل کے جتنے معصوم باسی مثلاً سریلی بلبل،بلند پرواز شاہین،اللہ میاں کی گائے اور خوبصورت ہرن وغیرہ سب کے سب متفقہ طور پر ”تبدیلی حکومت“ کی بکری کے حمایت میں اُس کے کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ کھڑے ہیں۔
اب ہم اس سارے ماجرے کو تھوڑی دیر کے لیئے یہیں پر روکتے ہیں کیونکہ ہمارے کچھ تشکیک زدہ قارئین کے ذہنوں میں باربار ایک سوال بُری طرح کلبلا رہا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ ”جب ”تبدیلی حکومت“ کی بکری ”طبقہ اشرافیہ“ کے شیر کی کچھار میں جاکر اُسکے تخت شاہی پر بیٹھ ہی گئی ہے تو پھر اب جنگل میں نئی جنگ کس بات پر ہونے جارہی ہے؟“۔میرے خیال میں یہ سوال ہمارے اُن قارئین کے ذہن میں آیا ہے،جو جنگل کے پرانے قانون سے ذرہ برابر بھی واقفیت نہیں رکھتے۔اُن کی تسلی و تشفی کے لیئے بتائے دیتے ہیں کہ”طبقہ اشرافیہ“ کے شیراور اُس کے ساتھیوں کے35 برس قبل بنائے گئے جنگل کے پرانے قانون کی شق نمبر 420 کے مطابق جنگل میں سیاسی فتح و شکست کا فیصلہ محض اقتدار پر قابض ہونے سے نہیں ہوجاتا بلکہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ کون باقی رہ جاتا ہے اور کون ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے فنا ہوجاتا ہے۔اب دوبارہ سے آتے ہیں شیر اور بکری کے مابین جاری رسہ کشی کی طرف۔جیسا کہ ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں یہ جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس کے باعث جنگل سے باہر کی بے شمار ارضی قوتیں بھی اپنے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر اس معرکہ پر پور ی طرح نظریں جمائے ہوئے ہیں مگر اس بار اچھی بات یہ ہے کہ خلافِ توقع ”صحرا کا شہنشاہ“ اپنی سیاسی مجبوریوں کے باعث ”طبقہ اشرافیہ“ کے شیر کے بجائے ”تبدیلی حکومت“ کی بکری کے ساتھ ہے۔یہ ہی وہ ”صحرائی امداد“ ہے جس کی بدولت”تبدیلی حکومت“ کی بھولی بھالی بکری اگر تھوڑی سے عقلمندی کا مظاہر ہ کرے تو جنگل میں بنیادی نوعیت کی انقلابی تبدیلیاں بپا کر سکتی ہے۔جیسے جنگل کے تمام درندوں کو جلد ازجلد گرفتار کر کے اُن کابے رحم احتساب کرنا، جنگل میں پرانے کالے قانون کی جگہ نئے قانون کا اطلاق کرنا اور جنگل سے لُوٹ کر باہر بھیجے جانے والے قیمتی وسائل کو واپس لا کر یہاں کے معصوم باسیوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے پر خرچ کرنا۔مگر سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اِن تمام اُمور کو انجام دینے کے لیئے ”تبدیلی حکومت“ کی بکری کے پاس وقت بہت کم ہے جبکہ اس بات کا بھی ڈر ہے کہ غیرضروری تاخیر ہوجانے سے شیر بکری کو کھا بھی سکتا ہے۔ خدانخواستہ شیر بکری کو کھا بھی گیا تب بھی جیت بہرحال بکر ی کی ہی ہوگی کیونکہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شیر ظالم ہے۔اس بار قادر مطلق نے ظالم شیر کی سرکوبی کے لیئے بکری کو بھیجا ہے معلوم نہیں اگلی بار کون آئے،بہر حال ایک بات طے ہے کہ شیر ظالم ہے اور خدا کے قہر سے کسی بھی صورت بچے گا نہیں،آج نہیں تو کل ظالم شیر اپنے انجام کو ضرور پہنچے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 28 اکتوبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں