Pakistan Army Chief and Najot Singh Sidduh

لائین آف پیس

گھر کے صحن میں ایک بیل اُگی ہوئی تھی۔مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی۔صحن کی صفائی ستھرائی کراتے ہوئے مالک مکان نے بیل کو نہ صرف کٹوادیا بلکہ زمین کھود کر اس کی جڑ یں بھی نکلوادیں گئیں اور اس کے بعد پورے صحن میں سیمنٹ کا پختہ فرش بنادیا گیا۔کچھ عرصہ بعد بیل کی سابقہ جگہ کے پاس سے پختہ فرش کا پلستر اُکھڑ گیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے زمین کے اندر سے دھکا دے کر پلستر کو اُکھیڑ دیا ہو۔گھر کے کسی فرد نے کہا کہ یہ چوہوں کی کاروائی ہے، کسی نے بچوں کی شرارت توکسی نے کوئی اور قیاس لگانے کی کوشش کی۔آخر کار جب مالکِ مکان کے کہنے پر سیمنٹ کا پلستر اُس جگہ سے ہٹا کر دیکھا گیا تو انکشاف ہوا کہ بیل کا نرم و نازک سا پودا اس کے نیچے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر گھر کے کسی مکین نے آواز لگائی کہ بیل کی کچھ جڑیں ضرور زیر ِ زمیں باقی رہ گئیں ہوں گی جب ہی تو ا ب یہ بیل اُوپر آنے کے لیئے سیمنٹ کے پختہ پلستر کے ساتھ زور آزمائی کررہی ہے۔مالک مکان نے بیل کی سچی کے طاقت کے آگے سرنگوں کر کے اس کے لیئے تھوڑی سے جگہ بنا دی۔ایک سال بعد دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اسی مقام پر کم و بیش بیس فٹ اونچی بیل پرانی آن بان اور شان کے ساتھ کھڑی تھی جہاں سے اِس کو ختم کرکے اس کے اُوپر سیمنٹ کا پختہ فرش تعمیر کردیا گیا تھا۔کتنی عجیب بات ہے کہ بیل کی نرم و نازک کمزور سی پتیاں جنہیں کوئی بچہ بھی باآسانی اپنے ہاتھوں میں مسل سکتا ہے اس کے اندر بھی اتنی طاقت ہے کہ سیمنٹ کے فرش کو توڑ کر اُوپر آجائے۔اَمن بھی ایسی ہی ایک طاقت ہے جس کو کوئی دبا نہیں سکتا،اس کو ختم نہیں کرسکتا۔اس کو پھیلنے، پھولنے اور آگے بڑھنے کے بنیادی حق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔بلاشبہ امن کی خواہش بھی ایک ایسی قوت ہے جو اس دنیا میں اپنا جائز حق وصول کر کے رہتی ہے۔بھلے ہی امن کی جڑیں تک کاٹ دی جائیں،یا اس کو کسی دیوار میں قید کردیا جائے۔یہاں تک کہ جب ظاہری طور پر دیکھنے والے یقین کر لیتے ہیں کہ امن کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاچکا ہے عین اُسی وقت وہ اپنا سر اُٹھا کر جھوٹ اور جھوٹے کا منہ چڑانے لگتا ہے۔بس اَمن کو موقع ملنے کی دیر ہے۔ایسا ہی ایک موقع پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیئے آئے انڈیا سے سابق کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ نے بغل گیر ہوکر صرف ایک بات کہہ کر دے دیا۔نوجوت سنگھ سدھو نے اپنی پریس کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں انتہائی پرجوش لہجے میں پوری دنیا کو بتایا تھا کہ ’’بن مانگے موتی ملتے ہیں اور مانگنے سے بھیک بھی نہیں ملتی۔ اور جو بن مانگے موتی ملتے ہیں اس کی مثال آپ کو بتاتا ہوں کہ جنرل باجوہ میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ بابا گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات منائیں گے تو ہم کرتاپور کراسنگ کو کھولنے کا سوچ رہے ہیں۔۔۔ وہ صرف ایک لائن میں مجھے اتنا کچھ دے گئے کہ۔۔۔“

کس نے سوچا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نوجوت سنگھ سدھو سے کہی گئی صرف ایک سطرآنے والے دنوں میں ”لائین آف پیس“ بن جائے گی۔ حالانکہ اُس وقت جنرل باجوہ صاحب کی لمحہ بھر کی سرگوشی پربھارت بھر میں ایک طوفان اُمڈ آیا تھا۔نوجوت سنگھ سدھو کو تو خیر سے ”انڈیا کے غدار“ کا لقب ملا ہی مگر جنرل قمرجاوید باجوہ کی بات کو بھی انڈیا و پاکستان کے تمام زیرک تجزیہ کار پورے شد و مد کے ساتھ ایک ناقابلِ عمل تجویز قرار دیتے رہے۔ سب کم وبیش اس ایک بات پر متفق تھے کہ بھارت میں مودی سرکار کے ہوتے ہوئے کرتار پور کے راستہ کا کھلنا ایک دیوانے کا خواب ہے۔بعض ازلی تنقید نگاروں نے تو سوشل میڈیا پر یہ تک لکھ دیا تھا کہ جنرل باجوہ نے آخر کرتار پور بارڈر کھولنے کی تجویز کیا سوچ کر دی ہے۔میرے خیال میں آج سب کو اپنی اپنی بات کا جواب بخوبی مل گیا ہوگا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوب سوچ سمجھ کر اور پوری ذمہ داری کے ساتھ ہی کرتار پور بارڈ کھولنے کی بات کی تھی۔اب یہ الگ بات ہے کہ اُس وقت کسی کے گمان میں بھی نہ ہوکہ یہ تجویز قابلِ عمل بھی ہو سکتی ہے لیکن جنرل قمرجاوید باجوہ کو پختہ یقین تھا کہ اُن کی طرف سے لگائی گئی امن کی یہ بیل ضرور منڈیر چڑھے گی۔سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹے اور لایعنی دعوے کرنے والی مودی سرکار آخر پاکستان کی ”خواہشِ امن“ کے آگے اپنا سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو ہی گئی۔بظاہر لگتا یہ ہی ہے کہ نریندر مودی نے یہ فیصلہ اخلاص کے بجائے اپنے ملک میں سکھوں کی صفوں میں پنپنے والے دباؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے کیا ہے۔ مگرجنرل قمرجاوید باجوہ کی ”لائین آف پیس“ سے دنیا پر ایک بات توپوری طرح عیاں ہو ہی گئی کہ خطہ پاک و ہند میں ”حقیقی اَمن“ کی سب سے زیادہ خواہش پاکستان ہی رکھتاہے۔

یاد رہے کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک ایسا منفرد مقام ہے جو بھارتی سرحد صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود بھی بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث گزشتہ 70 برسوں سے سکھوں کے لیئے ممنوعہ علاقہ بنا رہا ہے۔اس راستہ کو کھول دینا تو ایک طرف بھارتی حکومت سکھ یاتریوں کو یہاں آنے کے لیئے اجازت دینا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔اِن تلخ حقائق کی روشنی میں پاکستان کی طرف سے کرتار پور کے راستہ کو کھولنا کا فیصلہ کرنا سکھوں کے لیئے ایک نعمت متبرکہ سے کم نہیں اور جیسا کہ پاکستان کے آرمی چیف نے نوجوت سنگھ سدھو سے کہا تھا کہ ہم آپ کو بابا گرونانک 550 ویں جنم دن پر ایک یادگار تحفہ دیں گے تو پورے پاکستان کی طرف سے کرتار پور راہداری کے صورت میں سکھوں کو ایک بے مثال تحفہ مبارک ہو۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 25 نومبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں