LANGUAGE POLITICS IN PAKISTAN AND ITS SOCIOLINGUISTIC IMPACTS ON SINDH

لاثانی سیاست سے لسانی سیاست تک

ہم سمجھتے تھے کہ بانی ایم کیو ایم کی سیاسی موت کے بعد سندھ میں ”لسانی سیاست“ مکمل طور پر دَم توڑ چکی ہے اور اَب آئندہ سے صوبہ سندھ میں ”لاثانی سیاست“ کا سنہری دورِ دوراں رواں ہوجائے گا، مگر جب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں ببانگ دہل ”ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں“ کا نعرہ لگا یا تو احساس ہوا کہ سندھ کے سیاسی منظرنامہ سے وابستہ ہمارے سارے خیالات کس قدر خام اور ہماری تمام اُمیدیں کتنی موہوم و بے معنی تھیں۔پاکستان پیپلزپارٹی جس کے ساتھ ”پاکستان کی زنجیر،بے نظیر“ کے قابل فخر لقب کو بھی منسوب کیا جاتاہے،اُسی سیاسی جماعت کے سب سے ذمہ دار ریاستی نمائندہ کی جانب سے ”ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں“ کا عامیانہ اور تحکمانہ بیان سامنے آنا،سمجھ سے یکسر بالاتر ہے۔ یقینا وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کی جانب سے ملک بھر کی عوام کو سید مراد علی شاہ کے دیے گئے متعصبانہ بیان کی مختلف وضاحتیں اور سیاق و سباق بھی سمجھائے جا رہے ہیں لیکن غالب امکان یہ ہی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی زبانِ اقدس سے سندھ اسمبلی کے ایوان میں ریاست کی شان میں کہے گئے دھمکی آمیز الفاظ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے،جبکہ عام لوگ اُن کے ترجمانوں کی طرف سے پیش کی جانے والی وضاحتوں کو فراموش کردیں گے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: سیاست فاتحہ پر چل رہی ہے

سب سے بڑا لمحہ فکر! تو یہ ہے کہ آخر وزیراعلیٰ سندھ،سید مرادعلی شاہ نے ”ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں“کا نعرہ لگایا کس مقصد اور ہدف کو حاصل کرنے کے لیئے ہے۔ کیونکہ بالعموم یہ سمجھا جاتاہے کمزور سیاسی جماعتیں لسانی سیاست کا مہلک ہتھیار،صرف اس لیئے استعمال کرتی ہیں تاکہ وہ چور راستے سے اقتدار کی راہ داریوں تک پہنچ سکیں یا پھر خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے اپنی عوامی مقبولیت کو بڑھاسکیں۔بادی النظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کو نہ تو سندھ میں اقتدار تک پہنچنے کے لیئے کسی شارٹ کٹ راستے کی ضرورت ہے،کیونکہ گزشتہ مسلسل بارہ برس سے وہ بلاشرکت غیرے سندھ کے اقتدار ِ اعلیٰ پر قریب قریب دوتہائی کی جمہوری اکثریت سے فائز ہے۔جبکہ نہ ہی پیپلزپارٹی کو سندھ میں سستی شہرت حاصل کرنے کی کوئی حاجت ہے۔ کیونکہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کسی کو کوئی عار نہیں ہونی چاہیئے کہ بلحاظ عوامی مقبولیت بھی پاکستان پیپلزپارٹی ہی صوبہ سندھ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اِن دو بڑی سیاسی حقیقتوں کی موجودگی میں آئندہ بھی کم ہی امکان ہے کہ کوئی دوسری سیاسی جماعت صوبہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی جگہ سندھ کے اقتدار اعلیٰ تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکے۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے سیاسی منظر نامے میں اتنی مضبوط سیاسی پوزیشن میں ہونے کے باوجود وزیراعلی سندھ،سید مراد علی شاہ کا اچانک ہی لسانیت سے آلودہ بیان ”ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں“ جاری کرنا انتہائی معنی خیز ہے۔ شاید اسی لیئے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بیان کے الفاظ ضرور سید مراد علی شاہ کے اپنے ہیں لیکن، جاری کردہ بیان کا سارا، نفس مضمون پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے فراہم کیاگیا ہے اور وزیراعلی سندھ نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں اپنے بیان میں بین السطور ڈھکی، چھپی سیاسی دھمکی کو ریاست کے ذمہ دار حلقوں تک پہنچانے میں فقط ایک ”سیاسی ڈاکیے“ کا کردار،اداکیا ہے۔ یہ تجزیہ اس لیئے بھی عین قرین قیاس لگتاہے، سید مراد علی شاہ اپنی گفتگوبہت ناپ تول، تمام تر سیاسی نتائج و عواقت ذہن میں رکھ کر خوب چھان پھٹک اور سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔جبکہ عملی طور پر بھی وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک ایسے سرکردہ رہنما کی شہرت ِ عام رکھتے ہیں، جو تمام سیاسی اور غیرسیاسی طبقات کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کے سیاسی اُصول پر کامل یقین رکھتا ہے۔

مثال کے طورپر رواں ہفتے کراچی آرٹس کونسل میں ہونے والی عالمی اُردو کانفرنس، کے لیئے وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ کا دامے،ورمے اور سخنے تعاون بے مثال رہا ہے۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اس عالمی اُردو کانفرنس کے انعقاد کو کامیاب بنانے میں جس قدر کردار ملک بھر کے اُردو داں طبقے نے ادا کیا تو وہیں سید مرادعلی کی ذاتی و عملی دلچسپی بھی دو آتشہ رہی اور انہوں نے عالمی اُردو کانفرنس کے منتظمین،مہمانانِ گرامی اور شرکاء کو ہر سہولت بہم پہنچانے میں اپنی تمام تر انتظامی صلاحتیں جھونک دیں۔ جس کا اعتراف اور ستائش آرٹس کونسل کراچی کے سربراہ،احمد شاہ بھی باربار کرتے نظر آئے۔یعنی ایک طرف سید مرادعلی شاہ،فروغ اُردو کے لیئے شبانہ روز پوری تن دہی کے ساتھ مصروف تھے تو دوسری جانب اُسی شام سندھ اسمبلی کے ایوان میں ”ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں“ کا معتصبانہ بیان داغ دیتے ہیں۔ یہ قول و فعل کا ایک ایسا واضح اور کھلا تضاد ہے، جس کے پیچھے یقینا اُن کی اپنی شعوری مرضی سے کہیں زیادہ، کسی طاقت ور سیاسی شخصیت کی ”تائید غیبی“ پر لبیک کہے جانے کا احتمال پایا جاتا ہے۔

بہرکیف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ”ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں“ کی بات کرنے کا جس نے بھی مشورہ یا حکم دیا ہے،بلا شک و شبہ اُن کے ساتھ ”عذرگناہ، بدتر از گناہ“ والا ہی معاملہ کیا ہے۔ حالانکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک حلقے میں بھی یہ قوی تاثر پایا جاتاہے کہ اُن کی جماعت کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے باربار، ذو معنی سیاسی مقاصد ظاہر کرنے والے بیانات جاری کرنے کی روش، پیپلزپارٹی کے لیئے سیاسی فوائد سے زیادہ سیاسی نقصانات کا باعث بنتی جارہی ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سندھ کی اپوزیشن جماعتوں بشمول وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کا بلدیاتی ترمیمی قانون مسترد کردیا ہے تو اس واقعہ کو بنیاد بنا کر ضرورت سے زیادہ سیخ پا ہوکر اُلٹا سیدھا بیان جاری کرنے کی اس لیئے قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی کہ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پاس واضح اکثریت ہے اور آئین کی رو سے سندھ بھر میں قانون تو وہی نافذ العمل ہوگا،جسے سندھ اسمبلی پاس کرے گی۔ لہٰذا،اپوزیشن کی ایک خراب بال پر بالکل غیر ضروری شاٹ مار کر جہاں ساری تنقیدی توپوں کا رُخ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی طرف کرلیا ہے،وہیں صوبہ سندھ میں چند برس قبل لاثانی سیاست کی جانبِ منزل شروع ہونے ولا سفر ایک بار پھر سے لسانی سیاست کی گم کردہ راہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 16 دسمبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں