Sadiq Sanjrani in Senete

کنگز پارٹی کی تشکیل، منحرف کارکنوں کے لیئے نیا امتحان

بلوچستان کی اسمبلی میں ن لیگ کے منحرف اور ق لیگ کے اراکین کے گروپ کی جانب سے تین مشکل ترین سیاسی اہداف کے حصول میں کامیابی کے بعد اب آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔جس سے پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر سے ”کنگز پارٹی“ بننے کے امکانات روشن ہوں گئے ہیں۔ستر کی دہائی سے لے کر آج تک اگر دیکھا جائے تو غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے کم از کم پانچ مرتبہ مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو آپس میں متحد کر کے ”کنگز پارٹی“ میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ہر بار ”کنگز پارٹی“ کی کامیاب تکمیل کے بعد مسلم لیگ کئی دھڑوں میں تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی ہے۔اب بھی خبریں یہ ہی گرم ہیں کہ سینٹ الیکشن میں چاروں صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کا پلڑا بھاری کرنے والے شطرنج کے کھلاڑی اگلے الیکشن کی بساط پرنئی بازی کھیلنے کی اپنی پوری تیاری کر چکے ہیں۔ اس وقت بھلے ہی کنگز پارٹی کا جنم بلوچستان کی فضاؤں میں ہورہا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ نئی ”کنگز پارٹی“ کا لانچنگ پیڈ اور ہیڈ کواٹر سندھ کو ہی بنایا جائے گا کیونکہ ”کنگز پارٹی“ کو عام طور نشوونما کے لیئے جس قسم کے سازگار حالات و واقعات درکار ہوتے ہیں ایسا مناسب سیاسی ماحول فی الحال صرف سندھ میں ہی پایا جاتاہے۔اس سال کے اوائل میں ”کنگز پارٹی“ کے تخلیق کاروں کی جانب سے جو تین فقید المثال سیاسی کامیابیاں حاصل کی گئیں ان میں نواز لیگ کی قیادت میں بلوچستان کی مخلوط حکومت کا خاتمہ، آزاد حیثیت سے 6 سینیٹروں کو کامیاب کرانا اور سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے پر آزاد گروپ کے صادق سنجرانی کو فائز کرانا شامل ہیں۔اب ان کی نظریں آئندہ انتخابات میں ایک بہت بڑی ملک گیر کامیابی پر پوری طرح مرکوز ہوچکی ہیں۔ جس کے حصول کے لیے بلوچستان کی سرزمین پر نئی جماعت کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔بلوچستان میں رواں سال بعض کامیابیوں کی شکل میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں، اُن غیر متوقع سیا سی کامیابیوں کو ن لیگ کے منحرف گروپ اور ق لیگ کے اراکین اپنی سیاسی حکمت عملی اور دور اندیش فیصلوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں لیکن ن لیگ کی مخالف سیاسی جماعتیں انھیں مقتدر قوتوں کے اقدامات کا نتیجہ قرار دے رہی ہیں۔

ایک سوال یہ بھی درپیش ہے کہ نئی جماعت کانام کیا ہوگا،اس حوالے سے جو اطلاعات گردش میں ہیں۔ ان کے مطابق اس”کنگز پارٹی“ کا متوقع نام متحدہ مسلم لیگ ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے خلاف اس نئی سیاسی جماعت کے قیام کا خیال سب سے پہلے سابق وزیر اعظم اور پرانے مسلم لیگی رہنما میر جان محمد جمالی نے دیا تھا۔ اس خیال پر خوب سوچ سمجھ کر کام کیا گیا اور اب”کنگز پارٹی“ قسم کی ایک منفرد سیاسی جماعت کی تشکیل کی جارہی ہے۔ جو شخصیات اس نئی سیاسی جماعت کو بنانے جا رہی ہیں گو کہ ان میں اکثریت اُن لوگوں کی شامل ہے جو بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد سے اپنی نشستیں جیتتے آرہے ہیں لیکن ان سیاسی شخصیات کے علاوہ بھی درپردہ بہت سی سیاسی شخصیات متحدہ مسلم لیگ کے قیام کے لیئے کوشاں ہیں۔جو فی الحال اپنے آپ کو منظرِ عام پر پیش کرنا نہیں چاہتیں۔”کنگز پارٹی“ کے لیئے درپردہ کام کرنے والی یہ شخصیات بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات سے تعداد اور سیاسی مرتبے میں کہیں زیادہ ہیں اور ان میں سے اکثریت کا تعلق سندھ سے ہے۔ ان تمام لوگوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ آئندہ کے عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کریں۔ فی الحال نئی پارٹی میں آزاد ہم خیال، نیشنل پارٹی اور پی کے میپ کے منحرف ارکان شامل ہوں گے جبکہ اس کی سربراہی کے لیے سابق وزیراعلیٰ نواب ذوالفقارمگسی کے نام پر اتفاق ہو سکتا ہے۔نئی پارٹی کے قیام کے سلسلے میں میرعبدالقدوس بزنجو کے ساتھ ساتھ جان محمد جمالی، جام کمال، میر عبدالکریم نوشیروانی، سرفراز بگٹی، سردار صالح بھوتانی، سینٹر انوارالحق کاکڑ، میرعاصم کردگیلو، میرغلام دستگیربادینی،میر امان اللہ نوتیزئی اور سعید احمد ہاشمی بھی انتہائی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ فی الحال پارٹی کے اہم عہدوں کے لیے بھی انہی سرگرم رہنماؤں میں سے کسی کا انتخاب کیا جائے گا۔ جسے بعد ازاں مناسب سیاسی وقت آنے پر سندھ اور پنجاب کی دیگر قدر آور سیاسی شخصیات سے بدلا بھی جاسکتا ہے جو اس وقت پردے کے پیچھے ہیں۔اگرنئی پارٹی کے نام متحدہ مسلم لیگ پر اتفاق رائے ہو گیا تو اسے فوری طور پر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کروایا جائے گا۔اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ بلوچستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے تمام سینٹرز کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے بھی کچھ سینیٹرز بھی متحدہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں۔اس طرح نئی سیاسی پارٹی کی قوت مزید بڑھ جائے گی کیونکہ اسے پہلے ہی لگ بھگ 20ایسے سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہے جو اپنے بل بوتے پر الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر اگلے الیکشن میں اس نئی سیاسی جماعت کا تحریک انصاف اور جے یوآئی ایف سے انتخابی اتحاد ہو جاتا ہے تو پھرپاکستان میں ایک مضبوط سیاسی کردار ادا کرنے سے اس پارٹی کو کوئی نہیں روک سکتا۔کوئٹہ سے اُٹھنے والی تبدیلی کی یہ لہرصرف بلوچستان اور سندھ تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ دیگر صوبوں سے بھی اس نئے سیاسی اتحاد میں مختلف قدآور سیاسی شخصیات کو شامل کیا جائے گا۔

”کنگز پارٹی“ کی تشکیل کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ ماضی کی تمام کرپٹ سیاسی قیادت کو مائنس کر دیا جائے گویا اس بار مائنس ون نہیں بلکہ مائنس تھری بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ ایم کیو ایم کے بانی پہلے ہی انتخابی سیاست سے مکمل طور پر آوٹ ہوچکے ہیں تواب آپ خود ہی سوچ لیں کہ جب تینوں بڑی پارٹیوں کی ٹاپ لیڈرشپ کو سیاسی منظر نامہ سے نکال دیا جائے تو باقی کیا بچتا ہے، ملکی سیاست ایک ایسی غیر یقینی صورتحال کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے جس میں آئندہ انتخابات میں کسی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور ایسے میں پھر یہ ہی نئی”کنگز پارٹی“اپنا کردار ادا کر کے کسی بھی شوکت عزیز، معین قریشی ٹائپ متفق علیہ شخص کو وزیر اعظم بنا سکتی ہے۔ لیکن یہ منظر نامہ پرویز مشرف کے دورِ حکومت سے اس حد تک مختلف ضرور ہوگا کہ اس بار نوازشریف اور شہبا شریف ملک کے اندرموجود ہیں، پیپلزپارٹی کو آصف زرداری کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو کی لیڈرشپ بھی میسر ہے لیکن اس میں سب سے زیادہ متاثر ہ سیاسی جماعت پی ٹی آئی ہوگی۔ جس میں عمران خان اپنے علاوہ کسی دوسرے کو وزیراعظم کا اُمید وار نہیں سمجھتے اور خود تحریک انصاف کا کارکن بھی عمران خان کے علاوہ کسی اور کو وزیراعظم تو درکنار دوسرے درجے کا لیڈر ماننے کو بھی تیار نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں نے مستقبل کے سیاسی منظر میں اپنے اکٹھے ہونے کا اعلان تو کردیا ہے لیکن متحد ہونے والے رہنماؤں میں اب بھی بظاہر اعتماد کا ایک وسیع فقدان نظر آتا ہے۔ شاید اسی لیئے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ”کنگز پارٹی“ کے پرچم تلے متحد ہونے والے‘سیاسی یتیم‘ مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں اپنا کردار ڈھونڈنے اور متحد ہوکر اپنے آپ کو مہنگے داموں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاسی مارکیٹ میں اچھا دام ملنے کی صورت میں اکٹھے ہونے والے رہنماؤں میں سے کوئی بھی شخصیت خود کو انفرادی طور پر بیچنے سے گریز نہیں کرے گی کیونکہ ان کی اس طرح کی سیاسی بے وفائیوں اور قلابازیوں کی ماضی قریب میں بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ویسے بھی پاکستان میں جب بھی غیر جمہوری قوتوں کو سیاسی بے ساکھیوں کی ضرورت پڑی تو ہمیشہ مسلم لیگ نے ہی اپنا وجود پیش کیا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ مسلم لیگ کے دھڑے جو چاہیں کرلیں، ان کی”کنگز پارٹی“ کی سیاسی حیثیت اس وقت تک قابل ِ قدر نہیں بن سکتی جب تک کہ میاں نواز شریف کے قریبی سیاسی ساتھیوں جن میں چوہدری نثار علی خان وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں اپنا سیاسی وزن ”کنگز پارٹی“کے پلڑے میں نہیں ڈالتے اور ایسا ہونے کے امکان کو یکسر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سیاست میں کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دشمن اور ہاتھ اگر بہت کچھ آنے کی اُمید بھی ہو تو پھراپنی سیاسی پوزیشن کو تھوڑا سا تبدیل کر لینے میں آخر بُرائی بھی کیا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 05 اپریل 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں