Injection for Baby

حفاظتی ٹیکوں سے بچوں کی ہلاکتیں، ذمہ دار کون؟

ابھی چند دن پہلے ہی کی بات ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ادراہ برائے اطفال (یونیسف)نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان دنیا کے ان ملکوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں کم عمر بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔ یونیسیف کی جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان میں بچوں کی اموات کی بڑھتی شرح میں اضافہ کی بے شمار وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ پاکستان میں بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروانے میں سخت غفلت برتی جاتی ہے اور یہ غفلت صرف حکومت کی طرف سے ہی نہیں بلکہ عوام کی طرف سے بھی روا رکھی جاتی ہے۔جس کا سب سے موثر حل یہ پیش کیا گیا تھا عوام میں حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے پائے جانے والے غلط خدشات اور وسوسوں کو دورکرنے کے لیئے بھرپور آگہی مہم چلائی جائے۔ ستم ظریقی دیکھیئے کہ ابھی ”حفاظتی ٹیکوں“ کے حوالے سے آگہی مہم کا آغاز بھی نہ ہو پایا تھا کہ نواب شاہ میں محکمہ صحت کی سنگین غفلت کے باعث معصوم بچوں کو خسرے سے بچاؤ کیلئے ضلع شہید بینظیر آباد میں جاری حفاظتی ٹیکوں کی مہم میں حفاظتی ٹیکوں کے مبینہ ری ایکشن سے بے شمار بچوں کی حالت تشویشناک حد تک غیر ہو گئی۔متاثرہ بچوں کو پی ایم یو اسپتال نوابشاہ داخل کرایا گیا جہاں فوری طبی امداد ملنے کے باوجود بھی تین بچے 5 سالہ حسنین،4سالہ قمر اور تین سالہ بچی ہانیہ نور جاں بحق ہو گئے جبکہ تین بچوں تین سالہ ثانیہ،5 سالہ زبیر اور 4 سالہ جنت کو نازک حالت کے باعث کراچی منتقل کر دیا گیا۔واقعہ کے بعد شہر بھر میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا اور لوگوں نے سانگھڑ روڈ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں محکمہ صحت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کردئیے۔اس سے پہلے کے حالات مزید کشیدگی یا تشدد کی طرف جاتے فوری طور پر کمشنر شہید بینظیر آباد ڈویژن غلام مصطفی پھل،ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق لاٹکی اور میونسپل کمیٹی نواب شاہ کے چیئرمین عظیم مغل حرکت میں آگئے اور انہوں نے متاثرہ بچوں کے ورثاء سے رابطہ کر کے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سارا واقعہ سراسر ایک حادثہ ہے جس میں ملوث افراد کو ضرور کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس نے حفاظتی ٹیکے لگانے والی ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی۔ اس واقعہ کے حوالے سے پیپلزمیڈیکل سینٹر کے ڈاکٹرمظہر کا کہنا ہے کہ 10 سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے تھے، موت کی وجہ کیا ہے، تحقیقات کی جارہی ہیں، اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی سامنے آئے گی، بچوں کی اموات کی وجہ حفاظتی ٹیکوں کے علاوہ کچھ اور بھی ہوسکتی ہے۔فی الحال ہم نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع بھر میں خسرہ سے بچاؤ کے لیئے حفاظتی ٹیکوں کی مہم ملتوی کردی ہے۔ جبکہ اس ساری صورتحال پرصوبائی وزیر صحت سکندر میندھروکا کہنا تھا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،متاثرہ بچوں کو کراچی منتقل کررہے ہیں،جو دوائیں پلائی گئیں اس کی بھی تحقیقات ہوں گی۔محکمہ صحت کی طرف سے مسلسل ہزاروں بچو ں کی ویکسی نیشن کی جاتی ہے، کبھی کسی ڈرگ سے ری ایکشن ہوسکتا ہے، یا کسی کی غلطی بھی ہوسکتی ہے، جاں بحق بچوں سے متعلق تحقیقات ضرور ہوں گی اور واضح ثبوت ملنے پر ایکشن لیا جائے گا۔دوسری جانب شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف زرداری نے بھی نواب شاہ میں زائد المیعاد ویکسین سے بچوں کی ہلاکت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔حکومتِ سندھ کو اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات اوربچوں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کے ساتھ ساتھ متاثرہ بچوں کے اہلِ خانہ کی بھرپور طریقے سے امداد کرنے کا بھی کہا، جس کے بعد میونسپل کمیٹی کے چیئر میں حاجی عظیم مغل نے جاں بحق بچوں کے ورثا کو ایک،ایک لاکھ جبکہ دیگر تمام بچوں کے ورثاء کو علاج معالجے کی غرض سے فوری طور پر پچاس پچاس ہزار روپے نقد دئیے۔بظاہر وقتی طور پر حکومت سندھ نے اس افسوسناک واقعہ سے جنم لینی والی صورتحال کو اپنی مداخلت سے سنبھال تو لیا لیکن اس حادثے نے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔عام افراد جو پہلے ہی حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے طرح طرح کے خدشات اپنے ذہنوں میں رکھتے تھے،وہ اس حادثہ کے بعد مزید تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔ان حالات میں لگتا یہ ہی ہے کہ آنے والے دنوں میں صرف نواب شاہ یا اس کے مضافات میں ہی نہیں بلکہ پورے سندھ میں حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے کوئی بھی مہم چلانا محکمہ صحت سندھ کے لیئے آسان کام نہ ہوگا۔ بدقسمتی سے محکمہ صحت کے حکام کی ایک چھوٹی سی غفلت نے ”حفاظتی ٹیکوں“کی آگاہی مہم کو بُری طرح سپوتاژ کر کے رکھ دیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں بچوں کے والدین کو کیسے قائل کیا جائے گا کہ اُن کے بچوں کو جو حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں وہ اُن کو مختلف خطرناک بیماریوں سے بچانے کے لیئے ہیں نہ کہ اُنہیں موت کی وادی میں دھکیلنے کے لیئے؟کیا اس سوال کا جواب بھی کسی کے پاس موجود ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 22 مارچ 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں