Farooq Sattar and Khalid Maqbool

فاروق ستار کی پتنگ، خالد مقبول صدیقی نے لُوٹ لی

21 اگست کو ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے متنازع تقریر کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی کا اعلانیہ اظہار کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ انھوں نے اندرونی اور بیرونی سطح پر دباؤ اور مختلف سیاسی محاذوں سے ہونے والی اپنی تمام تر مخالفت کے باوجود جماعت کو قومی سیاست سے جوڑے رکھنے کی اپنی سی بھرپور کوشش کی،جس پر اُنہیں اپنی جماعت کے اندر سے بھی سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا رہالیکن ڈاکٹر فاروق ستار اندرونی و بیرونی تمام تر دباؤ میں بھی اپنی جماعت کو چلانے کی کوشش کرتے رہے، ان کی تنظیمی صلاحیت اپنی جگہ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان بننے کے بعد وہ تنظیمی معاملات کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی منظم انداز میں لے کر نہیں چل پا رہے تھے۔ڈاکٹر فاروق ستار پچھلے کئی سالوں سے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر تھے یعنی جب متحدہ واقعی متحد تھی اُس وقت بھی یہ ہی موصوف کنوینر تھے۔اس لحاظ سے اگر ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم کا سب سے طویل عرصے تک رہنے والا ایک تجربہ کار کنوینر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔شاید اسی بھروسہ پر انہیں اُمید تھی کہ دنیا کی کوئی طاقت ان سے ایم کیو ایم کی قیادت نہیں چھین سکتی۔ڈاکٹر فاروق ستار کی خوش اُمیدی اپنی جگہ لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں اپنے پانچ رکنی کمیشن کی طرف سے ایم کیو ایم کی کنوینئر شپ کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فاروق ستار کو نہ صرف متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی کنوینیئر شپ سے ہٹا دیا بلکہ فاروق ستار کی قیادت میں ہونے والے ایم کیو ایم پاکستان کے انٹرا پارٹی انتخابات کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔الیکشن کمیشن نے فاروق ستار کے اعتراضات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایم کیو ایم پاکستان کی کنونیئرشپ سے متعلق ہر قسم کے فیصلہ کی سماعت کا اختیار رکھتا ہے۔ فاروق ستار کو ہٹانے کیلئے ایم کیو ایم بہادرآباد کے رہنما کنور نوید جمیل اور خالد مقبول صدیقی نے درخواستیں دائر کی تھیں۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے نتیجے میں ایم کیو ایم بہادرآباد ہی اب ایم کیو ایم پاکستان ہوگی اور فاروق ستار کی سربراہی میں چلنے والی ایم کیو ایم پی آئی بی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قانونی سربراہ یا ڈپٹی کنوینر اب خالد مقبول صدیقی ہوں گے۔

یہاں ایک بات اچھی طرح ذہین نشین رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان اختلافات کئی ماہ سے جاری تھے تاہم اختلافات شدت کے ساتھ اس وقت میڈیا پر منظر عام پر آئے جب فاروق ستار اور عامر خان کے سینیٹ الیکشن میں کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے پر تنازع پیدا ہوا تھا جو اتنا بڑھ گیا کہ فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی نے ایک دوسرے کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کردیا۔ اس کے نتیجے میں پارٹی میں دو دھڑے ایم کیو ایم پی آئی بی اور ایم کیو ایم بہادرآباد بن گئے۔ دونوں دھڑوں نے الیکشن کمیشن میں ایک دوسرے کے خلاف درخواستیں دائر کرتے ہوئے خود کو اصل ایم کیو ایم پاکستان قرار دینے کی استدعا کی تھی۔الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل سینیٹ کے انتخابات میں بھی ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے حمایت یافتہ امیدوار کامران ٹیسوری کو شکست ہوئی تھی جبکہ مخالف گروپ کے بیرسیٹر فروغ نسیم نے کامیابی حاصل کی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے اس الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پاکستانی سیاست کا ایک سیاہ باب قرار دیا ہے اور کہا کہ”اس فیصلے کو بھی جسٹس منیر کے فیصلے کی طرح یاد رکھا جایے گا کیونکہ یہ بھی غیر منصفانہ اور غیر آئینی ہے۔ انھیں الطاف حسین کے سامنے کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ہے۔ مائنس الطاف حسین کے بعد اب مائنس ڈاکٹر فاروق ستار کے فامولے پر عمل کیا گیا ہے“۔ جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد رابطہ کمیٹی کے ارکان نے بھی بہادر آباد میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا،جس میں عامر خان، خالد مقبول صدیقی، کنور نوید جمیل، نسرین جلیل اور دیگر متحدہ رہنما موجود تھے۔ ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ نے کہا کہ”الیکشن کمیشن آف پاکستان کا یہ فیصلہ ہمارے لیے بادی النظر میں بہت تکلیف دہ ہے لیکن ہم مجبور ہیں اور فاروق ستار کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی کنوینر شپ سے برطرف کرنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہیں اور اپنے کارکنان پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایم کیوایم میں پیدا ہونے والی اس تمام تر مایوس کن صورت حال کی مکمل ذمہ داری صرف اور صرف فاروق ستار پر عائد ہوتی ہے،فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اختیارات ایک بار نہیں بلکہ کئی بار غلط طور پر استعمال کیے،ایسی بہت ساری باتیں ہیں تاہم صرف چند فیصد آپ سے شیئر کی جارہی ہیں درحقیقت فاروق ستار نے دھوکے سے خود کو پارٹی کا سر براہ بنایا۔ تنظیم کے اندر پسند نا پسند، اقربا پروری اپنے عروج پر لے گئے، انہوں نے جماعت میں مطلق العنانی کے ذریعے سارے کام کرنے کی کوشش کی، فاروق ستار کے غلط کاموں کو اگر ہم نے کبھی تسلیم بھی کیا وہ محض انہیں منانے اور پارٹی نہ توڑنے کی خاطر تسلیم کیا، ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے تکلیف ہورہی ہے کہ فاروق ستار آج سے کنوینر نہیں بلکہ پارٹی کے محض ایک کارکن ہیں“۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار کنارہ کش ہوجاتے ہیں یا ان کی زیرِ قیادت ایم کیو ایم پی آئی بی خاموش ہوجاتی ہے تو اس سے ایم کیو ایم کے اندرونی مسائل ختم نہیں ہوں گے بلکہ نقصان پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔اگر ڈاکٹر فاروق ستار کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں تو ان کے دیگر کئی ساتھی بھی وہ ہی راہ اختیار کرسکتے یا پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوجائیں گے، جس سے ایم کیو ایم کے لیے مشکلات پھر بھی کم نہیں ہوں گی۔ ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے لیے بڑا امتحان ہوگا کہ اگر ڈاکٹر فاروق تمام معاملات ان کے حوالے کردیتے ہیں تو کیا وہ ان کے بغیر پارٹی چلا پائیں گے؟یا دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار خالد مقبول گروپ کے سائے میں چلے جائیں جو فاروق ستار کے لیئے یقینا ایک مشکل فیصلہ ہوگا بہرحال اُن کے اس فیصلے سے ایم کیو ایم انتخابی سیاست میں موجود رہ پائے گی ورنہ اس کے مزید بکھرنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے، کیونکہ جب ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت کو قبول نہیں کیا گیا تو خالد مقبول صدیقی کی قیادت کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے، ان کا درجہ تو فاروق ستار سے بھی چھوٹا ہے اور ویژن بھی اس طرح کا نہیں ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات کو ایم کیوایم کے ووٹراچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے بلکہ وہ اس تمام تر صورت حال بہت زیادہ اضطراب اور پریشانی کا شکار ہیں،جس کے نتیجے میں آنے والے انتخابات میں ایم کیو ایم کا ووٹر ٹرن آؤٹ کافی کم ہوسکتا ہے، جس کا فائدہ دیگر جماعتیں اٹھا سکتی ہیں۔ آنے والے انتخابات میں سب سے بڑا خطرہ ایم کیو ایم کے لیے یہ ہے کہ اگر وہ اپنا منظم ووٹ بینک ایک جگہ پر نہیں رکھ پاتے تو غالب امکان یہ ہے کہ دوسری جماعتیں یہ نشستیں لے جائیں گی۔کراچی میں آنے والے انتخابات میں ایم کیو ایم سے مقابلے کے لیے مصطفیٰ کمال کی زیر قیادت پاک سرزمین پارٹی کے علاوہ تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی متحرک ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی جس نے سندھ بھر میں ترقیاتی منصوبوں کی تعداد اور رفتار میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے، وہ ایم کیو ایم کی نشستوں پر ہاتھ صاف کرنے کے لیئے فیورٹ سمجھی جارہی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 05 اپریل 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں