Stand With Kashmir

کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگِ بنیاد

ایک مدت تک ہم سمجھتے تھے کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا سنگِ بنیاد ہے اور جو ممالک بھی کشمیر کے مسئلہ پر ہمارا ساتھ نہیں دیں گے وہ ہمارے دوست نہیں ہوسکتے لیکن 5 اگست کے بعد ہمیں بڑی شدت سے احساس ہورہا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں کشمیر کبھی بھی ہماری خارجہ پالیسی کا سنگِ بنیاد نہیں رہا۔اگر کشمیر کبھی ہماری خارجہ پالیسی کا سنگِ بنیاد رہا ہوتا تو آج عمران خان کی نوزائیدہ حکومت کے زیرک اور گھاگ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو یہ بیان نہیں دینا پڑتا کہ ”دنیا بھر کے ممالک مسئلہ کشمیر کو سمجھتے ہیں لیکن کشمیریوں کے لیئے آواز نہیں اُٹھارہے“۔شاہ محمود قریشی کے اِس چھوٹے سے فقرہ سے ہماری خارجہ پالیسی کی تمام تر بے کسی و بے بسی کا کھل کر اظہار ہوتا ہے۔گو کہ ہماری ملکی خارجہ پالیسی کی تمام تر زبوں حالی کا ذمہ دار فقط عمران خان کی ایک سالہ حکومت کو قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے جو افراد بھی ماضی میں اِس تمام تر صورت حال کے ذمہ دار رہے ہیں۔اُن میں سے کئی ایک مرکزی کردار اِس وقت عمران خان کی حکومت میں اہم ترین مناصب پر فائز ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی سادہ لوح عوام اِن ہی زیرک و عالی دماغوں سے اُمید لگائے ہوئے بیٹھی ہے کہ وہ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی میں کسی انقلابی تبدیلی کا باعث بنیں گے حالانکہ اِن پالیسی سازوں کے ہوتے ہوئے کوئی خیر کی توقع رکھنا ایک کارِ عبث کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ کشمیر کو بھارت پر دست درازی کیئے ہوئے ایک ماہ،دس دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ہمارے حکومتی پالیسی ساز عمران خان کی معیت میں اَب تک بھارت کے لیئے اپنی فضائی حدود اور تجارت کو بند کرنا کا ایک بھی بڑا فیصلہ نہیں کرسکے۔ ہماری حکومت کی اِسی کمزور قوتِ فیصلہ کی وجہ سے چین کے علاوہ کوئی بھی ملک مسئلہ کشمیر پر ہمارا ہم نوا دکھائی نہیں دیتا۔عرب ممالک جن کی دوستی پر ہمیں بہت ناز ہوا کرتا تھا وہ مسئلہ کشمیر پر ہمارے متذبذب رویے کی وجہ سے ہمارا ساتھ دینے سے کنی کترا رہے ہیں اور جہاں تک ہمارے 70 سال پرانے دوست امریکہ کی بات تو ہے وہ بھی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستانی اور کشمیریوں کے سینوں پر”ثالثی“کے زہر آلود تیر برساکر چھلنی چھلنی کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی چاہے جتنی بار پیشکش کر لیں بہر حال اُن کے عزائم اور ارادوں سے کشمیریوں اور پوری پاکستانی قوم پر خوب واضح ہوگیا ہے کہ ٹرمپ کے تسلی آمیز بیانات ہمارے لیئے اور تمام تر عملی امداد و معاونت بھارت کے لیئے ہے۔

کشمیر کے معاملہ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منافقانہ رویہ چغلی کھار ہا ہے کہ اُسے ہم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے احساسات کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں بلکہ اگر ٹرمپ کو کوئی فکر دامن گیر ہے تو بس یہ کہ کسی طرح نریندرا مودی جلد از جلد مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو بزور طاقت کچل کر اپنے سیاسی قدم مضبوط کر لے۔ اِس ضمن میں ٹرمپ انتظامیہ مختلف حیلے بہانوں سے پاکستانی حکومت پر مسلسل یہ دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ 5 اگست کے بھارتی اقدام پر مٹی ڈال کر آگے کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے فقط آزاد کشمیر پر ہی قانع ہوجائے اور لائین آف کنٹرول کو مستقل بین الاقوامی سرحد تسلیم کر کے خطہ میں بھارتی بالادستی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے قبول کرلے۔یہ امریکہ بہادر کے غیر مرئی دباؤ کا ہی کرشمہ ہے کہ کابینہ اجلاسوں میں کئی حکومتی عمائدین بھارت کے لیئے فضائی حدود اور تجارت بند کرنے کے فیصلوں کی پوری شد و مد کے ساتھ مخالفت کررہے ہیں۔ اِن حکومتی زعما کا موقف ہے کہ بھارت کے لیئے پاکستانی فضائی حدود اور افغانستان کے لیئے بھارت کی تجارتی رسائی بند کرنے سے دنیا بھر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بے لچک ہونے کا تاثر پیدا ہوگا۔یعنی تحریک انصاف کی حکومت بھی خارجہ پالیسی کو لچکدار بنائے رکھنے کے لیئے بھارت مخالف بڑے فیصلے لینے سے اجتناب برت رہی ہے۔فی الحال ہمیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ماضی میں کون کون پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کشمیر کو سنگِ بنیاد بنانے سے انکاری رہا لیکن ہم یہ ضرور جاننا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی نئی تبدیل شدہ حکومت میں وہ کون کون سے”سیاسی دلاور“شامل ہیں جو موجودہ حکومت کے لیئے کشمیر کے معاملہ پر بڑے فیصلہ لینے میں بار بار رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر کوئی تو ایسا ”بھارت نواز“ضرور ہے جو حکومتی صفوں میں بیٹھ کر بھارت کے تجارتی اور معاشی مفادات کو تحفظ فراہم کر رہاہے۔



وزیراعظم پاکستان عمرا ن خان کو سمجھنا ہوگا کہ اُن کی حکومت کے لیئے کشمیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگِ بنیاد بنانا ازحد ضروری ہے اور اِس کے لیئے عمران خان کو ٹوئٹس اور بیانات کی ”سوشل میڈیائی دنیا“سے باہر نکل کر کچھ ایسے عملی اقدامات بھی ضرور کرنے ہوں گے جس سے دنیا بھر میں یہ احساس بیدار ہوسکے کہ کشمیر حقیقی معنوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگِ بنیاد ہے۔یہ کتنا بڑا لطیفہ ہے کہ ہمارے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سلامتی کونسل میں دنیا کے 191 ممالک کو بھارت کے خلاف عملی اقدامات اُٹھانے کا ایمان افروز درس دے کر آرہے ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان مظفر آباد کے جلسہ میں دنیا بھر سے اپیل کر رہے ہیں وہ بھارت کا تجارتی مقاطعہ کردیں جبکہ خود پاکستانی حکومت کی اپنی یہ حالت ہے کہ اِس نے42 دن گزرنے کے باوجود بھی اَب تک فقط بھارت مخالف بیانات اور اپیلیں داغنے کے علاوہ مجال ہے جو بھارت کے مخالف ایک بھی عملی قدم اُٹھاتے ہوئے بھارت کے لیئے اپنی فضائی حدود یا بھارت کے ساتھ اپنی تجارت بند کرنے کی ادنیٰ سی بھی زحمت گوارہ کی ہو۔ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان سے التماس ہے کہ کاش وہ دنیا بھر میں کشمیر کا سفیر بن کر روانہ ہونے سے پہلے،پاکستان میں بھی کشمیر کا سفیر بن کر بھارت مخالف کم از کم کوئی ایک آدھ ہی بڑا فیصلہ کرگزریں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 19ستمبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں