Clean Karachi Program

کراچی کو کچرا کچرا کس نے کیا؟

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں واٹر کمیشن کی عبوری رپورٹ کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ”واٹر کمیشن کی رپورٹ ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، سندھ میں کیا ہورہا ہے، ہمارے سامنے بڑی بھیانک تصویر سامنے آرہی ہے، میں جب کراچی آتا ہوں تو باتھ آئی لینڈ میں ہی رہتا ہوں، کل ساری رات میں مچھر مارتا رہا، جس مچھر کو مارتا اس میں خون بھرا ہوتا تھا، مچھر امیر غریب نہیں دیکھتا، مچھر تو کسی کو بھی متاثر کرے گا، ہم تنازع میں نہیں پڑیں گے، سیاست سے بالا ہو کر سب سوچیں، جس کی جو ذمہ داری ہے اسے ادا کرنا ہوگی، مشترکہ کاوشوں سے کراچی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کراچی کے شہریوں سے گزارش ہے وہ میری تعریفی تشہیری مہم بند کریں، میں اپنی تعریفی مہم نہیں چاہتا، میں تو اپنا فرض ادا کررہا ہوں۔مجھے ایک ہفتے میں کراچی صاف چاہیے“۔چیف جسٹس آف پاکستان کے ان فکر انگیز ریمارکس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں صحت وصفائی کے حالات کس درجہ تک مخدوش ہوچکے ہیں۔کراچی ہمیشہ سے سندھ کے سیاستدانوں کے لیئے ایک ایسی سونے کی چڑیا رہی ہے جس کے نام پر اربوں روپے لیے جاتے رہے ہیں، تاہم بدلے میں صرف چند سکے ہی ہیں جو اِس بدنصیب شہر کے حصے میں آتے ہیں۔ کراچی کے لیے جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے وہ کہاں استعمال ہوتا ہے یہ جاننا عوام کا حق ہے۔ نالوں کی صفائی اور حفاظتی اقدامات کے معاملے پر ہر سال شور اُٹھتا ہے، بجٹ مختص ہوتے ہیں، متعلقہ اداروں تک رقم پہنچتی ہے مگر حاصل حصول کچھ نہیں ہوتا۔ بارشیں تباہی مچا کر چلی جاتی ہیں اور نالوں کی صفائی اور حفاطتی انتظامات کے نام پر لیے جانے والے فنڈز کہاں جاتے ہیں کچھ خبر نہیں۔میئر کراچی وسیم اختر نے جس دن سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے اُس دن سے لوگ،اُن کی زبانی صرف ایک ہی بات سنتے آرہے ہیں کہ ’ہمیں اختیارات دیئے جائیں‘۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن اختیارات کی بات میئر صاحب کررہے ہیں، اُن سے عوام کو کچھ لینا دینا نہیں۔ عوام تو صرف یہ چاہتی ہے کہ اُن کے مسائل کا سدباب کیا جائے، اُنہیں ریلیف دیاجائے، اُن کے گھر کے باہر اور پارکوں و میدانوں میں موجود گندگی کے ڈھیر ختم کیے جائیں، سیوریج کا نظام بہتر کیا جائے اور پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے۔ ہم ناجانے کیوں ہر بار اپنی عوام کو بھولی اور بیوقوف سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ بات ٹھیک نہیں، کیونکہ عوام یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ بلدیاتی نمائندوں سے وہ جو مطالبات کررہے ہیں اُن کو پورا کرنے کا اختیار تو یو سی چیئرمین کو بھی حاصل ہیں، لیکن ناجانے پھر میئر صاحب کن اختیارات کی بات کررہے ہیں جو انہیں اِن کاموں سے روک رہے ہیں۔ یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ اگر تھوڑی دیر کے لیئے مان بھی لیا جائے کہ میئر صاحب کے پاس عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے اختیارات نہیں ہیں تو پھر وہ کس بنیاد پر عہدے پر تاحال براجمان ہیں؟ بلکہ کسی جونک کی طرح چپکے ہوئے ہیں اورمیئر کے طاقتور عہدے سے وابستہ ہر مراعات خوب دل کھول کر انجوائے کر رہے ہیں۔غیر ملکی سفیروں سے مل رہے ہیں،بڑی بڑی گاڑیوں میں پروٹوکول کے سائے تلے گھوم پھر رہے ہیں۔جب میئر صاحب یہ سب کچھ بغیر اختیارات کے کر رہے ہیں تو پھر عوام کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ وہ اِن سے اُن کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کریں اور میئر صاحب کا فرض ہے کہ وہ اِن سوالوں کا سیدھا اور سب کی سمجھ میں آنے والا جواب دیں۔
پچھلے بیس 25 سالوں سے ہر دو چار سال کے بعد کراچی کو کچرے سے صاف کرنے کے لیئے، کئی کمپین چلائی گئی، پوری طرح کئی پراجیکٹس بنے، ایک بار یہ بھی ہوا تھا کہ کچرا ٹرین چلائی جائے گی پھر کچرے سے بجلی پیدا کی جائے گی، بہت کچھ باتوں کی حد کیا گیا لیکن آج تک معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔ حقیقت تو ہی ہے کہ آج تک کسی حکمران نے کراچی کے کچرے کو صحیح معنوں میں اہمیت ہی نہیں دی۔ عارضی بنیادوں میں لیپا پوتی وغیرہ کی حد تک ہی رکھا جاتا ہے۔ یعنی کہ جب کسی نہ کسی وی وی آئی پی نے کسی علاقے میں آنا ہوتا ہے تو کچرے کے جو ڈھیر ہوتے ہیں ان کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ جب آپ کچرے کے ڈھیر کو شہر کے اندر آگ لگا دیتے ہیں تو کچرے کا وہاں پڑے رہنے سے سو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ایک اندازے کے مطابق کراچی میں روزانہ 20 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔ جس میں سے صرف 2 ہزار ٹن ایسا کچرا ہے جو شہر سے باہر مجوزہ جگہ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور باقی 18 ہزار ٹن جو یومیہ بنیادوں پر پیدا ہوتا ہے وہ کراچی کے اندر ہی رہتا ہے۔18ہزار ٹن کچرے میں سے 8 ہزار ٹن کچرا کراچی کے اندر ہی جو ندی نالے گجر نالہ، لیاری نالہ اور ملیر ندی وغیرہ یا اس طرح کے کئی چھوٹے و بڑے ندی نالے ہیں اس میں پھینک دیا جاتا ہے جو کہ مزید بیماریاں اور تعفن کا باعث بنتا ہے اور باقی ماندہ جو 10 ہزار ٹن کچرا ہے وہ چھوٹی چھوٹی کچرا کنڈیاں ہیں جو تقریباً ہر گلی محلے میں اور خالی پلاٹوں میں ناجائز طور پر بنا دی گئی ہیں اس میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 20 ہزار ٹن کچرا روزانہ پیدا ہوتا ہے اور 18 ہزار ٹن کچرا شہر کے اندر ہی رہ جاتا ہے تو کراچی صاف کیسے ہو گا؟20 ہزار ٹن کچرے کو روزانہ شہر سے باہر منتقل کرنا، تلف کرنا بہرحال ایک بڑا مہنگا اور مشکل کام ہے۔لہٰذا اس کا ایک ہی حل ہے کہ اس سے بجلی بنائی جائے کیوں کہ سویڈن میں جتنا بھی کچرا پیدا ہوتا ہے اس میں سے 96 فیصد کچرے سے بجلی بنا لی جاتی ہے بلکہ اب سویڈن میں کچرا کم پڑ گیا ہے اور ناروے سے امپورٹ کر رہا ہے۔ جتنا ہمارے ملک میں کچرا ہے اس حساب سے تو کئی ملکوں کی بجلی بن سکتی ہے۔ لہٰذا کراچی میں 20 ہزار ٹن کچرے سے 1000 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ایسا نہیں کہ کچرے سے بجلی بنانے کی کوشش نہیں کی گئی ایک بار 100میگا واٹ بجلی بنانے کی پوری تیاری کی گئی تھی لہٰذا حکومت تبدیل ہو گئی اور وہی ہوا جو پاکستانی عوام کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے کہ پچھلی حکومت کے منصوبوں کو نئی حکومت ہاتھ لگانا ہی گوارا نہیں کرتی۔کچرے کے اس گھناؤنے کاروبار میں ایک پوری مافیا ملوث ہے جو اس کو ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچنے نہیں دیتی، مختلف جگہوں پر کچرا پھینک دیا جاتا ہے، جہاں سے افغانی اور دیگر بچے کام کی اشیا حاصل کرتے ہیں، جو فیکٹریوں کو بھیجی جاتی ہیں۔اس وقت بھی پانچ کینٹونمنٹ، پورٹ، سول ایوی ایشن سمیت دیگر شہری علاقوں کا کچرا ڈمپنگ سٹیشن نہیں آرہا وہ شہر میں پڑا گل سڑ کر مختلف بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔عوام سڑکوں پر کچرے کے عین بیچوں بیچ ماری ماری پھررہی ہے اور سندھ اور کراچی کے کرتا دھرتا سوٹ بوٹ پہن کر مہنگی گاڑیوں میں موسم کو انجوائے کرتے نظر آرہے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے مسلسل جاری ہے۔ کراچی کو اس کے نام نہاد نام لیوا باسیوں نے ہی اس حال تک پہنچایا ہے،انہوں نے اِسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔جس شہر نے اپنا سب کچھ اپنے رہنے والوں میں تقسیم کردیا آج یہ ہی لوگ اِس کو کچرا کچرا کر رہے کیونکہ اِس شہرِ قائد میں صرف ایک چیز پوری ایمانداری سے کی جاتی ہے اور وہ ہے اقتدار اور اختیار کے لیے لڑائی۔ باقی مسائل کے لیے صرف اجلاس ہی اجلاس منعقد ہوتے ہیں جن میں اعلیٰ طعام اور انتخابات میں سیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی بات بھی قابلِ ذکر اور قابلِ فکر نہیں ہوتی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 29 مارچ 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں