Sindh Apex Committee Meeting

کراچی آپریشن حتمی مراحل میں داخل

اس بار سندھ میں ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی واردتوں کی گونج کافی دیر تک سنائی دیتی رہی۔ اسٹریٹ کرائم کا معاملہ اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے ہر مسئلہ پر مکمل طور پرچھایا رہا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کور کمانڈر کراچی،ڈی جی رینجر سندھ،آئی جی سندھ،چیف سیکریٹری،سیکریٹری داخلہ،انٹیلی جنس اداروں کے افسران اور دیگر اہم ترین شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس میں کراچی شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیااور دورانِ اجلاس متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی شہر کو اسٹریٹ کرائم سے پاک کرنے کے لیئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے گاجس میں پولیس کے ساتھ ساتھ سندھ رینجر بھی بھرپور حصہ لے گی۔اس کے علاوہ اجلاس میں سائبر کرائمز کی بڑھتی کارروائیوں اور اپیکس کمیٹی کے پچھلے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور انتہائی سنگین نوعیت کے مزید 28 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی سفارش بھی کی گئی جبکہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسٹریٹ کرائمز کے مقدمات کو جلداز جلد نمٹانے کے لیئے ٹرائلز کے لیئے الگ عدالتیں قائم کریں۔ کراچی سیف سٹی کے اس منصوبے کو سست روی کا شکار ہونے سے بچانے اور یقینی نتائج کی فراہمی کے لیئے نگران کمیٹی بھی بنانے کی سفارش بھی کی گئی۔ اس کمیٹی میں رینجر اور پولیس اور دیگر اداروں سے اراکین کو منتخب کیا جائے گا۔باخبر ذرائع اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں اور اُمید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں کراچی آپریشن اپنی پرانی تیز ترین رفتار پرواپس آجائے گا۔
ماضی میں کراچی آپریشن کے آغاز کے بعد جہاں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی تھی وہیں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں بھی کسی حد تک کمی آگئی تھی لیکن یہ سکون عارضی ثابت ہوا،اس میں کوئی شک نہیں کہ اب کراچی میں قتل و غارت گری کی وہ کیفیت نہیں ہے جوگزشتہ ادوار میں رہی ہے مگر اس کے باوجود کچھ عرصہ سے سندھ بھر میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ سرکاری ادارے ”سی پی ایل سی“کی طرف سے حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں برس اب تک کے 10 ماہ میں اسٹریٹ کرائم کرنے والے مجرموں کا کراچی شہر میں مکمل طور پر راج رہا ہے۔گزشتہ دس ماہ کے دوران 12 سو گاڑیاں اور 23 ہزار موٹرسائیکلیں چھینی جاچکی ہیں جبکہ عوام کو 26 ہزار سے زائد موبائل فونز سے بھی محروم ہونا پڑا ہے۔جنوری میں 2550 موبائل فونز چھینے گئے،فروری میں 2330،مارچ میں 2440،اپریل میں 2650،مئی میں 2830،جون میں 3810،جولائی میں 2850،اگست میں 2995،ستمبر میں 2500،اکتوبر اور ماہِ نومبر کے ابتدائی پندرہ دنوں کے دوران 4 ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے جاچکے ہیں یہ وہ اعدادو و شمار ہیں جو صرف اُن شکایات پر مشتمل ہیں جن کا اندراج شہریوں کی طرف سے باقاعدہ شہر کے کسی تھانے میں کروایا گیا ہے جبکہ اسٹریٹ کرائمز کی اصل واردات ان اعدادوشمار سے کئی گنا زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔
اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں انتہائی طاقتور سیاسی شخصیات یا اُن سے متعلق اہم ترین افراد کے ملوث ہونے کے اشارے بھی مل رہے جس کا ایک واضح ثبوت میئر کراچی وسیم اختر کے سابقہ ڈرائیور گلشن گوپانگ کا کراچی میں کار چوری کی واردتوں میں بطور سرغنہ گرفتار ہونا قرار دیا جارہا ہے۔گلشن گوپانگ جس نے 2009 ؁ء سے 2013 ؁ء تک وسیم اختر کے پاس نوکری کی۔نوکری چھوڑنے کے بعد اس نے اپنا ایک گروہ بنالیا اور گاڑیاں چوری کرنے لگا۔اب تک منظرِ عام پر آنے والی تفتیشی رپورٹ کے مطابق گلشن گوپانگ نے 15 سے زائد گاڑیاں چوری کرنے کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ملزم کے دئیے گئے بیان کے مطابق یہ گاڑیاں چوری کرکے وہ اندرونِ سندھ حاجی پاکستانی نامی شخص کو فروخت کرتا تھا۔ایک گاڑی چوری کرنے پر گروہ میں شامل ہر کارندہ کو 20 سے 80 روپے تک بطور حصہ ملتے تھے۔گاڑیاں چوری کرنے کی یہ لوگ زیادہ تر وارداتیں کراچی کے پوش علاقوں میں کیا کرتے تھے۔گلشن گوپانگ کا ایک ساتھی امان اللہ گاڑی میں لگا ٹریکر کاٹنے کا ماہر ہے۔خدشہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سندھ میں ایسے بہت سے مجرمانہ گروہ کام کر رہے جن کی پشت پناہی مختلف بااثر سیاسی شخصیات کی طرف سے کی جارہی ہے۔اندرون ِ سندھ تو یہ صورت مزید مخدوش ہے کیونکہ جرائم کے زیادہ تر گروہ اندرونِ سندھ کے مختلف علاقوں سے ہی چلائے جارہے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ مختلف حلقوں کی جانب سے بار بار اس بات کا مطالبہ دہرایا جاتا رہا ہے کہ اگر آپریشن رد الفساد کو سندھ بھر میں بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو پھر اس کا دائرہ کار اندرونِ سندھ تک پھیلانا ہوگا کیونکہ عام مشاہدہ میں آیا ہے کہ جیسے ہی کراچی آپریشن کے رفتار ذرا سی تیز ہوتی ہے مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث افراد کچھ عرصہ کے لیئے اندرونِ سندھ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں روپوش ہوجاتے ہیں اورپھر اپنی تمام تر مجرمانہ کارروائیوں کا ہدف اندرونِ سندھ کی معصوم عوام کو بنا لیتے ہیں اورکچھ عرصہ بعد جیسے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ کراچی آپریشن ذرا سی بھی سست رفتاری کا شکار ہو گیا ہے یہ کارروائیاں کرنے کے لیئے دوبارہ سے کراچی کا رُخ کر لیتے ہیں۔مجرموں اور سیکورٹی اداروں کے درمیان جاری رہنے والی آنکھ مچولی کا یہ کھیل اُسی وقت ہی اپنے منطقی انجام سے دوچار ہوگا جب کراچی آپریشن کا دائرہ پورے سندھ تک پھیلادیا جائے گا۔اچھی بات یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق اپیکس کمیٹی کے حالیہ ہونے والے اجلاس میں اس سارے مسئلہ کی سنگینی کا درست اور بروقت ادراک کرتے ہوئے اس بات کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر یا دسمبر کے شروع میں ہی اندرونِ سندھ میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک بھرپور گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا جائے گا۔جرائم پیشہ عناصر اور بدنام ڈاکوؤں کے خلا ف کر اچی آپریشن کے تحت شروع ہونے والے اس آپریشن میں پولیس کے ساتھ رینجر اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادروں کوبھی مکمل طور پر آن بورڈ رکھا جائے گا جب کہ فوج کو اسٹینڈ بائی پوزیشن پر تیار رہنے کی ہدایت کی جائے گی تاکہ کسی بھی مرحلے پر ضرورت پڑنے پر بلاتاخیر فوج کی بھی مدد حاصل کی جاسکے۔یہ آپریشن صرف ڈاکوؤ ں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہی نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کیا جائے گااور جرائم پیشہ عناصر اور اُن کی محفوظ پناہ گاہوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور30 نومبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں