Karachi Last Hope

نااُمید کراچی کی آخری سیاسی اُمید

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کی جانب سے گزشتہ دنوں تن تنہا،کسی سیاسی اتحاداور حکومتی امداد کے بغیر کراچی میں ایک بڑا مجمع عام اکھٹا کرلینا، کراچی کی حالیہ سیاسی تاریخ میں ہرگز ایسا معمولی واقعہ نہیں ہے،جسے آسانی سے نظر انداز کردیاجائے۔ اس جلسے کی اہمیت اُس وقت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ جب چند ہفتے قبل ہی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا کراچی میں ہونے والا جلسہ اہلیانِ کراچی کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں بُری طرح سے ناکام رہا ہو۔ یعنی اپوزیشن کی گیارہ سیاسی جماعتوں نے باہم مل کر سندھ حکومت کی انتظامی آشیر باد سے ملک بھر سے جتنے افراد پی ڈی ایم کے جلسے میں جمع کر سکے تھے کم و بیش اتنی ہی تعداد میں عوام،پاک سرزمین پارٹی کے حالیہ جلسہ میں بھی شریک تھی۔ لیکن مصطفی کمال کا جلسہ اس لیئے پی ڈی ایم کے جلسے پر واضح سیاسی برتری اور فوقیت رکھتا ہے کہ اس جلسے میں اہلیانِ کراچی بڑی تعداد میں شریک تھے جبکہ پی ڈی ایم کے جلسہ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے کسی عام آدمی کی شرکت تو بہت دُور کی بات ہے،بدقسمتی سے اُن کے سیاسی اسٹیج پر بھی کراچی کی سیاسی نمائندگی دستیاب نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیئے: کراچی کی بھولی بسری لوک کہانی

علاوہ ازیں پی ڈی ایم کے جلسہ سے چند ہفتے قبل جماعت اسلامی بھی حقوق کراچی مارچ کے نام سے اہلیانِ کراچی کا ایک فقید المثال مجمع اکھٹا کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ دلچسپ با ت یہ ہے کہ جس وقت اپوزیشن الیون مزار قائد کی ہونے والی مبینہ توہین پر سیاسی طوبان بدتمیزی برپا کرنے کی”سیاسی کوششوں“میں مصروف تھی،عین اُسی وقت بھی جماعت اسلامی کراچی کے تحت حقو قِ کراچی ریفرنڈم جاری تھا۔ جس میں تقریباً 70 لاکھ سے زائد لوگوں نے بیلٹ پیپرز کے ذریعے اور 8 لاکھ افراد نے آن لائن ووٹ ڈال کر کراچی میں مردم شماری ازسرِ نو کروانے،سندھ سے کوٹہ سسٹم کے خاتمہ اور کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دینے جیسے اہم ترین مطالبات کے حق میں اپنی رائے استعمال کی تھی۔ مگر افسوس الیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیاپر کیپٹن ریٹائر ڈ صفدر اور مریم نواز کی جانب سے مچائی جانے والی ہاہا کار کے شور میں کراچی کے مسائل اور حقوق کے لیئے اُٹھائی جانے والی آواز دب کر رہ گئی۔

اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو پاک سرزمین پارٹی کے تازہ ترین جلسے اور جماعت اسلامی کی جانب سے منعقد کیئے گئے حقوق کراچی مارچ اور حقوق کراچی ریفرنڈم کو کراچی کی عوام کی جانب سے زبردست سیاسی پذیرائی بخشنا۔ جہاں اِن دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت پر بھرپور سیاسی اعتماد کا اظہار ہے،وہیں یہ نئی سیاسی صورت حال سندھ کی آنے والے سیاسی منظرنامے میں سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے لیئے ایک بہت بڑے سیاسی خطرہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلزپارٹی نے جس طرح سے شہر کراچی کا انتظامی و سیاسی استحصال کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ہر دو جماعتوں کی جانب سے روا رکھے جانے والے اس ظالمانہ سیاسی و انتظامی رویے ہی نے کراچی کے باسیوں کو پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی کراچی کی جانب اُمید بھری نظروں سے دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔

لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ان دونوں سیاسی جماعتوں میں سے کوئی ایک جماعت یا پھر دونوں جماعتیں باہم مل کر شہر کراچی کو درپیش سیاسی و انتظامی مسائل کا کوئی مداوا یا شافی علاج فراہم کربھی سکتی ہیں یا نہیں؟۔ہماری ناقص رائے میں اس کا سادہ سا جواب ہاں ہی ہے اور ہوسکتاہے ہمارے اس جواب سے بہت لوگ شدید اختلاف بھی کریں۔لیکن کراچی کی اَب تک کی نتظامی و سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اس شہر میں سیاسی رواداری،انتظامی مساوات،سماجی ترقی اور بہتری کے جو دو سنہرے زمانے گزرے ہیں،اُن میں سے ایک دور جماعت اسلامی کے رہنما نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ مرحوم کا دورِ نظامت ہے جبکہ دوسرے زمانہ جسے آج بھی کراچی کے لوگ شدت سے یاد کرتے ہیں،وہ،وہ وقت ہے جب مصطفی کمال کراچی کے ناظم ہوا کرتے تھے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اور ایم کیوایم کے حال میں سبکدوش ہونے والے میئر وسیم اختر کی انتظامی و سیاسی کارکردگی سے مایوس ہونے والے اہلیانِ کراچی کی آخری اُمید اَب مصطفی کمال اور جماعت اسلامی کراچی کے ساتھ بندھتی جارہی ہے۔

ایسے میں اگر پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی،شہر کراچی کے مسائل کے حل کے لیئے ایک وسیع البنیاد سیاسی ایجنڈے پر متفق ہوکر سیاسی اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو پھر غالب امکان یہ ہی ہے کہ شہر کراچی بھی اپنا سارا سیاسی وزن ان دونوں جماعتوں کے سیاسی پلڑے میں با آسانی ڈال دے گا۔ لیکن اس ہدف کو قابل حصول بنانے کے لیئے دونوں جماعتوں کو جلد ازجلد کچھ اہم ترین فیصلے بھی کرنے ہوں گے۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی کو سینیٹر سراج الحق کی جگہ پر حافظ نعیم الرحمن جیسے کسی نوجوان،اولعزم اور معاملہ فہم رہنما کو بطور قا ئد متعارف کروانا ہوگا۔ حالانکہ جماعت اسلامی کی امارت ہمیشہ ہی سے بزرگ اور تجربہ کار رہنماؤں کا بنیادی حق سمجھی جاتی رہی ہے لیکن پاکستانی میں سیاست میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز جیسی نوجوان قیادت کے درمیان سینیٹر سراج الحق کے بجائے حافظ نعیم الرحمن اس لیئے زیادہ مناسب رہیں گے کیونکہ آج کل نئے سیاسی قلعے تسخیر کرنے کے لیئے جس قسم کی عصری خوبیاں اور تقاضے درکار ہیں،اُن کا بندوبست کرنا شاید سینیٹر سراج الحق کے لیئے اتنا آسان و سہل نہ ہوجتنا حافظ نعیم الرحمن جیسے نوجوان سیاسی رہنما کے لیئے ہوسکتاہے۔

جبکہ گزشتہ چند برسوں میں کراچی کی مشکل ترین اور پیچیدہ سیاست میں جس طرح سے حافظ نعیم الرحمن نے اپنی سیاسی و انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے،اُس سے صحیح معنوں میں مزید مستفید ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ انہیں سیاسی فیصلہ سازی کے لیئے کلیدی اختیارات فراہم کردیئے جائیں۔ دوسری جانب مصطفی کمال کو بھی اس حقیقت کو جلد ازجلد تسلیم کرنا ہوگا کہ شہر کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی کی انتظامی طاقت اور ایم کیوایم کی سیاسی قوت کو شکست دینے کے لیئے اُسے کسی ہم خیال سیاسی جماعت سے سیاسی اتحاد ضرور بنانا ہوگا اور اس کے لیئے سرِ دست جماعت اسلامی کراچی سے بہتر کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب گیارہ سیاسی جماعتیں کرپشن اور اپنی خاندانی سیاست کے تحفظ کے لیئے پی ڈیم ایم اتحاد کی سیاسی چھتر چھایہ تلے جمع ہوسکتی ہیں تو پاک سرزمین پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے مابین کراچی کے حقوق کے لیئے ایک وسیع البنیاد سیاسی و انتخابی اتحاد کیوں نہیں بن سکتا؟۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 12 نومبر 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں