Havey Rain in Karachi

پھلتے پھولتے حکمرانوں کا ڈوبتا ہوا کراچی

حالیہ طوفانی بارشوں نے ساکنانِ کراچی کے ڈوبنے کے لیئے تو پانی کی کمی بے شک دُور کردی۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ 35 برسوں سے کراچی شہر پر حکمرانی کے مزے لوٹنے والے حکمرانوں کو ڈوب مرنے کے لیئے چُلّو بھر پانی حالیہ بارشوں میں بھی دستیاب نہ ہوسکا۔کاش کراچی میں بارش کے ابرِ رحمت کے ساتھ ہی کچھ چُلّو بھر پانی بھی آسمان سے نازل ہو جاتا تو کتنا اچھا ہوتا، کم ازکم اِس طرح کراچی کے شہریوں کے ساتھ ساتھ اُن کے حکمرانوں کو بھی ڈوب مرنے کا تھوڑا سا موقع میسر آجاتا۔ لیکن شاید کراچی کے باسیوں کا نصیب ابھی اِتنا سربلند نہیں ہوا کہ اُن پر حکمرانی کا نسل در نسل پیدائشی حق رکھنے والے بھی عام شہریوں کی طرح کسی ندی نالے میں غوطے کھائیں،بجلی کے کھمبے سے چپکیں یا اُن کے بچے بھی غریبوں کے بچو ں کی طرح کرنٹ لگنے سے راہی ملکِ عدم ہوسکیں۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ پورا کراچی شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور کراچی کے نام نہادحکمران اَب بھی اپنے اپنے ٹھنڈے ٹھار دفتروں میں بیٹھ کر شہر کی سیلابی صورتحال پر مختلف ٹی وی چینلوں پر رواں تبصروں میں اپنی مخالف سیاسی جماعتوں پر الزام تراشی کا شغل فرمارہے ہیں اور اپنا وہی پرانا موقف دہرا رہے ہیں کہ ”اِس بار بارشیں زیادہ ہوگئیں وگر نہ اُنہوں نے تو اپنی طرف سے پوری تیاری کی ہوئی تھی۔اگر بارشیں کم ہوتیں تو شہر کے ساتھ یہ صورتحال ہر گز نہ ہوتی“۔ خاطر جمع رکھیئے کہ جب تک شہر کے گلی کوچوں سے سیلابی پانی نکل نہیں جاتا، کراچی کے یہ سیاسی آقاو مولا قطار اندر قطار روزانہ ٹی وی چینلز پراِسی طرح کے ملتے جلتے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے نظر آتے رہیں گے۔

کراچی میں بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی یہ دگرگوں صورت حال کوئی نئی نہیں ہے۔گزشتہ 35 برسوں میں جب بھی ابرِ رحمت کم یازیادہ کراچی والوں پر برسا ہے، وہ ہر بار ہی سرکاری انتظامیہ کی ”سیاسی غفلت“کے باعث عوام کے لیئے زحمت ہی ثابت ہوا ہے۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران حکومتی اداروں کی انتظامی غفلت کے باعث 12 سے زائد معصوم جانوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔جن میں زیادہ تر ہلاکتیں کرنٹ لگنے کے وجہ سے ہوئیں جن کی براہِ راست ذمہ داری کے الیکٹرک پر عائد ہوتیں ہیں۔ گو کہ میئر بلدیہ عظمی کراچی وسیم اختر کی چیخ و پکار کے بعد کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف کرنٹ سے ہونے والی ہلاکتوں کی ایف آئی آر کاٹ لی گئی ہے۔لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اور اِس جیسے دیگر بددلی سے لیئے گئے ہنگامی اقدامات ایک ڈھکوسلہ کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔جن کا بنیادی مقصد عوام کے غم و غصہ کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنا ہے اورجیسے یہ المناک واقعہ تھوڑا سا پرانا ہوکر میڈیا کی یادداشت سے محو ہونے لگے گا۔کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف جاری تمام تر قانونی کاروائی کو اچانک سے داخلِ دفتر کردیا جائے۔یہ فقط اندیشہ نہیں ہے بلکہ ماضی کے واقعات گواہ ہیں حکومتی اداروں کے خلاف کٹنے والی ایف آئی آر کچی پنسل سے لکھی ہوئی وہ ناپختہ تحریر ہوتی ہے،جسے مہنگے وکیلوں کا ”قانونی ربڑ“ جب چاہے مٹا کر اِس کی جگہ پر اپنی مرضی کی قانونی تحریر رقم کردیتاہے۔یقینا اَب بھی ایسا ہی ہوگا اور کے الیکٹرک کے منتظمین کو ”قانونی شک“ کا فائدہ دیتے ہوئے،پورے واقعہ کو حادثہ قرار دے کر صاف بَری کردیا جائے گااور کے الیکٹرک بدستور شہر ِ کراچی میں بجلی کی تقسیم کا انتظام چلاتی رہے گی اور کسی میں اتنی اخلاقی جرات پیدا نہیں ہوگی کہ اِس کمپنی کی جگہ کسی دوسری کمپنی کو کراچی میں بجلی چلانے کی ذمہ داری یا انتظام و انصرام دے سکے۔واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ کے الیکٹر ک کمپنی کی پشت پر زبردست سیاسی آشیر باد ہے جس کے ہوتے ہوئے سندھ حکومت تو خیر چیز ہی کیا ہے،تحریک انصاف کی وفاقی حکومت بھی اِس کمپنی کے منتظمین سے باز پرس کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔



یاد رہے کہ کراچی دنیا کا تیسرا بڑا شہر ہے۔اِس لیئے اِس شہر کو میٹرو پولیٹن سٹی بھی کہا جاتا ہے۔لیکن خدا کو حاضر ناظر جان کر اور ایک بار بار اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتائیں کہ کیا ایسا ہوتا ہے میٹرو پولیٹن سٹی؟۔ اگر آپ کا جواب نہیں میں ہے تو پھر اِس سوال کا جواب بھی آپ کو ضرور تلاش کرنا چاہئے کہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے شہر کو اِس حال تک پہنچانے میں کس حکمران کا کتنا ہاتھ ہے؟اہم بات یہ ہے کہ کراچی کی تباہی کی داستان کچھ اتنی زیادہ پرانی بھی نہیں ہے کہ کسی کو یاد نہ ہو۔گو کہ کراچی پر حکمرانی کی یکے بعد دیگرے باریاں لینے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں،آج اِس المناک صورت حال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دے رہی ہیں۔ لیکن حق بات تو یہ ہے کہ اگر گزشتہ چالیس برسوں میں کراچی کا اقتدار فقط اِن دوہی سیاسی جماعتوں کے پاس باری باری رہا تھا تو پھر کراچی کو حال سے بے حال کرنے میں بھی یہ دونوں جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔

مختلف نیوز چینلوں پر ہمیں وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ اور میئر بلدیہ عظمی کراچی وسیم اختر حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں کئی ایک مقامات پر اپنی اپنی انتظامی مشینری کے ہمراہ کراچی کے سڑکوں پر بارش میں بھیگتے ہوئے، نکاسی آب کا کام کرتے ہوئے اور لوگوں کی مدد و اعانت فراہم کرتے ہوئے ضرور نظر آئے۔لیکن جب گزشتہ چالیس برسوں میں کراچی میں سیوریج،نکاسی آب اور بجلی کی بحفاظت فراہمی کا جب کوئی نظام سرے سے بنایا ہی نہ گیا ہو تو پھر اِن دونوں انتظامی رہنماؤں کے سڑکوں پر نکلنے سے نہ تو بارش کا پانی اپنا راستہ بدل لے گا اور نہ ہی کے الیکٹرک کی طرف سے بند کئی گئی بجلی چالو ہوجائے گی۔اِس لیئے دونوں قابلِ احترام حضرات سے التماس ہے کہ خدارا! اَب تو سنجیدہ ہوجائیں اور مل بیٹھ کر کراچی کی بہتری کے لیئے سیوریج، نکاسی آب اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا ایک باقاعدہ نظام بنانے کا کارنامہ انجام دے دیں۔ تاکہ اگلے برس مون سون کی بارشوں میں نہ تو آپ دونوں حضرات کو سڑکوں پر گڑ کھلوانے کے لیئے میڈیا پر جلوہ افروز ہونا پڑے اور نہ ہی عوام کو بارانِ رحمت میں خجل خواری کرنی پڑے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت کراچی میں 22 اگست 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

پھلتے پھولتے حکمرانوں کا ڈوبتا ہوا کراچی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں